عقیدہ نمبر 33۔۔۔مسلمان مرتد کب بنتا ہے

ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چئیرمین ہلال کمیتی لندن

قسط نمبر 33

اس عقیدے کے بارے میں1 آیتیں اور8 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

ایمان کی بحث میں گزرا کہ چھ چیزوں پر ایمان رکھے گا تو وہ مومن بنے گا ، یہ چھ چیزیں یہ تھیں 
[۱]للہ [۲] رسول [۳] کتاب یعنی قرآن کریم [۴] فرشتہ [۵] آخرت کے دن پر ایمان ہو [۶] اور تقدیر پر ایمان ہو تو وہ مومن ہے 
ان چھ چیزوں میں سے کسی ایک کا انکار کر دے تو وہ مرتد بن جائے گا 
اس کی دلیل عقیدۃ الطحاویۃ کی یہ عبارت ہے
۔ و لا یخرج العبد من الایمان الا بجہود ما ادخلہ اللہ فیہ ۔ ( عقیدۃ اطحاویۃ ، عقیدہ نمبر ۶۱، ص ۱۵)ترجمہ ۔ جن چیزوں کی وجہ سے ایمان میں داخل ہوا ہے انہیں کے انکار کرنے کی وجہ سے بندہ ایمان سے نکلتا ہے 
اس عبارت میں ہے کہ جب ان چھ باتوں کے اقرار سے آدمی مسلمان ہوتا ہے ، اسی میں سے کسی ایک کے انکار سے وہ ایمان سے نکلے گا ، لیکن اگر ان میں سے کسی ایک کا انکار نہیں کرتا تو وہ مومن ہی رہے گا 

مرتد کو قاضی شرعی قتل کی سزا دے گا 
اس کے لئے یہ آیت ہے 
1۔ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر فاولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والآخرۃ واولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون (آیت ۲۱۷،سورۃ البقرۃ۲)
ترجمہ ۔ اور اگر تم میں سے کوئی مرتد ہو جائے ، اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے ، تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہو جائیں گے ، ایسے لوگ دوزخ والے ہیں ، اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے 
1 ۔قال اتی علیؓ بزنادقۃ فاحرقھم … لقول رسول اللہ ﷺ من بدل دینہ فاقتلوہ۔ (بخاری شریف، باب حکم المرتد والمرتدۃ واستتابتھم ، ص ۱۱۹۳،نمبر ۶۹۲۲)
ترجمہ ۔ حضرت علیؓ کے پاس ایک زندیق کو لایا گیا ، تو آپ نے اس کو جلا دینے کا حکم دیا ۔۔۔ اس لئے کہ حضور ؐ نے فرمایا جو دین بدل دے اس کو قتل کر دو ۔
2۔ عن ابی موسیؓ قال…، فاذا رجل عندہ( عند ابی موسی ) موثق،قال ماھذا؟ قال کان یہودیا فاسلم ثم تھود،قال اجلس !قال لا اجلس حتی یقتل قضاء اللہ ورسولہ ثلاث مرات فامر بہ فقتل (بخاری شریف، باب حکم المرتد والمرتدۃ واستتابتھم ، ص ۱۱۹۳،نمبر ۶۹۲۳) ترجمہ ۔ حضرت معاذؓ آئے، وہاں ابی موسیؓ کے پاس ایک آدمی باندھا ہوا تھا ، حضرت معاذؓ نے پوچھا یہ کیا ہے ،تو لوگوں نے کہا کہ یہ یہودی تھا ، پھر مسلمان ہوا ، اب پھر یہودی ہو گیا ہے ، پھر حضرت معاذ سے کہا گیا کہ آپ بیٹھ جا ئیں ، تو انہوں نے کہا کہ ، جب تک اس کو قتل نہیں کرو گے میں نہیں بیٹھوں گا ، یہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے ، یہ تین مرتبہ فرمایا ، حاکم نے حکم دیا اور وہ یہودی قتل کر دیا گیا 
لیکن مرتد کو قتل کرنے کے لئے تین شرطیں ہیں 
[۱] پہلی شرط یہ ہے کہ اسلامی حکومت ہو
پہلی شرط یہ ہے کہ ۔ اسلامی حکومت ہو تب قتل کیا جائے گا تاکہ دوسرا مسلمان بھی مرتد نہ ہو جائے ، 
اس کے لئے قول صحابی یہ ہے 
3۔عن زید بن ثابتؓ قال لا تقام الحدود فی دار الحرب مخافۃ ان یلحق اہلھا بالعدو۔ ( سنن کبری للبیہقی ، کتاب السیر ، باب من زعم لا تقام الحدود فی ارض الحرب حتی یرجع ، ج ۹، ص۱۷۸، نمبر ۱۸۲۲۵؍الاصل لامام محمد ، کتاب السیر فی ارض الحرب ، باب اقامۃ الحدود فی دار الحرب و تقصیر الصلاۃ ، ج ۷، ص ۴۶۲) ) 
ترجمہ ۔ حضرت زید بن ثابت نے فرمایا کہ دار الحرب میں حد قائم نہیں کی جائے گی ، اس ڈر سے کہ جس پر حد قائم ہوئی وہ کہیں حربیوں کے ساتھ نہ مل جائے 
4۔عن حکیم بن عمیر کتب الی عمیر بن سعد الانصاری و الی عمالہ ، ان لا یقیموا حدا علی احد من المسلمین فی ارض الحرب حتی یخرجوا الی ارض المصالحۃ ۔ ( سنن کبری للبیہقی ، کتاب السیر ، باب من زعم لا تقام الحدود فی ارض الحرب حتی یرجع ، ج ۹، ص۱۷۸، نمبر۱۸۲۲۶) 
ترجمہ ۔ حضرت حکیم ؒ نے عمیر اور اس کے عاملہ کو لکھا ، دار الحرب میں کسی مسلمان پر حد قائم نہ کریں ، جب تک کہ وہ صلح کی زمین پر نہ آجائے 
ان قول صحابی میں ہے کہ مسلمان امیر ہو تب بھی دار الحرب میں حدود قائم نہ کی جائے ، تو جہاں اسلامی حکومت بھی نہ ہو تو وہاں حدود کیسے قائم کی جائے گی ۔ 
[۲] دوسری شرط یہ ہے کہ شرعی قاضی ہو جو حد کا فیصلہ کرے
دوسری شرط یہ ہے کہ اسلامی قاضی ہو وہ تمام تحقیقات کر کے قتل کا فیصلہ کرے ، تب قتل کیا جائے گا ، یہ عوام کا کام نہیں ہے ۔ 
5۔عن عقبۃ بن الحارث ، ان النبی ﷺ اتی بنعمان او بابن نعمان و ھو سکران فشق علیہ و امر من فی البیت ان یضربوہ ، فضربوہ بالجرید و النعال ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الحدود ، باب الضرب بالجرید و النعال ، ص ۱۱۶۸، نمبر ۶۷۷۵) 
ترجمہ ۔ نعمان ، یا ابن نعمان کو حضور ؐ کے پاس لایا گیا ، اس حال میں کہ وہ نشہ میں تھا ، یہ بات حضور ؐ پر گراں گزری ، پھر جو لوگ گھر میں تھے انکو حکم دیا کہ اس کو مارے ، تو لوگوں نے کھجور کی ٹہنی اور جوتوں سے مارا 

6۔عن انس قال جلد النبی ﷺ فی الخمر بالجرید و النعال ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الحدود ، باب الضرب بالجرید و النعال ، ص ۱۱۶۸، نمبر۶۷۷۶) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے شراب کی سزا میں کھجور کی چھڑی اور جوتوں سے مارا ۔ 
ان دونوں حدیثوں میں حضور ؐ نے حد کا فیصلہ کیا ہے جو اس وقت حاکم اور قاضی تھے ، اس لئے قاضی کے فیصلے سے ہی حد کی سزا دی جا سکے گی 
اس لئے جہاں شرعی قاضی نہیں ہے وہاں حد کی سزا نہیں ہو گی ، ورنہ عوام میں انتشار ہو گا ، البتہ وہاں کے حاکم سے تعزیر کا مطالبہ کر سکتے ہیں ، کہ وہ ایسی غیر اسلامی حرکت کرنے والے کوتنبیہ کرے 

[۳]، تیسری شرط یہ ہے کہ تین دنوں تک توبہ کی مہلت دی جائے گی 
، تیسری شرط یہ ہے کہ تین دن تک مہلت دی جائے گی ، اس آدمی کو بار بار سمجھایا جائے گا ، اور اسلام کی حقانیت واضح کی جائے ، تین دنوں تک سمجھانے بعد بھی نہیں مانے گا تب جا کر اس کو قتل کیا جائے گا 

تین دنوں تک سمجھانے کی دلیل یہ صحابی کا قول ہے۔
7۔عن علیؓ قال یستتاب المرتد ثلاثا (مصنف ابن ابی شیبۃ ،۳۰ ماقالوا فی المرتد کم یستتاب ، ج سادس، ص ۴۴۴، نمبر ۳۲۷۴۷؍ سنن للبیہقی، باب من قال یحبس ثلاثۃ ایام ، ج ثامن ، ص ۳۵۹، نمبر ۱۶۸۸۷)
ترجمہ ۔ حضرت علیؓ مرتد سے تین دن تک توبہ کرنے کا مطالبہ کرتے تھے 

حضرت عمرؓ تین دن مہلت دینے پر سختی کرتے تھے 
8۔لما قدم علی عمر فتح تستر۔ وتستر من ارض البصرۃ۔ سألھم ھل من مغریۃ ؟قالوا رجل من المسلمین لحق بالمشرکین فاخذناہ،قال ما صنعتم بہ؟ قالوا قتلناہ ،قال : قال افلا ادخلتموہ بیتا واغلقتم علیہ بابا و اطعمتموہ کل یوم رغیفا ثم استبتموہ ثلاثا ۔فان تاب والا قتلتموہ ثم قال اللھم لم اشھد ولم آمر ولم ارض اذا بلغنی (مصنف ابن ابی شیبۃ ،۳۰ ماقالوا فی المرتد کم یستتاب ،ج سادس، ص ۴۴۴، نمبر ۳۲۷۴۴؍ سنن للبیہقی، باب من قال یحبس ثلاثۃ ایام ، ج ثامن ، ص ۳۵۹، نمبر ۱۶۸۸۷) 
ترجمہ ۔ جب حضرت عمرؓ کے پاس تستر کی فتح کی خبر آئی ۔ تستر یہ بصرہ کا علاقہ ہے ۔حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ مغرب کا کوئی آدمی ہے ؟ لوگوں نے کہا مسلمان کا ایک آدمی مشرک ہو گیا تھا ، تو ہم نے اس کو پکڑ لیا ، حضرت عمرؓ نے پوچھا اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ ، لوگوں نے کہا ہم نے اس کو قتل کر دیا ۔تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ، اس کو گھر میں نہیں بند کر دیتے ، اور اس کو ہر روز روٹی کھلاتے ، پھر تین دنوں تک اس سے توبہ کا مطالبہ کرتے ، اگر توبہ کر لیتا توچھوڑ دیتے ، ورنہ اس کو قتل کر دیتے ، پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ گواہ رہنا ، میں نے نہ ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا ، اور جب اس کے قتل کی بات پہنچی تو میں اس سے راضی بھی نہیں ہوں ۔

ان صحابی کے قول میں ہے کہ، تین دن سے پہلے قتل کرنے پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے اللہ نہ میں اس میں حاضر ہوں اور نہ میں نے اس کا حکم دیا اور نہ میں اس سے راضی ہوں۔جس سے معلوم ہوا کہ تین دن تک مہلت دینا ضروری ہے۔تین دنوں کے بعد بھی اپنے قول پر اڑا رہے تب جا کر اس کو قتل کیا جائے گا

ان شرطوں پر اس وقت عمل کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ، دیکھا گیا ہے کہ ایک آدمی کسی پر شرک کا یا گستاخی کا الزام ڈالتا ہے ، اور اس کی سزا کے لئے ایک بھیڑ جمع ہو جاتی ہے اور وہ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اس ملزم کو ہمارے حوالے کرو تاکہ ہم لوگ اس کو سزا دیں اور سڑک پر پیٹ پیٹ کر ماردیں ، اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں ، اس صورت حال سے پورے ملک میں انتشار پیدا ہوتا ہے ، اور میڈیا والے اس کو اچھالتے ہیں کہ دیکھو اسلام کتنا خطرناک مذہب ہے 
اس لئے اس کا خاص خیال رکھیں کہ حد کی سزا دینے کے لئے شرعی قاضی کا ہونا ضروری ہے ، یہ عوام کا کام نہیں ہے ۔ 

آدھے جملے سے مشرک نہ بنائیں 
اس وقت کئی ملکوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی کا آدھا جملہ لے لیا ، یا کسی کی بات کو توڑ مڑوڑ کر پیش کر دیا ، یا اس نے تقریر کے دوران کوئی ایسی بات کہہ دی جو کسی چھوٹے جزیئے کے خلاف تھا ، اس کو لوگوں نے رکارڈ کر لیا ، اب اسی کو لیکر بیٹھا ہے ، اور اس کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ، اب وہ لاکھ مرتبہ اس سے انکار کرتا ہے یا توبہ کرتا ہے تب بھی نہیں مانا جاتا ہے، اور اس کو پھانسی پر لٹکا کر دم لیتے ہیں، ان حرکتوں کو غیر مسلم ملک میڈیا پر بار بار دکھلاتے ہیں اور لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ اسلام نعوذ باللہ ظالم ہے کہ اپنے اختیار سے ایک مذہب اختیار کرتا ہے ، اس کی بھی آزادگی چھین لیتا ہے ، اور اس کو سر عام پھانسی پر لٹکا دیتا ہے ۔ حالانکہ ابھی گزرا کہ حقیقی مرتد ہونے کے باوجود اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا۔

میں نے ایک کتاب دیکھی جسکو ختم نبوت ثابت کرنے کے لئے لکھی تھی ، اورمصنف نے حضور ﷺ کو انسان ، جنات ، اور فرشتوں ، اور ساری دنیا کے لئے آخری نبی ثابت کیا تھا ، لیکن کچھ حضرات کو دیکھا کہ کہیں کہیں سے جملے کاٹے اور یہ ثابت کیا کہ یہ صاحب ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں ، اور اس کی اتنی تشہیر کی کہ بہت سے آدمی یہ سمجھنے لگے کہ واقعی وہ مصنف ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں ، میں نے اصل کتاب کو دیکھا تو حیران ہو گیا ، کہ کس طرح جملوں کو کاٹ کر بدنام کیا گیا ہے ، 
اس لئے اس قسم کے فیصلوں کے لئے ضروری ہے کہ انکار کرنے والوں کو تین دن تک سمجھا جائے ، اور کسی صورت سے بھی مسلمان ثابت ہو تو اس کو قتل نہ کیا جائے ، ورنہ تو بے پناہ انتشار ہوتا ہے ، اور اسلام بدنام ہوتا ہے ۔ 
آج کل میڈیا والے یہ سوال بہت اٹھاتے ہیں کہ آیت میں ۔لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی۔ ( آیت ۲۵۶، سورت البقرۃ ۲)۔ ہے دین اور مذہب کو قبول کروانے میں زبردستی نہیں ہے کہ ، تو مرتد نے اپنی مرضی سے دوسرا دین قبول کیا تو اس کو قتل کیوں کیا جاتا ہے ؟ 
اس کو سمجھائے کہ یہ ان ملکوں میں کیا جائے گا جہاں اسلامی حکومت ہے ، یہ مسئلہ یورپ اور امریکہ کے لئے ہے ہی نہیں ، اس لئے اس بارے میں بحث کرنا بیکار ہے ۔ 

تعزیر کیا ہے 
قرآن میں کئی جرموں کے لئے حد مقرر کی ہے ، غیر مسلم ملکوں میں قاضی نہ ہونے کی وجہ سے وہ حد نہیں لگائی جا سکتی ہے اس لئے حد سے کم یعنی چالیس کوڑے سے کم انتالیس کوڑے تک لگانے کا مطالبہ کرنا تعزیر ہے ، یا مجرم پر کوئی مناسب جرمانہ لازم کرنا تعزیر ہے ، غیر مسلم ملکوں میں اس کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔ 

مرتد کو سزا دینے کی حکمت کیا ہے 
مرتد کی سزا میں اصل حکمت یہ ہے کہ ، اسلامی حکومت میں یہ چھوٹ دی جائے تو دوسروں کو کفر اختیار کرنے کا موقع ملے گا ، اور اس سے اس کی آخرت برباد ہو جائے گی ، کہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جائے گا ، اس لئے اس کی آخرت بچانے کے لئے یہ اقدام کیا جاتا ہے ۔ اس میں خود مرتد کا فائدہ ہے ، جو وہ سمجھ نہیں رہا ہے ۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.