رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری

ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین (ناندیڑ)

بہت پہلے سے اُن قدموں کی آہٹ سن لیتے ہیں
تجھے ہم اے زندگی دور سے پہچان لیتے ہیں
یہ شعر کے خالق کا نام شاعر فراق گورکھپوری ہے۔ جن کا اصلی نام رگھوپتی سہائے ہے۔ لیکن وہ اپنی شاعری میں فراق کو بحیثیت تخلص استعمال کرتے ہیں۔ ان کی پیدائش 1896ء کو گورکھپور ( اترپردیش) میں ہوئی۔ والد کا نام منشی گورکھ پرساد جو پیشہ سے وکیل تھے لیکن شاعری میں بھی ان کا کافی نام تھا۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ فراق گورکھپوری کو شاعری انہیں ورثہ میں ملی ہے۔ 
غرض کہ کاٹ دئے زندگی کے دن اے دوست
وہ دن تیری یاد میں ہو یا تجھے بھلانے میں
جدید اردو غزل کے سفر میں فراق گورکھپوری اس کے رہنماء مانے جاتے ہیں۔ وہ اپنے زمانے کے مصنف، تنقید نگار، اور شاعر تھے۔ ابتداء میں ان کی شاعری کی خوبصورتی کا لوگوں کو احساس نہ تھا۔ اس لئے کہ وہ شاعری کچھ روایتوں سے الگ تھی۔ لیکن جب اردو میں نئی غزل آئی اس وقت لوگوں کی نظریں ان کی جانب متوجہ ہوئی۔ 
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
یہ حسن عشق تو دھوکہ ہے مگر پھر بھی
ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی تیری رہگزر پھر بھی
ان کی تعلیمی زندگی کا آغاز رام کرشن کی کہانیوں سے کرنے والے فراق گورکھپوری نے عربی، فارسی اور انگریزی ذریعہ تعلیم سے آگے بڑھے۔ بی اے میں انہوں نے ریاست میں چوتھا مقام حاصل کرکے ایک مستعد طالب علم کی حیثیت منوالی تھی۔ جس کے بعد 1917ء میں انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے گریجویشن کی تعلیم مکمل کی اور 1919ء میں ان کا انتخاب سرکاری ملازمت کے لئے ہوگیا۔ لیکن ایک سال میں ہی انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور اس کے بعد انہوں نے آزادی کی لڑائی میں حصہ لیا۔ جس کی وجہ سے انہیں دیڑھ سال کی سز ا بھی ہوئی تھی۔ 
فراق گورکھپوری کے والد شری پرساد پنڈت جواہر لال کے خاص دوستوں میں سے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کا بھی آنن بھون میں آنا جانا لگا تھا۔ اس درمیان فراق گورکھپوری اور پنڈت جواہر لال نہرو میں دوستی کے دھاگے بھی مضبوط ہوئے اور ایک دوسرے کے قریب بھی ہوئے۔ والد کے انتقال کے بعد انہیں معاشی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جسے پنڈت جواہر لال نہرو نے محسوس کیا۔ اور اس طرح انہوں نے کانگریس دفتر میں سیکریٹری کی حیثیت سے ان کا انتخاب بھی کیا۔ لیکن جب نہرو یوروپ کو گئے اس وقت انہوں نے اپنے اس عہدہ کو چھوڑ دیا اور معلم کا پیشہ اختیار کیا۔
1930ء سے الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا اور یہی سے ان کی اردو شاعری کے سفر کا آغاز بھی ہوا۔ جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے اردو شاعری کو بہت کچھ دیا۔ ان کی شاعری سمجھنے کے لئے ایسی کچھ مشکل بھی نہیں ہے وہ نہایت آسان، صاف، سیدھے لفظوں میں کی جاتی تھی۔ جس کی وجہ سے ان کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد بھی ملتی ہے۔ 
اس دشت کو نغموں سے گلزار بناجائے
جس سے راہ سے ہم گزرے کچھ پھول کھلا جائے 
ٹوپی سے باہر نکلے و بکھرے ہوئے بال، شیروانی کے بٹن کھلے، ڈھیلا ڈھالا پائجامہ، ایک ہاتھ میں سگریٹ، دوسرے ہاتھ میں چھڑی۔ یہ ان کے شخصیت کی کھلے عام پہچان تھی۔ لیکن جنہوں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے وہی لوگ ان کی علمی، ادبی لیاقت کو سمجھ سکے اور ان کی شاعری کے ذریعہ سے ہی ان کی علمیت کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اگرد یکھا جائے تو اردو شاعری کے شعراء منور رانا، جوش ملیح آباد،اور راحت اندوری کی طرح اور کئی نام لئے جاسکتے ہیں۔ لیکن فراق گورکھپوری ان تمام سے علیحدہ تھے۔ انہوں نے جب کبھی بھی لکھا، جو کچھ بھی لکھا وہ بہت ہی خوبصورت لکھا۔ 
تیرے آنے کی کیا اُمید ۔۔۔ مگر
کیسے کہہ دوں کہ انتظار نہیں
فراق گورکھپوری کا شمار چند گنے چنے شعراء میں ہوتا ہے۔ انہوں نے خوبصورتی، محبت، پر ہی صرف شاعری نہیں کی۔ لیکن زندگی کے دیگر موضوعات پر بھی نظر دوڑائی۔ 
یہ مانا زندگی ہے چار دن کی
بہت ہوتے ہیں یاروں چار دن بھی
فراق گورکھپوری کی ایک بات کو ذہن نشین کرنا چاہئے کہ کسی بھی کام کے لئے وقت اور عمر کبھی بھی کم نہیں ہوتی۔ صرف اپنے دل میں مثبت قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ آدمی اپنے عمل سے اپنے اعما ل کو ثابت کرسکتا ہے۔ اور اس طرح کی شخصیت خود فراق گورکھپوری ہے۔ 1969ء میں انہیں پانچواں گیان پیٹھ ایوارڈ ان کے اردو شعری مجموعہ ’’گل نغمہ‘‘پر دیا گیا۔ ان کے شعری مجموعہ کی ادبی حیثیت کو ساہتیہ اکیڈمی نے اور سویت لینڈ نہرو انعام سے بھی انہیں اعزاز دیا گیا۔ 1968ء میں انہیں پدم بھوشن کا خطاب بھی دیا گیا۔ اس طرح انہوں نے 33 کتابیں ادب کی دنیا والوں کو دی۔ اس طرح یہ زندہ دل شاعر اپنی عمر کے 86ویں سال داعی اجل کو لبیک کہا۔ 
تجھ سے رخصت ہوتا ہوں، آؤ سنبھالو سازِ غزل
نئے ترانے چھیڑو، میرے نغموں کو نیند آتی ہے
اس طرح انہوں نے آخری سانس لی۔ گو کہ وہ آج ہمارے بیچ میں نہیں ہیں لیکن ان کی شاعری کے ذریعہ ان سے ہمیشہ ملاقات رہتی ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.