طلاق ثلاثہ اور مسلم پرسنل لاء

محمد یاسین جہازی، جمعیت علمائے ہند

نکاح و طلاق کے تعلق سے ہمارے جن برادران وطن کو اعتراضات اور مسلمانوں کے بعض دانشوروں کو جوشکوک و شبہات پیش آتے ہیں ، ان کا خلاصہ کچھ اس طرح سے ہے کہ
(۱) نکاح سماجی زندگی کا ایک معاہدہ ہے اور معاہد ہ میں صرف ایک فریق مرد کو حقدار بنانا منصفانہ عمل نہیں ہوسکتا۔
(۲) انعقاد نکاح کے لیے دونوں کی رضامندی ضروری ہے، تو پھر وقوع طلاق میں صرف مرد ہی بااختیار کیوں ہے، یہ نظریہ مساوات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ان سوالوں کا جواب یہ ہے کہ یہ شکوک دو غلط نظریات کی بنیاد پر پیش آتے ہیں (۱) نافہمی حقیقت۔ (۲) قیاس فاسد۔
نافہمی حقیقت کا مطلب یہ ہے کہ ایسے حضرات نکاح و طلاق کو یا تو غیر مسلم میں نکاح کے جو نظریات ہیں ، اس نظریے سے متاثر ہوکر سوچتے ہیں یا پھر اسے دنیاوی معاہدہ کی طرح اسے بھی ایک معاملہ کا معاہدہ سمجھتے ہیں ، حالاں کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ دوسرے مذاہب میں نکاح کا جو بھی تصور ہو لیکن اسلام کا تصور یہ ہے کہ ان دونوں کی ایک شرعی حیثیت ہے ، یہ خدائی قانون کی اصطلاحیں ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نکاح میں عورت اپنے آپ کو ، اپنے نفس کو مرد کے حوالے کرتی ہے اور مرد اس حوالگی اور سپردگی کے پیش نظر اس کی پوری زندگی کی کفالت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اوریہ ظاہر ہے کہ سب انسان کے پاس ایک ہی وجود ہے ، ایک ہی نفس ہے۔ اگر ایک عورت نے ایک مرد کو حوالے کردیا تو جب تک وہ شخص خود اس کے حوالے نہ کرے، وہ اپنی چیز کا مالک نہیں رہ جاتا ۔اور حوالگی اور سپردگی کا کا مطلب یہی ہے کہ وہ شخص اس کا مطیع اور فرماں بردار ہے۔ اور قبولیت نفس کا حقیقت یہی ہے کہ وہ شخص اس نفس کی ضروریات ضامن اور محافظ ہے۔ اور جب مرد ہی صاحب قبول ہے ، تو مالک رد بھی وہی قرار پائے گا ، اور نکاح میں ملکیت سے نکالنے کا حاصل اور طریقہ طلاق ہے۔اور جس طرح حوالگی نفس کے ساتھ مرد کا قبول ضروری ہے، اسی طرح فسخ نکاح بھی یعنی طلاق بھی مرد کے ہاتھ میں ہوگا۔علاوہ ازیں طلاق کوئی مستقل چیز نہیں ہے، یہ ہمیشہ نکاح کے تابع ہوتا ہے ، جب تک آدمی نکاح نہیں کر لے گا تب تک وہ طلاق کا بھی مالک نہیں ہوگا اور نکاح میں صاحب قبول مرد ہے ۔ بہرحال ان تمام چیزوں سے یہی بات عیاں ہے کہ نکاح و طلاق کے سلسلے میں عورت و مرد کو برابر تسلیم نہیں کیا گیا ہے، لیکن اگر اس کے باوجود بھی کوئی شخص اس پر مصر رہتا ہے کہ نہیں دونوں کے اندر مساوات ہی ہونا چاہیے اور عورت کو بھی حق طلاق ملنا چاہیے ، تو ذرا آگے کے معاملات کے بارے میں بھی سوچیے کہ آگے کیا حشر ہوگا،کمائی اور نان و نفقہ دونوں میں برابر تقسیم کرنا پڑے گامکان اور مہر کو بھی برابر تقسیم کرنا پڑے گا۔ طلاق کو بھی برابر تقسیم کرنا پڑے گااب یا تو طلاق کو چھ کیا جائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرسکتے ، دونوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ طلاق تقسیم کرنی ہوگی ۔ اب اگر مرد نے آدھا طلاق دیا ، تو اسے عورت کے کس حصہ پر منطبق کریں گے۔ پھر عدت کا بھی مسئلہ سامنے آئے گا۔اس میں بھی برابر تقسیم کرنی پڑے گی۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں