شریعت سے کیا مراد ہے؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

قسط نمبر 10

پھر تجھ کو رکھا ہم نے ایک رستہ پر دین کے کام کے، سو تو اسی پر چل اور مت چل خواہشوں پر نادانوں کی۔(الجاثیہ 45 : 18)

            1978 میں ایک عیسائی عرب پروفیسر ایڈورڈ سعید کولمبیا یونیورسٹی، نیو یارک نے ایک اہم کتاب اورینٹلزم تصنیف کی جس میں انھوں نے اس پر ماتم کیا ہے کہ مغرب نے عالم اسلام پر ایسا تسلط جمایا ہے کہ مغرب کے قائم  کردہ عربوں اور مسلمانوں کے بارے میں منفی تصورات کو خود عرب اور مسلمان بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ہمارے عہد میں اسی نکتہ کا اطلاق شریعت پر ہوتا ہے۔ مغرب کے ذہن میں شریعت ہم معنی ہے قرون وسطیٰ کے انداز میں عورتوں کی غلامی اور اعضاء کی قطع و برید اور اس منفی تصور کی انتہا یہ ہے کہ جو لوگ شریعت کا نفاذ کرتے ہیں وہ بھی ایسے ہی قدم اٹھاتے ہیں گویا کہ یہ اُن کے ایمان کی آزمائش ہے درحقیقت شریعہ فکر و نظر، احکام اور طریقۂ کار کا ایک جامع مجموعہ ہے۔ شریعت درحقیقت اُس کے عام تصور سے قطعاً مختلف ہے، کسی بھی معاملے میں مختلف آراء ہوسکتی ہیں اور ایک ہی مکتبۂ فکر میں کئی آراء کا امکان ہے۔ یہ سب کی سب فرد اور معاشرے کے لئے بیک وقت نافع ہیں البتہ نفع بخش ہونے کا یہ تصور کوئی ذاتی تصور نہیں جو کہ تہذیبی تصورات کے ساتھ ہمہ وقت تبدیل ہوتا رہے۔ خیر اور منافع کا تصور وحیٔ الٰہی سے ماخوذ ہے بالفاظ دیگر قرآن اور احادیث سے۔

لفظ شریعت کے معنی

            اصطلاح شریعہ کے معنی پر غور مفید ہوگا۔ اس لفظ کا مادہ وہی ہے جو جدید عربی میں سڑک یا شارع کے لئے مستعمل ہے۔ اپنے اشتقاق کے لحاظ سے شریعہ سے مراد راستہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ واضح ہوتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ راستہ جسے جانور پانی پینے کے لئے  استعمال کرتے ہوں۔ صحراء کے سیاق سباق میں یہ راستے حیات بخش ہوتے ہیں کیونکہ تمام جانداروں کے لئے پانی حیات کے ہم معنی ہے۔ اسی اعتبار سے شریعہ کا مطلب وہ قانون ہے جو وحیٔ الٰہی قرآن اور الہام الٰہی یعنی نبی اکرم محمدؐ کی سنت سے ماخوذ ہو۔ یہ وہ راستہ ہے جس سے اہل ایمان دنیا اور آخرت دونوں میں نجات اور کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اس راستے کے بغیر لوگ اپنے صحراء میں گُم ہوکر ہلاکت تک پہنچ جائیں گے۔ غرضیکہ شریعہ کا عربی لفظ حیات بخش معنی سے معمور ہے۔

            اصطلاح شریعہ اور اس کے مشتقات قرآن میں صرف پانچ مقامات پر استعمال ہوئے ہیں، دو جگہ بطور فعل، مثبت طور پر سورہ الشوریٰ کی آیت 13 اور منفی طور پر اسی سورہ کی آیت 21میں۔ ایک اور جگہ اس کا استعمال تیرتی ہوئی مچھلی کی تمثیل میں ہوا ہے: ‘‘کیا تم کو تعجب ہوا کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک مرد کی زبانی جو تم ہی میں سے ہے تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم بچو اور تاکہ تم پر رحم ہو’’ (سورہ الاعراف 63 : 7 )۔ سورہ المائدہ میں لفظ ‘شرع’ آیت 48 میں اور ایک جگہ بطور اسم متبرک اسلامی قانون کے استعمال ہوا ہے۔ متعلقہ آیت یہ ہے :

پھر تجھ کو رکھا ہم نے ایک رستہ پر دین کے کام کے، سو تو اسی پر چل اور مت چل خواہشوں پر نادانوں کی۔(الجاثیہ 45 : 18)

            حکم سے عام طور سے مراد دینی حکم ہوتا ہے لیکن لغوی طور سے اس کے معنی معاملے کے ہیں۔ غرضیکہ شریعہ اشیاء کی ماہئیت کے بارے میں ہے اور دینی  امور اور رسول انسان کی فطرت سے متعلق ہیں اس کی جانب ہم نے باب ۲ میں اشارہ کیا۔ غرضیکہ شریعہ ظالمانہ قوانین کے مجموعہ کا نام نہیں بلکہ ایک لائحۂ عمل ہے جو انسان کی عملی اور روحانی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ قرآن میں شریعہ کا لفظ دیگر مذاہب کے قوانین کے لئے بھی آیا ہے:

اور تجھ پر اتاری ہم نے کتاب سچی تصدیق کرنے والی سابقہ کتابوں کی اور ان کے مضامین پر نگہبان، سو تو حکم کر ان میں موافق اس کے جو اتارا اللہ نے اور ان کی خوشی پر مت چل چھوڑ کر سیدھا راستہ جو تیرے پاس آیا، ہر ایک کو تم میں سے دیا ہم نے ایک دستور اور راہ، اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک دین پر کردیتا لیکن تم کو آزمانا چاہتا ہے اپنے دئیے ہوئے حکموں میں، سو تم دوڑ کر لو خوبیوں کی طرف، اللہ کے پاس تم سب کو پہنچنا ہے، پھر جتادے گا جس بات میں تم کو اختلاف تھا۔ (سورہ المائدہ 48 : 5 )۔

            جس طرح اسلام میں شریعت مقدس قانون ہے دیگر مذاہب میں بھی شریعہ کا یہی مقام تھا اور یہ باعث احترام سمجھی جاتی تھی اور لوگوں کی عملی اور روحانی ضرورتوں کی تکمیل کرتی تھی۔

شریعت بطور نظام اخلاق

            کوئی بھی قانونی ضابطہ دنیا میں سزا   اور جواب دہی سے منسلک ہوتا ہے۔ اسلام کا اخلاقی نظام جس میں جواب دہی اور سزا دونوں شامل ہیں وہ اللہ اور آخرت سے متعلق ہے۔ قانونی ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت ایک اخلاقی نظام بھی ہے۔ شریعت کے مطابق بہت سے جرائم کی سزا ارضی قانون کے مطابق نہیں ہے بلکہ اللہ آخرت میں ان کی سزا دے گا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے دوست سے جھوٹ بولے اور قانون اس کی سزا نہ دے لیکن اس کے باوصف اللہ اس غلطی کے لئے اس شخص کو جواب دہ ٹھہرائے گا اگر اس نے توبہ نہ کی ہو۔ غرضیکہ شریعہ بنیادی طور پر گناہوں سے نہ کہ جرائم سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ نماز، روزہ، حج وغیرہ کے متعلق قوانین بھی شریعت کا جزو ہیں لیکن مغرب میں قانون کا جو مفہوم ہے وہ اس پر صادق نہیں آتا۔ مختصراً شریعہ کو قانون اسلامی قرار دینا درست نہیں۔

            مزید برآں، ان شعبوں میں جہاں شریعت ایک قانونی ضابطہ کے طور پر ہے ان میں بھی قلت تکلیف اس معنی میں پائی جاتی ہے کہ صرف چند قوانین ہیں جبکہ زیادہ تر امور کے بارے میں سکوت ملتا ہے۔ یعنی اصولی طور پر ان کی اجازت ہے اور ان کی تشریح کی گنجائش ہے۔ اسی باعث مسلمان فقہاء نے تمام اعمال کو مندرجہ ذیل پانچ زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ اس میں تقریباً تمام مکاتب فقہ شامل ہیں۔ شریعت کی رو سے یہ زمرے یہ ہیں: (۱) فرض، اس عمل کے کرنے پر ثواب اور نہ کرنے پر سزا ہے (۲) مکروہ، اس کے نہ کرنے پر ثواب ہے لیکن کرنے پر کوئی سزا نہیں، بعض حنفی فقہاء نے اس کی مزید تفصیل بیان کی ہے (۳) مباح، یہ وہ فعل ہے جس کے کرنے یا نہ کرنے پر سزا یا ثواب نہیں ہے، اگر خیر کی نیت سے یہ فعل کیا جائے تو یقیناً اُس کے لئے ثواب ہے، اصولی طور پر ہر عمل جائز ہے الا یہ کہ نص صریح سے اُس کی ممانعت ثابت ہوتی ہو (۴) مستحب، اس کے کرنے پر ثواب ہے اور نہ کرنے پر کوئی سزا نہیں (۵) حرام، وہ عمل جس کے کرنے پر سزا ہے اور نہ کرنے پر اجر ہے۔

            یہ امر قابل لحاظ ہے کہ شریعت کے بارے میں نبی اکرم محمدؐ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے (بخاری اور مسلم)۔ کسی بھی عمل کا جائز یا ناجائز ہونا اس پر منحصر ہے کہ اس ضمن میں کیا معیار ہے؟ شریعہ مسلمانوں کے لئے ایک اخلاقی لائحۂ عمل پیش کرتی ہے اور اس دنیا میں زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

کیا نہیں دیکھے اڑتے جانور حکم کے باندھے ہوئے آسمان کی ہوا میں کوئی نہیں تھام رہا ان کو سوائے اللہ کے، اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو یقین لاتے ہیں۔(سورہ النحل79 : 16 )

شریعت کا مقصد

            احکام شریعت کا مقصد درج ذیل آیت میں واضح ہے۔ یہاں شرع کا لفظ بطور فعل مستعمل ہوا ہے : ‘‘راہ ڈال دی تمہارے لئے دین میں وہی جس کا حکم کیا تھا نوح کو اور جس کا حکم بھیجا تھا ہم نے تیری طرف اور جس کا حکم کیا ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو یہ کہ قائم رکھو دین کو اور اختلاف نہ ڈالو اس میں، بھاری ہے شرک کرنے والوں کو وہ چیز جس کی طرف تو ان کو بلاتا ہے، اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف سے جس کو چاہے اور راہ دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع کرے’’ (الشوریٰ 13 : 42)۔

            مختصراً شریعہ کے مقصود دو ہیں (۱) دینی اعمال کو قائم کرنا اور معاشرتی ارتباط میں اضافہ کرنا۔ بالفاظ دیگر دینی قوانین روحانی تناسب اور معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح یہ انسانوں اور معاشروں کی ضروریات کی کفایت کرتے ہیں۔ مشہور شافعی فقیہ العز عبد السلام (م 660ھ بمطابق 1262ء) کا قول ہے :‘‘اللہ کے تمام احکام اس کے بندوں کے مفاد میں ہیں جو کوئی بھی اس پر عمل پیرا ہوتا ہے اس کے لئے خوشخبری ہے، لوگوں کو چاہئیے کہ وہ اپنے گناہوں پر معافی طلب کریں’’ (قواعد الاحکام)۔ ابن القیم الجوزی (م 750ھ بمطابق 1350ء) رقمطراز ہیں ‘‘شریعہ کی بنیاد حکمت اور دنیا اور آخرت میں لوگوں کا مفاد ہے۔ شریعت تمام تر انصاف، رحمت، فائدے اور حکمت کے بارے میں ہے۔ شریعت کا ہر حکم ناانصافی کی جگہ انصاف، ظلم کی جگہ رحمت، فساد کی جگہ خیر اور غلطیوں کی جگہ حکمت فراہم کرتا ہے۔ یہ قرآن اور حدیث کی تشریح اور توضیح پر مشتمل ہے’’ (اعلام المواقین عن رب العالمین)۔

            الغزالی نے اپنی تصنیف مصطفیٰ اور ابراہیم الشاطبی (م 790ھ بمطابق 1388ء) میں قرآن میں مذکور ہر حکم کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور ان کا مطالعہ مقاصد شریعہ کی رو سے کیا ہے۔ بنیادی طور پر لوگوں کے پانچ بنیادی حق ہیں، وہ یہ ہیں (۱) زندگی کا حق (۲) مذہب کا حق (بعض علماء نے اس کو اولین حق تسلیم کیا ہے) (۳) خاندان نسل کی افزائش اور عزت کا حق (اس حق کو بھی خاندان، افزائش نسل اور عزت کے تحت مزید تقسیم کیا گیا ہے)۔ (۴) عقل کا حق اور (۵) جائداد کا حق۔ انہی حقوق کے تحت تمام آزادیاں اور تحفظ شامل ہیں۔ قرآن کی درج ذیل آیت انہی کا احاطہ کرتی ہے :

اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کے دینے کا، اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے، تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔(سورہ النحل90 : 16 )۔

غرضیکہ

۱۔         زندگی کا حق اور تمام حقوق انصاف پر  مبنی ہیں۔

۲۔        احسان سے مراد مذہب پر عمل درآمد کا حق ہے۔ احسان کی ہم اس سے قبل یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ کی عبادت اس طور پر کرنا گویا انسان اللہ کو دیکھ رہا ہو۔

۳۔        عزیز و اقارب کے ساتھ حسن سلوک ، اس میں خاندان اور افزائش نسل شامل ہیں۔

۴۔        اللہ نے تمام فحش افعال کی ممانعت کی ہے۔ اسی سے عزت کا حق ماخوذ ہے۔ اسلام میں عزت کا گہرا تعلق خاندان سے ہے۔

۵۔        منکرات، جو کہ معروفات کی ضد ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے الراغب الاصفہانی، معجم المفردات الفاظ القرآن اور اس میں عقل اور شعور کا حق شامل ہے۔

۶۔        ظلم کا تعلق جائداد کے حق اور زندگی کے حق سے متعلق ہے۔

            ان مقاصد شریعہ سے شریعہ کا پیغام قابل فہم ہوتا ہے اور اس کی روح کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ تمام احکام اسی کے آئینہ دار ہیں۔ یہ مقاصد شریعہ اسلام میں حقوق انسانی کی بھی بنیاد فراہم کرتے ہیں (اس کی تصدیق کم و بیش 1990 کے قاہرہ اعلانیہ میں نظر آتی ہے جو اسلام میں حقوق انسانی کے بارے میں ہے اور جس کی تائید مسلم ممالک نے کی۔ صرف اسلام میں حقوق انسانی غیر مشروط اور خداداد ہیں۔ یہ انسانوں کے عطا کردہ حقوق نہیں ہیں۔ یہ امر بھی واضح رہنا چاہئے کہ شریعہ اور یہ حقوق خاص طور پر اس لئے وضع نہیں کئے گئے ہیں کہ لوگوں کو کوئی تنگی پیش آئے بلکہ ان کا مقصد زندگی کو آسان بنانا اور لوگوں کو سہولت فراہم کرنا ہے :

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہماری تخلیق رحمت کے لئے کی ہے وہ ہمارے لئے آسانی چاہتا ہے، دشواری نہیں۔ (البقرہ 185 : 2)۔

فقہ اسلامی کے مکاتب

            فقہ سے مراد مطالعہ، علم یا قانون سے واقفیت ہے۔ اس میں قانون کا نظریہ اور فلسفہ بھی شامل ہے۔ یہ امر واضح ہے کہ قانون شریعت قرآن اور حدیث سے ماخوذ ہے

            نبی اکرم محمدؐ کی وفات کے بعد وحیٔ الٰہی کا نزول ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا۔ اللہ اب کسی باب میں براہ راست حکم نہیں دیتا اور کوئی بھی شخص اپنی رائے کے لئے اللہ کی سند پیش نہیں کرسکتا۔ مذہبی طبقہ کی حکومت اب دنیا میں ختم ہوچکی ہے اور لوگوں کے لئے صرف قرآن اور احادیث بطور قانون ہیں صحابہ کے لئے اس میں کوئی دشواری نہ تھی کہ اُسوۂ رسول ان کے پیش نظر تھا البتہ آپؐ کے اقوال اور افعال کے بارے میں کبھی کبھی اُن میں اس باعث اختلاف رونما ہوتا کہ بعض صحابہ کی رائے اس واقعہ کے بارے میں دوسرے صحابہ کی رائے سے مختلف ہوتی۔ آخری صحابی انس ابن مالکؓ کی پیدائش 612ء میں ہوئی۔ آپ کی پرورش رسول اکرمؐ کے گھر میں 10 سال کی عمر سے ہوئی۔ انس ابن مالک کی وفات 93ھ بمطابق 712ء میں ہوئی۔ آخری صحابی جن کا انتقال ہوا وہ ابو طفیل عامر ابن وسیلہ تھے۔ آپ کا انتقال مکہ میں 102ھ بمطابق 721ء میں ہوا۔ بعد میں احادیث کے مستند مجموعے تیار ہوئے۔ اور اس طرح قرآن اور حدیث سے متعلق متعدد نکات واضح ہوئے۔

            ان سوالات کا تعلق قرآن و حدیث کے بطور مآخذ ہونے سے نہ تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ ان کی تفہیم اور تشریح کیسے کی جائے یہ اہم سوال تھے۔ مثلاً یہ سوال کہ قرآن و حدیث میں بظاہر  اختلاف یانسخ کی شکل میں کیا لائحۂ عمل اختیار کیا جائے۔ اسی طرح یہ سوال بھی درپیش تھا کہ اگر ایک ہی حدیث کے متعدد روایتیں  ہوںجو باہم دگر مختلف ہوں ان کے بارے میں کیا کیا جائے۔ اختلاف کی صورت میں قانون الٰہی پر ان کا کیسے اطلاق کیا جائے۔ مختلف معاملات کے بارے میں صحابہ کے اختلاف سے کیسے نپٹا جائے؟ یہ علم کیسے ہو کہ قرآن و حدیث میں مذکور امور مخصوص ہیں یا کسی خاص سیاق و سباق میں ہیں یا عمومی ہیں؟ ہر آیت قرآنی اور حدیث کے سیاق و سباق کے بارے میں سوال پیدا ہوئے اور یہ معاملہ بھی سامنے آیا کہ نبی اکرمؐ نے مختلف لوگوں کو متعین ہدایات دی تھیں۔ کون سی قرآنی آیات احکامی ہیں اور کون سی محض اطلاعی۔ کن کے معنی لغوی طور پر لینا چاہئے اور کون سی تمثیل ہے اور اس کا علم کیسے ہو؟ عربی زبان کے لغوی اور استعاراتی معنی کے اختلاف کی صورت میں کیا کیا جائے۔ اگر کسی لفظ کے ایک سے زیادہ معنی ہیں تو یہ علم کیسے ہو کہ کون سے معنی درست ہیں؟ یہ کیسے علم ہو کہ عربی الفاظ کے جو مفہوم ہم سمجھتے ہیں وہی معنی نزول قرآن کے وقت بھی رائج تھے؟ نبی اکرمؐ کے افعال میں کون سے افعال سنت ہیں جن پر عمل درآمد ضروری ہے اور کون سے اعمال ایسے ہیں جو صرف آپؐ ہی سے مخصوص ہیں۔کوئی حدیث کس لحاظ سے قوی یا مستند ہے جس کا قانون میں استعمال کیا جائے؟ کیا صرف ایک حدیث قانون وضع کرنے کے لئے کافی ہے؟ قانون کا اطلاق کن پر ہوتا ہے۔ قانون کی تشریح کس کا حق ہے؟ قوانین کے نفاذ کا کون ذمہ دار ہے اور یہ نفاذ کیسے ہو اور کن حالات میں ہو؟ ایسے قوانین کا کیا کیا جائے جو بظاہر غیر منصفانہ ہیں؟ کیا انصاف ایک تصور ہے جس کا احکام الٰہی کے خارج میں کوئی وجود نہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان قوانین کے بارے میں کیا کیا جائے جو قرآن و حدیث میں مذکور تصور کے منافی ہیں۔ کیا تعبیر و تشریح کا منہج خود قرآن اور حدیث میں مذکور ہے؟ مختلف تشریحات کیوں ہیں اور ایک شارح کا رویہ دیگر شارحین کے متعلق کیا ہونا چاہئے؟ ایک دوسرے کی آراء کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے؟ اگر تمام علماء کسی ایک تشریح پر راضی ہوجائیں تو کیا اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگا؟ اگر ان میں یہ اتفاق رائے پایا بھی جاتا ہے تو کیا آئندہ نسلوں کو اس سے اختلاف کا حق نہیں ہے؟ اگر وہ ابتداء میں اس پر اتفاق کریں اور بعد میں اس سے اختلاف کریں تو کیا ہوگا؟ یہ چند سوالات ہیں جن سے اسلامی قانون کی تاریخ نبرد آزما رہی ہے۔ ان سوالات کے باعث متعدد اختلافات اور تنازع سامنے آئے۔

            90 سے 130 علماء نے اسلام کی ابتدائی صدیوں میں اپنے منہج کی مدد سے مذکورہ بالا سوالات کے جواب دئے۔ ان کے یہ جوابات مذاہب کی اصطلاحات سے موسوم ہیں۔ ان سب کے پیش نظر یہ تھا کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں کیسے راہ طے کی جائے۔ نبی اکرم محمدؐ نےمعاذ ابن جبل کو اپنے عامل کے طور پر یمن روانہ کیا، آپؐ نے معاذ سے دریافت کیا کہ وہ فیصلہ کیسے کریں گے۔ تو معاذ نے جواب دیا کہ پہلے وہ قرآن کی رو سے اور پھر سنت کی روشنی میں اور پھر خود اپنی تعبیر کی روشنی میں فیصلے کریں گے۔ نبی اکرمؐ نے اس منہج کی تائید کی (ابو داؤود، ترمذی اور سنن الدارمی)۔ وہ علماء جنھوں نے خود اپنا منہج اور تعبیر و تشریح وضع کی ان کو مجتہد امام کہا جاتا ہے۔ ان میں ان ممتاز علماء کے نام آتے ہیں : حسن البصری (م 110ھ بمطابق 728ء)، عبد الرحمن الاوزاعی (م 157ھ بمطابق 774ء)، سفیان الثوری (م 161ھ بمطابق 778ء)، اللیث ابن سعد (م 175ھ بمطابق 791ء)، ابراہیم ابو ثور (م 239ھ بمطابق 854ء) اور داؤود الظاہری (م اندازاً 270ھ بمطابق 883ء)۔ الظاہری کے مذہب پر دیگر مذاہب کے لوگ آج بھی عمل پیرا ہیں۔ اس ضمن میں ایک اہم نام مفسر قرآن ابن جریر الطبری (م 310ھ بمطابق 923ء)  کا بھی ہے۔ یہ علماء عالم اسلام کے مختلف خطوں میں مقیم تھے اور اپنے علاقے کے دیگر علماء کے نقطۂ نظر کے بھی نمائندہ ہیں۔ البتہ سنّی دنیا میں صرف چار مذاہب معروف ہیں جو ان علماء سے منسوب ہیں : (۱) ابو حنیفہ نعمان ابن ثابت (م 150ھ بمطابق 767ء)، (۲) مالک ابن انس (م 179ھ بمطابق 796ء)، (۳) محمد ابن ادریس الشافعی (م 204ھ بمطابق 820ء) اور (۴) احمد ابن حنبل (م 241ھ بمطابق 855ء)۔ ابو حنیفہ اور ان کے مکتب فکر میں باعتبار ترجیح یہ مآخذ ہیں:

۱۔         قرآن

۲۔        احادیث صحیحہ

۳۔        صحابۂ اکرام، علماء مثلا ابن مسعود وغیرہ کا اجماع اور ان کی قانونی آراء اور

۴۔        قیاس استحسان جو کہ قرآن و سنت پر مبنی ہو۔

            ابو حنیفہ کا قیام عراق میں تھا۔ ان کی رائے میں احادیث کی تعداد سے قطع نظر علماٗ کو اس پر غور کرنا چاہئیے کہ وہ کون لوگ تھے جنھوں نے ان احادیث کی سماعت کی۔ مثلاً کیا وہ صحابہ تھے اور کیا وہ ان احادیث کی فہم رکھتے تھے۔ کیونکہ صحابہ اکرام کو احادیث کا براہ راست علم تھا۔ وہ ان کے سیاق و سباق اور مقصود سے بخوبی واقف تھے۔ بالفاظ دیگر ابو حنیفہ کی رائے میں صحابہ احادیث کی فہم پر بعد کی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ قادر تھے۔ بعد کی نسلوں کو محض کتابیں دستیاب تھیں اور ان کا بھی پایۂ استناد یقینی نہ تھا۔

            تمام سنّی مذاہب میں حنفی مذہب کو غالب اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ تقریباً پچاس فیصدی سنی حنفی مسلک کے پیرو ہیں۔ یہ مذہب وسط ایشاء اور بر صغیر ہند و پاک کے سنّیوں کا مسلک ہے۔ یہ عظیم الشان سلطنت عثمانیہ کا بھی سرکاری مذہب تھا۔ یہ سلطنت 699ھ بمطابق 1343ء  تا 1299ھ بمطابق 1923ء تک رہی۔ اسی باعث حنفی مذہب تمام مذاہب میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ قانون اسلامی عبادات اور معاملات میں تقسیم ہے۔ ایسے ممالک جہاں شافعی مسلک رائج ہے وہاں بھی معاشرتی معاملات میں حنفی مذہب ہی پر عمل درآمد ہوتا ہے کیونکہ حنفی مذہب کا نفاذ نسبتاً آسان ہے۔

            مالک ابن انس کی کم و بیش پوری زندگی مدینہ میں گذری۔ مدینہ ہی میں نبی اکرمؐ مقیم رہے تھے اور وہیں آپؐ نے وفات پائی۔ مالک کی رائے میں اہل علم اہل مدینہ کی رائے برتر ہے کیونکہ یہ اہل مدینہ نبی اکرمؐ سے بُعد مکانی اور بُعد زمانی نہیں رکھتے تھے۔ لہٰذا ان کی آراء نبی اکرمؐ کی تعلیمات کی واضح تر مثالیں ہیں۔ مالک کی ترجیحات یہ ہیں:

۱۔         قرآن

۲۔        احادیث، صحابہ کے فتاویٰ اور اہل مدینہ کے افعال کی روشنی میں سنت رسول اللہؐ۔

۳۔        اجماع

۴۔        قیاس

۵۔        اجتماعی مصالح

            امام مالک نے قانون اسلامی  کا پہلا منظم ہدایت نامہ مؤطا تالیف کیا۔ مسلمان علماء کے لئے یہ کتاب آج بھی مآخذ کا درجہ رکھتی ہے۔ مالک کا مذہب تمام سنّیوں میں سے بیس فیصد سنّیوں بالخصوص مشرقی اور مغربی افریقہ کے مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔

            امام مالک کے شاگرد محمد ابن ادریس الشافعی کا تعلق ایک مکی قبیلہ سے تھا جس کی نبی اکرمؐ سے قرابت داری تھی۔ الشافعی نے عالم اسلام کا دورہ کیا۔ انھوں نے اپنے استاد مالک سے اختلاف کیا، ان کی رائے میں حدیث کسی بھی صورت میں قرآن کو منسوخ نہیں کرسکتی۔ متن قرآن کے بعد درجہ احادیث کے متن کا ہے البتہ احادیث کے مندرجات اور سنت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ سوال اورجواب کی شکل میں مرتب ان کی تصنیف الرسالہ فقہ اسلامی کا ایک اہم مجموعہ ہے اور فقہ کے طالب علموں کے لئے ایک قابل مطالعہ تصنیف ہے۔ الشافعی کا قول ہے، وہ رقمطراز ہیں : ‘‘کسی کو بھی کسی متعین معاملہ کے بارے میں صرف یہ کہتے ہوئے فتویٰ نہیں دینا چاہئے کہ وہ حرام ہے یا حلال ہے جب تک کہ اس کو قانون کا صحیح علم نہ ہو اور یہ علم قرآن و سنت سےیا اجماع سے یا قیاس سے ماخوذ ہونا چاہئے’’ (الرسالہ جلد 5)۔ ‘‘جب کبھی کوئی سنت کسی دوسری سنت سے منسوخ ہوتی، نبی اکرمؐ اس کا واضح الفاظ میں اظہار کردیتے تھے۔ سنت کسی بھی صورت میں کتاب اللہ کی مخالف نہیں ہوسکتی بلکہ یہ ہمیشہ کتاب اللہ کی تابع ہوگی۔ سنت کا مقصود اللہ کے منشا کی وضاحت ہے’’ (الرسالہ)۔

            عملاً شافعی مسلک میں ترجیحات یہ ہیں:

۱۔         قرآن

۲۔        احادیث صحیحہ

۳۔        علماء کا اجماع

۴۔        صحابہ کی آراء (قدیم شافعی مذہب میں)

۵۔        قرآن اور سنت پر مبنی قیاس

۶۔        استسحاب الحل

            چونکہ شافعی مذہب میں احادیث کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے اس لئے یہ مذہب الحدیث سے موسوم ہے۔ اپنی عبادات میں کم از کم سنّیوں کی ایک چوتھائی تعداد شافعی مذہب کی پابند ہے۔

            حدیث کو ترجیح دینے کے رجحان کو شافعی کے قابل ذکر طالب علم احمد ابن حنبل نے اور نمایاں کیا۔ ابن حنبل پر ظلم و ستم ڈھائے گئے۔ ابن حنبل کی رائے میں ضعیف احادیث قیاس و اجتہاد سے بہتر ہیں۔ ان کے خیال میں ضعیف سے ضعیف حدیث کے متعلق یہ احتمال ہے کہ ممکن ہے کہ یہ نبی اکرمؐ کا قول ہو اور اس صورت میں اس میں غلطی کا امکان نہیں ہوسکتا چونکہ اس کا مآّخذ اللہ ہے لہٰذا اجتہاد  کو اس پر ترجیح نہیں دینا چاہئے۔ اُن کے رائے میں اجتہاد میں غلطی کا امکان ہے۔ غرضیکہ احمد ابن حنبل اور ان کے مذہب کی ترجیح مختلف ہے۔ سنّی مسلمانوں میں سے صرف پانچ فیصد حنبلی مذہب پر عمل پیرا ہیں اس مذہب کی ترجیحات درج ذیل ہیں:

۱۔         قرآن

۲۔        احادیث صحیحہ

۳۔        ابتدائی دور کے مسلمانوں کا اجماع

۴۔        صحابہ کی آراء

۵۔        ضعیف احادیث

۶۔        قرآن اور سنت پر مبنی قیاس

            مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہے کہ ہر مذہب کا اپنا منہج اور اس کا جواز ہے لیکن ان سب میں مشترک پہلو یہ ہے کہ یہ قرآن اور حدیث پر مبنی ہے۔ ہر مسلک کے ذہین علماء نے ان تصورات کا مطالعہ کیا، ان پر غور و فکر کیا، ان کا انطباق کیا اور ان کو مزید ترقی دی۔ یہ امر بھی واضح ہے کہ مختلف مناہج کے استعمال کے باعث متعدد  معاملات پر اختلاف رائے رونما ہوا۔ تمام معاملات میں صرف دس فیصدی نکات ایسے ہوں گے جن میں کسی بھی مذہب میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ان نکات کو قطعی قرار دیا جاتا ہے۔ دیگر معاملات پر آراء ظنی ہیں، اسی باعث چار اہم سنّی مذاہب میں تاریخی لحاظ سے اختلافات ہیں لیکن اس کے باوصف وہ سب ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کے رویہ میں تکثیریت کا پہلو نمایاں ہے شافعی کا قول ہے کہ ہم اپنے مذہب کو برحق سمجھتے ہیں لیکن اس کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اس میں غلطی کا احتمال ہے۔ ہماری رائے میں دیگر مذاہب غلط ہیں لیکن ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ صحیح ہوسکتے ہیں۔باہمی احترام کے باعث سنّیوں کی فکر اور قانون میں تکثیریت ملتی ہے۔ مذاہب کے منہج پر مبنی شریعت کا استنباط، اصول الفقہ کہلاتا ہے یعنی وہ اصول جن پر فقہ کا دار و مدار ہے۔

            الشافعی کے الرسالہ کی اشاعت کے فوراً بعد اصول کی اصطلاح منظر عام پر آئی۔ محمد السرخسی (م 490ھ بمطابق 1096ء) نے اپنی مشہور کتاب اصول الفقہ تصنیف کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان مذاہب کے پیروکاروں کو اصولی کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں بعض دفعہ اصولیوں کو بنیاد پرست کہا جاتا ہے جو کہ بالکل غلط تصور ہے۔ تیسری صدی ہجری سے تیرہویں صدی ہجری تک یعنی 800ء سے 1750ء تک کوئی بھی سنّی عالم ایسا نہیں ملتا جو کسی نہ کسی مذہب پر عامل نہ ہو۔ غرضیکہ اصولی اسلام سنّی مسلمانوں کا ایک قابل ذکر پہلو اور اسلامی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

            یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئیے کہ بنیادی مآخذ سے احکام کا استنباط ایک منطقی اور مستقل منہج کے باعث ہے۔ اسی کی روشنی میں احکام وضع کئے جاتے ہیں اور اس میں ساتویں صدی کے حالات کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اسی باعث ایک رکاوٹ بھی پیش آتی ہے وہ یہ کہ حالات و ظروف تبدیل ہوتے رہتے ہیں بالخصوص ان چار صورتوں میں ان میں تبدیلی واقع ہوتی ہے : زماں، مکاں، اشخاص اور احوال کی روشنی میں۔ بعد کے علماء کو اس کا احساس تھا اور انھوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ احکام کو متن سے ایک دفعہ مستنبط کرنے کے بعد ان کو ابدی نہیں تصور کرنا چاہیے بلکہ جہاں ان احکام کا اطلاق ہو اس کے سیاق و سباق کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ سیاق و سباق کی بڑی اہمیت ہے۔ آج کے دور کی ضروریات اور حقائق کو پیش نظر رکھنا لازم ہے۔ البتہ اس میدان میں مسلمان علماء پیچھے ہیں وہ آج کے لوگوں کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے گو اپنی دانست میں وہ اس کا فہم رکھتے ہیں۔ دور جدید کے علماء کو اپنے ارد گرد کی خبر نہیں، یہ تبدیلیاں قانون کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ اگر کیسے کا جواب نہیں دیا گیا تو غلطی کا کھلا ہوا امکان ہے۔ ایک ہی بات کا اطلاق ہر ایک پر نہیں کیا جاسکتا۔ ماخوذ احکام فی نفسہٖ درست ہوسکتے ہیں لیکن آج کے دور میں ان پر عمل درآمد صحیح نہیں ہوگا کیونکہ سیاق و سباق میں فطری تبدیلیوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ ماخوذ حکم سے حکم کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ اگر آج کا کوئی طالب علم ویکیپیڈیا سے نقل کرکے اپنا جواب تیار کرے اور یہ جواب پوچھے جانے والے سوال سے مختلف ہو تو یہ نامناسب بات ہوگی۔ ہمیں صورتحال کو تبدیل کرنا چاہئے۔ مسلم علماء اور فضلاء کو تاریخ، فلسفہ، سائنس، ٹیکنالوجی اور طب کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ وہ ایک بامعنی شریعت کو نمایاں کریں اور صرف کتابی باتوں سےسروکار نہ رکھیں۔

            اگلے باب میں ہم نے یہ ذکر کیا ہے کہ 1920 میں مجلس اقوام عالم کے قیام سے قبل مختلف قوموں میں سیاسی رقابت پائی جاتی تھی۔ یہ ممالک ایک دوسرے سے جنگ میں برسر پیکار رہتے۔ اُس دور میں اشیاء کا غصب عام تھا اور کوئی بھی قوم اپنے دائرۂ ارض کو بڑھانے کے لئے کوشاں رہتی اور دوسروں کا حق لینے کے بعد بھی اُس کا کچھ نہ بگڑتا اور یہ سمجھا جاتا کہ یہ ایک اچھا فعل ہے اور اس کے لئے کوئی بھی حیلہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بعض لوگوں نے حیلے تک کا استعمال نہیں کیا۔ اس کی نمائندہ بے شمار مثالیں ہیں، اسی طرح عالم اسلام میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلق جہاد کے سیاق و سباق پر کیا جاتا۔ چونکہ آج کی ریاستیں بالعموم مذہب پرقائم نہیں ہیں، جب تک دو ریاستوں کے مابین امن کا معاہدہ نہ ہو،  ان کے درمیان تعلقات کی نوعیت متعین نہیں ہو سکتی آج تمام ریاستیں اقوام متحدہ کی رکن ہیں اور اس سے بین الاقوامی سطح پر سہولت ملتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر حسن سلوک، بین الاقوامی سطح پر صلح ناموں کا ایک بہر کیف آفاقی معاہدہ، بین الاقوامی سطح پر رویہ کو درست رکھتے ہیں۔ غرضیکہ جہاد ایک عام طریقہ نہیں ہے۔ جہاد اسی وقت ایک جائز سرگرمی ہے جب کہ کسی مسلمان ملک پر حملہ ہو اور باہری طاقتیں اُس پر قابض ہوں۔ منگول حملوں کے زیر اثر مرتبہ فتاویٰ پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

            یہ اضافہ بھی ضروری ہے کہ اصولی علماء نے عملی شریعت کو قانونی محاورۂ بیان میں سکھایا۔ انسانوں کو عملی طور پر فیصلہ لینے کے لئے کچھ عام قوانین ہیں ان میں سے مندرجہ ذیل پانچ کا تذکرہ مصری فقیہ تقی الدین السبکی (م 727ھ  تا 771ھ بمطابق 1328ء  تا 1370ء) نے اپنی تصنیف الاسباب و النظائر  میں کیا ہے:

۱۔         معاملات پر فیصلہ ا ن کے پس پشت مقاصد کی بنیاد پر کیا جائے۔

۲۔        حرم سے اعراض کرنے کی کوئی وجہ ہی نہیں۔

۳۔        رسوم و رواج لازمی ہیں۔

۴۔        دشواریاں آسانی پیدا کرتی ہیں۔

۵۔        یہ یقین ہو کہ شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے۔

            قرآن و حدیث سے براہ راست تعلق قائم کرنے میں مذکورہ وضاحت مفید ثابت ہوتی ہے۔

ابن تیمیہ اور اصول مخالف سنّی تحریک کا آغاز

            یہ امر بالکل واضح ہے کہ رفتہ رفتہ اصول بہت پیچیدہ ہوتے گئے اور صدیوں کے عرصہ میں یہ دشوار تر ہوگئے۔ اس سے زیادہ مشکل مرحلہ یہ تھا کہ بعض ایسے نتائج اخذ کئے گئے جو متعین مستند احادیث سے متصادم تھے، اس کے اسباب متعدد تھے مثلاً قرآن پر حدیث کو ترجیح دینا یا کسی حدیث کو ضعیف یا منسوخ متصور کرنا یا کسی حدیث کو خصوصی نہ کہ عمومی سمجھنا یا اس کو محض بلاغت پر مبنی سمجھنا اور اس کے لغوی معنیٰ سے اجتناب کرنا یا اس کو مشروط یا غیر مشروط سمجھنا۔ یہ وہ پس منظر تھا جس میں ابن تیمیہؒ علمی دنیا میں وارد ہوئے۔

            تقی الدین احمد ابن تیمیہ (م 728ھ بمطابق 1328ء) ایک ذہین شامی حنبلی عالم تھے۔ وہ ایک پُر فتن دور میں پیدا ہوئے اور اپنی زندگی کا ایک حصہ انھوں نے منگولوں کے حملوں کے خلاف مدافعت اور پھر علویوں اور اسماعیلیوں کے خلاف جنگ میں گزارا۔ ابن تیمیہ کی رائے میں علوی اور اسماعیلی  بددین تھے۔ ان  کا  جہاد کے بارے میں مخصوص نقطۂ نظر تھا۔ تصوف کے راستہ سے داخل ہونے والے بہت سے رسوم و رواج کے بھی وہ مخالف تھے۔ ان کی رائے میں وہ سنت رسول اللہ کا جزو نہیں تھے۔ ابن تیمیہ نے اشعری ماتریدی نظریئے کی بھی مخالفت کی اور ان کا خیال تھا کہ قرآن میں اللہ کے ہاتھ، آنکھوں، چہرے، پہلو اور عرش پر استوار ہونے کے متعلق حوالوں کے لغوی معنی لینا چاہئے اور اس ضمن میں کیوں اور کیسے  سوال نہیں اٹھانا چاہئے۔ یہ حوالے سورہ فتح کی آیت 10 ، البقرہ کی آیت ۱۱۵، سورہ طور کی آیت 48، سورہ الزمر کی آیت 56 اور سورہ الحدید کی آیت 4 میں ملتے ہیں۔ ابن تیمیہ کا یہ اصرار تھا، یہ ان کی محض رائے نہیں بلکہ یہی حقیقت ہے اور ان کے پیش رو علماء کو بھی ان سے اتفاق رائے کرنا چاہئیے۔ اس ضمن میں وہ کسی مصالحت یا رعایت کے قائل نہیں تھے، وہ اپنے مخالف پیش رو علماء کو قطعاً غلط سمجھتے تھے۔ ابن تیمیہ کے یہاں علمی تکثیریت یا دیگر آراء کا کوئی احترام نہیں ملتا۔ پھر انھوں نے اصول کی مخالفت کرنا شروع کی۔ اُن کے دور تک ہر مذہب نے اپنے احکام وضع کرلئے تھے۔ صورتحال کچھ ایسی تھی جس کا ذکر ٹینسن نے اپنی نظم بعنوان  You Ask me Why (1842) میں کیا ہے:

یہ وہ سرزمین ہے جس میں آزاد لوگ کھیتی کرتے ہیں جسے آزادی نے منتخب کیا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس میں دوست اور دشمن دونوں ساتھ رہتے ہیں اور ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق اظہار کی آزادی ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں مستحکم حکومت ہے اور منصفانہ شہرت کے لوگ ہیں۔ جہاں نظائر کی بنیاد پر آزادی پروان چڑھتی ہے جہاں فرقے کم ہی سر اٹھاتے ہیں اور ہر نقطۂ نظر کو یہ آزادی ہے کہ وہ پھلے پھولے۔

            البتہ ان مذاہب کے اصولوں کے باعث حدیث سے تصادم کی صورتحال رونما ہوئی۔ بعض مذہبی رسوم و رواج  جن کا حدیث سے کوئی استناد نہیں  ملتا، ابن تیمیہ کی رائے  کے مطابق وہ سب بدعت تھی لہٰذا انھوں نے یہ تحریک برپا کی کہ مسلمانوں کی پہلی اور دوسری نسلوں کا جو اصل دین تھا اُس کی جانب مراجعت کی جائے اور السلف الصالح کی پیروی کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نقطۂ نظر کے حامیوں کو سلفی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس طرح شافعی نے اپنے الرسالہ میں تحریر کیا ہے، ابن تیمیہ کی یہ رائے تھی کہ قرآن اور سنت میں اگر کوئی اختلاف ہے تو اُسے حدیث نے حل کردیا ہے۔ طبری کے مانند وہ تفسیر قرآن کو حدیث یا سلف کے اقوال تک محدود کرنا چاہتے تھے۔ اُن کے نقطۂ نظر کے مطابق قرآن کو حدیث کا تابع ہونا چاہئیے۔ اس کا  ذکر انھوں نے اپنی کتاب مقدمہ فی اصول التفسیر میں بھی کیا ہے۔ لیکن شافعی اور طبری کے برخلاف انھوں نے احادیث میں جو امور مذکور نہیں ہیں ان کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی۔ ان کو سلف صالح اور اپنے دور کے درمیان پانچ سو سال کے اسلامی علمی ذخیرہ کی زیادہ پرواہ نہیں تھی۔ بالفاظ دیگر ابن تیمیہ نے اصول مخالف تحریک کی بنیاد رکھی۔ اسے بعض افراد نے لامذہبیہ تحریک سے بھی موسوم کیا ہے کیونکہ یہ صرف مذاہب ہی کی تردید نہیں کرتی بلکہ ان مذاہب کے اصولوں کو بھی یکسر خارج کرتی ہے۔

            اس لحاظ سے ابن تیمیہ مارٹن لوتھر کے مشابہ تھے۔ لوتھر نے قرون وسطیٰ کے کلیسا کی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ لوتھر اس کے قائل تھے کہ ہر شخص بائبل کا خود مطالعہ کرے اور اس کا فہم حاصل کرے اور اس باب میں کیتھولک تفسیری منہج کو کوئی اہمیت نہ دے۔ لوتھر کی مانند ابن تیمیہ اور ان کے متبعین کا مقصود مذہب  سے بدعت کو پاک کرنا تھا۔ البتہ اصولی طور پراس سے دو بنیادی مسائل متن سے متعلق سامنے آئے۔ پہلا مسئلہ متن میں بظاہر اختلافات کا تھا اور دوسرا مسئلہ مختلف امور کے بارے میں نصوص کا سکوت۔ اس طرح سے یہ سوالات بغیر کسی حل کے بدستور قائم رہتے۔ انھوں نے یہ یکسر فراموش کردیا کہ قدیم حل ان مسائل کو طے کرنے میں ناکام رہے۔ بلکہ نئے مسائل پیدا ہوتے گئے، پیچیدہ مسائل کو سادہ سمجھنا یا نامکمل یا مرضی کے مطابق نصوص سے انتخاب کرنا اس لحاظ سے غلط ہے کہ اس میں کسی موضوع کے بارے میں قرآن اور حدیث کی تمام تعلیمات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اسی باعث تنازع پیدا ہوئے بالخصوص اصولی نقطۂ نظر سے اور انہی تنازعات کا تذکرہ اصول مخالف تحریک میں ملتا ہے۔ ان میں سے بعض اہم مباحث یہ ہیں:

دیگر مفکرین کی طرح ابن تیمیہ کے یہاں بھی یہ نکتہ پایا جاتا ہے۔ اسلام میں نبی کریمؐ کے سوا کوئی معصوم نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ احادیث میں اختلافات اور تضاد کو رفع کرنے کے لئے کوئی منہج نہیں ہے۔ ابن تیمیہ کا اپنا مذہب حدیث پر مبنی ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عملاً ابن تیمیہ کا مذہب چار  معروف مذاہب کے علاوہ ہے اور یہ دیگر نقطہ ہائے نظر کو قبول نہیں کرتا اور اپنے بانی کو معصوم سمجھتا ہے۔

اشعری ماتریدی دینیات اور دیگر دینیاتی مباحث کی تردید قرآن میں مذکور دینیاتی تفاصیل اور ان کے مقاصد کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ جب کہ قرآن میں انسان کو تدبر اور تفکر کا حکم دیا گیا ہے۔ تدبر کی تاکید ان آیات میں ملتی ہے : النساء آیت 82، المومنون آیت 68، ص آیت 29، محمدؐ آیت 24 اور ق آیت 37، اسی طرح تفکر سے کام لینے کی ہدایت ان آیات میں کی گئی ہے : النحل آیات 43-44، الحشر آیت 21، الرعد آیت  3 اور آل عمران آیات 190-192۔ قرآن میں یہ اصرار بھی ملتا ہے کہ انسان آیات الٰہی پر غور و فکر کرے۔

ابن تیمیہ کے یہاں حدیث کو ایک غالب شعبۂ علم بنانے کی کوشش ملتی ہے۔ وہ اس کا غلبہ تمام علوم اسلامی بشمول تفسیر شریعہ پر چاہتے ہیں۔ بسا اوقات اصول مخالف تحریک اپنا تعارف بطور اہل حدیث کرتی ہے۔ اس سے اُن کی مراد یہ ہوتی ہے کہ دیگر مذاہب حدیث پر مبنی نہیں ہیں البتہ ایسی کسی صحیح حدیث کا سراغ لگانا دشوار ہے جس کے راویوں میں کوئی صوفی یا اشعری ماتریدی مسلک کا نہ ہو۔ اگر یہ سب کے سب بددین اور کاذب تھے جیسا کہ بعض اصول مخالف تحریک کے حامیوں کا خیال ہے تو اُس لحاظ سے چند ہی مستند حدیث باقی رہ جائیں گی اور اس طرح خود اہل حدیث کا نقطۂ نظر بھی مجروح بلکہ بے بنیاد قرار پائے گا۔

اصول مخالف حضرات اجماع اور تکثیریت کے علمی مباحث کے قائل نہیں ہیں۔

یہ حضرات حدیث سے غیر ثابت تمام اعمال کو بدعت قرار دیتے ہیں چونکہ حدیث مکمل طور پر جامع یا واضح تحریری سرمایہ نہیں ہے اور اسے ملحوظ رکھنا چاہئیے کہ گفتگو میں بہت کچھ الفاظ کے بغیر بھی ادا کیا جاتا ہے مثلاً سیاق و سباق، مقام، ذہنی سطح، آواز کے زیر و بم، چہرے کے تاثرات اور جسم کے حرکات و سکنات سے بھی بہت کچھ اظہار خیال ہوتا ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل لحاظ ہے کہ تمام مسلم علماء کے لئے عربی صرف و نحو کا مطالعہ لازمی ہے جبکہ یہ مطالعہ تکنیکی لحاظ سے بدعت ہے، اس کی بنیاد یقیناً قرآن، حدیث اور عربی شاعری میں ہے، اسی لئے اصولی علماء کی یہ رائے ہے کہ بدعات دو طرح کی ہیں،منفی اور مثبت۔

اصول مخالف حضرات ماقبل اسلام شاعری کے ذخیرہ کو اکثر مسترد کرتے ہیں اور اس کو عربی زبان کے حوالہ کے لئے بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اُن کی دلیل ہے کہ یہ شاعری کافروں کی تصنیف ہے۔ وہ اس مآخذ کے بجائے صحابہ کی آراء اور تابعین اور تبع تابعین کے نقطۂ نظر کو اہمیت دیتے ہیں اور صرف انہی کو سلف صالح عربی زبان کے باب میں بھی تسلیم کرتے ہیں۔ یہاں ایک مسئلہ ہے کیونکہ قرآن عربی مبین میں نازل ہوا (حوالہ کے لئے دیکھئے سورہ الشعراء آیت 95 اور النحل آیت 103)۔ یہ عربی زبان اس سے قبل کی نسلوں سے اخذ کی گئی اور قرآن کا خطاب کفار بھی ہیں۔ غرضیکہ تفسیر بالتفسیر کا ایک مسئلہ ہے۔ قرآن کی تشریح و تعبیر صرف علم اشتقاق تک محدود نہیں۔

مزید برآں، اسی تصور کی بنیاد پر ابن تیمیہ کا خیال ہے کہ قرآن میں مجاز نہیں ہے بلکہ قرآن میں مذکور ہر شئے لغوی اعتبار سے صحیح ہے۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن میں مستعمل الفاظ استعارۃً بھی ملتے ہیں، مثلاً موت کا ذائقہ چکھنا (دیکھئے سورہ العنکبوت آیت 57 اور دیگر مقامات پر)۔ ابن تیمیہ ان مقامات پر بھی لغوی معنی پر اصرار کرتے ہیں۔ قرآن اور حدیث کی تشریح میں اس طرز فکر سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اصول مخالف حضرات کے یہاں دوسروں کی تکفیر کا رجحان ملتا ہے۔ یہ تکفیر سزائے موت پر منتج ہوتی ہے لہٰذا یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ درحقیقت تکفیر موت سے بھی بدتر ہے کیونکہ جس شخص کی تکفیر کی جاتی ہے اس کی اپنی بیوی سے علیحدگی ہوجاتی ہے اس کے بچے اور بیوی اُس کے وارث نہیں ہوسکتے اور وہ شخص کسی مسلم قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتا۔ غرضیکہ تکفیر کی صورت میں سزائے موت کے علاوہ اس شخص کے خاندان کا، اعمال کا اور جائداد کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ اتنا سخت معاملہ ہے کہ نبی اکرمؐ نے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تکفیر کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی شخص کی روح اور ایمان کو آدمی اپنے ہاتھوں میں لے لے۔ آپؐ کا قول ہے : ‘‘اگر کوئی شخص اپنے بھائی سے کہے کہ وہ کافر ہے تو اس کی زد اُس پر بھی پڑتی ہے’’ (بخاری اور مسلم)۔ ہر چند کہ بعض متعصب علماء نے کبھی کبھی ایک دوسرے کے عقائد کے حوالے سے تکفیر کافتویٰ دیا ہے۔ مسلمانوں کی واضح اکثریت اس سے مجتنب رہی ہے۔ ابن تیمیہ نے بھی اس کے خلاف متنبہ کیا ہے اور اس سے اعراض کی کوشش کی لیکن ابن تیمیہ کے دور کے بعد سلفی فکر کے انتہا پسند ارکان نے دیگر افراد کی کثیر تعداد  میں مذمت کرنا شروع کی اور ان کو توبہ کا موقع دینے سے بھی انکار کیا۔ اور اس کا نتیجہ اُن پر حملے، ان کے قتل اور اُن کی تکفیر کی  شکل میں ظاہر ہوا۔ اس کے علاوہ ابن تیمیہ نے منطق کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا ہے۔

منطق

            اسلام مخالف عناصر کا یہ ایک عام الزام ہے کہ اسلام نے عقل اور منطق کے قوانین کو نظرانداز کیا ہے اور اسلام میں نشاۃ ثانیہ کی ضرورت ہے جو کہ عقل پر مبنی ہو۔ وہ اس ضمن میں مسلمانوں کے معتزلہ فرقے کا حوالہ دیتے ہیں جو کہ آٹھویں سے دسویں صدی عیسوی میں اپنے عروج پر تھا اور اس فرقے کے افراد عقل پر اصرار کرتے تھے۔ اس کے برخلاف ان کے خیال میں ابن تیمیہ اور حنبلی مسلک عقل اور منطق کے خلاف ہیں اور وہ ان کے مطابق منطق کو اسلام کے مخالف پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فکر میں قیاسی اور ذاتی پہلو بہت نمایاں ہے۔

            جہاں تک منطق کے قوانین کا تعلق ہے یہ بنیادی طور پر تین ہیں۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق یہ تین قوانین یہ ہیں:

۱۔         تشخص کا قانون یعنی جو کچھ ہے وہ موجود ہے۔

۲۔        تضاد کا قانو، کوئی بھی شئے موجود اور غیر موجود بیک وقت نہیں ہوسکتی۔

۳۔        غیر موجود وسط کا قانون، کوئی شئے یا کسی شئے کا وجود ہونا چاہئیے یا نہیں۔

            یہ تینوں قوانین منطقی اصولوں کے عکاس ہیں۔ اور منطق کے دیگر اصول بھی اسی طرح بنیادی اور واضح ہیں (برٹرینڈسل، دی پرابلمس آف فلاسفی، باب 7)۔ ہر چند کہ یہ قوانین واضح ہیں لیکن ان کو تحریری شکل میں سب سے پہلے افلاطون نے پیش کیا اور پھر اس کے شاگرد ارسطو نے ان کو ایک متعین شکل دی۔ تشخص کے قانون کے متعلق افلاطون رقمطراز ہیں : ‘‘ہم سے قبل ایک عظیم فلسفی نے یہ خیال پیش کیا کہ ابتداء سے آخر تک کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ جو چیزیں موجود ہوں وہ غیر موجود ہوں۔ ہمارے پاس اس باب میں شہادت ہے، ذراسے غور و فکر سے یہ نکتہ مزید عیاں ہوتا ہے’’ (افلاطون سوفسٹ ص 237 الف ب) (مزید دیکھئے ارسطو، میٹا فزکس، جلد ۴، ص 1006 الف ب)۔ اپنی تصنیف Theaetetus کے ص 155 میں افلاطون نے اس قانون کو مزید تین قابل عمل اصولوں میں منقسم کیا ہے۔

            جہاں تک دوسرے قانون کا تعلق ہے جو تضاد سے متعلق ہے یا عدم تضاد سے اس کے بارے میں افلاطون کا نظریہ ہے : ‘‘یہ واضح ہے کہ ایک ہی شئے پر نہ عمل واقع ہوسکتا ہے اور نہ وہ عامل ہوسکتی ہے بیک وقت ، اسی اعتبار سے اور اسی سیاق و سباق میں (افلاطون، ریپبلک 436 ب، دیکھئے ارسطو، میٹا فزکس، جلد 4 ص 1005 ب)۔

            تیسرا قانون جو کہ وسط کے بارے میں ہے، افلاطون نے یہ مکالمہ نقل کیا ہے:

سقراط : کیا ایسے بھی لوگ ہیں جو صحت مند ہیں؟

الکیبیڈس : جی ہاں

سقراط : کیا  کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بیمار ہیں؟

الکیبیڈس : بلاشبہ

سقراط : کیا وہ ایک ہی لوگ ہیں؟

الکیبیڈس : بالکل واضح ہے کہ وہ ایک ہی لوگ نہیں ہیں۔

سقراط : کیا کوئی ایسے لوگ ہیں جو نہ یہ ہیں نہ وہ؟

الکیبیڈس : نہیں۔

سقراط : ایک شخص کی موجودگی کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ بیمار ہو یا بیمار نہ ہو۔

الکیبیڈس : ہاں میرا خیال یہی ہے۔

سقراط : کیا کسی شئے کے دو واضح متضاد ہوسکتے ہیں۔

الکیبیڈس : نہیں

(افلاطون، الکبیڈس 11، دیکھئے ارسطو، میٹا فزکس، کتاب 4، ص 1006 ب)۔

            منطق کے یہ ابواب بظاہر اسلام سے غیر متعلق محسوس ہوتے ہوں۔ غزالی نے اپنی تصانیف القسطاس المستقیم اور محک النظر اور معیار العلم میں یہ واضح کیا ہے کہ منطق کے قوانین قرآن میں واضح اور بین السطور اللہ نے استعمال کئے ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے ان آیات کی مثال دی ہے : المائدہ  5:18، الانعام 6:91، الاسراء 17:41، الانبیاء 21:99، سبا 34:24، جمعہ 62:6–7۔ اسی طرح قرآن میں انبیاء بھی منطق استعمال کرتے ہوئے پیش کئے گئے ہیں (دیکھئے البقرہ 258 اور الانعام 77)۔ مزید برآں، منطق کے انہیں قوانین کا قرآن میں شیطان غلط استعمال کرتے ہوئے نظر آتا ہے (دیکھئے ص 76)۔

            غزالی کے الفاظ میں تشخص کا قانون وہی ہے جس کو میزان کبریٰ اور اسی طرح غیر موجود وسط کے قانون اور تضاد کے قانون کو انھوں نے میزان وسطیٰ اور میزان صغریٰ سے بالترتیب تعبیر کیا ہے۔ میزان کبریٰ کے متعلق غزالی رقمطراز ہیں : ‘‘یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ میزان کبریٰ وہ ہے جسے ابراہیم خلیل اللہ نے نمرود کے خلاف استعمال کیا۔ابراہیم علیہ السلام نے کہا :  ‘‘اور جب کہا ابراہیم نے میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، وہ بولا میں بھی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں۔ کہا ابراہیم نے کہ بیشک اللہ تو لاتا ہے سورج کو مشرق سے اب تُو لے آ اس کو مغرب کی طرف سے۔ تب حیران رہ گیا وہ کافر، اور اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا بے انصافوں کو’’ (سورہ البقرہ  258)۔ مذکورہ دلیل اپنی ملخص شکل میں یہ ہے میرا رب وہ ہے جو سورج کو نکالتا ہے اور جو سورج کو نکالتا ہے وہ اللہ ہے لہٰذا اس سے یہ منطقی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔

            میزان کبریٰ کا منطقی اصول یہ ہے کہ اس میں نتیجہ عمومی سے خصوصی کی جانب ہوتا ہے (غزالی القسطاس المستقیم ص 2 سے 3)۔

            میزان وسطیٰ کے بارے میں غزالی کا نظریہ ہے : اس کی تعریف یہ ہے کہ دو چیزیں جن میں ایک میں کوئی صفت موجود ہو اور دوسری میں غیر موجود ہو، اس لحاظ سے وہ دو اشیاء مختلف ہیں۔  ‘‘جب دیکھا چاند چمکتا ہوا بولا یہ ہے میرا رب۔ پھر جب وہ غائب ہوگیا بولا اگر نہ ہدایت کریگا مجھ کو رب میرا تو بیشک میں رہوں گاگمراہ لوگوں میں’’ (سورہ الانعام آیت 77)۔

            اس دلیل کی روشنی میں اللہ اور چاند میں فرق ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اللہ چاند نہیں ہے اور چاند اللہ نہیں ہے۔ (غزالی القسطاس المستقیم ص 3)۔

            میزان صغریٰ کے بارے میں غزالی کا قول ہے : اللہ اہل ایمان سے کہتا ہے کہ وہ  کفار سے کہیں : ‘‘تو کہہ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے بتلادے کہ اللہ، اور ہم یا تم بیشک ہدایت پر ہیں یا پڑے ہیں گمراہی میں صریح’’ (سورہ سبا آیت 24)۔ اس میزان کا استعمال لا محدود ہے اور زیادہ تر قیاسی معاملات اسی سے متعلق ہیں۔ اس کا تعلق انکار اور اثبات سے ہے۔ (غزالی القسطاس المستقیم ص 6)۔

            اس بحث کا اہم نکتہ یہ ہے کہ عقل اور منطق کے قوانین کی اگر صحیح فہم ہو تو انسان یہ بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ وہ وحی یا اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اس کے برخلاف یہ منطقی قوانین خود قرآن میں استعمال ہوئے ہیں اور ان کے ذریعہ حق کا اثبات کیا گیا ہے۔ قرآن میں شیطان ان منطقی قوانین کو مسخ کرتے ہوئے غلط دلیل پیش کرتا ہے۔ غرضیکہ منقطی قوانین صحیح فکر اور حق شناسی کے لئے لازمی ہیں۔ ارسطو کی منطق پر تصنیف کے عنوان Organon کے لفظی معنی قدیم یونانی میں اوزار یا آلہ ہیں۔

            یہ نکتہ بھی قابل لحاظ ہے کہ عقل کی تخلیق اللہ ہی نے کی ہے اور منطقی قوانین فطرت میں ہر جگہ جلوہ گر ہیں۔ خود فطرت کی تخلیق بھی اللہ ہی نے  کی ہے جو کہ سر تا سر حق ہے(تفصیل کے لئے دیکھئے انعام 62، طٰہٰ 114 ، المومنون 116 وغیرہ وغیرہ)۔ اللہ ہی حق کا منبع اور مخرج ہے (دیکھئے البقرہ 147، آل عمران 60 اور الکہف 29 وغیرہ وغیرہ)۔ منطق کے مذکورہ بالا تینوں قوانین درحقیقت توحید خود مکتفی ہونے اور خصوصی مقام کی علامت علی الترتیب ہے۔ اور یہ اصول اور ان اصولوں کا دار و مدار ان اوصاف پر ہے جو صرف اللہ سے مخصوص ہیں، جس کی نمایاں مثال سورہ الاخلاص ہے:‘‘ کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ اس نے کسی کو نہیں جنا، نہ کسی نے اس کو جنا۔ اور اس کے برابر کوئی نہیں’’۔ (الاخلاص 1-4 : 112 )۔  مختصراً اگر علمائے یونان نے عقل اور منطق کو اس طور پر مرتب کیا ہے تو وہ مذہب کے مخالف نہیں ہے بلکہ اس کے برخلاف ان قوانین کو مذہب کی تبلیغ و ترویج کے لئے استعمال کرنا چاہئیے۔ اس کو نظر انداز کرنا خسارے کا سودا ہے۔

اصول مخالف تحریک کی تاریخ دور حاضر تک

            اصول مخالف تحریک کی دوسری اہم شخصیت ابن تیمیہ کے اپنے شاگرد ابن القیم الجوزی (م 751ھ بمطابق 1350ء) ہیں۔  ارسطو کی پیش کردہ مابعد الطبعیات، فلکیات، الکیمیاء اور اپنے عہد  کے مختلف علوم و فنون کے بارے میں الجوزی نے اپنے استاد کے نظریات کی ترویج کی۔ الجوزی کی ایک اہم تصنیف طب نبوی ہے۔ اولیاء اللہ کے تئیں صوفیاء کی عقیدت پر تنقید کے باوصف ابن القیم نے ایک صوفی متن پر بہترین شرح لکھی ہے۔ یہ شرح عبد اللہ الانصاری کی مناظر الصائبین پر ہے۔ ابن کثیر (م 774ھ بمطابق 1373ء) بھی ابن تیمیہ کے شاگرد تھے لیکن وہ اصول مخالف عالم کے طور پر مشہور نہیں ہیں۔ ابن کثیر کی شہرت کا دار و مدار اُن کی آسان اور عام فہم تفسیر ابن کثیر پر ہے، چونکہ ابن تیمیہ سے ان کا ذاتی تعلق تھا لہٰذا اصول مخالف تحریک کے حامیوں نے اُن کی تفسیر کو فروغ دیا۔ البتہ انھوں نے اس تفسیر پر نظر ثانی کی، اسی طرح انھوں نے مالکی عالم محمد القرطبی (م 671ھ بمطابق 1272ء) کی تفسیر الجامع لاحکام القرآن پر بھی نظر ثانی کی۔

            ابن قیم کے بعد اصول مخالف تحریک کا نشانہ مذہب کی تطہیر تھا۔ وہ فرد کی روح کو نظر انداز کرتے اور اوصاف کے بجائے اپنی توجہ احکام پر مبذول کرتے۔ یہ تحریک برائے نام اصول اور اصولی علماء سے متعلق رہی۔ اس تحریک کا اگلا سنگ میل چار سو سال بعد نجدی مبلغ ابن عبد الوہاب التمیمی (م 1206ھ بمطابق 1792ء) ہے۔ نجدی قبائل بالخصوص قبیلے کے سردار محمد ابن سعود کی مدد سے ابن عبد الوہاب نے صحرائے عرب کا ایک بڑا حصہ مختصر عرصہ کے لئے اپنے قبضہ میں کیا اور وہاں ایک ریاست کی داغ بیل ڈالی اور وہاں ان تمام مسلمانوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جن کو وہ اسلام میں اجنبی یا غیر سمجھتے تھے۔ ابن عبد الوہاب نے بالخصوص شعیہ اور ایسے صوفیاء کی مخالفت کی جو اپنے رسوم و رواج کی رو سے ان کو شریعت مخالف محسوس ہوئے۔ ابن عبد الوہاب نے متعدد مختصر کتابیں تصنیف کیں جن میں سب سے مشہور کتاب التوحید ہے۔ ان کی دیگر تصانیف یہ ہیں: الاصول الثلاثہ اور نواقض اسلام۔ اصول الثلاثہ میں ان تین اصولوں پر زور دیا گیا ہے: توحید الرموزیہ، توحید الاسماء الصفات اور توحید العمودیہ۔ ان تصانیف میں ابن عبد الوہاب نے اولیاء پرستی اور عبادت کے دوران نبی اکرم محمدؐ کو خطاب کرنے پر نکیر کی ہے البتہ ان کی تصنیف نواقض الاسلام نے خاصہ نقصان پہنچایا مثال کے طور پر ان کا یہ قول ہے کہ جو شخص اللہ کے دین سے اعراض کرتا ہے اوراس کو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے سے اعراض کرتا ہے یہ کفر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر گناہ ارتداد کے ہم معنی ہے جس کی سزا موت ہے۔ نواقض میں ایسے گناہوں کو بھی ارتداد کے تحت شامل کیا گیا ہے جس میں ارتداد کی کوئی نیت شامل نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے ان گناہوں کے لئے بھی سزائے موت ہے۔ اس تصنیف میں سزا کا طریقہ یا ارتداد کو افراد تک محدود کرنے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ بالفاظ دیگر بڑی تعداد میں لوگوں کو بیک وقت کافر قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ایسے رسوم و رواج کے پابند ہوں جن کی اسلام میں اجازت نہیں۔ یہ صراحت ضروری ہے کہ نواقض میں ایسے دعوے کئے گئے ہیں جو عام مسلمانوں کے لئے خطرے کا باعث ہیں، غیر مسلموں کا ذکر ہی کیا۔

            بیسویں صدی میں اصول مخالف تحریک کی دو اہم شاخیں وجود میں آئیں، ان میں سے پہلی شاخ سعودی سلفیوں کی ہے جو کہ بڑی حد تک ابن تیمیہ سے متاثر ہیں۔ ان کی فکر سعودی وہابی مسلک سے ہم آہنگ ہے۔ وہابیت محمد ابن عبد الوہاب سے منسوب ہے۔ سلفی بعض اوقات اپنے آپ کو اہل حدیث کے طور پر متعارف کرتے ہیں اور وہابی اہل عقیدہ کے طور پر۔ یہاں عقیدے سے مراد ابن عبد الوہاب کا عقیدہ ہے۔ البتہ سلفیوں اور وہابیوں کے درمیان جو فرق ہے اس پر گفتگو کی خاصی گنجائش ہے۔ یہاں ہم ان کے مابین امتیاز کرسکتے ہیں۔

۱۔          وہ بنیادی سلفی وہابی تحریک جس کی قیادت سعودی عرب کے علماء کے ہاتھوں میں ہے۔

۲۔         انتہا پسند سلفی اور وہابی جو کہ ہر غیر سلفی اور وہابی مسلمان کی تکفیر پر کاربند رہتے ہیں یا ہر اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو ان کی دانست میں مناسب حد تک سلفی یا وہابی نہیں ہے۔

۳۔        تکفیری جہادی سلفی وہابی گروہ مثلاً القاعدہ یا نام نہاد اسلامک اسٹیٹ مثلاً ISIS, ISIL یا داعش۔ اسی میں آخر بیسویں صدی اور اوائل اکیسویں صدی کی متعدد دہشت گرد تحریکیں بھی شامل ہیں۔ یہ تحریکیں درحقیقت انتہا پسند سلفیت اور وہابیت کی شاخیں ہیں ان کے اپنے نظریاتی عقائد ہیں جن کی اسلامی تعلیم برائے نام ہے اور جو اپنی سرگرمیوں کا محور جہاد کو بناتے ہیں ان کے یہاں دینی فرائض سے  مراد بھی صرف جہاد ہی ہے۔ حالانکہ یہ سلفیت اور وہابیت کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں درحقیقت اصل سعودی سلفی اور وہابی گروہوں نے ان کی ہمیشہ پُرجوش مخالفت کی ہے اور اس مخالفت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ یہ مخالفت قول و عمل دونوں لحاظ سے ہے۔

            سعودی سلفی اور وہابی گروہوں میں ہمیشہ سے ایک امن پسند گروہ رہا ہے جو کہ ابن حنبل، ابن تیمیہ، ابن قیم اور ابن الجوزی کی تحریروں میں صوفی مخالف رہبانیت پر مبنی ہیں۔ اس کا اثر لوگوں کی ذاتی زندگی میں بہت نمایاں ہے البتہ اس پر عام طور پر  توجہ کم دی جاتی ہے۔ ان فراد کے نزدیک قرآن اور سنت کی اصل شکل میں پیروی درحقیقت اللہ اور اس کے رسول کے تئیں اُن کے اخلاص کا ثبوت ہیں لہٰذا سلفی وہابی فکر اور عمل کے ذریعہ اللہ سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔ فی نفسہٖ یہ نیت بہت مبارک ہے اور کوئی شخص جو عالم نہیں ہے وہ اصول کے منہج کو نیست و نابود کرنے کے نقصانات سے واقف نہیں ہوتا۔ مزید برآں، ان میں اور انتہا پسند سلفیوں اور وہابیوں میں یہ نمایاں فرق ہے کہ ہر چند کہ یہ اصول اور  مذاہب کے قائل نہیں، لیکن وہ دوسرے مسلمانوں کی تکفیر کے بھی قائل نہیں۔ وہ نبی اکرمؐ کے اس قول پر کاربند ہیں: ‘‘جو شخص ہماری نماز ادا کرتا ہے، ہماری طرح مکہ کی جانب اپنا منہ کرتا ہے وہی گوشت کھاتا ہے جو ہم کھاتے ہیں وہ شخص مسلمان ہے اور اور اللہ اور اس کے رسول کی حفاظت اسے حاصل ہے لہٰذا اللہ کی اس ضمانت کو ضائع نہ کرو’’۔

سعودی سلفی تحریک کی دو اہم ترین شخصیات یہ ہیں : ناصر الدین البانی (م 1420ھ بمطابق 1999ء)۔ البانی کا تعلق شام سے تھا لیکن انھوں نے سعودی سلفی تحریک کو بہت متاثر کیا۔ دوسری شخصیت عبد العزیز ابن باز (م 1420ھ بمطابق 1999ء)۔ البانی ایک مشہور محدث تھے، ان کے احادیث کے مجموعے سلفی تحریک میں مستند تسلیم کئے جاتے ہیں اور ان کو جگہ جگہ سے شائع اور تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان احادیث کے مجموعے سے یہ ظاہر ہے کہ یہ معروف حدیث کے مجموعوں سے اور روایتی اصول فکر سے مختلف ہیں۔ یہ نکتہ خاصا اہم ہے کیونکہ اس سے مراد بنیادی مآخذ میں اختلاف ہے۔ بن باز 1993 سے 1997 تک سعودی عرب کے مفتی اعظم تھے لیکن ان کا دائرہ اثر اور فتاویٰ سلفی تحریک میں کئی عشروں قبل سے بہت گہرا تھا۔ وہ ایک محتاط اور قابل احترام عالم تھے جنھوں نے سلفی وہابی فکر کی اصلاح کی کاوش کی۔

            سلفیت بعض اوقات متعین اسلامی تجدد زدہ مفکرین کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اوائل بیسویں صدی کی یہ دو شخصیات مصر کے مفتی اعظم محمد عبدہٗ، (م 1266ھ  تا 1330ھ بمطابق 1849ء  تا 1905ء) اور رشید الرضا (م 1282ھ  تا 1354ھ بمطابق 1865ء تا 1935ء)۔ ہر چند کہ یہ دونوں ایک حد تک روایتی سلفی فکر سے متاثر تھے لیکن انھوں نے بیسویں صدی کے بعض سلفی اہل قلم کو بھی متاثر کیا اور یہ تحریک روایتی سلفی تحریک کے بجائے ایک متجدد تحریک ہے۔ یہ اضافہ ضروری ہے کہ یہ تحریک ختم ہوچکی ہے۔

            اصول مخالف تحریک کا ایک دوسرا پہلو اخوان المسلمون کا گروہ ہے۔ اخوان المسلمون ایک بین الاقوامی اسلامی یا اسلام پسند یا سیاسی اعتبار سے فعال اسلام کا نام ہے۔ یہ ایک معاشرتی، سیاسی اور مذہبی تنظیم ہے جس کی بنیاد حسن البناء (م 1324ھ  تا 1368ھ بمطابق 1906 تا  1949ء) نے مصر میں 1928ء میں رکھی۔ بیسویں صدی کے خاتمہ تک اخوان المسلمون کی شاخیں اور اراکین ہر سنّی ملک میں پائے جاتے ہیں۔ بیسویں صدی میں اس تحریک کے دو نظریاتی قائد یہ ہیں: مصری سید سابق (م 1420ھ بمطابق 2000ء) اور سید قطب (م 1386ھ بمطابق 1966ء)۔ 1940ء کے عشرے میں سید سابق نے سنّی اسلامی قانون کا ایک مقبول عام ، عام فہم ہدایت نامہ فقہ السنّہ کے عنوان سے تحریر کیا جس میں چاروں سنّی مذاہب کا انتخاب اور امتزاج شامل ہے۔ اس  میں کسی مخصوص منہج کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ یہاں یہ مراد نہیں کہ اخوان المسلمون کے تمام ارکان اصول مخالف ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر سلفی یا وہابی عقائد اور مسلک پر کاربند ہیں۔ سید قطب ایک عبقری تھے جن کو اُس وقت کے مصری صدر جمال عبد الناصر کے قتل کے الزام کی سازش میں شہید کردیا گیا۔ وہ اس لحاظ سے خاصے متاثر کن ہیں کہ ان کی تصنیف فی ظلال القرآن میں حاکمیت کا نظریہ ملتا ہے (دیکھئے المائدہ کی آیات 44-50 کی تشریح)۔ یہ نظریہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ جو شخص اُن کی تشریح کے مطابق شریعت کو نافذ نہیں کرتا وہ کافر ہوجاتا ہے اور پھر اُس کا قتل جائز ہے۔ غرضیکہ جدید دنیا میں جو ریاست بھی کوئی غیر شرعی قانون پر عمل درآمد کرے وہ ناجائز ہے اور غیر اسلامی ریاست ہے اور اس ریاست میں شریک کوئی بھی شخص خواہ وہ پولس والا ہو یا اسکول کا استاد وہ بھی کافر ہے اور اس کو بھی قتل کرنا واجب ہے۔ ضمیمے میں اس کی مزید تفصیلات درج ہیں۔ اس نظریہ کی بنیاد یہ ہے کہ اخوان المسلمون کی رکنیت حاصل کرتے وقت ارکان کو ایک عہد لینا ہوتا ہے جو اپنے ملک کے سیاسی قائد کے عہد سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اسلام میں ملک کے قائد سے عہد درکار ہے۔ اسی طرح آج کے دور میں ملک کے دستور سے وفاداری کا عہد لیا جاتا ہے۔ جہاں تک جہاد کا تعلق ہے  سید قطب رقمطراز ہیں : ‘‘بہت سے وہ افراد جو اسلام میں جہاد کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہیں وہ اس کے مرحلہ وار پہلو کو نظر انداز کردیتے ہیں اور اسی طرح وہ ان متعدد پہلؤوں کی کیفیت کو نہیں سمجھتے جن کے باعث جہاد عمل میں آتا ہے۔ اسی طرح ہر مرحلہ سے متعلق آیات کے باہمی ربط سے بھی وہ ناواقف ہوتے ہیں۔

            مفکرین کا یہ گروہ جو کہ موجودہ مسلمانوں کی نسل کا نمائندہ ہے وہ صرف اسلام کا ایک لبادہ اوڑھے ہوئے ہے اور اس نے تمام روحانی اور عقلی وسائل کو ترک کردیا ہے۔ اُن کے مطابق اسلام میں صرف دفاعی جنگ ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے دین کی مدد کررہے ہیں۔

            یہ جد و جہد کوئی وقتی معاملہ نہیں بلکہ ایک ابدی کیفیت ہے کیونکہ روئے زمین پر حق و باطل بیک وقت نہیں رہ سکتے’’ (سید قطب، مائل اسٹون، جہاد فی سبیل اللہ)۔

            بعض ممالک میں یقیناً اخوان المسلمون کے ایسے مفکرین اور قائدین ہیں جن کے اعمال اور فکر کی بنیاد حسن البناء کے پُر امن معاشرتی اصلاح کے نظریہ پر ہے۔ یہ تبدیلی اندرون میں واقع ہوتی ہے، مثال کے طور پر جنوری 2014ء میں تونیشیا کی مقامی جماعت النہضہ جو کہ بین الاقوامی سطح پر اخوان المسلمون سے مختلف تھی اُس نے حکومت میں تین سال شرکت کے بعد عزّت و وقار کے ساتھ علیحدگی اختیار کی۔ اس دوران ملک میں متعدد سیاسی قتل ہوئے اور ایک نیا قومی دستور بھی وضع ہوا۔ النہضہ جماعت نے یہ قدم خانہ جنگی سے بچنے کے لئے اٹھایا۔ مزید برآں، اخوان المسلموں کے زیادہ تر حامی دنیا بھر میں اس کی حمایت اس لئے کرتے ہیں لیکن ان کو حاکمیت کے نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ مسلم اکثریت کی ریاستوں میں اسلام کو عوامی سطح سے خارج کرنے کے خلاف ہیں۔ یہ اخوان المسلمون کے متعدد فعّال خیراتی اداروں اور معاشرتی فلاح کی سرگرمیوں کے قدردان ہیں اور اخوان المسلمون کی عوامی سطح پر بے ایمانی، معاشرتی ناانصافی اور ظلم و ستم پر تنقید سے اتفاق رکھتے ہیں۔ البتہ اخوان المسلمون کی اصل تحریک سید قطب کے نظر یئے پر کاربند ہے اور سید قطب کی تصانیف فی ظلال القرآن اور معالم فی الطریق ان کے دل و دماغ پر حاوی ہیں خواہ اس کا اظہار عوامی سطح پر نہ ہو۔ غرضیکہ اخوان المسلمون کس راستہ پر گامزن ہو، حسن البناء کے نظریئے کے مطابق یا سید قطب کے نظریئے کے مطابق۔ اس باب میں ایک طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ یہ صراحت بہر کیف ضروری ہے کہ سید قطب کی تصانیف سے بڑا ضرر واقع ہوا ہے۔

            سلفی، وہابی اور اخوان المسلمون اصول مخالف فکر میں فعّال ہیں اور یہی سنّی بنیاد پرستی کے نمائندے ہیں۔ بنیاد پرستی سے مراد یہاں غیر تکثیری دینی اور سیاسی تحریک ہے جو کہ فقہ کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے۔ البتہ ان دونوں گروہوں اور خاص طور سے سلفیوں کے درمیان وسیع پیمانے پر باہمی اختلافات ہیں جس کے باعث مختلف نظریات منظر عام پر آئے ہیں۔

            بیسویں صدی میں پورے عالم اسلام میں بالخصوص دوران حج سلفیت کو فروغ دینے کے لئے کثیر مقدار میں وسائل کا استعمال ہوتا ہے اسی طرح سے بیسویں صدی میں اخوان المسلمون کے خیراتی اداروں کے ذریعہ عالم اسلام میں لاکھوں لوگوں کو راحت ملی ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ ان دونوں تحریکوں کو دوسری جنگ عظیم کے بعد مابعد نوآبادیاتی عہد میں سیکولرازم اور قومیت پرستی کے عروج سے بھی مدد ملی ہے۔ بہت سے عرب اور اسلامی ممالک میں سیکولرازم اور قومیت پرستی کی یہ کاوش رہی کہ اسلام کو سیاسی مذہب نہ ہونے دیا جائے اور انھوں نے اسلام کو عوامی سطح پر سامنے آنے سے بھی روکنے کی ہر ممکن کوشش کی خواہ وہ شریعہ کا قانون ہو یا پرسنل یا عائلی قوانین۔ سیکولرازم یا قوم پرستی کی اس مخالفت سے سلفی، وہابی اور اخوان المسلمون کے گروہوں کو بہت فائدہ پہنچا اور وہ اُن کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے سادہ لوح مسلمان اس کے قائل ہیں کہ مذہب عوامی سطح پر نمایاں رہے۔ غرضیکہ چند عشروں میں ان دونوں تحریکوں نے عالم اسلام میں اصولی فکر کی تاریخ کو بالکل تبدیل کردیا ہے۔ تاریخی مطالعات اور سوال جواب کے ذریعہ حاصل معلومات کی بنیاد پر ذیل میں اس تبدیلی کا ایک جائزہ پیش ہے اس میں پیوؔ کے 2015ء کے سالانہ عالمی رائے شماری کے نتائج بھی شامل ہیں۔ یہ جائزہ متعدد ممالک کو محیط ہے۔

2016ء میں اور 1900ء میں سنّی مکتب فکر

2016ء میں اصولی 65 فیصدی، اصولی مخالف 9 فیصد، تجدد زدہ 1 فیصد، نامعلوم 25 فیصد

1900ء میں اصولی 99 فیصد، اصولی مخالف 1 فیصد، متجدد زدہ 1 فیصد، ناواقف 1 فیصد

            متجددین سے مراد وہ افراد ہیں جن کے خیال میں صرف اسلامی تہذیب اور  ثقافت کو ہی نہیں بلکہ اسلامی عقائد اور قوانین کو بھی مغربی اقدار کے مطابق ڈھالنا چاہئیے۔ اس نظریئے کو دیگر مسلمان یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ناواقف لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو یہ بتانے سے قاصر رہے کہ اُن کا تعلق کس مسلک سے ہے اور اصولی مخالف تحریک کے باعث یہ  ذہنی  انتشارپیدا ہوا  ہر چند کہ اصولیوں کا دائرہ اثر خاصا وسیع ہے۔

            گزشتہ صدی میں سنّی اسلام کے مزاج اور ترکیب میں بڑی تبدیلیاں آئیں لیکن اب بھی اصولی مخالف تحریک ایک چھوٹی اقلیت ہے۔ روایتی سنّی مذاہب کے زوال کے باعث البتہ اس تحریک کو نمایاں مقام حاصل ہوا تھا لیکن پھر بھی یہ بہت ہی چھوٹی اقلیت ہے۔ البتہ یہ اصولی اکثریت کے مقابلے میں معاشرتی اور سیاسی سطح پر بہت زیادہ فعّال ہے۔

شیعہ مذاہب

            شیعت کی تین شاخیں ہیں۔ تمام شیعہ مذاہب اس پر متفق ہیں کہ نبی اکرم محمدؐ کے داماد اور عم ز اد علیؓ اُن کے روحانی جانشین تھے اور سوائے زیدیوں کے ان سب کا  یہ خیال ہے کہ علیؓ کو نبی اکرمؐ کے بعد فوراً اُن کا جانشین ہونا  چاہئیے تھا۔  ان کے مطابق درحقیقت علیؓ  پہلے خلیفہ راشد ہوئے نہ کہ چوتھے۔ عربی میں لفظ شیعہ کے معنی حامی یعنی علی کے طرفدار ہیں۔ اس کے برخلاف سنّی کا مطلب سنّت کے متبعین ہیں۔ اہلبیت سے اس فرط تعلق کے علاوہ   شیعوں میں باہمی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ شیعت کی تین اہم اقسام یہ ہیں:

۱۔         جعفری اثناء عشری:۔ یہ اس لحاظ سے شیعت کی اہم ترین شاخ ہے کہ تقریبا 85 فیصدی شیعہ اسی مسلک کے پابند ہیں۔ اُس کو اثنائے عشری اس لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ وہ بارہ اماموں میں یقین رکھتے ہیں اور وہ امام یہ ہیں : حضرت علی، دوسرے ان کے بیٹے حسن رض اللہ عنہ جو کہ نبی اکرمؐ کی صاحبزادی فاطمہؓ کے بیٹے تھے اور تیسرےحسینؓ جو کہ حسن کے بھائی تھے اور نبی اکرمؐ کے دوسرے نواسے تھے، چوتھےحسن کے بیٹے علی زین العابدین، پانچویں ان کےبیٹے محمد الباقر، چھٹے اُن کے بیٹے جعفر الصادق، جعفر ایک بلند پایہ عالم بھی تھے اور شیعیت کی یہ شاخ اسی باعث جعفری سے موسوم ہے۔ ساتویں امام موسیٰ الکاظم، آٹھویں اُن کے بیٹے علی الرضا، نویں ان کے بیٹے محمد الجواد، دسویں ان کے بیٹے علی الہادی، گیارہویں ان کے بیٹے حسن العسکری اور بارہویں محمد المہدی۔ شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ محمد المہدی کی وفات نہیں ہوئی بلکہ وہ 255ھ بمطابق 868ء میں غیبت الکبریٰ میں چلے گئے۔ یہ اضافہ غیر ضروری ہے کہ سنّی مذاہب کی بہ نسبت شیعہ مذاہب کا ارتقاء بعد میں ہوا۔

            اثناء عشری شیعہ ایران، عراق، لبنان  ، ہندوستان، پاکستان اور افغانستان  میں پائے جاتے ہیں۔ شیعوں کا سنّیوں سے بنیادی اختلاف یہ ہے کہ ان کے یہاں امامت عقیدے کا ایک اہم جزو ہے۔ امامت کے علاوہ وہ اللہ، فرشتوں، آسمانی کتب، انبیاء اللہ، یوم آخرت اور تقدیر الٰہی پر یقین رکھتے ہیں۔ شیعییت میں نہ صرف عقائد مختلف ہیں بلکہ ان کے اصول بھی مختلف ہیں۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ بارہ ائمہ کے علاوہ نبی اکرم کی صاحبزادی فاطمہؓ اور نبی اکرمؐ کے تمام اقوال الہامی ہیں اور وہ معصوم ہیں اور ان سب کے اقوال احکام کا درجہ رکھتے ہیں۔ اسی باعث ان کے یہاں حدیث کا ایک بالکل مختلف تصور پایا جاتا ہے۔ شیعہ حضرات کے مطابق حدیث سے مراد نویں صدی تک کے ان بارہ اماموں کے اقوال شامل ہیں۔

            شیعہ حضرات کے یہاں حدیث پر یہ چار کتب بہت اہم ہیں : ۱۔ الکافی از محمد ابن یعقوب کلینی، اس میں 15276 احادیث درج ہیں۔ ۲۔ من لا یحضر یحضر الفقیہ از الصدوق محمد ابن علی، اس میں 9044 احادیث ہیں۔ ۳۔ تہذیب احکام از ابو جعفر الطوسی اس میں 13590 احادیث درج ہیں اور ۴۔ الاستنصار از ابو جعفر الطوسی اس میں 5511 احادیث ہیں۔

            یہ نکتہ قابل لحاظ ہے کہ زیادہ تر شیعہ علماء کا تعلق آثاری روایت سے ہے اور وہ نہ صرف تمام سنّیوں کی تکفیر کرتے ہیں بلکہ پہلے تین خلفائے راشدین، ابو بکر، عمر اور عثمانؓ کی بھی تکفیر کرتے ہیں۔ سنّیوں سے اختلاف بلکہ تصادم کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

۲۔        زیدی:۔ یہ پانچ اماموں میں یقین رکھتے ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ زیدی شیعہ ہیں اور ان میں تقریباً سب ہی کا تعلق شمالی یمن سے ہے۔ ان کو زیدی ان کے آخری امام زید کی نسبت سے کہا جاتا ہے۔ زید علی زین العابدین کے بیٹے اور محمد الباقر کے بڑے بھائی تھے۔ زیدی شیعہ کے یہاں پہلے چار امام وہی ہیں جو جعفری شیعہ کو تسلیم ہیں۔ زیدی نبی اکرمؐ کے پانچ ارکان خاندان کو مذہبی قائد تسلیم کرتے ہیں البتہ وہ ان کو معصوم نہیں سمجھتے اور ان کے اقوال کو حدیث کا درجہ نہیں دیتے۔ اس لحاظ سے روایتی زیدیوں کے اصول کم و بیش سنّیوں جیسے ہیں اور وہ اس باب میں شیعہ حضرات سے مختلف ہیں۔ اسی باعث بعض افراد کی رائے ہے کہ زیدی شیعہ نہیں بلکہ اصلاً سنّی ہیں۔

۳۔        اسماعیلی:۔ یہ سات اماموں میں یقین رکھتے ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ اسماعیلی شیعہ ہیں جو دنیا میں مختلف جگہوں پر مقیم ہیں۔ ان کو اسماعیلی ان کے آخری ساتویں امام اسماعیل کی نسبت سے کہا جاتا ہے۔ اسماعیل جعفر الصادق کے بیٹے تھے ان کے بقیہ چھ امام وہی ہیں جن پر جعفری شیعہ ایمان رکھتے ہیں۔ اسماعیلیوں کی مختلف اقسام ہیں۔ داؤودی بوہرہ جعفری اصول اور فقہ اپنے قائد یعنی بوہرہ کے سلطان کے زیر نگرانی تسلیم کرتے ہیں۔

۴۔        نزاری:۔ جو کہ امام حاضر اور قرآن ناطق آغا خان کے قائل ہیں۔ اسی باعث نزاری کسی فقہ پر کاربند نہیں ہوتے اور ان کے اصول بقیہ مسلمانوں سے قطعا مختلف ہیں۔ ان کی دانست میں ان کو پنج وقتہ نماز، رمضان میں روزہ رکھنے یا حج کرنے کی حاجت نہیں۔

            غرضیکہ شیعوں کی تین اہم اقسام ہیں البتہ ان کے مذاہب دو ہیں : ایک جعفری، جو شیعہ اکثریت کا مذہب ہے اور دوسرے زیدی جو کہ شیعہ اقلیت کا مذہب ہے۔

دیگر مذاہب

            اس مقام پر اب ایک معدوم سنّی ظاہری مذہب کا ذکر بھی مناسب ہوگا۔ اس کی ابتداء عراق میں داؤود ابن علی الظاہری (م اندازاً 270ھ بمطابق 883ء) نے کی البتہ اس کا فروغ مسلم اندلس میں ہوا۔ آج کے دور میں ظاہریوں کا وجود نہیں البتہ بعض علماء ظاہری مذہب کے منہج کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کا حوالہ دیتے ہیں۔

            اسلام کی ایک اور اہم شاخ اباضیت ہے۔ آج کے دور میں اباضی اصول و فقہ سنّی اسلام سے بہت مشابہ ہیں۔ اباضیوں کی تعداد چند لاکھ ہے جو کہ عمان میں مقیم ہیں۔ کچھ اباضی شمالی اور مشرقی افریقہ میں بھی ہیں۔ غرضیکہ روایتی اسلام کے چار مذاہب ہیں چار سنّیوں کے، ظاہری،دو شیعوں کے اور اباضی ۔ ان کا تفصیلی ذکر اس کتاب کے ضمیمے میں درج ہے۔

            اس نکتہ کا اعادہ ضروری ہے کہ سنّیوں، شیعوں اور اباضی مسلمانوں میں اختلافات کے باوصف عقائد کا یہ اختلاف کسی تنازع کا باعث نہیں ہے۔ عقائد اور نظریات میں اختلاف کسی مذہبی تنازع کا جواز فراہم نہیں کرتا اور اس کی بنیاد پر جنگ کرنا بھی جائز نہیں۔ نبی اکرم محمدؐ نے اس نکتہ کو ان الفاظ میں واضح کیا : ‘‘جو کوئی بھی یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسی قبلہ کا پابند ہے جس پر ہم عمل کرتے ہیں یعنی مکہ میں کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتا ہے اور ہماری طرح نماز پڑھتا ہے اور ہمارے نبی ایک ہیں کہتا ہے وہ مسلمان ہے، اس کے وہی حقوق و فرائض ہیں جو کسی بھی مسلمان کے ہیں’’ (بخاری و مسلم)۔

سزائے موت اور دیگر جسمانی سزائیں

            جہاں تک سزائے موت اور دیگر جسمانی سزاؤں کا تعلق ہے اس ضمن میں اولین نکتہ یہ ہے کہ شریعہ قوانین میں ان سزاؤں کا تناسب ایک فیصدی سے بھی کم ہے بلکہ اعشاریہ ایک فیصد۔ قرآن میں صرف پانچ ایسے جرائم مذکور ہیں جن کے لئے سزائے موت یا جسمانی سزائیں مقرر کی گئی ہیں : قتل، چوری، زنا شادی شدہ اور غیر شادی شدہ حالت میں،فساد فی الارض اور عورتوں پر بہتان لگانا۔ غرضیکہ یہ سزائیں شریعت کا مقصود نہیں گو کہ یہ غلط فہمی عام طور سے پائی جاتی ہے اور شریعت کے بارے میں یہ مسخ تصورات عام ہیں۔ یہ نکتہ بھی واضح رہنا چاہئیے کہ اسلام میں بلا شبہ سزائے موت بھی ہے اور دیگر سزائیں بھی عائد کی گئی ہیں۔ لیکن اس باب میں لطیف قانونی نکات ہیں اور عملاً ان کا نفاذ بہت مشکل ہے۔ نظری اعتبار سے سزائے موت صرف تین صورتوں میں ہے : قتل عمد، شادی شدہ شخص کا زنا کا ارتکاب اور غدّاری کے ساتھ ساتھ ارتداد۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے : ‘‘وہ مسلمان جو یہ شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس کا خون مباح نہیں ہے بجز ان تین صورتوں کے، جان کے بدلے جان، شادی شدہ شخص کا زنا کرنا اور مذہب و ملت کو خیر باد کہنا’’ (بخاری اور مسلم)۔

            قتل عمد کے لئے سزائے موت بائبل میں بھی مذکور ہے۔ دنیا میں جہاں بھی لوگ ہیں وہ قدرتی طور پر اپنے کسی عزیز قریب کے قتل کا بدلہ لیتے ہیں قطع نظر اس سے اس باب میں قانون کیا کہتا ہے وہ درحقیقت انصاف کے خواہاں ہوتے ہیں اور ان کا یہ فعل دوسرے لوگوں کو باز رکھتا ہے۔ اس سے اُس انتقامی کاروائی پر بھی قدغن لگتی ہے جس سے فریقین کے بہت سے افراد کی جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے : ‘‘قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے، اے اولواالباب یہ اس لئے ہے تاکہ تم ڈرو’’ (البقرہ 179 : 2 )۔ جہاں تک ارتداد کا تعلق ہے اس باب میں بھی بائبل کا قانون ہے جو کہ Deuteronomy 13:6–9 and 17:3–5 میں مذکور ہے۔ اس کے علاوہ یہ قانون لوقا 27-19 میں بھی درج ہے۔ کلاسیکی اصولی نقطۂ نظر کے باوصف بعض معاصر اصولی فضلاء کا یہ خیال ہے کہ یہ سزائے موت درحقیقت غداری کے لئے ہے اور صرف ارتداد کے لئے نہیں۔ اُن کے اس نقطۂ نظر کے پس پشت یہ چار دلائل ہیں : ایک تو یہ سزا فی نفسہٖ مذکور نہیں ہے، دوسرے نبی کریمؐ نے ایک مرتد کو جانے دیا، تیسرے جدید قومی ریاستوں کے نظام سے قبل مذہب کو خیرباد کہنا اُس ریاست سے خارج ہونا تھا لہٰذا یہ غداری کا مرادف تھا اور چوتھے یہ کہ مذکورہ بالا حدیث میں صریحاً ارتداد کے ساتھ ملت کو ترک کرنا بھی مذکور ہے۔

            جہاں تک کسی شادی شدہ شخص کے زنا کرنے کا تعلق ہے اس باب میں بہت ذہنی انتشار پایا جاتا ہے۔ قرآن اور بائبل دونوں میں اس کی سزا درج ہے اور عام طور سے علماء اس کو رجم سے تعبیر کرتے ہیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ شریعت میں زنا کی اس سزا کے بارے میں فضلاء کو کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ لیکن درحقیقت اس پر عمل درآمد نا ممکن ہے الّا یہ کہ کوئی شخص رضاکارانہ طور پر رجم کی سزا بھگتنا چاہے اور اپنے جرم کا اعتراف کرے۔ بعض روایات کے مطابق یہ اعتراف بھی پختہ ثبوت کا درجہ نہیں رکھتا۔ اسلامی قانون کی تاریخ کا جائزہ لینے سے یہ نکتہ بخوبی واضح ہوتا ہے۔ ساتویں سے نویں صدی تک مختلف سلطنتوں کے دور میں مصر میں شریعہ قانون کا نفاذ ایک بڑی آبادی پر کیا گیا۔ اسی طرح شریعہ قانون کے نفاذ کی دوسری بڑی مثال سلطنت عثمانیہ ہے، 1299ء سے 1923ء تک۔ مذکورہ دور میں مصر کی آبادی 80 لاکھ تھی اور پھر مختلف عوامل کی بنا پر یہ آبادی کم ہوتے ہوتے تیس لاکھ رہ گئی۔ سلطنت عثمانیہ کی آبادی ایک کروڑ سترہ لاکھ سے ساڑھے تین کروڑ کے درمیان رہی۔ مصر میں شریعہ قانون کے 1200 سال کے نفاذ کے دوران رجم کے صرف دو واقعات سامنے آئے اور یہ دونوں تکنیکی اعتبار سے غیر قانونی تھے اور ان کے پس پشت سیاسی اغراض و مقاصد تھے۔ ان میں سے ایک واقعہ سلطان قرطبیکے دور سلطنت (1422ء  تا 1438ء) میں واقع ہوا۔  اس میں سلطان کے محل کی ایک کنیز کو ایک سپاہی کے ساتھ جنسی طور پر ملوث ہونے کی سزا کے طور پر پھانسی دی گئی۔ دوسرا واقعہ 1430ء کا ہے جب کہ سلطان قنوش نے ایک نائب قاضی اور اس کی محبوبہ، جو کہ ایک اور قاضی کی بیوی تھی، دونوں کو سزائے موت دی۔ یہ دونوں غالباً زنا کے مرتکب ہوئے تھے لیکن ان کے خلاف مقدمہ کے لئے کافی ثبوت نہ تھا۔ پہلے سلطان نے رجم کا حکم دیا اس پر عدلیہ نے اعتراض کیا پھر سلطان نے ان کو پھانسی کی سزا دی جبکہ قانون میں اس کی کوئی بنیاد نہ تھی۔ اسی طرح سلطنت عثمانیہ کے پورے طویل دور میں رجم کا صرف ایک واقعہ منظر عام پر آیا۔ 1860ء میں ایک قاضی نے یہ حکم دیا کہ ایک مسلمان عورت کو رجم کیا جائے اور اس کے یہودی عاشق کو بھی سزا دی جائے۔ علماء نے اس فیصلہ پر احتجاج کیا پھر اس کے بعد یہ سزا بھی نہیں دی گئی (دیکھئے Encyclopedia of the Ottoman Empire, G. Agoston and B. Masters [ed.s], New York, USA, 2008, p. 214).

    اس کے کیا اسباب تھے؟ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعہ نے زنا ے لئے شہادت کا ایسا سخت معیار مقرر کیا ہے کہ اس پر عمل درآمد صرف اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ متعلقہ افراد رضاکارانہ طور پر اعتراف کریں یا عمداً شارع عام پر جنسی فعل میں ملوث ہوں، اس صورت میں ان کا یہ فعل مذہبی اور معاشرتی بنیاد پر غداری کی علامت ہوگا نہ کہ جنسی جذبات کا۔ زنا کے بارے میں شہادت کا قانون یہ ہے کہ چار عادل منصف مزاج مرد گواہ ہوں جن کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہ ہو اور جو اس فعل کے ایک ماہ کے اندر یہ شہادت قسم کھاتے ہوئے دیں کہ انھوں نے براہ راست  مرد و عورت کو جنسی فعل بلکہ عین مجامعت کرتے ہوئے دیکھا، عملاً اس کا امکان بہت کم ہے۔ اگر ان گواہوں کے بیانات میں معمولی سا بھی اختلاف ہو مثلاً  کہ ملزمین کس رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے تو ان کی شہادت مسترد کردی جاتی ہے۔ اگر یہ گواہ جان بوجھ کر اور عمداً اس فعل کو دیکھ رہے تھے تو اُن کے عادل اور منصف مزاج ہونے کے بارے میں شبہ ہوتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ وہ محض اتفاق سے اس فعل کو دیکھیں اور پھر اس باب میں گواہی دیں۔ اگر صرف تین گواہ سامنے آتے ہیں تو ان کو کاذب تصور کیا جائے گا اور بہتان لگانے کے لئے خود اُن کو سزا دی جائے گی۔ غرضیکہ ایسی شہادت دینے کے لئے کوئی ترغیب نہیں ہے۔ مزید برآں، آج کے دور  میں بھی فلم یا کسی سائنسی طریقے سے شہادت قابل قبول نہیں ہے کیونکہ نظری اعتبار سے اس طرح کا ثبوت مصنوعی طور پر تیار کیا جاسکتا ہے۔ حتی کہ شوہر کی غیر موجودگی میں بھی حمل قرار پانا بھی زنا کا ثبوت نہیں ہے کیونکہ اس کا ایک خفیف سا امکان ہے کہ عوامی حمام میں اتفاق سے وہ عورت حاملہ ہوگئی ہو ہر چند کہ یہ امکان بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے لیکن بیسویں صدی کی ابتداء میں اس طرح کا ایک واقعہ اردن میں پیش آیا اور اس کے تمام ثبوت موجود ہیں۔ نبی اکرمؐ کے دور میں ایک صحابی ھلال ابن امیہؓ نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور بعد میں قیافہ شناسوں نے بھی اس امر کی تائید کی وہ بچہ ھلالؓ کا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بھی اسے زنا کا ثبوت تسلیم نہیں کیا گیا۔ نبی اکرمؐ کے دور میں رجم کی سزا صرف ان افراد کو دی گئی جنھوں نے از خود اور رضاکارانہ طور پر اعتراف جرم کیا۔ اعتراف کرنے کے بعد بھی ملزم اپنا بیان واپس لے سکتا ہے اور سزا سے محفوظ رہ سکتا ہے حتی کہ جب کہ رجم کا عمل شروع بھی ہوگیا ہو۔ مختصراً زنا نظری اعتبار سے سزائے موت کا مستوجب ہے لیکن شریعت کے مطابق اس کو ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہے اور اسلامی تاریخ میں دشمنی کے زیر اثر اس الزام کو کبھی  بھی  نہیں ثابت کیا گیا ہے۔ اس میں رحم دل قاضیوں کا دخل نہیں ہے۔ معافی کی روایت نبی اکرمؐ نے خود پیش کی۔ وہ افراد جو زنا کا اعتراف کرنے کے خواش مند تھے آپؐ نے ان کو واپس کیا۔ غرضیکہ زنا کی سزا کے بارے میں جو طریقۂ کار اور شرائط ہیں ان کا مقصود سزا سے اجتناب ہے۔ قاضی کو اپنی جانب سے یہ انتہائی کوشش کرنا چاہئے کہ سزائے موت یا جسمانی سزائیں عائد نہ ہوں۔ اس کا برتاؤ نرمی کا ہونا چاہئیے اور سزا دینے میں اسے کوئی غلطی نہیں کرنا چاہئیے اور ہلکے سے ہلکے شبہ کی صورت میں اس کو سزا نہیں دینا چاہئیے۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے : ‘‘سزائے موت اور حدود سے جتنا اجتناب ممکن ہے برتو’’ (ترمذی اور حاکم وغیرہ)۔ آپؐ کا یہ بھی قول ہے :‘‘ابہام کے ذریعہ سزائے موت سے دور رہو’’ (سنن البیہقی)۔

            قرآن میں یہ مذکور ہے کہ حتی کہ یوم آخرت میں اور ہر چند کہ اللہ کے علیم و خبیر ہونے کے باوصف تمام قانونی طریقۂ کار پر اور شہادتوں پر عمل درآمد ہوگا اور آخرت میں بھی انصاف کا نظام صاف شفاف عدالتی طریقہ سے مختلف نہیں ہوگا۔ غرضیکہ آج کے دور کے جہادی دہشت گرد جو کہ کسی جنگ سے متاثرہ علاقہ میں اپنا قبضہ جما کر عورتوں کو رجم کرتے ہیں اور پھر یو۔ٹیوب پر اس کی نشر  و اشاعت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ فعل  دینداری اور تقویٰ کا مظہر ہے۔ وہ صرف اپنی بربریت اور شریعت سے اپنی مکمل ناواقفیت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

            سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر یہ قانون ہی کیوں ہے؟ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ وہ لوگوں میں اس لئے خوف پیدا کرتا ہے تاکہ لوگ اپنے ہی مفاد میں اس سے خوف کریں’’ (الزمر آیت ۱۶)۔

            مثنوی دفتر اول سطر ۱۲۶۱ میں رومی کہتے ہیں : ‘‘اپنے مہر محبت کی بنیاد پر وہ تم کو خوف زدہ کرتا ہے تاکہ وہ تم کو ایک پُر امن اور محفوظ جگہ عطا کرے’’۔

            اس سے قبل یہ ذکر کیا گیا کہ تمام احکام قرآنی مقاصد شریعہ کے تحت ہیں۔ زنا کی سزا لوگوں کے اپنے مفاد میں ہے تاکہ معاشرے کا بنیادی جز یعنی خاندان محفوظ رہے۔ غرضیکہ زنا کی سزا کا مقصود خاندان، افزائش نسل اور عزت کا تحفظ ہے۔ اسلام میں طلاق بہت آسان ہے اور اگر زنا کی اجازت ہوتی تو خاندان کا ادارہ تباہ و برباد ہوجاتا اور مسلم معاشرے کا وجود باقی نہ رہتا۔

            یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہئیے کہ بعض صورتوں میں سزائے موت پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے بالخصوص جبکہ ان پر عمل دارآمد ناانصافی کے مترادف ہو۔ احکام سلطانیہ کے تحت قوانین کو معطل کیا جاسکتا ہے۔ قحظ اور وبا کے سال یعنی ۶۳۸ء سے ۶۳۹ء میں خلیفہ عمرؓ نے لوگوں کو جزیہ سے مستثنیٰ کیا اور چوری کے لئے جسمانی سزا کو معطل رکھا۔اصولی فقہاء کی رائے میں سزائے موت ان صورتوں میں نہیں ہے:

۱۔         غیر مسلم ریاست میں

۲۔        جنگ کے دوران، سفر کی حالت میں

۳۔        اس صورت میں جب کہ لوگ احکام سے ناواقف ہوں۔

۴۔        جب کوئی جائز حاکم نہ ہو۔

۵۔        جب کہ جرم کی تفصیلات کے بارے میں شبہ ہو اور

۶۔        جب سزاؤں کے نفاذ سے فائدے سے زیادہ نقصان کا خطرہ ہو۔ مختصراً شریعہ کی عائد کردہ سزاوں کا مقصد ظلم و ستم کو عام کرنا نہیں بلکہ جرائم کو روکنا اور انصاف کو یقینی بنانا ہے۔

دینی معاملات میں نرمی

            دینی معاملات میں سہولت اور آسانی برتنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

‘‘حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہماری تخلیق رحمت کے لئے کی ہے وہ ہمارے لئے آسانی چاہتا ہے، دشواری نہیں’’۔

(البقرہ 185 : 2 )

اس نے تم کو چنا ہے اور دین میں تمہارے اوپر کوئی تنگی نہیں ڈالی۔ (الحج 79 : 22)

            نبی اکرمؐ کا قول ہے : ‘‘چیزوں کو آسان بناؤ مشکل نہ بناؤ، خوشخبری دو اور لوگوں کو متنفر نہ کرو’’ (بخاری اور مسلم)۔

            جس طرح قانون میں یا کسی بھی معاملے میں مختلف انتخابات ہوتے ہیں ہمیں احسن طریقہ اور آسان ترین طریقہ کا انتخاب کرنا چاہئیے۔ یہی قانون کا اصول بھی ہے، درحقیقت اللہ کا فرمان ہے :

جو لوگ ہدایت پر توجہ دیتے ہیں اور بہترین ہدایت پر عمل کرتے ہیں، اللہ ان کی رہبری صراط مستقیم کی جانب کرتا ہے۔ یہی لوگ عقل سے سرفراز ہیں سورہ الزمر 18 : 39

            اس کے باوصف یہ اضافہ ضروری ہے کہ بعض مسلمان علماء ہمیشہ آسان راستہ کا انتخاب نہیں کرتے۔ زیادہ تر لوگوں کی طرح ان کا بھی یہ خیال ہے کہ مشکل راستہ تقوی کا راستہ ہے کیونکہ اس میں زیادہ کاوش اور قربانی دینی پڑتی ہے، مثال کے طور پر ہر وہ شئے جو قرآن اور حدیث میں حرام نہیں ہے یا قیاس کی بنیاد پر مثلاً نشہ آور ادویہ تو وہ حلال ہیں لیکن زیادہ تر علماء سے دریافت کرنے پر یہ علم ہوتا ہے کہ جو چیز ان کو ذاتی طور پر پسند نہیں وہ اس بارے میں کہیں گے  کہ نص میں یہ حکم نہیں آیا ہے اور اس کے حرام ہونے کی بات کریں گے۔ اس سے صورتحال بہتر نہیں ہوتی۔ قانونی معاملات میں انتہائی رویہ کا مظاہرہ ایک مسئلہ ہے بالخصوص ہمارے دور میں جب کہ ہر شئے تبدیلی کی زد میں ہے سیاسی شعبہ میں بھی یہ ایک مسئلہ ہے۔ درحقیقت عالم اسلام کے زیادہ تر مسائل بشمول سیاسی مسائل و تنازع کا حل بآسانی ممکن ہے اگر ہم آسانی اور سہولت کا رویہ اپنائیں اور دوسروں کو آزاد چھوڑ دیں یہی تکثیریت کی روح ہے اور یہی شریعہ کا مقصود ہے۔

ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟

            مذکورہ بالا بحث کا علم متعدد اسباب کی بنا پر ضروری ہے : اولاً یہ واضح ہونا چاہئے کہ شریعت ایک اخلاقی ضابطہ حیات بھی ہے اور قانون بھی۔ بطور مجموعہ قانون اس میں یہ کثرت سے عبارت ہے کہ یہ یک رخا نہیں ہے اور کسی بھی معاملے کے بارے میں متعدد جائز آراء کا امکان ہے۔ ثانیاً یہ علم بھی ضروری ہے کہ شریعہ میں مختلف آراء کی موجودگی میں سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ آسان ترین راستہ اختیار کیا جائے جس سے سب کا نفع ہو، مشکل ترین راستہ کا انتخاب مناسب نہیں ہے۔ ثالثاً یہ علم بھی ضروری ہے کہ شریعہ کا مقصود لوگوں کی مدد ہے۔ انصاف کا قیام ہے اور لوگوں کے مفاد کا تحفظ ہے۔ یہ شریعت لوگوں کو پانچ بنیادی حقوق عطا کرتی ہے: زندگی کا حق، مذہب کا حق، خاندان افزائش نسل اور عزت نفس کا حق، عقد کا حق اور جائداد رکھنے کا حق۔ ان حقوق کی حفاظت ہی شریعت کی روح ہے۔ یہ واقفیت بھی لازمی ہے کہ شریعہ میں کیوں، کیا اور کیسے جیسے سوالوں کا جواب بھی موجود ہے۔ یہ محض بیانیہ نہیں ہے اور وجہ اور صورتحال کی فہم کے بغیر فتویٰ دیدینا اور سیاق و سباق اور طریقۂ کار کا خیال نہ رکھنا ایک شدید غلطی ہے۔ نیت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئیے۔ قانون کے محض الفاظ پر عمل درآمد تکلیف دہ عمل ہے۔ یہ علم بھی ضروری ہے کہ شریعہ لوگوں سے اپنی غلامی کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ یہ لوگوں کی مدد اور خدمت کے لئےہے۔ شریعت فرسودہ اور من مانے قوانین کے مجموعے کا نام نہیں یہ ایک مخصوص دور کے لئے قابل عمل تھا نہ اس میں قبائلی خوں آشامی کا گذر ہے۔ دور جدید کے مسلمان ناواقف ہونے کے باعث شریعہ کے متعلق ایسے ہی تصورات کے حامل ہیں۔ درحقیقت شریعت، ذکاوت پر مبنی ایک محتاط نظام ہے معاشرتی قوانین کا کیونکہ وہ روحانی اصولوں اور اشیاء کی ماہیت کے پیش نظر مرتب کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو نفع پہنچے۔ شریعت میں بدلتے ہوئے حالات کی رعایت موجود ہے اور نظری طور پر عائد سزائے موت اور جسمانی تعزیرات کو عملی طور پر نافذ نہ کرنا بہتر ہے۔ چونکہ لوگ ناواقف ہیں لہذا شریعت کا آج غلط استعمال ہے۔ اس باب میں لوگوں کا جوش اور سیاسی اسباب نامناسب ہیں۔

            آخر میں ایک برمحل نکتہ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر آج کے دور میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی اصولی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ یہ تصورات اصول مخالف تحریک کی دین ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ ان نظریات کی تبلیغ کون کرتا ہے یہ شریعت کے نمائندہ نہیں ہیں بلکہ شریعت کے بارے میں ان کی خام خیالی کی چغلی کھاتے ہیں۔ ۱۳۰۰ سال کی اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ ایک نیا فتنہ ہے، جو بھی شخص اسلامی اصولوں سے واقف ہے وہ کبھی بھی ان نظریات کی تائید نہیں کرے گا اور نہ ان پر عمل کرے گا۔ اُن کا ضمیر ایسے اعمال کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ یہ اعمال سر تا سر غیر اسلامی ہیں۔ دہشت گردوں کی صف میں کوئی بھی اصولی مسلمان نہیں ہے، نہ کوئی اشعری نہ کوئی ماتریدی نہ کوئی صوفی، یہ محض اتفاق نہیں ہے۔اصول مخالف تحریک کی ایک چھوٹی سی اقلیت متشدد دہشت گرد ہیں اور یہ دہشت گرد اصول یا اصول مخالف دونوں تحریکوں سے نابلد ہیں۔ شریعہ ایک طریقہ زندگی ہے، یہ دہشت، تباہی اور بربادی کا راستہ ہرگز نہیں۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں