دہلی کے سرکاری اسکولوں میں اردو کی دو ہزار آسامیاں خالی : شکیل احمد صدیقی مائناریٹی کمیونٹی ٹیچر ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام فروغ اردو زبان کانفرنس منعقد

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی خدمات کو سراہا گیا
دہلی ۲۰؍مارچ۲۰۱۹ء ( پریس ریلیز)
مائناریٹی کمیونٹی ٹیچر ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے پرانی سیماپوری نئی دہلی کے کمیونٹی ہال میں ’’دہلی ریاست اور اردو ز بان ‘‘ کے عنوان سے ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی ۔کانفرنس کی صدارت بزرگ اردو ادیب و استاذ محمد اسحق اور نظامت جی سلام کے اینکر اطہر سعید اور ریڈیو ٹی وی اینکر ریشما فاروقی نے انجام دی ۔ اس موقع پر دہلی ریاست میں اردو زبان کی ترقی کے موضوع پر ایسوسی ایشن کے صدر شکیل احمد صدیقی ، سماجی کارکن ڈاکٹر فہیم بیگ، کونسلر حاجی محمد طاہر حسین ، محمد ندیم اور سابق کونسلر ذاکر حسین خاں نے تفصیلی اظہار خیال کیا ۔
اس کانفرنس میں ایسو سی ایشن کے ذریعہ اردو زبان کے فروغ میں کردار ادا کرنے والے کئی اردو صحافی ، سماجی و تعلیمی زبان میں کا م کرنے والے اردو زبان کے اساتذہ کو میمونٹو دے کر اعزاز دیا گیا ۔
صدر ایسوسی ایشن شکیل احمد صدیقی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ دہلی میں اردو زبان کو دوسر ی زبان کا درجہ دیے ہوئے ۱۸؍سال کا وقت گزر چکا ہے لیکن نہ تو دہلی کے اسکولوں میں اردو اساتذہ کی خالی آسامیاں پر کی جارہی ہیں اور نہ ہی سرکاری دفاتر میں اردو زبان کے ٹرانسلیٹر کی تقرری کا عمل ہو سکا ہے ۔ میں یہ مانتا ہوں کہ دہلی کی موجودہ سرکار اردو زبان کے تئیں ایک بہتر سوچ رکھتی ہے تاہم اس سوچ کو زمین پر اتارنا ہوگا ۔تعلیم کے میدان میں موجودہ سرکار نے اچھا کام کیا ہے ، مگر کوئی بھی تعلیم اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اسے مادری زبان میں مہیا نہ کیا جائے ، اس لیے دہلی کی اسکولوں میں خاص طور سے مسلم اقلیتی علاقوں میں اردوں کی خالی آسامیاں پر کی جائیں ۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی بھی تعلیمی نظام اس وقت بہتر ہو سکتا ہے جب کہ صرف پرائمری اسکولوں میں اردو کی دوہزار آسامیاں خالی ہوں۔ایسے حالات میں اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ اردو کی پالیسیوں کو زمینی سطح پر نافذ کیا جائے، اسکولوں میں اردو اساتذہ کی فوری تقرری عمل میں لائی جائے اور اس سلسلے میں جو رکاوٹیں ہیں اسے دور کرنے کے میکانزم اختیار کیے جائیں۔نیز فوری طور سے ایلمینٹری پری سروس ٹیچر ٹریننگ انسٹی ادارے قایم کیے جائیں تاکہ مسلم اقلیت کے اساتذہ کی تربیت سہل ہو سکے ۔
مشہور سماجی کارکن ڈاکٹر فہیم بیگ نے کہا کہ اردو ہمارے وطن کی زبان ہے ، اس زبان نے ملک کی آزادی اور قومی یک جہتی میں بڑا کردار ادا کیا ہے ، اس لیے اسے نظر انداز کرکے آگے نہیں بڑھا جاسکتا ۔
اپنے صدارتی خطاب میں استاذ و ادیب محمد اسحق نے اس طرح کے دانشورانہ موضوع پر پروگرام منعقد کرنے کے لیے ایسوسی ایشن کے صدر کو مبارک بادد ی اور کہا کہ اردو کو اس کا بہتر مقام دلانے کے لیے ہم سب کو یکساں طور پر جد وجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور اردو اکادمی ، زبان کی ترقی اور اس کے فروغ میں کوشاں ہیں ، مگر عوامی سطح پر بھی کافی بیداری نہیں ہے ۔
آج کی کانفرنس میں مذکورہ شخصیات کے علاوہ محمد ابوقمر ، محمد ارشد،محمد سیم، نازیہ خاں، دلشاد خاں، فوزیہ بیگم، فرحت پروین ، اسماء رحمن ، ماریہ زینب، حنا کوثر، ونیتا رانا ،فرزانہ پروین کے علاوہ دیگر کئی اہم ذمہ دار افراد موجودتھے ۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں