رمضان سے ایک دن پہلے رسول اللہ ﷺ کا خطاب

محمد یاسین قاسمی جہازی

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آخری شعبان کو خطاب فرمایا، جس میں بارہ باتوں کا تذکرہ کیا۔ اس کا خلاصہ پیش ہے:
(۱) رمضان کا مہینہ عظمت و تقدس والا بھی ہے اور بہت زیادہ خیروبرکت کا بھی حامل ہے۔
(۲)اس مہینہ میں ایک رات ہوتی ہے، جس کانام شب قدر ہے۔ یہ ایک رات ہزار مہینے سے بہتر ہوتی ہے ۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جو کوئی صرف اس ایک رات میں عبادت کرے گا، اس کو ایک ہزار مہینے تک عبادت کرنے کا ثواب ملے گا۔ 
(۳)اس پورے مہینہ کا روزہ رکھنا فرض ہے اور تراویح پڑھنا سنت ہے۔ 
(۴) اس مہینے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب غیر رمضان کے ستر فرضوں کے برابر دیا جاتا ہے۔ یہ آفر خدا کا خاص فضل و انعام ہے، جو اس مہینے کے ساتھ مخصوص ہے۔
(۵) یہ مہینہ صبر کا عملی درس دیتا ہے۔ جب انسان خود بھوک پیاس سے لڑتا ہے، تو کھانے کی چیزیں فراہم ہونے کے باوجود محض حکم ربی کی وجہ سے بھوک برداشت کرتا ہے، تو اس سے صبر کی عملی مشق ہوتی ہے۔
(۶) یہ مہینہ غم خواری بھی سکھلاتا ہے اور بتلاتا ہے کہ یہ تو محض ایک مہینہ ہے، لیکن جس کے پاس سالہا سال کھانے پینے کی چیزیں نہیں ہوتیں، تو اس کی زندگی کا کیا عالم ہوتا ہوگا؛ اس طرح نفس دوسرے کی تکلیف کو براہ راست محسوس کرتا ہے اور پھر غریبوں کے تعاون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
(۷) اس صبر و غم خواری کی برکت یہ ہوتی ہے کہ مومنین کے رزق کو بڑھا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ عملی مشاہدہ ہے کہ جو حضرات سالوں سال تک جن انواع و اقسام کی نعمتوں سے محروم رہتے ہیں، وہ نعمتیں خود بخود رمضان میں ان کا استقبال کرتی نظر آتی ہیں اور خوب سیر ہوکر کھاتے ہیں، بلکہ کھلانے والے ان کے کھالینے کو اپنے لیے سعادت مندی سمجھتے ہیں۔
(۸)روزہ دار کو افطاری کرانے والوں کی مغفرت اور دوزخ سے نجات کا پروانہ مل جاتا ہے، جو ایک مومن کے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔ 
(۹) اس مہینے کے تین حصے ہوتے ہیں۔ پہلا عشرہ خدائے لم یزل ولایزال کی رحمتوں کی موسلا دھار بارش کی ہوتی ہے۔ جب سب لوگ رحمت سے شرابور ہوجاتے ہیں تو دوسرا عشرہ شروع ہوتے ہی مغفرت کا اعلان عام کردیا جاتا ہے۔ رحمت و مغفرت کے بعد نتیجے کے طور پر دوزخ سے نجات کی سند بھی دے دی جاتی ہے اور یہی مومن کا مطلوب و مقصود ہے۔ 
(۱۰) اس مہینہ میں جو کوئی اپنے ملازم کے کاموں کو عام دنوں کے کام سے کم کردے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت بھی کر ے گا اور جہنم سے آزادی بھی دیدے گا۔
(۱۱) اس میں مہینے چار کام کثرت سے کرنا چاہیے: 
(۱) لاالٰہ الا اللہ کو کثرت سے پڑھنا چاہیے۔ 
(۲) کثرت سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی چاہیے۔
(۳) دعا میں ہمیشہ جنت مانگیں۔
(۴) اسی طرح دوزخ سے چھٹکارے کی دعا بھی ضرور کریں۔
(۱۲) جو شخص روزہ دار کو پانی پلائے گا، اللہ تعالیٰ اسے حوض کوثر سے ایسا جام پلائے گا کہ جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس ہی نہیں لگے گی۔ 
اللہ تعالیٰ ہمیں ماہ رمضان کا استقبال کرنے اور اس کی قدر کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ، آمین۔ 
حوالہ 
خطبنا رسول اللہ ﷺ في آخر یوم من شعبان فقال: یا أیھا الناس قد أظلکم شھر عظیم مبارک شھر فیہ لیلۃ خیر من ألف شھر، شھر جعل اللّٰہ صیامہ فریضۃ، وقیام لیلہ تطوعا، من تقرب فیہ بخصلۃ من الخیر کان کمن أدیٰ فریضۃ فیما سواہ، ومن أدیٰ فریضۃ فیہ کان کمن أدیٰ سبعین فریضۃ فیما سواہ، وھو شھر الصبر، والصبر ثوابہ الجنۃ، وشھر المواساۃ، وشھر یزاد في رزق المؤمن فیہ، من فطر فیہ صائما کان مغفرۃ لذنوبہ، وعتق رقبتہ من النار، وکان لہ مثل أجرہ من غیر أن ینقص من أجرہ شيء، قالوا: یا رسول اللّٰہ لیس کلنا یجد ما یفطر الصائم، قال ﷺ: یعطي اللہ ھذا الثواب من فطر صائما علیٰ تمرۃ أو شربۃ ماء أو مذقۃ لبن، وھو شھر أولہ رحمۃ وأوسطہ مغفرۃ وآخرہ عتق من النار، من خفف عن مملوکہ فیہ غفر اللّٰہ لہ وأعتقہ من النار، واستکثروا فیہ من أربع خصال: خصلتین ترضون بھما ربکم وخصلتین لا غنیٰ بکم عنھما، فأما الخصلتان اللتان ترضون بھما ربکم: فشھادۃ أن لا إلہ إلا اللّٰہ وتستغفرونہ، وأما الخصلتان اللتان لا غنیٰ بکم عنھما: فتسألون اللّٰہ الجنۃ وتتعوذون بہ من النار، ومن سقیٰ صائما سقاہ اللّٰہ من حوضي شربۃ لا یظمأ بعدہا أبدا۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں