شرعی شادی اور ہماری رسمیں

محمد یاسین جہازی جمعیۃ علماء ہند

آپ حضرات اس حقیقت سے بہ خوبی واقف ہیں کہ ’’شادی‘‘ ہمارے سرورکونین ﷺ کی سنت ہے، جس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ رشتہ پسند آنے کے بعد لڑکا لڑکی کے گارجین کسی مسجد میں باہم مل بیٹھ کر نکاح پڑھوادیں۔ اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کھجور لٹوادیں۔ یہ ہے شرعی شادی کا مکمل نقشہ۔ 
چوں کہ لڑکی کو حدیث شریف میں رحمت سے تعبیر کی گئی ہے، اس لیے لڑکی والوں کے لیے مسرت کا نہیں، بلکہ غم کا دن ہے۔ اور چوں کہ لڑکے والوں کے یہاں ایک رحمت گھر میں آرہی ہے ، اس لیے ان کے لیے انتہائی مسرت کا دن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر گنجائش ہو تو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ’’ولیمہ‘‘ کریں۔ اگر وسعت نہیں ہے، تو کوئی بات نہیں۔ 
آج ہندوانہ رسوم و رواج کی نقالی میں مسلمان بھی شادی کو ایک بوجھ اور رسم سمجھتے ہیں ۔ ہندوانہ عقیدے کے مطابق لڑکی کو ’’دان‘‘ یعنی بطور چندہ لڑکے والوں کو دے دی جاتی ہے، جس کا صاف مطلب یہی ہوتا ہے کہ اب والدین کے گھر سے لڑکی کا رشتہ ختم ہوگیا، کیوں کہ وہ دان میں چلی گئی۔ اور دان کی چیز واپس نہیں لی جاتی۔ اور چوں کہ یہ ختمیت دائمی طور پر سمجھی جاتی ہے، اس لیے ماں باپ دان کے ساتھ کچھ دہیز (جہیز) کا بھی سامان کردیتے ہیں، تاکہ سسرال والے طعنہ نہ دیں۔ اور لڑکی کو بوجھ سمجھ کر ’’کنیہ دان‘‘ کیا جاتا ہے، اس لیے بوجھ اترنے کی وجہ سے خوشی منانا ان کے اپنے عقیدے کے مطابق ان کا حق ہے، لہذا اگر غیر مسلم اپنی شادیوں میں ناچیں، نچائیں، گائیں بجائیں، تو یہ اچھنبے کی بات نہیں، لیکن اگر کوئی مسلمان ایسا کرے ، تو یہ یقیناًنبی اکرم ﷺ کی سنت کے ساتھ ایک بھدا مذاق ہے، کیوں کہ سنت کی ادائیگی کے لیے ڈھول نہیں بجائے جاتے، سنت کی تکمیل کے لیے عورتوں کو بے پردہ اور تاشے کی تھاپ پر بے آبرو نہیں کی جاتی۔ کیا آپ کبھی ظہر کی سنت ادا کرتے وقت ناچتے ہیں؟ کیا آپ عصر کی سنت ادا کرتے وقت ڈھول بجواتے ہیں؟ کیا آپ مغرب کی نماز کے لیے جاتے وقت عورتوں سے کہتے ہیں کہ تم ناچو، کیوں کہ میں ایک فرض اور سنت ادا کرنے جارہا ہوں؟ اگر ان سب سوالات کے جواب نہیں میں ہے، تو پھر ’’شادی کی سنت‘‘ میں یہ حرام کام کیوں؟؟؟؟؟؟
اس لیے تمام علمائے کرام سے گذارش ہے کہ جہاں کہیں بھی رسم کی شادی ہو، جس شادی میں ڈی جے

بجائے جائیں، جس تقریب میں دولہا گھوڑے پر سوار دیکھیں، جس نکاح میں رسول اکرم ﷺ کی سنت کی دھجیاں اڑائی جارہی ہوں۔ اس کا مکمل بائکاٹ کریں۔ 
اسی طرح کلام پاک کے حکم کے مطابق : مردوں کو عورتوں پر حاکمیت دو وجہ سے دو گئی ہے: (۱) نظام کائنات کو چلانے کے حاکم ومحکوم کا تسلسل ضروری ہے، اس لیے اللہ نے جسے چاہا، اسے دوسروں پر حاکم بنادیا۔ اسے نظام کو چلانے کے لیے مرد کو عورت کا قوام یعنی نگہبان بنادیا۔ (۲) مرد چوں کہ مال خرچ کرتا ہے، اس لیے نگہبانی کا حق مرد کو ہی حاصل ہے، لہذا جو کوئی لڑکی سے مال لے، جہیز کے سازو سامان لے، تو اسے مرد نہیں، خود کو عورت سمجھنا چاہیے۔ اور اگر وہ خود کو عورت نہ سمجھ پائے ، تو علمائے کرام کو چاہیے کہ اس کی اس عورت والی حرکت پر اس کی نکیر کرے ۔ اور ایسی جہیز والی شادیوں میں قطعی شرکت نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی مرضیات پر چلنا آسان فرمائے اور سنت نبوی پر مکمل عمل کرنے کی توفیق ارزانی کرے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.