عشق میں ضبط کی منصور کو طاقت نہ ملی

🖋: محمد طارق قاسمی لکھیم پوری

بے قصوروں کو عدالت سے ضمانت نہ ملی
جرم اتنا تھا کہ جج کو کوئی رشوت نہ ملی

بہرِ دیدار تڑپتا ہوں میں اِک مدت سے
مجھ سے ملنے کی مگر آپ کو فرصت نہ ملی

عشق نے پالیا جلوت میں بھی خلوت کا مزہ
عقل کو گوشئہ خلوت میں بھی خلوت نہ ملی

وہ نکل پائے اندھیروں سے یہ ممکن ہی نہیں
جس کو بھی اُس مہِ کامل کی عنایت نہ ملی

تھا سبب اتنا “اناالحقْ” کی صدا کا طارقؔ
عشق میں ضبط کی منصور کو طاقت نہ ملی

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں