سہیل کاکوروی موجودہ عہدکے قادرالکلام شاعر ہیں:شارب ردولوی

اردو کی بدحالی کیلئے سرکار کے ساتھ ساتھ اردو والے بھی ذمہ دارہیں:رضامراد
ہندی اردوساہتیہ ایوارڈ کمیٹی اور ادبی سنستھان کے زیر اہتمام سہیل کاکوروی کی کتاب’تشکیل نو‘کااجرا و مذاکرہ
لکھنؤ،7جولائی،سہیل کاکوروی جیسی حیرت انگیز فکر کے اور اسلوب کے شاعر کہیں صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں،ان کے علم وحکمت کے جو جواہر ہندی اور اردو کے خزانے میں محفوظ ہوگئے ہیں، ادب کی مرتب ہوتی تاریخ ان کے کارناموں پرانگشت حیرت کو اپنے دانتوں تلے دبائے ہے، سہیل کاکوروی موجودہ عہدکے قادرالکلام شاعر ہیں،تصنیف وتالیف ان کا اوڑھنا اور بچھونا ہے،ادب کے ھوالے سے سہیل کاکوروی کیمکثیر تعداد میں چاہنے والے موجودہیں مذکورہ خیالات کا اظہاراردو کے صاحب نقد ونظر ادیب اور اسکالر پروفیسر شارب ردولوی نے سہیل کاکوروی کی بارہویں تخلیق ”تشکیل نو“ کے اجرا کے موقع پر اکسپومارٹ آڈیٹوریم قیصرباغ میں ہندی اردوساہتیہ ایوارڈ کمیٹی اور ادبی سنستھان کے زیر اہتمام منعقد جلسے میں صدارت کرتے ہوئے کیا۔
مہمان خصوصی معروف فلمی اداکاررضامراد نے کہا سہیل کاکوکوروی کی شاعرانہ عظمت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شدیدبارش کے باوجود اس قدر ان کے چاہنے والے موجود ہیں کہ کچھ ؒلوگوں کوکھڑے ہو کر پروگرام سننا پڑرہاہے،سہیل کاکوروی کی ادب کی خدمت کیلئے کسی گلدستہ نہیں بلکہ چمن کی ضرورت ہے۔ سہیل کاکوروی نہ صرف اردو بلکہ ہندی،انگریز ی اورفارسی زبان وادب پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج میں اس خاص پروگرام کیلئے اپنی اہلیہ کی پسند کا سوٹ پہن کر آیا ہوں،اس لئے کہ ہر انسان کو اپنی اہلیہ کی بات ضرور ماننی چاہئے،سگریٹ اور بیوی بالکل بھی نقصان دہ نہیں ہے جبھ تک آپ اس کو سلگائیں نہیں۔انہوں نے اپنے استقبال کیلئے اہل لکھنؤ کاشکریہ اداکیا،اردو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صرف سرکار ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ ہم اردو والے بھی اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم نہ دلاکر اردو کے فروغ میں روڑا بن رہے ہیں۔
تسلیم شدہ بلند پایہ نقاد پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ سہیل کاکوروی جیسے شاعرہردور میں نہیں پیدا ہوتے ہیں بلکہ بہت مشکل سے پیدا ہوتے ہیں ان کی پوری زندگی مکمل ادب ہے،یہ زندگی کوادب کیلئے ہی جیتے ہیں اور ان کا مشغلہ صرف اور صرف ادب کی خدمت ہے۔شاعری خصوصاً غزل کے میدان میں سہیل کاکوروی کی عظیم خدمات ہیں بہت سے شعرا نے محبت اور فلسفہئ حیات کی تفسیریں کی ہیں اور دومصرعوں کا یہ اجمال ہزارتفصیلوں کے ساتھ دلوں میں بسا ہے،ان کی مقبولیت میں کوئی شک نہیں ہے، میر اور غالب کایہ گلشن ایران کی سی سرخیزی سے مہکااوراوریہ غزل تمام خوشگوار تجربوں کے بعد سہیل کاکوروی تک آئی او ر انہوں نے اس میں تشکیل نو کا ایک سلسلہ جاری کردیا یوں توآج جاری ہوانے والی کتاب کا نام ”تشکیل نو“ ہے لیکن اس کے معنی کا عمل ان کی غالب کی غزلوں پر غزلیں اورمحاوروں کے ساتھ سیکڑوں اشعار میں ہزاروں محاوروں کے استعمال کے ساتھ ان کی کتاب ”نیلا چاند“ سرگرم ہے وہ باکمال شاعرہیں اورابھی ادب میں ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔
اپنے نوگیتوں سے ہندی ساہتیہ میں شناخت رکھنے والے ڈاکٹر سریش نے کہاسہیل کی شاعری میں غزل کا دل دھڑکتا ہے، ان کی شاعری میں ان کے جذبات کی تیزی کا احساس ہوتا ہے،انہوں نے بہت سے نئے تجربات شاعری میں کرکے نقدو نظر کے لئے نئی راہیں ہموار کی ہیں ہندی کے ادیب ڈاکٹر سریش نے کتاب کے دیونا گری اور اردو میں ہونے کے ساتھ انگریزی کی شمولیت کی افادیت کو بھی تسلیم کیا اور ہم عصر رجحانات سے ہم آہنگ بتایا۔
اس موقع پر صبور عثمانی آئی آر ایس نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے”تشکیل نو“ کی خوبیوں پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ یہ کتاب بڑے سے بڑے اعزاز کی مستحق ہے۔ اطہر نبی ایڈوکیٹ نے کہ یہ غزلیں ان مصرعوں پر ہیں جو موقع اور محل کے پیش نظر زبانوں پر آتے تھے لیکن اساتذہ کے ایسے اشعار پر تو غزلیں دستیاب ہوتی تھیں لیکن بیشتر صرف ایک مصرعہ یا ایک شعر ہی ریکارڈ میں نظرآتا، سہیل کاکوروی نے ضرب الامثال سے ایسے مصرعوں پرغزلیں تعمیر کردیں اور بیشتر مصرعوں پر اپنی فکر سے برآمد مصرع بھی چسپاں کردیا جو دستیاب مصرعوں پر اپنی فکر سے برآمدمصرع بھی چسپاں کردیا جو دستیاب مصرعوں سے بڑھ گیا۔ یہ ان کی فکر کاکارنامہ ہے۔ڈاکٹر سراج اجملی نے کہا موجود اورمعروف ضرب الامثال میں تشکیل نو کی کامیابی یہ ہے کہ شاعر نے اپنا انداز اور اسلوب برقرار رکھا ہے اور خصوصاً اقبال کے بعض ایسے اشعار سے اتفاق نہ کرتے ہوئے،اپنا منطقی استدلال پیش کردیا ہے بلا شبہ اتنا ہی قا بل ہے جتنااصل نظریہ ہے۔ جلسے میں مشہور گائیک کفیل حسین اور شبیہ خیرآبادی نے سہیل کاکوروی کی کتاب کی غزلوں کو اپنی خوبصورت مترنم آواز سیسناکرسامعین کوخوب محظوظ کیا۔
جلسے میں محمدعلی ساحل،سنجے مشرا شوق،اشعر علیگ،سید احمدصبیح،حسن کاطمی،ضیاء اللہ صدیقی،صحافی وقار رضوی ڈاکٹر احتشام احمدخان،ڈاکٹرہارون رشید،ڈاکٹر سلطان شاکر ہاشمی،ڈاکٹرعارف ایوبی، ڈاکٹر مسیح الدین،عبدالولی انصاری، عبدالحئی،ارشد صدیقی،فار س خاں، حسن مصطفی، کامران خان، ارشیان، وشال،محمدسیف،شیخ محمداطہر فاخری رزاقی،شاہانہ سلمان عباسی، عائشہ صدیقی کے ساتھ ادب کی اہم شخصیات موجود تھیں۔
صدرمجلس استقبالیہ تحسین عثمانی نے مہمان خصوصی رضا مراد کی جلسے میں آمد پر مسرت کا اظہار کیا۔آخر میں کنوینر انور حبیب علوی نے مہمانوں کاشکریہ اداکیا۔پروگرام کی خوبصورت نظامت کے فرائض صحافی غفران نسیم نے اپنے مخصوص اندازمیں انجام دی،مہمانان اور سامعین میں اپنی جادوئی نظامت سے مضبوط رشتہ بنائے رکھا۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں