ظلم سے بچنے کی تاکید

Views: 47
Avantgardia

باہم ظلم کی ممانعت
]۳۵۱[ (۱) عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّا فِیْمَا یَرْوِیْ عَنْ رَبِّہٖ عَزَّ وَجَلَّ اَنَّہٗ قَالَ:یَا عِبَادِی اِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہٗ بَیْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَّالَمُوْا،الحدیث۔
(مسلم:۲/۹۱۳؛رقم:(۵۵-۷۷۵۲)،ترغیب:۳/۷۲۱)
ترجمہ: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے حدیث قدسی میں بیان فرمایا کہ: اللہ جل شانہٗ نے اپنے بندوں کو مخاطب بناکر فرمایاکہ: اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمہارے اوپر بھی باہمی ظلم کو حرام قرار دیاہے: اِس لئے تم لوگ بھی کسی پر ظلم نہ کیا کرو۔ (مسلم)
ظلم قیامت میں تاریکی کا سبب ہوگا
]۴۵۱[ (۲) عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ ِا قَالَ: ”اِتَّقُوْا الظُّلْمَ فَاِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَاِنَّ الشُّحَّ اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَھُمْ عَلٰی اَنْ سَفَکُوْا دِمَاءَ ھُمْ وَاسْتَحَلُّوْا مَحَارِمَھُمْ“۔
(مسلم:۲/۰۲۳؛رقم:(۶۵-۸۷۵۲)،شعب الایمان:۶/۶۴؛ رقم:۸۵۴۷ – ۷/۴۲۴؛رقم:۲۳۸۰۱،مشکٰوۃ:۴۶۱)
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ:ظلم کرنے سے بچو!کیونکہ ظلم کرنا قیامت کے دِن تاریکیوں کا سبب ہوگا، اور شُح (یعنی حرص و بخل کے مجموعہ) سے بچو! اس لئے کہ شح (اعلیٰ درجہ کے بخل) نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک وبرباد کیا،کیونکہ (شح یعنی حرص و بخل نے) انہیں اتنا ورغلایا (بھڑکایا) کہ: اُنہوں نے ایک دوسرے کاخون بہایا،اور حرام چیزوں کو حلال جانا۔
(مسلم،شعب الایمان)
ف: – شُح:بخل کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے جس کے ساتھ حرص کی آمیزش بھی ہو،دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا گیا ہے:شح یہ ہے کہ: جو چیز اپنے پاس نہیں ہے، اُس کی حرص کرے کہ اپنے پاس سب کچھ آجائے،اور جو چیز اپنے پاس ہے اُس میں بخل کرے کہ اپنے پاس سے ایک دانہ بھی نہ جائے،اُس کو ضرورت پر بھی خرچ نہ کرے۔ (ترغیب: ۳/۶۵۲)
بعض حضرات کا خیال یہ ہے کہ: بخل اپنے مال کو خرچ نہ کرنا ہے، اور شح دوسرے کے مال میں کنجوسی کرنا ہے، بعض حضرات کہتے ہیں کہ: بخل مال میں کنجوسی کرنا ہے او ر شح مالی،فعلی،قولی ہر قسم کے تعاونِ خیر میں کوتاہی کرنے کا نام ہے،اِسی لئے شُح بخل سے بڑی کنجوسی ہے۔ (مرقاۃ فیصل شرح مشکوٰۃ: ۴/۰۲۳ – ۶۲۳)
مسلمان بھائی بھائی ہیں کوئی کسی پر ظلم نہ کرے
]۵۵۱[ (۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمَا ”اَنَّ النَّبِیَّاکَانَ یَقُوْلُ:اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَایَظْلِمُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ، وَیَقُوْلُ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا تَوَادَّ اِثْنَانِ فَیُفَرَّقُ بَیْنَھُمَا اِلَّا بِذَنْبٍ یُحْدِثُہٗ اَحَدُھُمَا“۔
(مسند احمد:۲/۸۶، ۷۷۲،۱۱۳،۰۶۳،ترغیب:۳/۸۲۱)
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا فرماتے تھے کہ: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ کوئی کسی مسلمان پر ظلم کرتاہے، نہ کوئی کسی مسلمان کی مدد سے ہاتھ کھینچتاہے، اور حضور ا یہ بھی فرماتے تھے کہ: دو دوستوں میں جب بھی جدائی ہوتی ہے،دونوں میں سے کسی کے گناہ کے سبب سے ہی ہوتی ہے۔ (مسند احمد)
دُنیا میں معاف نہیں کرایا تو قیامت
کے دِن ظالم سے بدلہ دلایا جائے گا
]۶۵۱[ (۴) عَنْ اَبِیْ ھُرَیَرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّا اَنَّہٗ قَالَ: مَنْ کَانَتْ عِنْدَہٗ مَظْلِمَۃٌ لِاَخِیْہِ مِنْ عِرْضٍ اَوْ مِنْ شَیْءٍ فَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ مِنْ قَبْلِ اَنْ لَا یَکُوْنَ دِیْنَارٌ وَلَا دِرْھَمٌ اِنْ کَانَ لَ ہٗ عَمَلٌ صَالِحٌ اُخِذَ مِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِہٖ وَاِنْ لَمْ تَکُنْ لَہٗ حَسَنَاتٌ اُخِذَمِنْ سَیِّءَاتِ صَاحِبِہٖ فَحُمِلَ عَلَیْہِ۔ (بخاری:۱/۱۳۳؛رقم:۹۴۴۲،ترمذی:۲/۴۶؛رقم:۹۱۴۲، شعب الایمان:۶/۱۵؛رقم:۰۷۴۷،ترغیب:۳/۸۲۱،مشکٰوۃ:۵۳۴)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: جس پر کسی مسلمان بھائی کا کوئی حق ہو، چاہے (وہ حق:غیبت، چغلی یا جسمانی رُوحانی ایذا رسانی وغیرہ کی صورت میں) آبرو ریزی کا ہو، یا (جانی مالی کسی اور طرح کا) کوئی حق ہو، تو اُس کو چاہئے کہ: آج (دُنیا میں) ہی معاف کرالے، اُس دِن (یعنی قیامت) کے آنے سے پہلے جس دِن نہ دینار ہوگا نہ درہم (یعنی نہ روپیہ ہوگا نہ پیسہ کہ: اُس کے ذریعہ مظلوم کا حق ادا کرسکے) اگر(دُنیا میں معاف کرالیا گیا تو ٹھیک ہے ورنہ پھر) ظالم کے نیک اعمال ظلم کے برابر لے کر(مظلوم کو دے دیئے جائیں گے) اور اگر اُس (ظالم) کے پاس کچھ نیکیاں نہیں ہوں گی،تو مظلوم کے (ظلم و حق کے بقدر) گناہ لے کر ظالم پر لاد دیئے جائیں گے۔ (بخاری،ترمذی)
مظلوم کی دُعا ء رد نہیں ہوتی
]۷۵۱[ (۵) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا: ”ثَلاَ ثَۃٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُھُمْ:اَلصَّاءِمُ حَتّٰی یُفْطِرَ، وَالْاِمَامُ الْعَادِلُ، وَدَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ یَرْفَعُھَا اللہ ُ فَوْقَ الْغَمَامِ وَیَفْتَحُ لَہٗ اَبْوَابَ السَّمَآءِ، وَیَقُوْلُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِیْ لَاَنْصُرَنَّکَ وَلَوْ بَعْدَ حِیْنٍ“۔
(مسند احمد:۲/۸۵۲،۷۴۳،۴۳۴،ترغیب:۳/۹۲۱)
وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ص مَرْفُوْعًا:”دَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ مُسْتَجَابَۃٌ وَاِنْ کَانَ فَاجِرًا فَفُجُوْرُہٗ عَلٰی نَفْسِہٖ“.(مسند احمد:۶/۳ ۵۳،ترغیب:۳/۰۳۱) وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْ اَنَسٍ ص مَرْفُوْعًا:”دَعْوَۃُ الْمَظْلُوْمِ وَاِنْ کَانَ کَافِرًا لَیْسَ دُوْنَھَا حِجَابٌ“ الحدیث. (مسند احمد:۶/۳۵۳،ترغیب:۳/۰۳۱)
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: تین (شخص کی) دُعائیں رَد نہیں کی جاتی ہیں (۱) روزہ دار کی افطار کرتے وقت (۲) عادل بادشاہ کی (۳) مظلوم کی: اور اِس کی دعاء کو اللہ جل شانہٗ بادل سے اوپر اُٹھا لیتے ہیں، اور اُس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیتے ہیں (یعنی فوراً قبول فرماتے ہیں) اور پروردگارِ عالم فرماتے ہیں کہ: میر ی عزت کی قسم! میں تمہاری ضرور مدد کروں گا چاہے (بہ تقاضائے مصلحت) کچھ دیر ہی سے سہی،حضرت ابو ہریرہ صہی سے دوسری حدیث میں حضور اقدس ا کااِرشاد مروی ہے کہ: مظلوم کی دُعا (بہر حال) قبول ہے چاہے وہ کھلم کھلا گناہ کرتاہو، یہ الگ بات ہے کہ: اُس کے فجور (گناہ)کا وبال اُس پر ہوگا۔ ایک اور حدیث میں حضرت انس صسے روایت ہے کہ: حضورِ اقدس ا نے فرمایا کہ: مظلوم کی دُعاء (بہر حال) قبول ہے چاہے وہ کافر ہی ہو،اُس کے اور اللہ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا(یعنی فورًا اللہ کے یہاں پہنچ جاتی ہے)۔ (مسند احمد)
اللہ کے یہاں ظالم کی سخت پکڑ ہے
]۸۵۱[ (۶) عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا:”اِنَّ اللہ َ یُمْلِیْ لِلظَّالِمِ فَاِذَا اَخَذَہٗ لَمْ یُفْلِتْہُ، ثُمَّ قَرَأَ: (وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَا اَخَذَ الْقُرٰی وَھِیَ ظَالِمَۃٌ اِنَّ اَخْذَہٗ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ“. (ھود: ۲۰۱)
(ابن ماجہ رشیدیہ:۲/۰۰۳؛رقم:۸۱۰۴،شعب الایمان:۶/۹۴؛رقم:۷۶۴۷، ترغیب:۳/۸۲۱،مشکٰوۃ:۴۳۴)
وَرُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا:”یَقُول اللّٰہُ اِشْتَدَّ غَضَبِیْ عَلٰی مَنْ ظَلَمَ مَنْ لَا یَجِدُ نَاصِرًا غَیْرِیْ“ رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ فِی الْاَوْسَطِ وَالصَّغِیْرِ۔ (ترغیب:۳/۰۳۱)
ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ:اللہ جل شانہٗ ظالم کو مہلت دیتے ہیں (یعنی اُس کی عمر دراز کردیتے ہیں تاکہ وہ اور زیادہ ظلم کرے) یہاں تک کہ: جب (قیامت کے دن) اُس کو پکڑے گا تو وہ چھوٹ نہیں پائے گا(یعنی وہ ظالم آخرت میں اللہ کی پکڑ اور سخت عذاب سے کسی حال میں بچ نہیں پائے گا) اس کے بعد آپ ا نے اپنی بات کو مؤکد کرنے کے لئے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی: ”وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَا اَخَذَ الْقُرٰی وَھِیَ ظَالِمَۃٌ اِنَّ اَخْذَہٗ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ“. (ھود:۲۰۱)
ترجمہ: اور ایسی ہی ہے پکڑ تیرے رب کی جب پکڑتاہے بستیوں کو اوروہ ظلم کرتے ہوتے ہیں، بیشک اُس کی پکڑ دردناک ہے زور کی۔ (ترجمہ شیخ الہندؒ)
ایک حدیث میں حضرت علیص سے روایت ہے کہ: حضو راقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: اللہ جل شانہٗ فرماتے ہیں کہ: میں اُس شخص پر سخت غضبناک ہوتا ہوں جو ایسے لاچار شخص پر ظلم کرتاہے جو میرے سوا کسی کو اپنا مددگار نہیں پاتا۔ (ابن ماجہ،شعب الایمان)
ظالم حکمرانوں کے لئے بد دعاء کے بجائے اپنے اعمال سدھارئیے
]۹۵۱[ (۷) عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا:اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: اَنَا اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا؛ مَالِکُ الْمُلُوْکِ وَ مَلِکُ الْمُلُوْکِ، قُلُوْبُ الْمُلُوْکِ فِی یَدِیْ؛ وَ اَنَّ الْعِبَادَ اِذَا اَطَاعُوْنِی حَوَّلْتُ قُلُوْبَ مُلُوْکِہِمْ عَلَیْھِمْ بِالرَّحْمَۃِ وَ الرَّأْفَۃِ، وَاَنَّ الْعِبَادَ اِذَا عَصَوْنِی حَوَّلْتُ قُلُوْبَھُمْ بِالسَّخْطَۃِ وَ النِّقْمَۃِ، فَسَامُوْھُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ، فَلَا تَُشْغِلُوْا اَنْفُسَکُمْ بِالدُّعَاءِ عَلٰی الْمُلُوْکِ، وَ لٰکِنْ اَشْغَِلُوْا اَنْفُسَکُمْ بِالذِّکْرِ وَ التَّضَرُّعِ کَیْ اَکْفِیَکُمْ. رَوَاہُ اَبُْو نُعَیْمٍ فِی الْحِلْیَۃِ.
(مشکوٰۃ:۳۲۳؛رقم:۱۲۷۳)
ترجمہ: حضرت ابو دردا ء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ: اللہ جل شانہ (حدیث قدسی میں) ارشاد فرماتے ہیں کہ: میں اللہ ہوں؛ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں؛ بادشاہوں کے دل میرے ہاتھ (یعنی میرے قبضہئ قدرت) میں ہے، جب میرے (زیادہ تر) بندے میری فرماں برداری کرتے ہیں، تو میں اُن کے حق میں (ظالم) بادشاہوں کے دلوں کو رحمت و شفقت کی طرف پھیر دیتا ہوں، اور جب میرے (زیادہ تر) بندے میری نافرمانی کرنے لگتے ہیں، تو میں (عادل و نرم مزاج) بادشاہوں کے دلوں کو بھی ناراضگی اور سزا کی طرف پھیر دیتا ہوں، جس کے نتیجے میں وہ اپنی رعایا کو سخت سزا دیتے ہیں، اِس لئے (ایسی صورت میں) تم لوگ اپنے آپ کو اِن بادشاہوں کے لئے بددعاء کرنے میں مشغول نہ کرو، بلکہ اپنے آپ کو میرے ذکر اور (میری بارگاہ میں) گڑگڑانے میں لگاؤ؛ تاکہ میں تمہیں اِن (ظالم) بادشاہوں کے شر سے بچاؤں۔ (ابو نعیم)
ف:- حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ: رعایا کے ساتھ حکمرانوں کے برتاؤ کا تعلق لوگوں کے اعمال و کردار سے ہوتا ہے، اگر زیادہ تر لوگ اللہ جل شانہ کے فرماں بردار ہوتے ہیں، اُن کے اعمال و معاملات شریعت کے مطابق اور صحیح ہوتے ہیں؛ تو ظالم حکمراں بھی اُن کے حق میں عادل، مہربان، اور نرم مزاج اور شفیق ہو جاتے ہیں، اور اگر لوگ اللہ تعالیٰ کے نافرمان ہو جاتے ہیں، اُن کے اعمال و معاملات عام طور پر شریعت کے خلاف اور خراب ہو جاتے ہیں؛ تو پھر عادل اور نرم مزاج حکمراں بھی اُن پر ناراض اور سخت گیر ہو جاتا ہے، اور رعایا کو طرح طرح کی سزائیں دیتا ہے، لیکن چونکہ حکمرانوں کے قلوب اللہ کے قبضہئ قدرت میں ہے، وہ جدھر چاہے، اُس کو پھیرتا ہے، اِس لئے اُس کے ظلم و ستم اور نا انصافی پر اُن کے لئے بددعاء کرنے کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے، اپنے اعمال و معاملات کو سدھارنے کا اہتمام کرتے ہوئے، اپنی پچھلی کوتاہیوں پر ندامت اورتوبہ و استغفار کیا جائے، ذکر و عبادت کے ساتھ حق تعالیٰ شانہ سے گڑگڑا کر دعاء و فریاد کی جائے، تاکہ مولائے کریم رحم فرما کر ظالم حکمرانوں کے دل کو عدل و انصاف اور شفقت و نرمی کی طرف پھیر دے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart