عام مؤمنین کے باغات

مولانا محمد شوکت علی قاسمی بھاگلپوری

عام مؤمنین کے باغوں کا ذکر کرتے ہوئے حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں:
”وَمِن دُونِھِمَا جَنَّتٰنِ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِoمُدھَآمَّتٰنِ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo فِیھِمَا عَینٰنِ نَضَّاخَتٰنِ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo فِیھِمَا فَاکِھَۃٌ وَّ نَخلٌ وَّ رُمَّانٌ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo فِیھِنَّ خَیرٰتٌ حِسَانٌ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo حُورٌ مَّقصُورٰتٌ فِی الخِیَامِ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِoلَم یَطمِثھُنَّ اِنسٌ قَبلَھُم وَ لَا جَانٌّ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِoتَبٰرَکَ اسمُ رَبِّکَ ذِی الجَلٰلِ وَ الاِکرَامِo“(الرحمن:۲۶-۸۷)
ترجمہ مع تفسیر: اور اُن دونوں سے کم درجے کے ا ور دو باغ ہیں (جو عام مؤمنین کے لئے ہیں،اور پہلے دونوں باغ مقربین کے لئے ہیں) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟وہ دونوں باغ گہرے سبز جیسے سیاہ ہیں (کیونکہ سبزی جب زیادہ گہری ہو جاتی ہے،تو سیاہی کی طرف مائل ہو جاتی ہے جیسے آم کے پتے دور سے دیکھنے میں سیاہ معلوم ہوتے ہیں،حالانکہ حقیقت میں وہ سبز ہی ہوتے ہیں)پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے،اُن میں دو چشمے ہیں ابلتے ہوئے، پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے،اُن میں میوے ہیں اور کھجوریں اور انار(مگر وہاں کے اُن میووں کو یہاں کے اناروں، اور کھجوروں، پر قیاس نہ کیا جائے،اُن کی اصل کیفیات کو اللہ ہی جانے،ہاں اجمالی طور پر اتنا ضرور ہے کہ:وہ بہت ہی عمدہ،اور لذیذ ہوں گے، جیسا کہ:بعض روایات سے پتہ چلتا ہے) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟اُن سب باغوں میں عورتیں (حوریں) ہیں (جو حسنِ سیرت و صورت میں اپنی مثال آپ ہیں) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤ گے؟ وہ حوریں ہیں خیمے میں رہنے والیاں (کہ عورت ذات کی خوبیاں گھر میں رکے رہنے ہی سے ہیں) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟ نہیں ہاتھ لگایا کسی آدمی نے اُن کو اُن سے پہلے، اور نہ کسی جن نے،پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟(وہ لوگ) تکیہ لگائے بیٹھے(ہوں گے) سبز مسندوں پر،اور قیمتی نفیس بچھونے پر،پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے،بڑی برکت ہے تیرے رب کے نام میں، جو عظمت اور بڑائی والا ہے۔ (ترجمہ شیخ الہند، فوائد عثمانی بتغییر یسیر، بیان القرآن)
ایک روایت میں آیا ہے کہ جنت کے اندر ایک درخت ہے، جس کا تنہ سونے کا اور پتے موتی اور زبرجد کے ہیں،جب ہوا چلتی ہے تو اس میں سے انتہائی عمدہ اور ایسی سریلی آواز نکلتی ہے کہ: سننے والوں نے اُس سے بہتر اور عمدہ آواز کبھی نہیں سنی۔(رَوَاہٗ اَبُو نُعَیمٍ عَن اَبِی ھُرَیرَۃَ، تَرغِیب:۴/۰۹۲) نَساَئلُ اللّٰہَ رَبَّنَا اَن یَّجعَلَنَا مِنَ المُقَرَّبِینَ وَیُدخِلَنَا فِی زُمرَتِھِم فِی جَنَّاتٍ النَّعِیمِ آمِین بِرَحمَتِکَ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ بِحُرمَۃِ حَبِیبِکَ سَیِّدِ المُرسَلِینَ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصحَابِہٖ اَجمَعِینَ

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں