عقیدہ نمبر 34۔۔اہل قبلہ کون لوگ ہیں

ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چئیرمین ہلال کمیتی لندن

قسط نمبر 34

اس عقیدے کے بارے میں 2 آیتیں اور5 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

حضور ؐ کی لائی ہوئی تمام باتوں کو دل سے ماننے کا نام اہل قبلہ ہے 

عقیدۃ الطحاویۃ میں عبارت یہ ہے 
۔ و نسمی اہل قبلتنا مسلمین مومنین ،ما داموا بما جاء بہ النبی ﷺ معترفین، و لہ بکل ما قال و اخبر مصدقین ۔ ( العقیدۃ الطحاویۃ ، عقیدہ نمبر ۵۴، ص ۱۴) 
ترجمہ ۔ جو اہل قبلہ ہیں ہم اس کو مسلمان اور مومن سمجھتے ہیں بشرطیکہ حضور ؐ جو کچھ لے کر آئے ہیں ان کا اعتراف کرنے والا ہو،اور جو کچھ آپ نے کہا ہے اور خبر دی ہے ان کی تصدیق کرنے والا ہو 
اس عبارت میں فرمایا کہ حضور ؐ جو کچھ لائے ہیں ان کا اعتراف کرتا ہو کہ یہ اللہ کی جانب سے ہیں ، اور جو کچھ آپ نے کہا ہے اس کی دل سے تصدیق کرتا ہو تو وہ مومن ہے ، مسلمان ہے ، اور وہی اہل قبلہ ہے 

ان احادیث میں اس کی دلیل ہے 
1۔ عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ من صلی صلاتنا و استقبل قبلتنا و اکل ذبیحتنا فذالک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ و ذمۃ رسولہ فلا تکفروا اللہ فی ذمتہ ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الصلاۃ ، باب فضل استقبال القبلۃ ، ص ۶۹، نمبر ۳۹۱)
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ جس نے ہماری طرح نماز پڑھی ، ہمارے قبلے کا استقبال کیا ، ہمارا ذبح کیا ہوا گوشت کھایا تو یہ مسلمان ہے ، جس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے ، اس لئے اللہ کے ذمے کو مت چھپاؤ۔
2۔عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ ، فاذا قالوہا و صلواصلاتنا و استقبلوا قبلتنا و ذبحوا ذبیحتنا فقد حرمت علینا دماۂم و اموالہم الا بحقہا و حسابہم علی اللہ ۔( بخاری شریف، نمبر ۳۹۲) ۔ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا ، جب تک کہ لا الہ الا اللہ ، نہ کہے اس وقت تک مجھے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، پھر جب، لا الہ الا اللہ ، کہہ لے ، اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگے ، ہمارے قبلے کا استقبال کرنے لگے ، ہمارا ذبح کیا ہوا گوشت کھانے لگے ، تو اس کا خون کرنا ، اس کا مال چھیننا ہم پر حرام ہے ، ہاں جو اللہ کا حق ہے ہم وہ لیں گے ، باقی اس کا حساب اللہ پر ہے 
اور اگلی حدیث میں ہے ۔ فہو مسلم لہ ماللمسلم و علیہ ما علی المسلم ۔( بخاری شریف ، کتاب الصلاۃ ، باب فضل استقبال القبلۃ ، ص ۶۹، نمبر ۳۹۲؍ ۳۹۳)
ترجمہ۔ اگلی حدیث کے ٹکڑے کا ترجمہ ۔ یہ لوگ مسلمان ہیں، مسلمان کا جو حق ہے یہ اس کو بھی ملے گا ،اور مسلمان پر جو ذمہ داریاں ہیں ان پر بھی یہ ذمہ داریاں ہوں گی 
ان تینوں حدیثوں میں یہ ہے کہ اہل قبلہ ہو تو وہ مسلمان ہے اس کو نہ کافر کہو اور نہ کافر جیسا برتاؤ کرو ۔ 
جو لوگ ان چھ چیزوں کو دل سے مانتا ہو اس کو اہل قبلہ کہتے ہیں 

[۱] اللہ کو ۔ [۲] رسول کو [۳] اللہ کی کتاب ، یعنی قرآن کریم کو ۔[۴] فرشتے کو ، [۵] آخرت کے دن کو ۔ [۶] اور تقدیر کو مانتا ہو اس کو مومن کہتے ہیں ، اور وہ اہل قبلہ ہیں ۔
عقیدۃ الطحاویۃ میں ، عبارت یہ ہے 
۔ و الایمان ہو الایمان باللہ ، و ملائکتہ ، و کتبہ ، و رسلہ و الیوم الآخر ، و القدر خیرہ و شرہ و حلوہ و مرہ من اللہ تعالی ۔ ( عقیدۃ الطحاویۃ ، عقیدہ نمبر ۶۶، ص ۱۵)
ان باتوں پر ایمان لانے کی دلیل ایمان کی بحث میں گزر چکی ہے 

اس سے پہلے کی عبارت میں بھی ہے کہ حضور ؐ کی لائی ہوئی باتوں کا اعتراف کرتا ہو ، اور ان کو دل سے مانتا ہو تو وہ مومن ہے مسلمان ہے، اور وہی اہل قبلہ ہے ، صرف ہمارا ذبیحہ کھانے سے اہل قبلہ نہیں ہو جائے گا 

اس کی پوری تفصیل ایمان کی بحث میں دیکھیں 

فاجر کی امامت جائز ہے ، البتہ مکروہ ہے 

کسی کو اپنے اختیار سے امام متعین کرے تو متقی اور پر ہیز گار کو امام متعین کرے ، لیکن کہیں مجبوری کے درجے میں کسی فاسق ، فاجر کے پیچھے نماز پڑھنی پڑے تو اس کے پیچھے نماز پڑھ لے ، تاکہ جماعت سے نماز ادا ہو جائے ، اور آپ کے چھوڑنے کی وجہ سے نتشار بھی نہ ہو 
آج کل ذرا ذرا سی بات پر اختلاف کر لیتے ہیں اور نماز نہیں پڑھتے ہیں ، غیر کے ملکوں میں اتحاد بر قرار رکھنے کے خاطر اس سے بچنے کی ضرورت ہے 

فاجر کی امامت کے بارے میں عقیدۃ الطحاویہ کی عبارت یہ ہے 
۔ و نری الصلوۃ خلف کل بر و فاجر من اہل القبلۃ و علی من مات منہم ۔ ( عقیدۃ الطحاوۃ ، عقیدہ نمبر ۶۹، ص ۱۶) 
ترجمہ ۔ جو اہل قبلہ ہیں ، ان میں سے ہر نیک اور فاجر کے پیچھے نماز پڑھنا جائز سمجھتے ہیں ، اور اہل قبلہ میں سے جو نیک ، یا فاجر مر گیا ہو اس پر نماز جنازہ پڑھنا بھی جائز سمجھتے ہیں 
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ احتیاط تو اسی میں ہے کہ نیک لوگوں کے پیچھے نماز پڑھے ، لیکن کبھی فاجر کے پیچھے نماز پڑھنی پڑے تو پڑھ لے ، کیونکہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے 
اس کے لئے حدیث یہ ہے 
3۔ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ الصلاۃ المکتوبۃ واجبۃ خلف کل مسلم برا کان او فاجرا ، و ان عمل الکبائر۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الصلاۃ ، باب امامۃ البر و الفاجر، ص ۹۷، نمبر ۵۹۴)
حضور ؐ نے فرمایا کہ فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے پڑھنا واجب ہے ، چاہے وہ نیک ہو یا فاجر ہو ، اور چاہے وہ گناہ کبیرہ کرتا ہو 
اس حدیث میں ہے کہ انسان نیک ہو یا فاجر ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو ، کافر اور مشرک نہ ہو 

تاہم نیک امام مل جائے تو ہمیشہ کے لئے اس کو امام بنا نا بہتر ہے
، اس کے لئے یہ حدیث ہے
4۔ عن جابر بن عبد اللہ قال خطبنا رسول اللہ ﷺ …..الا لا تؤمن امراۃ رجلا و لا یؤم اعرابی مہاجرا و لا یوم فاجر مؤمنا الا یقہرہ بسلطان یخاف سیفہ و سوطہ ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، کتاب اقامۃ الصلوۃ ، باب فی فرض الجمعۃ ، ص ۱۵۲، نمبر ۱۰۸۱) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے ہم کوخطبہ دیا ۔۔۔سن لو عورت مرد کی امامت نہ کرے ، دیہاتی ہجرت کئے ہوئے صحابی کی امامت نہ کرے ،فاجر متقی مومن کی امامت نہ کرے ، ہان کوئی بادشاہ اس کو مجبور کر دے ، اور آدمی اس کی تلوار ، اور اس کے کوڑے سے ڈرتا ہو تو [ تو پھر اس فاجر کے پیچھے نماز پڑھ لے ] 
لیکن اگر وہ آدمی اعتقاد کے اعتبار سے ہر طرح سے مشرک ہے تو اب اس کی امامت جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تو مسلمان ہی نہیں رہا 
اس وقت کا عالم یہ ہے کہ بہت سی جگہ ایک مسلک والا دوسرے مسلک والے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہیں جس سے اتنا انتشار ہے کہ قوم کی قوم تباہ ہو رہی ہے 
اللہ ہمیں سمجھ عطا فرمائے 
اسلام میں تشدد بھی نہیں ہے ، اور بہت ڈھیل بھی نہیں ہے

اسلام میں تشدد بھی نہیں ہے ، اور بہت ڈھیل بھی نہیں ہے ،اس کے درمیان ہے 
عقیدۃ الطحاویۃ میں عبارت یہ ہے 
۔و ہو [ یعنی الاسلام ] بین الغلو و التقصیر ، و بین التشبیہ و التعطیل ، و بین الجبر و القدر ، و بین الامن و الیاس ۔ (عقیدۃ الطحاویہ، عقیدہ نمبر ۱۰۴، ص ۲۲)
ترجمہ ۔ [بہت زیادہ غلو کرنا ، اور بہت زیادہ کمی کرنا][، اللہ کو کسی کے مشابہ قرار دینا ، اور اللہ کو بیکار سمجھنا ]، [اللہ کو مجبور سمجھنا ، انسان کو قادر سمجھنا][ ، گناہ سے بے خوف ہو جانا ، اللہ سے بالکل مایوس ہو جانا] ، اسلام اس کے درمیانی راستے کو کہتے ہیں 
اس عبارت میں ہے کہ زیادہ غلو کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے ، اور بہت کمی کرنا بھی ٹھیک نہیں ، اس کے درمیانی راستے کو اسلام کہتے ہیں 
اس کے لئے آیت یہ ہے۔
1۔ یااہل الکتاب لا تغلوا فی دینکم و لا تقولوا علی اللہ الا الحق ۔ ( آیت۱ ۱۷، سورت النساء۴) 
ترجمہ ۔ ا ے اہل کتاب ! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو، اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہو ۔ 
2۔یاایھا الذین آمنوا لا تحرموا طیبات ما احل اللہ لکم و لا تعتدوا ان اللہ یحب المعتدین ۔ ( آیت ۸۷، سورت المائدۃ ۵) 
ترجمہ ۔ اے ایمان والو! اللہ نے تمہارے لئے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں ان کو حرام قرار نہ دو ، اور حد سے تجاوز نہ کرو ، یقین جانو اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے 
ان دونوں آیتوں میں ہے کہ حد سے تجاوز کرنا ٹھیک نہیں ہے، 

5۔عن انس ان نفرا من اصحاب النبی ﷺ سألوا ازواج النبی ﷺ عن عملہ فی السر ؟ فقال بعضہم لا اتزوج النساء و قال بعضہم لا آکل اللحم و قال بعضہم لا انام فی فراش، فحمد اللہ و اثنی علیہ فقال: ما بال اقوام قالوا کذا کذا ؟ لکنی اصلی و انام و اصوم و افطر و اتزوج النساء ، فمن رغب عن سنتی فلیس منی ۔ ( مسلم شریف ، کتاب النکاح ، ص ۵۸۶، نمبر ۱۴۰۱؍ ۳۴۰۳) 
ترجمہ ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ صحابہ نے حضور ؐ کی بیویوں سے حضور ؐ کی خانگی عمل کے بارے میں پوچھا ؟ پھر ان میں سے ایک نے کہا میں عورتوں سے شادی ہی نہیں کروں گا ، دوسرے نے کہا میں گوشت نہیں کھاؤں گا ، ، ایک نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا ، تو حضور ؐ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا ، کہ لوگوں کو کیا ہوا کہ اس اس طرح کہتے ہیں ، لیکن میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، روزہ بھی رکھتا ہوں ، اور کبھی روزہ نہیں بھی رکھتا ہوں ، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، یہ میری سنت ہے ، جو میری سنت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ میں سے نہیں ہے 
اس حدیث میں ہے کہ اتنا تشدد بھی نہ کرے کہ لوگ تنگ آجائے ، اور اتنی سہولت بھی نہ دے کہ لوگ حرام کا ارتکاب کرنے لگے ۔ 

Facebook Comments

POST A COMMENT.