سنن نماز

Views: 72
Avantgardia

مولانا علی احمد قاسمی





سوال: نماز میں کتنی سنتیں ہیں؟
جواب: نماز میں اکیاون سنتیں ہیں:
قیام میں گیارہ سنتیں ہیں
(۱) تکبیر تحریمہ کے لیے دونوں ہاتھا اٹھانامردوں کو دونوں کانوں تک اور عورتوں کو مونڈھوں تک ۔اور تکبیر تحریمہ کے وقت سیدھا کھڑا ہونا یعنی سر کو پست نہ کرنا۔
(۲) دونوں پیروں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ رکھنا اور پیروں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھنا ۔
(۳) مقتدی کی تکبیر تحریمہ امام کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ یا فورا بعد ہونا۔
(۴) تکبیر تحریمہ کے وقت دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا۔
(۵) ہتھیلیوں کو قبلہ کی طرف رکھنا۔
(۶) انگلیوں کو اپنی حالت پررکھنا یعنی نہ زیادہ کھلی رکھنا نہ زیادہ بند۔
(۷) مردوں کو نیت باندھتے ہوئے داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر ناف کے نیچے حلقہ بناکر رکھنا، اور عورتوں کو دونوں ہاتھ سینہ پر بلا حلقہ بنائے رکھنا۔
(۸) چھوٹی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بناکر گتے کو پکڑنا۔
(۹) درمیانی تین انگلیوں کو کلائی پر رکھنا۔
(۱۰) ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا۔
(۱۱) ثناء یعنی سُبحَانکَ اللّٰھُمَّ آخر تک پڑھنا۔
قرأت کی سنتیں
قرأ ت میں سات سنتیں ہیں:
(۱) تعوذ یعنی اعوذ باللہ پڑھنا۔
(۲) تسمیہ یعنی ہر رکعت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا۔
(۳) آہستہ سے آمین کہنا۔
(۴) فجر اور ظہر میں طوال مفصل یعنی سوہ حجرات سے سورہ بروج تک ، عصر اور عشااوساط مفصل یعنی سورہ بروج سے سورہ لم یکن تک اور مغرب میں قصار مفصل یعنی اذا زلرلت سے سورہ ناس تک پڑھنا۔
(۵) فجر کی پہلی رکعت کو لمبا کرنا۔
(۶) نہ زیادہ جلدی پڑھنا نہ زیادہ ٹھہر ٹھہر کر بلکہ درمیانی رفتار سے پڑھنا ۔
(۷) فرض کی تیسری اور چوتھائی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا۔
رکوع کی سنتیں
رکوع میں آٹھ سنتیں ہیں۔
(۱) رکوع کی تکبیر کہنا۔
(۲) رکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنا۔
(۳) گھٹنوں کو پکڑنے میں انگلیوں کو کشادہ رکھنا۔
(۴) پنڈلیوں کو سیدھا رکھنا۔
(۵) پیٹھ کو بچھا دینا یعنی کمع کو برابر رکھنا۔
(۶) رکوع میں کم از کم تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمَ کہنا۔
(۷) رکوع سے اٹھتے وقت امام کو تسمیع (سَمِعَ الْلّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ) اور مقتدی کو تحمید (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ) اور منفرد کو دونوں یعنی سَمِعَ الْلّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ اور رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنا۔
(۸) رکوع سے سر اٹھانااور رکوع کے بعد اطمینان سے کھڑا ہونا۔
سجدہ کی سنتیں
سجد میں بارہ سنتیں ہیں:
(۱) سجدہ کی تکبیر کہنا۔
(۲) سجدے میں پہلے دونوں گھٹنوں کو زمین پر رکھنا۔
(۳) پھر دونوں ہاتھوں کو رکھنا۔
(۴) پھر ناک رکھنا۔
(۵) پھر پیشانی رکھنا۔
(۶) دونوں ہاتھوں کے درمیان سجدہ کرنا۔
(۷) سجدے میں پیٹ کو رانوں سے الگ رکھنا۔
(۸) دونوں کہنیوں کو دونوں پہلووں سے الگ رکھنا۔
(۹) کہنیوں کو زمین سے الگ رکھنا۔
(۱۰) سجدے میں کم از کم تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبّٰیَ اْلاَعْلیٰ پڑھنا۔
(۱۱) سجدے سے اٹھنے کی تکبیر کہنا۔
(۱۲) سجدے سے اٹھتے وقت پہلے پیشانی، پھر ناک، پھر دونوں ہاتھ ، پھر گھٹنے اٹھانا اور دونوں سجدوں کے درمیان اطمینان سے بیٹھنا، پھر سجدہ میں جاتے وقت تکبیر کہنا سجدہ سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہنا۔
قعدہ کی سنتیں
قعدہ میں تیرہ سنتیں ہیں:
(۱) قعدہ میں داہنے پیر کو کھڑا کرنااور بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھنا اور پیر کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف رکھنا۔
(۲) دونوں ہاتھوں کو رانوں پر رکھنا۔
(۳) التحیات پڑھتے ہوئے اَشْھَدُ اَنْ لاَ ا8لٰہَ پر شہادت کی انگلی کو اٹھانا اور اِلَّا الْلّٰہُ پر جھکا دینا۔
(۴) قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھنا۔
(۵) درود شریف کے بعد کوئی دعا پڑھنا ، جو قرآن و حدیث میں آئی ہو۔
(۶) دائیں بائیں سلام پھیرتے ہوئے منھ پھیرنا۔
(۷) سلام کی ابتدا داہنی طرف سے کرنا۔
(۸) سلام میں امام کو مقتدیوں اور فرشتوں اور نیک جناتوں کی سلام پھیرتے وقت نیت کرنا ۔
(۹) مقتدیوں کو سلام کرتے ہوئے اپنے امام کی جس جانب میں ہو اور اگر بالکل اس کے پیچھے ہو تو دونوں جانب میں اور فرشتوں اور نیک جناتوں اور دائیں بائیں مقتدیوں کی نیت کرنا۔
(۱۰) تنہا نماز پڑھنے والے کو صرف فرشتوں کی نیت کرنا۔
(۱۱) مقتدیوں کو امام کے ساتھ ساتھ سلام پھیرنا۔
(۱۲) دوسرے سلام کی آواز کو پہلے سلام کی آواز کو ذرا آہستہ کہنا۔
(۱۳) مسبوق کو امام کے دونوں سلاموں کے بعد کھڑا ہونا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart