طالبات اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات وہدایات سے مزین کریں:مولانا عبداللطیف قاسمی دارالعلوم نسواں دیوبند میں تعلیم نسواں کانفرنس اور ختم بخاری کے موقع پر علمائے کرام کا اظہار خیال




دیوبند، ۱۶؍ اپریل ،(پریس ریلیز)
تعلیم نسواں کی مرکزی درسگاہ دارالعلوم نسواں دیوبندکے زیر اہتمام تعلیمی سال کے اختتام کے موقع پر’’ تعلیم نسواں کانفرنس اور تقریب ختم بخاری‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت دارالعلوم نسواں دیوبند کے بانی ومہتمم مولانا عبداللطیف قاسمی نے کی ،پروگرام کا آغاز معروف قاری مولانا قاری محمد شارق مظفرنگری کی تلاوت اور جامعہ کے استاذمفتی محمد ناظم قاسمی کی نعت پاک سے ہوا۔جس میں قرب وجوار کے نسواں مدارس کے ذمہ داران ،علماء ،دانشوران اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر دارالعلوم نسواں دیوبند کے مہتمم مولانا عبداللطیف قاسمی نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہاکہ علم حدیث نہایت اہم فن ہے،اسکا حصول سہل نہیں، اور نہ ہی ہر کسی کو اللہ اسکی توفیق عطا فرماتاہے، صحیح بخاری کتب حدیث میں سب سے افضل ہے، جن طالبات کو اس اہم ترین کتاب کی تکمیل کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے،وہ بلاشبہ خوش نصیب ہیں، ان کی لئے یہی وصیت ہے کہ اس عظیم الشان علم کے تقاضوں کو ملحوظ رکھیں۔اور اپنی زندگیوں کو اسلامی احکامات وتعلیمات سے مزین کریں۔انہوں نے عصری تعلیم کے حصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہماری قوم کے بچے عصری اور جدید تعلیم کے میدان میں نہیں آئیں گے، ملک میں باوقار زندگی سے محروم رہیں گے ۔اس موقع پرمولانا قاری نثارمیرٹھی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ نت نئی سازشوں اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈوں کا دور ہے، ایسے حالات میں مسلمانوں کو ہوشیار رہنا ضروری ہے،ہمیں قرآن وسنت کی رسی کو ہاتھوں سے چھوٹنے نہیں دینا ہے۔فارغ ہونے والی طالبات سے یہی کہوں گا کہ وہ مذہب اسلام کے دور اولین کی مثالی خواتین کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔ اسلامک یونیورسٹی دیوبند ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا زین الدین قاسمی نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ بے سروسامانی کے مامساعدحالات میں مولانا عبداللطیف قاسمی نے دارالعلوم نسواں دیوبند کو قائم کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ قوم کی بیٹیوں کو حق تعلیم دلانے کے لئے ہرقسم کی قربانی پیش کرنے کو تیار ہیں، میں اپنے استاذ کی ہمت اور حوصلے کی قدر کرتا ہوں۔ دارالعلوم نسواں دیوبند کے ناظم عمومی نے کہا کہ ملک میں جو برائیاں عام ہو رہی ہیں ان کا سب سے اہم سبب حکومت کا مخلوط تعلیمی نظام ہے ، تعلیم نسواں کی تحریک کو اس ادارے سے شروع کرنے کا مقصد عصری نظام تعلیم کے مفاسد سے قوم مسلم کو نجات دلانا ہے۔اس موقع پرفضیلت حاصل کرنے والی طالبات نرگس ہشمت ،اسماء طاہر اور ماہ نور تسلیم کو ردائے فضیلت سے نوازا گیا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض ادارے کی معلمہ باغ جہاں عمران نے انجام دئے ۔ خصوصی شرکاء میں حاجی محمد یونس دہرادون ،قاری عبدالرحمن ہرہ،سماجی کارکن اسعد جمال فیضی ، حافظ عبداللہ جمیل ،جامعہ رقیہ سہارنپورکے مہتمم مولانا محمد نسیم قاسمی،جامعہ کاشف الہدی سہارنپورکے مہتمم قاری محمد قرقان جامعۃ الطیب کے مہتمم مولانامحمد غفران قاسمی ، مولانا محمد اسجد چرتھاول ۔ڈاکٹر محمد وسیم،ڈاکٹر محمدصہیب رؤوف، مولانا محمد مہتاب قاسمی،مولانا محمود قاسمی بہرائچی،مولانا یاسربارہ بنکوی ،مولانا سلمان دہلوی ،قاری محمد سعید، قاری محمد سلیم ،ماسٹر محمد جاوید،مسرت حسین چھنو،شمشاد قریشی، جامعہ کی پرنسپل بریرہ لطیف، باغ جہاں،شاذیہ،فرحہ اشرف،صبیحہ افتخار،انجم آراء، رابعہ تبسم، زہرہ ترنم۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں مولانا شکیل احمد قاسمی ، مفتی اسداللہ قاسمی ،مولوی احتشام ، مولوی عمران ، مولوی کلیم ،مولوی التمش ،مولوی صادق ،مولوی مشاہد،مولوی مسیح اللہ،اور محمد سالم وغیرہ نے اہم رول ادا کیا۔



Facebook Comments

POST A COMMENT.