رہائی

سورج حسب معمول پہاڑی کنگروں سے سنہری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ گلشن  کے پھول کھل اٹھے تھے اور بھنورے بھنبھنارہے تھے۔سبزے پر شبنم کے قطرے چمک اٹھے تھے۔ شہر کے پرانے زنداں کے دریچوں سے  سورج کی کرنیں داخل ہوکر مجبور قیدیوں کوجگانے کے لئے بے تاب ہورہی تھیں۔ معروف احمدکو سلاخوں سے گزرتی کرنوں کی چمک نےسوچ کے گہری دھندمیں پنہچادیا۔ “یہ کرنیں کتنی خودمختار ہیں کہ قیدخانوں میں گھس کر سلاخوں کو بھی چیر کر نکل جاتی ہیں۔”
قید خانے میں رہ کر معروف بھول چکا تھا کہ قوم جب  اندھیرے میں قید تھی تو وہی پہلا شخص تھا کہ جس نے پہلی بار تاریکی سے بغاوت کا کُھلا اعلان کیا اورمانند خورشید اندھیرے کو چیر کر نکلنے کا باغی ٹھہرا ۔وہ اب کئی برسوں سے اسی جرم کی سزا کاٹ رہا تھا۔ لیکن اتنے برسوں کے باوجود ہوئے تاریک کوٹھری کا یہ اندھیرا اس کے عزم و ہمت کو توڑنے میں ناکام ثابت ہوا تھا۔ وہ  سورج کی سنہری کرنوں کی طرح سلاخوں سے گزرنے خود سورج بننا چاہتا تھا تاکہ وہ تاریکی کی اسیرقوم میں اجالے کی چمک لا سکے ۔ اس کا مقصد قوم کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنا تھا ۔وہ ابھی ان ہی خیالات میں کھویا ہوا تھا کہ جیل کے محافظ اور تاریکی کے ایلچی اسےزبردستی  کوٹھری سے نکال کر کہیں لے جانے کے لئے نمودار ہوئے۔ وہ اس قسم کی حیرت زدہ صورتحال سے پریشاں ہوا اور جیل کا صدر دروازہ کھلتے ہی باہر کا منظردیکھتے ہی اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی ۔ لوگوں کا ایک امڈتا ہوا سیلاب ٹھاٹھیں مار رہا تھا ۔اسے دیکھتے ہی صدائے ہجوم بلند ہوئی۔ فلگ شگاف نعرے اسکی رہائی کا پر زور مطالبہ کر نے لگے ۔ نعروں کی گونج سے زمین ہل رہی تھی ۔ کچھ آوازیں اسکی رہائی کا مطالبہ کررہی تھیں اور کچھ اسکے قائد ہونے کی تصدیق ۔ وہ ہکا بکا یہ پورا منظر دیکھ رہا تھا ۔ “شاید قوم روشنی کی اہمیت سمجھ کر تاریکی سے بغاوت کا برملا اعلان کر چکی ہے۔ شاید قوم نے اپنے مقدر کو سنوارنے کا عزم کیا ہے۔ ” وہ ابھی یہی سوچ رہا  تھا کہ لاوڑ اسپیکر کا مائک اس کے ہاتھ میں تھمایا گیا ۔ فلک شگاف نعریں فضا میں اور زیادہ گونجنے لگے۔ وہ ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اندھیرے کے مالکوں اس کے سامنے دستخط کے لئے ایک حلف نامہ پیش کیا ۔حلفہ نامے کی شرائط پڑتے پڑتے جب اس کی نظر “مجھے اندھیرے کی حکومت منظور ہے اور میں اندھیرے کو بڑھانے میں عملی کردار ادا کرونگا” پر پڑی تو اس کے پاوں تلے زمین کھسک گئی اور وہ لڑکھڑاتا ہوا دھڑام سے زمین پر گر پڑا۔تھوڑے وقفے کے بعد اس کی روح پرواز کرگئی لیکن آنکھیں چمکتے سورج کی طرف دیکھتی رہ گیں۔

عادل نصیر ہندوارہ کشمیر

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں