عقیدہ نمبر ۔32۔ شرک تمام آسمانی کتابوں میں ممنوع ہے

ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چئیرمین ہلال کمیٹی لندن

قسط نمبر 32

اس عقیدے کے بارے میں 34 آیتیں اور6 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

سب سے بڑا گناہ شرک ، اور کفرہے ، اس لئے اس سے بچنا چاہئے 
ان آیتوں میں ہے کہ پہلے لوگوں کو بھی شرک نہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ، اور اس شریعت میں بھی یہی ہے 

1۔ قل یا اہل الکتاب تعالو الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعدبو الا اللہ و لا نشرک بہ شیئا و لا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ ۔ ( آیت ۶۴، سورت آل عمران ۳)۔ترجمہ ۔مسلمانوا یہود و نصاری سے کہہ دو کہ ائے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم اور تم میں مشترک ہو ، اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں 
2۔و لقد اوحی الیک و الی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک و لتکونن من الخاسرین ، بل اللہ فاعبد و کن من الشاکرین ( آیت ۶۵، سورت الزمر ۳۹) 
ترجمہ ۔ اور حقیقت ہے کہ تم سے، اور تم سے پہلے تمام رسولوں وحی کے ذریعے یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ اگر تم نے شرک کا ارتکاب کیا تو تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے گا ، اور تم یقینی طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں ہو جاؤگے، اس لئے صرف اللہ کی عبادت کرو ، اور شکر گزار لوگوں میں شامل ہو جاؤ 
3۔ قل انی امرت ان اکون اول من اسلم و لا تکونن من المشرکین ۔ ( آیت ۱۴، سورت الانعام ۶) 
ترجمہ ۔ کہہ دو کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ فرماں برداری میں سب لوگوں سے پہل کرنے والا بنوں ، اور تم مشرکوں میں ہر گز شامل نہ ہونا 
4۔قل انی امرت ان اعبد اللہ و لا اشرک بہ الیہ ادعوا و الیہ مأب ۔ ( آیت ۳۶، سورت الرعد ۱۳) 
ترجمہ ۔ کہہ دو کہ مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں ، اور اس کے ساتھ کسی کو خدائی میں شریک نہ مانوں ، اسی بات کی میں دعوت دیتا ہوں ، اور اسی اللہ کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے 
ان تمام آیتوں میں یہ کہا گیا ہے کہ شرک ہر گز نہ کریں ۔ 

اہل عرب ایک خدا مانتے تھے لیکن وہ شرک بھی کرتے تھے 

اہل عرب ایک خدا کو مانتے تھے ، لیکن اس کے ساتھ دوسروں کو بھی صفات میں شریک کرتے تھے ۔
اس کی دلیل یہ آیات ہیں 
5۔ قل من یرزقکم من السماء و الارض ، امن یملک السمع و الابصار ، ومن یخرج الحی من المیت و یخرج المیت من الحی ، و من یدبر الامر فسیقولون اللہ ، فقل أفلا تتقون ۔ ( آیت ۳۱، سورت یونس ۱۰) 
ترجمہ ۔ اے رسول ان مشرکوں سے کہو کہ کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے ؟ یا بھلا کون ہے جو سننے اور دیکھنے کی قوتوں کا مالک ہے ، اور کون ہے جو جاندار کو بے جان سے ، اور بے جان کو اندار سے باہر نکال لاتا ہے ؟ اور کون ہے جو ہر کام کا انتظام کرتا ہے ؟ تو یہ لوگ کہیں گے اللہ !تو تم ان سے کہو کہ کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ 
6۔و لئن سالتہم من نزل من السماء ماء فاحیا بہ الارض من بعد موتہا لیقولن اللہ، بل اکثرھم لا یعقلون ۔ ( آیت ۶۳، سورت العنکبوت۲۹)
ترجمہ ۔ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ : کون ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اسے زندگی بخشی ؟ تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ ،، اللہ ،،کہو ، الحمد للہ ! لیکن ان میں سے اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے 
7۔ و لئن سألتہم من خلقہم لیقولن اللہ ۔ ( آیت ۸۷، سورت الزخرف ۴۳) 
ترجمہ ۔ اور اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے 
8۔و الذین اتخذوا من دونہ اولیاء و ما نعبدہم الا لیقربنا الی اللہ زلفی ۔ ( آیت ۳، سورت الزمر ۳۹) 
ترجمہ ۔ اور جن لوگوں نے اللہ کے بجائے دوسروں کو رکھوالے بنا لئے ہیں ، یہ کہہ کر کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں گے ۔ 
اس آیت میں ہے کہ مشرکین مکہ مانتے تھے کہ اللہ ایک ہے ، لیکن دیوی، دیوتاؤں ، اور بتوں کی پوجا اس لئے کرتے تھے کہ وہ اللہ تک پہنچا دیں گے ، کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ ان دیوی ، دیوتاؤں کو اللہ نے یہ طاقت دی گئی ہے کہ وہ اللہ تک پہونچا دیں ، اللہ نے تنبیہ کی کہ یہ بالکل غلط کر رہے ہیں
 

شرک کو اللہ تعالی کبھی معاف نہیں کریں گے 
9۔ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذالک من یشاء ، و من یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما ۔ ( آیت۴۸ ، سورت النساء ۴ ) 
ترجمہ ۔ بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے ، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے ، اور جوشخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے 
10۔و لقد اوحی الیک و الی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک و لتکونن من الخاسرین ، بل اللہ فاعبد و کن من الشاکرین ( آیت ۶۵، سورت الزمر ۳۹) 
ترجمہ ۔ اور حقیقت ہے کہ تم سے، اور تم سے پہلے تمام رسولوں وحی کے ذریعے یہ بات کہہ دی گئی تھی کہ اگر تم نے شرک کا ارتکاب کیا تو تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے گا ، اور تم یقینی طور پر سخت نقصان اٹھانے والوں میں ہو جاؤگے، اس لئے صرف اللہ کی عبادت کرو ، اور شکر گزار لوگوں میں شامل ہو جاؤ 
11۔انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ و مأواہ النار ، و ما للظالمین من انصار ۔ ( آیت ۷۲، سورت المائدۃ ۵) 
ترجمہ ۔ یقین جانوا کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ، اللہ نے اس کے لئے جنت حرام کر دی ہے ، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، اور ظلم کرنے والوں کے لئے کوئی مدد گار میسر نہیں آئیں گے
 

ان آیتوں میں ہے کہ اگر کوئی شرک کرتے ہوئے مر گیا ،اور موت سے پہلے اس گناہ سے توبہ نہیں کیا تو اللہ تعالی اس کو کبھی معاف نہیں کریں بلکہ ہمیشہ ہمیش اس کو جہنم میں جلنا پڑے گا ۔
اللہ کی ذات میں کسی کو شریک کرنا حرام ہے 

شرک کی بہت ساری قسمیں ہیں ، لیکن ان میں سے دو قسم بہت اہم ہیں 
ایک ہے اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کرنا ، یعنی دو خداؤوں ، کو ماننا 
اور دوسرا ہے خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنا ، اس کی پوجا کرنا 
اس لئے صرف ایک ہی خدا ماننا چاہئے ، اس میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہئے
 

ان آیتوں میں ہے کہ صرف ایک ہی خدا ہے دوسرا خداہر گز نہیں ہے 
12۔و قال اللہ لا تتخذون الٰھین اثنین انما ھو الہ وحد فاییٰ فارھبون ۔ ( آیت ۵۱، سورت النحل ۱۶ ) 
ترجمہ ۔ اور اللہ نے فرمایا کہ ، دو دو معبود نہ بنا بیٹھنا ، وہ تو بس ایک ہی معبود ہے ، اس لئے بس مجھ ہی سے ڈرا کرو 
13۔ ائنکم لتشہدون ان مع اللہ الہۃ اخری قل لا اشہد ۔قل انما ھوا الہ واحد و اننی بری مما تشرکون۔ ( آیت ۱۹، سورت انعام ۶)
ترجمہ ۔ کیا سچ مچ تم یہ گواہی دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں ؟ کہہ دو کہ ، میں تو ایسی گواہی نہیں دوں گا ، کہہ دو کہ ، وہ تو صرف ایک خدا ہے ، اور جن جن چیزوں کو تم اس کی خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو میں ان سب سے بیزار ہوں 
14۔لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلاثۃ و ما من الہ الا الہ واحد ۔ ( آیت ۷۳، سورت المائدۃ ۵) 
ترجمہ ۔وہ لوگ بھی یقیناًکافر ہو چکے ہیں ، جنہوں نے یہ کہا کہ ، اللہ تین میں کا تیسرا ہے ،، حالانکہ ایک خدا کے سواکوئی خدا نہیں ہے 
15۔ والٰھکم الٰہ واحد لا الہ الا ہو الرحمن الرحیم ۔ ( آیت ۱۶۳، سورت البقرۃ ۲) 
ترجمہ ۔ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، جو سب پر مہربان بہت مہربان ہے 
16۔لو کان فیہما آلہۃ الا اللہ لفسدتا ۔ ( آیت ۲۲، سورت الانبیاء ۲۱) 
ترجمہ ۔ اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا دوسرے خدا ہوتے تو وہ دونوں درہم برہم ہو جاتے 
17۔و ما من الہ الا اللہ و ان اللہ لھو العزیز الحکیم ۔ (آیت ۶۲، سورت آل عمران ۳)
ترجمہ ۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اور یقیناًاللہ ہی ہے جو غالب ہے ، حکمت والا ہے 
تقریبا ایک سو چالیس آیتوں میں ہے کہ ایک خدا ہے دوسرا ہر گز نہیں ہے
۔ 

اللہ کی عبادت میں شریک کرنا حرام ہے 

عبادت کی جتنی قسمیں ہیں ، سجدہ کرنا ، رکوع کرنا ، عبادت کے طور پر اس کے سامنے کھڑا ہونا ، یا اس کو پوجنا ، اللہ کے علاوہ کسی اور کے سامنے یہ کرنا شرک ہے ، حرام ہے 

اس کے لئے آیتیں یہ ہیں 
18۔و قضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ ۔ ( آیت ۲۳، سورت الاسراء ۱۷)
ترجمہ ۔اور تمہارے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو 
19۔قل انی نہیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ لماجأئنی البینات من ربی و امرتُ ان اسلم لرب العالمین ۔ ( آیت ۶۶، سورت غافر ۴۰) 
ترجمہ ۔ اے رسول کافروں سے کہہ دو ، کہ مجھے اس بات سے منع کر دیا گیا ہے کہ جب میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی کھلی نشانیاں آگئیں تو پھر بھی میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے بجائے پکارتے ہو ، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ رب العالمین کے آگے سر جھکادوں 
20۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین ۔ ( آیت ۳، سورت الفاتحۃ ۱) 
ترجمہ ۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ، اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں 
21۔ان لا تعبدوا الا اللہ ( آیت ۲، سورت ہود ۱۱)
ترجمہ ۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو 
22۔ان لا تعبدوا الا اللہ ۔ ( آیت ۲۶، سورت ھود ۱۱) 
ترجمہ ۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو 
23۔ان لا تعبدوا الا اللہ ۔ ( آیت ۱۴، سورت فصلت ۴۱) 
ترجمہ ۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کر
و 

ان آیتوں میں ہے کہ اللہ کے علاوہ ہر گز کسی کی عبادت نہ کریں ، اور عبادت میں ، سجدہ کرنا ، رکوع کرنا ، عبادت کے لئے قیام کرنا ، یہ سب شامل ہے اس لئے ان سب باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے ۔
اس سے بھی آدمی مشرک بن جاتا ہے جس کا انجام یہ ہے کہ اللہ اس کو کبھی معاف نہیں کریں گے ، اور اس کو ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہنا پڑے گا 
لوگ اس میں بہت بے احتیاطی کرتے ہیں 

اللہ کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ ، اور رکوع جائز نہیں ہے 

عبادت کے طور پر کسی کے سامنے سجدہ کرنے سے آدمی مشرک ہو جاتا ہے ، اور تعظیم کے طور پر کسی کے سامنے سجدہ کرنا حرام ہے ، اسی طرح عبادت کے طور پرکسی کے سامنے رکوع کرنا بھی جائز نہیں ہے ، کیونکہ یہ بھی نماز اور عبادت کا حصہ ہے 
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں 
24۔لا تسجدوا للشمس و لا للقمر و اسجدوا للہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون ۔ ( آیت ۳۷، سورت فصلت ۴۱) 
ترجمہ ۔ نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو ، اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے ، اگرتمہیں اسی کی عبادت کرنی ہے 
25۔یا ایھا الذین آمنوا ارکعوا و اسجدوا و اعبدوا ربکم ۔ ( آیت ۷۷، سورت الحج ۲۲)
ترجمہ ۔ ائے ایمان والو! رکوع کرو ، اور سدہ کرو ، اور اپنے رب کی بندگی کرو 
26۔فاسجدوا للہ و اعبدوا ۔ ( آیت ۶۲، سورت النجم ۵۳) 
ترجمہ ۔ اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اس کی بندگی کرو
27۔یا مریم اقنتی لربک و اسجدی و ارکعی مع الراکعین ۔ ( آیت ۴۳، سورت آل عمران ۳) ترجمہ ۔ ائے مریم تم اپنے رب کی عبادت میں لگی رہو ، اور سجدہ کرو ، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع بھی کیا کرو 
28۔و اقیموا الصلاۃ و آتوا الزکاۃ و ارکعوا مع الراکعین ( آیت ۴۳، سورت البقرۃ۲) 
ترجمہ ۔ اور نماز قائم کرو ، اور زکوۃ ادا کرو ، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو 
ان آیتوں میں یہ بتلایا گیا ے کہ اللہ ہی کے لئے رکوع اور سجدہ کرو ، اس لئے کسی اور کے لئے نہ سجدہ کرنا جائز ہے ، اور نہ عبادت کے طور پر کسی کے سامنے رکوع کرنا جائز ہے
 

1۔عن قیس بن سعد قال أتیت الحیرۃ فرأیتھم یسجدون لمرزبان لھم فقلت رسول اللہ ﷺ احق ان یسجد لہ قال فأتیت النبی ﷺ فقلت انی اتیت الحیرۃ فرأیتھم یسجدون لمرزبان لھم فانت یا رسول اللہ ! احق ان نسجد لک ،قال: أرأیت لو مررت بقبری أکنت تسجد لہ ؟ قال قلت لا ، قال :فلا تفعلوا ،لو کنت آمرا احدا ان یسجد لاحد لامرت النساء ان یسجد ن لازواجھن لما جعل اللہ لھم علیھن من الحق ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب النکاح ، باب فی حق الزوج علی المرأۃ ، ص ۳۰۹، نمبر ۲۱۴۰؍ ابن ماجۃ شریف ، کتاب النکاح ، باب حق الزوج علی المرأۃ ، ص ۲۶۵، نمبر ۱۸۵۳) 
ترجمہ ۔ قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حیرہ مقام پر آیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں ، تو میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تو زیادہ حقدار ہیں کہ ان کو سجدہ کیا جائے ،، میں حضور ؐ کے پاس آیا اور کہا کہ میں حیرہ گیا تھا ، وہاں دیکھا کہ وہ اپنے سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں ، اس لئے آپ یا رسول اللہ ؐ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، حضور ؐ نے فرمایا کہ اگر تم میری قبر پر گزروتو کیا اس کو سجدہ کرو گے ، قیس نے جواب دیا نہیں ! تو حضور ؐ نے فرمایا کہ ، زندگی میں بھی مجھے سجدہ مت کرو ، اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا ، تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں ، اس لئے کہ اللہ نے شوہروں کو بیویوں پر بہت حقوق دئے ہیں 
اس حدیث میں ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ تعظیمی کرنا بھی حرام ہے 
شخصی طور پر ہم کسی کو حتمی طور پرجنتی ، یا جہنمی نہیں کہہ سکتے ، 

کسی کے بارے میں حتمی طور پر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ یہ جنتی ہے ، یا جہنمی ہے جب تک کہ قرآن ، یا حدیث میں اس کی تصریح نہ ہو 
قرآن یا حدیث میں کسی کا نام لیکر جنتی ، یا جہنمی کہا گیا ہے تو اس کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ جنتی یا جہنمی ہے ، لیکن اس کا نام لیکر جنتی یا جہنمی نہیں کہا ہے تو بہت ممکن ہے کہ ظاہری طور پر وہ جنتی ہو لیکن اندرونی طور پر وہ اللہ کے یہاں جہنمی ہو ، یا ظاہری طور پر وہ جہنمی ہو لیکن اندرونی طور پر وہ اللہ کے یہاں جنتی ہو کیونکہ ایمان اور تصدیق کا معاملہ دل کا معاملہ ہے ، اور دل کا حال اللہ ہی جانتا ہے 
ہاں کسی پر کفر کی علامت ہو تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں کفر کی علامت ہے اس لئے ممکن ہے کہ یہ کافر ہو اور اس پر کافر کے احکام جاری کئے جائیں گے ، لیکن حتمی طور پر اس کو کافر نہیں کہہ سکتے
اس لئے جو لوگ اپنی تقریروں میں نام لے لے کر کسی کو کافر کہتے ہیں ، یا جنتی کہتے ہیں ، یہ نہیں کہنا چاہئے 

عقیدۃ الطحاویۃ کی عبارت یہ ہے 
۔ و لا ننزل احدا منہم جنۃ و لا نارا ، و لا نشہد علیہم بالکفر و لا بشرک و لا بنفاق مالم یظہر منہم شیء من ذالک و نذر سرائرہم الی اللہ تعالی ۔ ( عقیدۃ الطحاویۃ ، عقیدہ نمبر ۷۰، ص ۱۶) 
ترجمہ ۔ ہم کسی کو جنتی ، یا جہنمی قرار نہیں دیتے ، اور نہ ہم اس پر کفر اور شرک، اور نفاق کی گواہی دیتے ہیں جب تک کہ اس سے ان میں سے کوئی چیز ظاہر نہ ہو جائے ، اور جو چھپی ہوئی باتیں ہیں ان کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں 
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ہم کسی کے بارے میں حتمی طور پر جنتی ، یا جہنمی نہیں کہہ سکتے 

اس کی دلیل یہ ہے ۔
29۔ یا ایہا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ، ان بعض الظن اثم ۔ ( آیت، ۱۲، سورت الحجرات ۴۹) 
ترجمہ ۔ اے ایمان والو۱ بہت سے گمانوں سے بچو ، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں 
30۔ یا ایھا الذین آمنوا لا یسخر قوم من قوم عسی ان یکون خیرا منہم۔( آیت۱۱، سورت الحجرات ۴۹) 
ترجمہ ۔ اے ایمان والو! نہ کوئی مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ،ہو سکتا ہے کہ جن کا مذاق اڑا رہا ہے خود ان سے بہتر ہو ۔ 
ان آیتوں میں گمان کرنے سے منع فرمایا ہے ، جس سے معلوم ہوا کہ ہم کسی کو حتمی طور جنتی یا جہنمی نہیں کہہ سکتے 

2۔عن عائشۃ ام المومنین قالت دعی رسول اللہ الی جنازۃ صبی من الانصار فقلت یا رسول اللہ طوبی لہذا عصفور من عصافیر الجنۃ ! لم یعمل السوء و لم یدرکہ ، قال اوغیر ذالک ؟ یا عائشۃ ! ان اللہ خلق للجنۃ اہلا خلقہم لہا و ہم فی اصلاب آباۂم و خلق للنار اہلا خلقھم لھا وہم فی اصلاب اباۂم۔ ( مسلم شریف ، کتاب القدر، باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ و حکم موتی اطفال الکفار و اطفال المسلمین ، ص ۱۱۵۹، نمبر ۲۶۶۲؍ ۶۷۶۸) 
ترجمہ ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں حضور ؐ انصار کے ایک بچے کے جنازے میں بلائے گئے ، میں نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ جنت کی چڑیا ہے ، اس کے لئے خوشخبری ہو ، اس نے کوئی گناہ بھی نہیں کیا ، اور اس کو گناہ کا وقت بھی نہیں ملا ، حضور ؐ نے فرمایا : ، کچھ اور بھی کہنا چاہتی ہو ؟ اے عائشہ! جب لوگ اپنے باپ کی پیٹھ میں تھے تب ہی اللہ نے جنت میں جانے والوں کو پیدا کر دئے تھے ، اور جب وہ اپنے باپ کی پیٹھ میں تھے تب ہی جہنم میں جانے والوں کوپیدا کر دئے تھے 
اس حدیث میں ہے کہ اللہ کے علم میں پہلے سے ہے کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی ہے ، اس لئے ہم کسی کو دیکھ کر جنتی ، یا جہنمی ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتے 

گناہ صغیرہ ، و گناہ کبیرہ کی تعریف 

گناہ کبیرہ ۔۔۔جن گناہ پر وعید آئی ہو یا دنیا میں لعنت کی گئی ہو ، اور بہت ڈانٹ پڑی ہو ، اس کو گناہ کبیرہ کہتے ہیں 
گناہ کبیرہ ۔۔۔توبہ کرنے سے معاف ہو تا ہے ، اس سے پہلے معاف نہیں ہوتا ، ہاں اللہ چاہے تو کسی کا گناہ کبیرہ بھی معاف کر سکتا ہے ۔ البتہ شرک ایسا گناہ کبیرہ ہے کہ بغیر توبہ کے اللہ معاف نہیں کریں گے 
گناہ کبیرہ کرنے سے آدمی مشرک ، یا کافر نہیں بنتا ، کیونکہ اس کے دل میں ایمان اور تصدیق بالقلب موجود ہے ، البتہ یہ گناہ بہت بڑا ہے ، اس سے ہر حال میں بچنا چاہئے ، اور کبھی ہو گیا ہو تو فورا توبہ کر لینا چاہئے 
گناہ صغیرہ ۔۔۔اور جن گناہ پر وعید نہ ہو اس کو گناہ صغیرہ ، کہتے ہیں 
گناہ صغیرہ ۔۔۔چھوٹے چھوٹے نیکی کے کام کرنے سے بھی معاف ہو جاتا ہے 

گناہ صغیرہ ۔۔بغیر توبہ کے بھی اللہ معاف کر دیتے ہیں
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں 
31۔ان تجتنبوا کبائر ما تنہون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم و ندخلکم مدخلا کریما ۔ ( آیت ۳۱، سورت النساء ۴) 
ترجمہ ۔ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری چھوٹی برائیوں کا ہم خود کفارہ کر دیں گے ، اور تم کو ایک باعزت جگہ داخل کریں گے 
32۔الذین یجتنبون کبائر الاثم و الفواحش الا الللمم ان ربک واسع المغفرۃ( آیت ۳۲، سورت النجم۵۳)
ترجمہ ۔ ان لوگوں کو جوبڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں ، البتہ کبھی کبھار پھسل جانے کی بات اور ہے ، یقین رکھو تمہارا رب بہت وسیع مغفرت والا ہے [ انکو معاف کر دیں گے]
ان آیتوں کے اندر اشارہ ہے کہ بڑے بڑے گناہوں سے بچو گے تو ہو سکتا ہے اللہ چھوٹے چھوٹے گناہ معاف کر دیں گے 

گناہ کبیرہ کرنے والا جنت میں جائے گا 

شرک اور کفر کے علاوہ کوئی اور گناہ کبیرہ کیا ہو ، اور توبہ کئے بغیر مر گیا تو ہو سکتا ہے کہ اس کوگناہ کی سزا ملے اور جہنم میں کافی مدت سزا بھگتنا پڑے ، لیکن سزا کاٹنے کے بعد کبھی نہ کبھی جنت میں جائے گا ، کیونکہ اس کے دل میں ایمان ہے ، اور مومن کبھی نہ کبھی جنت میں جائے گا 
اور اگر گناہ کبیرہ سے توبہ کر لی ، اور اس کی توبہ قبول ہو گئی تو اس کی سزا بھگتے بغیر جنت میں جائے گا ، کیونکہ اس نے توبہ کر لی ہے اور اس کی توبہ قبول بھی ہو گئی ہے 

اس کے لئے حدیث یہ ہے 
3۔عن ابی زرؓ قال قال رسول اللہ ﷺ آتانی آت من ربی ۔ فاخبرنی ، او قال بشرنی ۔ انہ من مات من امتی لا یشرک باللہ شیئا دخل الجنۃ فقلت و ان زنی و ان سرق ؟ قال و ان زنی و ان سرق ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجنائز ،ص ۱۹۸، نمبر ۱۲۳۷ ؍ مسلم شریف ،کتاب الایمان ، باب الدلیل علی من مات لا یشرک باللہ دخل الجنۃ ، ص ۵۴، نمبر ۹۲؍ ۲۶۷۸) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میرے رب کی جانب سے کوئی آنے والا آیا اور مجھ کو خبر دی ، یا یوں فرمایا کہ مجھ کو خوشخبری سنائی کہ، میری امت میں سے جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو اور اس کی وفات ہوئی تو وہ جنت میں داخل ہو گا ، میں نے پوچھا کہ ، چاہے وہ زنا کرتا ہو اور چوری بھی کرتا ہو تب بھی ؟ ، تو خوشخبری دینے والے نے کہا کہ ، چاہے وہ زنا کرتا ہو اور چوری بھی کرتا ہو ، تب بھی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا 

اس حدیث میں ہے کہ کوئی مشرک نہ مرا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا ، اس لئے گناہ کبیرہ کرنے والابھی جنت میں داخل ہو گا 
4۔عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ …..ثم یخرج من النار من قال لا الہ الا اللہ و کان فی قلبہ من الخیر ما یزن ذرۃ ۔ ( مسلم شریف ، کتاب الایمان ، باب ادنی اہل الجنۃ منزلۃ فیھا ، ص ۱۰۲، نمبر ۱۹۳؍ ۳۴۷۸؍ بخاری شریف، باب کتاب التوحید، باب کلام الرب تعالی یوم القیامۃ مع الانبیاء وغیرہم ، ص۱۲۹۴، نمبر ۷۵۱۰) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ ۔۔۔جس نے ،لا الہ الا اللہ ، کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر خیر ، یعنی ایمان ہے تو وہ جہنم سے نکالا جائے گا 
ان آیات اور احادیث سے معلوم ہوا کہ ذرہ برابر دل میں ایمان ہو تو جنت میں داخل ہو گا ، جس کا مطلب یہ ہوا کہ گناہ کبیرہ کرنے والا بھی جنت میں داخل ہو گا ۔
 

گناہ کبیرہ کو حلال سمجھے گا تو وہ کافر ہو جائے گا 

بے خبری میں یا مجبوری میں گناہ کبیرہ کر لیا، جب کہ اس گناہ کو وہ گناہ سمجھ رہا ہے ، تو اس کی سزا ملے گی ، لیکن اس سے آدمی کافر نہیں ہو گا ، لیکن اگر ایسا گناہ کبیرہ ہے جس کی ممانعت صریح آیت میں موجود ہے ، اب اس گناہ کو حلال سمجھتے ہوئے کرے گا تو یہ مجرم کافر ہو جائے گا 
کیونکہ جب حلال سمجھتے ہوئے گناہ کیا تو اس نے صریح آیت کا انکار کیا جس میں اس گناہ کی ممانعت ہے ، اور پہلے گزر چکا ہے کہ ایمان کے چھ جز میں سے ایک جز قرآن کو اور آیت کو ماننا ہے ، اور اس نے آیت کا انکار کر دیا اس لئے اب یہ کافر ہو جائے گا ، مثلا زنا کی حرمت آیت میں موجود ہے ، اب وہ حلال سمجھ کر زنا کرتا ہے ، تو گویا کہ زنا والی آیت کا انکار کیا ، اس لئے اب وہ کافر بن جائے گا ، اور اب اس سے توبہ کرے گا تب وہ مسلمان ہو گا 
عقیدۃ الطحاویۃ میں عبارت یہ ہے 
۔و لا نکفر احدا من اھل القبلۃ بذنب ما لم یستحلہ ۔ ( عقیدۃ الطحاویۃ ، عقیدہ نمبر ۵۷ ، ص ۱۴ ) 
ترجمہ ۔ کسی گناہ کی وجہ اہل قبلہ کو کافر قرار نہیں دیتا ، جب تک کہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھ لے 
اس عبارت میں، مالم یستحلہ ، کا مطلب یہی ہے کہ گناہ کو حلال سمجھنے لگے ، جس کی وجہ سے صریح آیت کا انکار ہو جائے ، اور اس کی وجہ سے اس کو کافر قرار دیا جائے گا ۔
 

گناہ کبیرہ کی تعداد 

گناہ کبیرہ کی تعداد متعین نہیں ہے ، البتہ یہ سب گناہ کبیرہ میں شامل ہیں ، شرک ، کفر، قتل، زنا کرنا ، زنا کی تہمت ڈالنا، چوری کرنا، شراب پینا، سود کھانا ، والدین کی نا فرمانی ، جھوٹی قسم کھانا، میدان جہاد سے بھاگنا ، یتیم کے مال کو کھانا ۔ 
اس کی دلیل یہ آیت ہے 
33۔ و الذین لا یدعون مع اللہ الہا آخر و لا یقتلون النفس الذی حرم اللہ الا بالحق و لا یزنون و من یفعل ذالک یلق اثاما ۔ ( آیت ۶۸، سورت الفرقان ۲۵) 
ترجمہ ۔ اور جو اللہ کے ساتھ کسی بھی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ، اورجس جان کو اللہ نے حرمت بخشی ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے ، اور نہ وہ زنا کرتے ہیں ، اور جوشخص بھی یہ کام کرے گا اسے اپنے گناہوں کے وبال کا سامنا کرنا پڑے گا 
اس آیت میں تین گناہ کبیرہ کا ذکر ہے
 

5۔عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ ﷺقال اجتنبوا السبع الموبقات ، قیل یا رسول اللہ ما ہن ؟قال الشرک باللہ ، و السحر ، و قتل النفس التی حرم اللہ الا بالحق ، و اکل مال الیتیم، و اکل الربا ، و التولی یوم الزحف ، و قذف المحصنات الغافلات المومنات ۔ ( مسلم شریف ، کتاب الایمان ، باب الکبائر و اکبرہا ، ص ۵۳، نمبر ۸۹؍ ۲۶۲) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو ، لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟ فرمایا ، اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، جادو ، اللہ نے جس نفس کو حرام کیا ہے اس کو قتل کرنا ، ہاں جس کو قتل کرنے کا حق بنتا ہے ، اس کو قتل کرے تو نہیں ، یتیم کے مال کو کھانا ، سود کھانا ، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا ، پاک دامن مومن عورتوں پر زنا کی تہمت ڈالنا۔ 
اس حدیث میں سات قسم کے گناہ کبیرہ کو گنایا گیا ہے۔

6۔عن ابی بکرۃ قال کنا عند رسول اللہ ﷺ فقال ألا انبئکم باکبر الکبائر ثلاثا ؟۔الاشراک باللہ، و عقوق الوالدین ، و شہادۃ الزور ۔ ( مسلم شریف ، کتاب الایمان ، باب الکبائر و اکبرہا ، ص ۵۳، نمبر ۲۵۹۸۷) 
ترجمہ ۔ حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور ؐ کے پاس تھے ، تو آپ ؐ نے فرمایا تم کو سب سے بڑے تین گناہ نہ بتاؤں ؟ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نا فرمانی کرنا ، اور جھوٹی گواہی دینا 
34۔و من یقتل مومنا متعمدا فجزاؤہ جہنم خالدا فیہا و غضب اللہ علیہ و لعنہ و اعد لہ عذابا الیما ۔ ( آیت ۹۳، سورت النساء ۴) ۔ترجمہ ۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے ، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا ، اور اللہ نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے 
اس آیت میں ہے کہ کسی نے نا حق قتل کیا تو اس کی سزا ہمیشہ کے لئے جہنم ہے
، لیکن یہ تاکید کے لئے ہے ورنہ ایمان کی وجہ سے کبھی نہ کبھی جنت میں جائے گا 

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں