عدالت عظمیٰ نے کس طرح پریس کی آزادی کو قائم رکھا

عدالت عظمیٰ نے اپنی نظیر میں رافیل کی دستاویزات کو میڈیا میں شائع کرنے کی بنیاد صحافت کی آزادی قرار دیا اور اجازت دی کہ اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ سابقہ نظیر جو اس بنچ نے دی تھی اور اس میں کیا گیا ہے
کونین شریف (انڈین ایکسپریس 15 اپریل 2019ء)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ (مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
رافیل ایئرکرافٹ سے متعلق پچھلی جمعرات کو جو فیصلہ دیا گیا تھا اس میں مندرجہ بالا صحافت کی آزادی جو درخواست گزار نے چاہی تھی اُسے تسلیم کیا۔
یہ معاملہ کس طرح اُبھرا
ہندوستان اور وائر نیوز ویب سائٹ نے ان دستاویزات کو شائع کیا۔ درخواست گزاران جن میں سابق یونین منسٹر یشونت سنہا، ارون شوری، ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے ان دستاویزات پر اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کا جو فیصلہ 14 دسمبر 2018ء کو ہوا تھا اس پر نظر ثانی کی جائے۔ اس پر ہندوستان کے اٹارنی جنرل حکومت کی جانب سے یہ اعتراض کیا کہ یہ تمام دستاویزات وزارت دفاع سے غیر قانونی طور پر حاصل کئے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے تین واضح سوال کھڑے کئے کہ ان دستاویزات پر اعتماد کرنا آفیشیل سیکریٹ ایکٹ (Official Secret Act)کے منافی ہے۔ یہ تمام دستاویزات کو حق معلومات کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے اور حکومت کو اختیار تمیزی برائے راز حاصل ہے جو قانون شہادت کے ذریعہ اسے ملتا ہے۔
بہرحال ان تمام سوالات کی بنیاد پر درخواست گزاروں کی درخواست کے بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے تین ججوں والی بنچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا راجن رنجن گوگوئی اور جسٹس سنجے کول اور کے این جوزف تھے اُنہوں نے کہا کہ پہلے وہ اس سنجیدہ موضوع آزادی صحافت کے بارے میں غور کریں گے، اس لئے کہ درخواست گزاروں نے ان تمام آرٹیکلس جو شائع ہوئے ہیں جو میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم سے آئے ہیں اس پر ان کا اعتماد ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا گوگوئی اور جسٹس کول
چیف جسٹس آف انڈیا گوگوئی اپنا فیصلہ جسٹس کول کے ساتھ دیتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ ابتداء سے ہی یہ معاملہ عدالت کے پیش تھا۔ لیکن اس وقت فریڈم آف پریس کا نہ تھا۔ اب یہ موقع ہے کہ بہت آسانی سے ہم اس پر فیصلہ کریں گے۔ اس موضو ع پرسابقہ میں دئے گئے نظریات جو سپریم کورٹ نے دئے تھے اُسے مزید غور کرنا چاہئے۔
جسٹس گوگوئی نے کہا کہ ”طباعت و اشاعت کے حقوق کا معاملہ اگر دیکھا جائے تو دستور میں دی گئی ضمانت آزادی تقریر و تحریر سے جڑا ہوا ہے۔“ اور مزید لکھتے ہوئے کہا کہ ”کوئی بھی پارلیمنٹ کا قانون اس قسم کی دستاویزات کو شائع کرنے سے منع کرنے والا موجو دنہیں ہے اور یہ دستاویزات دستور میں دی گئی تحفظ آرٹیکل 19(2) کے تحت ہمارے علم میں لائی گئی ہے۔ درحقیقت یہ اشاعت دستاویزات کی ہندو نیوز پیپر کے ذریعہ ہمیں یاددہانی کرائی گئی۔ جس کے لئے ہمارے سابق میں جو نظریات تھے اُسے ہم محسوس کرتے ہیں کہ آزادی صحافت کے سلسلے میں یہ طویل فیصلہ ہے۔“ چیف جسٹس آف انڈیا گوگوئی نے آزادی صحافت کے بارے میں مختلف فیصلوں کے حوالے دئے۔ جس میں رومیش تھاپر بنام اسٹیٹ آف مدراس (1950ء) جو تھاپر کے میگزن کراس روڈ پر پابندی مدراس حکومت نے لگائی تھی،جس میں کانگریس پارٹی پر تنقید کی گئی تھی۔ جس میں کورٹ نے یہ طئے کیا تھا کہ ”آزادی صحافت جمہوریت کے تمام اُصولوں کی بنیاد ہے۔“ اُسی طرح برج بھوشن بنام اسٹیٹ آف دلی (1950ء) جو آرگنائزر میگزن پر پابندی لگانے سے متعلق تھا جس میں کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”طباعت سے پہلے سینسر کا کام کسی بھی جنرل پر لگانا اس کا مطلب یہ ہے کہ صحافت کی آزادی پر پابندی لگانا ہے، جبکہ صحافت کی آزادی تقریر و تحریر کی آزادی جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے جسے دستور کی آرٹیکل 19(1)(A)نے تسلیم کیا ہے۔ انڈین ایکسپریس نیوز پیپر (بامبے پرائیویٹ لمیٹیڈ بنام یونین آف انڈیا 1985ء) میں کورٹ نے طے کیا تھا کہ سماجی و سیاسی آزادی میں صحافت کی آزادی دل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اخبارات اطلاعات ہی نہیں دیتے ہیں بلکہ اپنے خیالات کے ذریعہ نظم و نسق عامہ اور ہر کسی کو مواد فراہم کرتے ہیں جو حکومت کے کسی حکام کو قابل قبول ہو کہ نہ ہو۔“ چیف جسٹس آ ف انڈیا گوگوئی نے اور بھی نظائر پیش کرتے ہوئے نیوایئر ٹائمس کمپنی بنام یونائٹیڈ اسٹیٹ (1971ء) جس میں یونائٹیڈ اسٹیٹ کے سپریم کورٹ نے پینٹاگن پیپرس کی اشاعت پر پابندی لگانے سے انکار کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ اس قسم کی پابندی عدلیہ کی غیر مجاز قانون سازی ہوگی اور جس کی وجہ سے مقدس جمہوریت کے اصول جس میں اختیارات کی علیحدگی کی پامالی ہوگی۔ ہم مذکورہ معاملہ میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ اوپر مذکورہ تمام نظائر کے اُصول موجودہ حالات میں اس مقدمہ میں کیوں نہیں اپناسکتے۔
حکومت کی جانب سے اُٹھائے جانے والے سوال پر جسٹس گوگوئی نے کہا کہ ”آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور کسی اور قانون میں ایسی قانون سازی نہیں ہے جسے ہماری نظر میں لایا گیا ہے اور پارلیمنٹ کے پاس ایسے کوئی اختیارات نہیں ہیں کہ عاملہ یا حکومت کو اس قسم کے دستاویز کی اشاعت کو صرف اس لئے روک سکیں گے کہ یہ رازدارانہ دستاویزات ہیں۔ جسے عدلیہ کے سامنے بھی پیش نہیں کیا جاسکتا۔
جسٹس جوزف
مذکورہ فیصلہ سے اتفاق کرتے ہوئے جسٹس جوزف نے اپنے فیصلہ میں آزادی صحافت کے موضوع کو لیتے ہوئے کہا کہ ”میں چیف جسٹس کے دئے گئے فیصلہ سے اتفاق رکھتا ہوں چونکہ یہ آزادی صحافت سے جڑا ہوا ہے۔ آزادی صحافت نے ہندوستان کی جمہوریت کو کافی مضبوط کیا ہے۔ گویا اس طرح سے وہ ایک محور و مدار کا کام کرتا ہے، جس میں مضبوط جمہوریت اس ملک میں جاری رہے گی۔“
اس وقت اسی مناسبت سے جسٹس جوزف نے ہندوستان میں آزادی صحافت کے بارے میں کہا ہے کہ ہندوستان کے دستور میں شہریوں کے لئے جو آرٹیکل 19(1)(A) ہے وہ سب سے بلند و بالا حق ہے۔ پریس کے بارے میں لکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے متعصبانہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ متعصبانہ اطلاعات دینے کا مطلب یہ ہے کہ صحیح آزادی سے روکنا ہے۔“
پریس کو اپنی آزادی کا استعمال بہت ہی گہری ذمہ داری سے کرنا چاہئے۔ ورنہ اس کی وجہ سے جمہوریت بھی کمزور ہوسکتی ہے۔ جسٹس جوزف نے حوالہ دیتے ہوئے ٹائم بنام ہِل 1967ء جو یونائٹیڈ اسٹیٹ سپریم کورٹ کی نظیر ہے جس میں آزادی اظہار خیال، تقریر و تحریر اور پریس کی آزادی پریس کے فائدہ کے لئے نہیں ہوتی ہے بلکہ عوام کے لئے ہوتی ہے۔“
جسٹس جوزف نے بھی انڈین ایکسپریس 1985ء کا حوالہ دیتے ہوئے بنیادی حقو ق کے اُصول آزادی صحافت اور لوگوں کے حق معلومات کی نظیر دیتے ہوئے کہا کہ ”آزادی اظہار خیال جو قابل صحافیوں، قلمکاروں سے ملتی ہے جس سے ہمیں وسیع تر سماجی مقاصد حل ہوتے ہیں۔
(۱) اس کے ذریعہ کسی فرد کو اپنی شخصیت کی تکمیل میں مدد ملتی ہے۔
(۲) اس سے سچائی کی دریافت ہوتی ہے۔
(۳) اس سے کسی فرد کی فیصلہ لینے کی طاقت و قوت میں اضافہ ہوتاہے۔
(۴) اس کی وجہ سے استحکام اور تبدیلی کے درمیان توازن برقرار رہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں