شہری و درمیانی طبقہ مودی کے اثرات سے کیوں دور ہوتا جارہا ہے؟

ساگاریکا گھوش

ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین (ناندیڑ)

پچھلے ہفتہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر بالی ووڈ کے مشہور ستاروں کے ساتھ وائرل ہوئی۔ شائد یہ تصویر اس لئے شائع کی گئی کہ ابھی وہ عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ابھی ان کی فرمانروائی اور ان کی امیج ابھی بھی جوں کا توں باقی ہے۔ جو نئے درمیانی طبقہ میں موجود تھی اور اس طرح وہ اس تصویر کے ذریعہ اپنی ماضی کی حسرت ناک یادوں کے ذریعہ سے شہری طبقہ کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہندو یا سنہری دور دلانے والی شخصیت ہے۔ اور اس طرح اپنی شخصیت کو جوں کا توں 2014ء کی طرز پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ گو کہ پچھلے چار سالوں میں پرانی طرز کی معیشت کی حکمرانی رہی ہے۔ 1970ء کی طرح مرکزی حکومت میں سارے اختیارات کو مرکوز کرنا اور معاشی پیداوار کو اچھے امیج کے ساتھ پروجیکٹ کرنا وغیرہ جیسے معاملات جو پچھلے دہوں میں تھے اسی طریقے سے درمیانی طبقہ کے لوگوں کو یقین دلانا ہے۔ 
درمیانی طبقہ کے لوگوں کی مودی کے ساتھ محبت و عقیدت تھی اب اس میں کھٹاس پائی جاتی ہے۔ لوگوں کے ساتھ مودی کا رومانس ان کی مشہور تقریر جو 2013ء میں دلی کے سری رام کالج آف کامرس میں اس وقت کی گئی تھی جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جس میں وہ اپنے ویژن کے ذریعہ معیشت کی تبدیلی اس بیوپار کے ذریعہ جو ہندوتوا سے لیس ہو، اس کا خاکہ پیش کیا تھا۔ جو ایک شدید فوجی حملے کی کامیابی کی طرح بتایا گیا تھا۔
لیکن یہ سطحی طور پر دکھائے جانے والے خواب بیروزگاری کی شکل میں متبدل ہوگئے۔ اور اس طریقے سے قدیم انڈیا کی طرف کوچ ہوئی۔ جس میں ذات پات کا کوٹہ کے بارے میں تصفیہ کرنا یہ اس جذبہ و جوش کے منافی ہے۔ اور اس بات کی علامت ہے کہ معیشت کی توسیع کے بجائے یہ اس کے سکڑنے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ جو امید، یقین دہانی اور خواب 2014ء میں دکھائے گئے تھے اب اس کی تعبیر غربت اور محرومی کی شکل میں نظر آرہی ہے۔ باہر کے تمام لوگ جنہوں نے پرانے خوابوں کو واپس لانے کے لئے جو وعدے کئے تھے ان کی بھی شناخت یو پی اے کے زمانے میں اسکامس سے ملوث رہی۔ اس طرح اسی ووٹ بینک کی پالیسی کی مطابقت میں آج بھی نیتا اسی طرز کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ 
مودی کا جو نعرہ تھا کہ حکومت کم ہوگی اور حکمرانی زیادہ رہے گی۔ لیکن اس کی شکل متبدلہ طور پر ایسی ہوئی کہ انہوں نے ہندو رام راجیہ کی طرف موڑ دیا۔ یعنی وہ ریاست جہاں انصاف رسانی ہوتی ہے لیکن تجارت اور بیوپار میں مداخلت نہیں ہوتی۔ پچھلے چار سالوں میں ہمیں زیادہ تر معیشت میں مداخلت نظر آتی ہے خواہ وہ مویشیوں کی تجارت کے ذریعہ ہو یا نوٹ بندی کے ذریعہ ہو،اور اس طرح گلیوں میں حکومت کے وفادار اور ان کی پالیسیوں سے متاثر جابرانہ و تحکم کے ذریعہ جن پر جی ایس ٹی لادی گئی ہے جس کا آج دور دورہ ہے۔ نوٹ بندی کے بعد سے درمیانی طبقہ کی تجارت مجرمانہ بنادی گئی اور چھوٹے بیوپاریوں کو اپنی دکانیں بند ہی کرنی پڑیں۔ Center for Monitering Indian Economy نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں 11 ملین نوکریوں کا نقصان ہوا۔ اس طریقے سے درمیانی طبقہ میں معیشت سے متعلق بہت زیادہ بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور جو زیادہ مالدار طبقہ جسے معیشت کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ اپنی نفس پرستی سے ان معاملات کو ویدک زمانے میں لے جانا چاہتے ہیں۔ 
ریاستی تشدد شہریوں کے خلاف بڑھتا جارہا ہے۔ بغاوت سے متعلق مقدمات بھرے جارہے ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔جہدکار لوگوں کو جیلوں میں بند کیا جارہا ہے ان کے خلاف سخت قوانین کا استعمال کیا جارہا ہے تاکہ وہ نظریاتی دشمنوں کو انہیں شہری نکسل یا اینٹی نیشنل کہہ کر انہیں پریشان کیا جارہا ہے۔ کرپشن کے خلاف جو وعدے کئے گئے تھے اس کی تکمیل میں اب شہری علاقے بیزار ہیں۔ کانگریس صدر راہول گاندھی کو ابھی بھی رافیل کے معاملہ میں رقومات کی خاطر جن کا تعاقب کیا جارہا ہے اور متعدد دفعہ چوکیدار چور ہے کہ نعرے لگائے جارہے ہیں نتیجتاً جس کے رد عمل میں وزیر اعظم اور مزید متحرک ہوچکے ہیں۔ اور اس طرح تمام اپنی حکومت کے وزراء کو اسی کام پر لگادیا گیا ہے کہ ان پر جو کرپشن کے الزامات لگائے جارہے ہیں وہ ٹک نہ سکیں۔ لیکن موجودہ حالات نے اپوزیشن کو موقع فراہم کیا ہے۔ جیسے کہ وجئے مالیا اور نیرو مودی کی ہندوستان سے باہر جانے کا کام حکومت کی نگرانی میں ہی ہوا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم نے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ تمام کرپشن کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ لیکن ان کا یہ وعدہ بھی وفا نہ ہوا۔ 
درمیانی طبقہ کے لوگ اب ان کی تمام باتوں کی تصدیق و توثیق نہیں کرتے۔ 2009ء میں منموہن سنگھ نے اپنی معیشت کے ذریعہ سے شہری طبقہ کو انڈو امریکن نیوکلیئر معاہدہ کی وجہ سے متاثر کیا تھا۔ لیکن پانچ سال کے بعد ہی وہی درمیانی طبقہ انہیں بے دخل کردیا۔ درمیانی طبقہ نے ہندو نظریہ کی بھی خبردار کیا جب وہ Feel Good کا نعرہ دے رہے تھے۔ بالی ووڈ کے طرز سے یہ تفریح یا جشن منانا نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن جب ہندوتوا کی مہم کے ذریعہ مختلف قوانین کی پامالی ہورہی ہے اور لوگوں پر حملے کئے جارہے ہیں، حتیٰ کہ بلند شہر میں پولیس آفیسر کا قتل بھی ہوا ہے اس طرح سے اب وہ حالات منظر عام پر آئے ہیں وہ بہت ہی پھیکے پڑ گئے ہیں۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو سپورٹ کرنے کے لئے درمیانی طبقہ میں ہر جگہ گراوٹ آئی ہے۔ RSCC جو صاف اور واضح طور پر جدید ہندوستان کے لئے طے شدہ پالیسی تھی وہی آج سابق سی بی آئی کے چیف الوک ناتھ ورما نے عوام کی اثرآفرینی پر محمول ہوئی ہے۔ مودی کے ناقدین سوشل میڈیا جہاں کبھی زعفرانی تسلط تھا اب وہ آہستہ آہستہ اس میں کمی آرہے ہیں۔ جو پرائم منسٹر اور حکومت کی ہجو بھی کرنے لگے ہیں۔ 
مشہور سنیما کے فلم اسٹار رنویر سنگھ نے اس جانب جست لگائی ہے کہ انہوں نے Accidental Prime Minister فلم کے ذریعہ سابقہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کی کارکردگی کو آشکار کیا ہے۔ لیکن شہری سامعین اور ناظرین اس سے متاثر نہ ہوسکے۔ اور اس طرح حکمراں جماعت کا جو طرز عمل ہے کہ کس طرح حزب مخالف کی حکومت کو کرناٹک میں غیر مستحکم کیا جائے تو یہ ان کے اعمال کی انتہاہے۔ دوسرا کوئی نہیں بلکہ شیوسینا خود ان کی حلیف جماعت نے بھی آواز لگائی ہے کہ چوکیدار ہی چور ہے۔ درمیانی طبقہ کے سابقہ ہیروز جن میں منموہن سنگھ اور وی پی سنگھ کو واضح طور پر قبول کیا تھا جب وہ منظرنامہ پر تھے۔ لیکن درمیانی طبقہ کا ان کے ساتھ جلد ہی معاملات میں کھٹائی پیدا ہوگئی اور وہ منظرنامہ سے جلد ہی غائب بھی ہوگئے۔ مودی ایک قوم پرست مشہور حکمراں کی حیثیت سے آج بھی موجود ہے جو قدیم کانگریس کی حکمرانی و عہد کے خلاف گامزن ہے۔ لیکن 2014ء کے اس ہیرو کا بھی لوگوں نے نوٹس لیا ہے۔ اس لئے ہندوستان کے متلون مزاج درمیانی طبقہ کے لوگ جلد ہی ان کی ہمدردی و محبت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اس طرح ان سے پائے جانے والی محبت جلد ہی دوسروں کی طرح مساویانہ طور پر ختم ہوجائے گی۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.