عقیدہ نمبر 35 پیری مریدی

ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چئیرمین ہلال کمیٹی لندن

قسط نمبر 35

اس عقیدے کے بارے میں 3آیتیں اور7 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

پیری مریدی کا فائدہ 
پیر مخلص ہو ، مرید کو نیک انسان بنانے کی تڑپ ہو اور خود بھی نیک انسان ہو تو اس سے مرید کو فائدہ ہوتا ہے ، وہ بھی نیک انسان بن جاتا ہے ، جیسے استاد اچھا ہو ، مخلص ہو اور اچھی طرح پڑھا تا ہو تو اس سے شاگرد بہت اچھا نکلتا ہے ، اسی طرح پیر کا حال ہے ۔ 
لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ مرید میں بھی نیکی حاصل کرنے کی صلاحیت ہو ، اور وہ نیک بننے کے لئے پوری محنت کرتا ہو ، تب وہ نیک بنتا ہے ، ورنہ خالی رہ جاتا ہے 
اسی شاگردی میں آنے کے لئے پیر کے ہاتھ پر عہد کرتے ہیں کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی نصیحت مانوں گا اور شریعت پر پابندی سے عمل کروں گا ، اسی عہد کا نام بیعت ہے ۔

پیر اپنے مرید کو یہ چار فائدے دے سکتے ہیں 
حضور ﷺ کوان چار کاموں کے لئے بھیجا گیا ہے، ایک پیر کا بھی یہی کام ہے کہ اپنے مرید کو یہ چار کام سکھلائے 
[۱] امت کے سامنے قرآن پڑھے ،
[۲] انکو قرآن سکھلائے 
[۳] حکمت سکھلائے 
[۴] ، اور تزکیہ کرے ۔

اس کے لئے آتیں یہ ہیں 
1۔ھو الذی بعث فی الامیئن رسولا من انفسہم یتلوا علیہم آیاتہ و یزکیہم و یعلمھم الکتاب و الحکمۃ و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ( آیت ۲، سورۃ الجمعۃ ۶۲) 
۔ترجمہ ۔ وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو انکے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں ، اور ان کو پاکیزہ بنائیں ، اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں ، جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے 
2۔ربنا و ابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم آیاتک و یعلمہم الکتاب و الحکمۃ و یزکیہم ۔ ( آیت ۱۲۹، سورت البقرۃ ۲)
۔ترجمہ ۔ اور ہمارے پروردگار ! ان میں ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہیں میں سے ہو ، جو انکے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے ، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنائے ۔
اس آیت میں ہے کہ حضور ؐ کو چار کام کے لئے مبعوث کیا گیا ہے ۔ [۱] قرآن کی تلاوت کرنے کے لئے [۲] قرآن سکھلانے کے لئے ، [۳] حکمت سکھلانے کے لئے [۴] اور تزکیہ کرنے کے لئے ، 
پیر صاحب اچھے ہوں تو یہی چار کام وہ سکھلاتے ہیں ، اور مرید کو یہی فائدہ ہوتا 
یہاں تفسیر ابن عباس میں تزکیہ کا معنی کیا ہے، کہ پیر صاحب ، توحید سمجھا کر شرک سے بچانے کی کو شش کریں گے ،اور توبہ کروا کر گناہ سے بچانے کی کوشش کریں گے ۔۔ یزکیھم کا یہی مطلب ہے ۔ 
یہ مطلب نہیں ہے کہ پیر صاحب کوئی خاص قسم کی دل کی صفائی کر دیں گے ، جیسا کہ بعض حضرات سمجھتے ہیں ، اگر ایسا ہوتا تو پیر صاحب پہلے اپنی اولاد کا تزکیہ کر لیتے اور ہر پیر کا بیٹا ولی کامل ہوتا ، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے پیر کی اولاد ناکارہ ، اور نا اہل ہوتی ہے 
تفسیر ابن عباس کی عبارت یہ ہے 
۔ (و یزکیھم )یطہرھم بالتوحید من الشرک ، و یقال بالزکاۃ و التوبۃ من الذنوب ، ای یدعوھم الی ذالک ( تفسیر ابن عباس ، آیت ۲، سورہ الجمعۃ ۶۲) 
ترجمہ ۔ لوگوں کو پاک کرتے ہیں ، یعنی توحید کے ذریعہ شرک سے پاک کرتے ہیں ، بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا کہ ، زکوۃ کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں سے توبہ کرواتے ہیں ، توبہ کرنے کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں 
اس تفسیر میں ہے کہ توحید کے ذریعہ مریدوں کو شرک سے پاک کرنے کی کوشش کریں گے ، اور گناہوں سے توبہ کروانے کی کوشش کریں گے ۔ اس لئے یہ مطلب نہیں ہے کہ دل کی کوئی خاص قسم کی صفائی کریں گے ۔ 
اور یہ شرک سے تزکیہ بھی اس وقت ہوتی ہے جب خود مرید میں صلاحیت ہو اور خود بھی شرک سے بچنے کی محنت کرے ، اگر وہ محنت نہ کرے تو پیر صاحب لاکھ سر مارے کچھ نہیں ہوتا ۔ 
پیر خدا ترس ہو تو اس کا زیادہ اثر پڑتا ہے

1۔ان اسماء بنت یزید انہا سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : الا ینبأکم بخیارکم ؟ قالوا بلی یا رسول اللہ قال خیارکم الذین اذا رؤوا ذکر اللہ عز و جل ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، کتاب الزہد ، باب من لا یؤبہ لہ ، ص ۶۰۱، نمبر ۴۱۱۹)
ترجمہ ۔ میں نے حضور ؐ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ، تم میں سے اچھے کوں ہیں اس کی خبر دوں ؟ لوگوں نے کہا ، ہاں یا رسول اللہ !، آپؐ نے فرمایا ، تم میں سے اچھے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو دیکھو تو خدا یاد آجائے 

اس حدیث میں ہے کہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے ، وہ اچھے لوگ ہیں ، اس لئے پیر ایسا اللہ والا ہو جس کو دیکھ کر خدا یاد آئے ۔ اور اگر پیر کی شان و شوکت دیکھ کر دنیا یاد آنے لگتی ہے تو ، یا اس کی مکاری کو دیکھ کر آپ کا جی گھبراتا ہے تو اس پیر کے پاس بیٹھ کر آپ کو کیا ملے گا 

اس حدیث میں ہے کہ نیک لوگ ہو تو اس کے پاس بیٹھنے اس کا اثر پڑتا ہے کہ آخرت میں جی لگنے لگتا ہے ، اور بد کار آدمی ہو یا مکار پیر ہو تو اس کے پاس بیٹھنے سے اس کا بھی اثر پڑتا ہے کہ دنیا داری میں جی گنے لگتا ہے 
حدیث یہ ہے
2۔ سمعت ابا بردہ بن ابی موسی عن ابیہ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ مثل الجلیس الصالح و الجلیس السوء کمثل صاحب المسک و کیر الحداد ، لا یعدمک من صاحب المسک اما تشتریہ او تجد ریحہ ، و کیر الحداد یحرق بیتک ، او ثوبک ، او تجد منہ ریحا خبیثۃ ۔ ( بخاری شریف ، کتاب البیوع ، باب فی العطار و بیع المسک ، ص ۳۳۸، نمبر ۲۱۰۱؍ مسلم شریف ، کتاب البر و الصلۃ ، باب استحباب مجالسۃ الصالحین و مجانبۃ قرناء السوء ، ص ۱۱۴۶، نمبر ۲۶۲۸نمبر ۶۶۹۲) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ نیک بیٹھنے والے اور برے بیٹھنے والے کی مثال ایسی ہے ، جیسے مشک والا ، اور لوہار کی بھٹی، مشک والے سے آپ کو کچھ نہ کچھ ملے گا ہی ، ، یا اس سے مشک خریدیں گے ، یا اس کی خوشبو تو ضرور ملے گی ، اور لوہار کی بھٹی یا آپ کا گھر جلائے گی ، یا آپ کا کپڑا جلائے گی ، یا اس کی بدبو ضرور ملے گی 
اس حدیث میں ہے کہ نیک لوگوں کا اور برے لوگوں کا اثر پڑتا ہے 
ان احادیث سے پتہ چلا کہ پیر صاحب اچھے ہوں اور مخلص ہوں ، اور ان سے فائدہ حاصل کرنے والا بھی مخلص ہو اور لگن کے ساتھ حاصل کرے تو اس سے اوپر کے چار فائدے ، اور چار فیض حاصل ہوتے ہیں

دنیا طلب کرنے کے لئے پیر بنانا ، یا مرید بنانا اچھی بات نہیں ہے 

اس کے لئے یہ حدیث ہے 
3۔سمعت ابا ہریرۃؓ یقول قال رسول اللہ ﷺ ثلاثۃ لا ینظر اللہ الیہم یوم القیامۃ و لا یزکیہم و لہم عذاب الیم …..و رجل بایع امامہ لا یبایعہ الا لدنیا فان اعطاہ منہا رضی و ان لم یعطہ منہا سخط ….ثم قرأ (ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیل)ا [ آیت ۷۷، سورت آل عمران ۳) ۔( بخاری شریف ، کتاب المساقاۃ باب اثم من منع ابن السبیل من الماء ، ص ۳۷۹، نمبر ۲۳۵۸) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن تین آدمیوں کی طرف اللہ نہیں دیکھیں گے ، اور نہ اس کو پاک کریں گے ، اور اس کے لئے دردناک عذاب ہو گا ۔۔۔ایک آدمی جس نے اپنے امام سے بیعت کی ، اور صرف دنیا کمانے کے لئے بیعت کی ، اگر امام نے دیا تو اس سے راضی ہو گیا ، اور اگر نہیں دیا تو اس سے ناراض ہو گیا ۔۔۔پر حضور ؐ نے یہ آیت پڑھی ، جس کا ترجمہ یہ ہے ۔ جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑا سا مال خرید تے ہیں ۔ الخ ۔ 
اس حدیث میں ہے کہ دنیا کے لئے جو بیعت کرتا ہے اللہ قیامت کے روز اس کی طرف ، رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے ، اور نہ اس کو پاک کریں گے ، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا ۔ 
اس دور میں کچھ لوگوں نے مرید کرنا بھی ایک دھندھا بنا لیا ہے ، مالدار مریدوں سے خلافت اور مریدی کے نام پر بہت لوٹتے ایسے پیروں سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ، یہ دین کے لئے اور تربیت دینے کے لئے مرید نہیں بناتے بلکہ پیسہ کمانے کے لئے پیری مریدی کی جال بچھا تے ہیں ۔ ایسے پیروں سے بچنا چاہئے ۔ 

اس دنیا میں اچھے پیر بھی ہیں جو لوگوں کی تربیت کرتے ہیں ، میرے ایک استاذ تھے جو پیر تھے ، وہ ہم لوگوں کو الٹا پیسہ دیا کرتے تھے ، اور بہت مخلص تھے ، ایک عظیم مفتی ہونے کے باوجود پوری زندگی فقر و فاقہ میں گزار دی ۔میں آج تک ان سے متأثر ہوں ۔
میری زندگی میں دو تین پیر ایسے ہی آئے جنہوں نے پوری زندگی فقر و فاقہ میں گزاری ، اور مریدوں کی تربیت میں کوشاں رہے ، فلللہ الحمد 
میں کسی سے نفرت کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کو خرافات سے بچانے کے لئے یہ سب لکھ رہا ہوں ، آپ میرے تجربے سے فائدہ اٹھائیں ۔ 

بیعت کی چار قسمیں ہوتی ہیں 

[۱] ایمان پر بر قرار رہنے کے لئے بیعت کرنا 
[۲] جہاد کے لئے بیعت کرنا 
[۳] خلافت کے لئے بیعت کرنا ۔ 
[۴] اعمال صالحہ کرنے کے لئے ، اوراس میں ترقی کرنے کے لئے بیعت کرنا 

[۱] ایمان پر بر قرار رہنے کے لئے اور اعمال صالحہ کے لئے بیعت کرنا 
3۔اس کے لئے یہ آیت ہے ۔یا ایہا النبی اذا جآئک المومنات یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن و لا یزنین و لا یقتلن اولادہن و لا یاتین ببہتان یفترینہ بین ایدہن و ارجلہن و لا یعصینک فی معروف فبایعہن و استغفرلہن اللہ ان اللہ غفور رحیم ۔ ( آیت ۱۲، سورت الممتحنۃ ۶۰) 
ترجمہ ۔ اے نبی جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں مانیں گی ، اور چوری نہیں کریں گی ، اور زنا نہیں کریں گی ، اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی ، اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو ، اور نہ کسی بھلے کام میں تمہاری نا فرمانی کریں گی ، تو تم انکو بیعت کر لیا کرو ، اور ان کے حق میں اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کرو ، یقیناً اللہ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے 
اس آیت میں حضور ؐ سے نیک اعمال کرنے پر بیعت لینے کے لئے کہا گیا 
[۲] جہاد کرنے کے لئے بیعت کرنا ، اس کے لئے یہ آیتیں ہیں 
4۔ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ و من اوفی بما عاہد علیہ اللہ فسیؤتیہ اجرا عظیما ۔ ( آیت ۱۰، سورت الفتح ۴۸) 
ترجمہ ۔ اے رسول جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ حقیقت میں اللہ سے بیعت کر رہے ہیں ، اللہ کا ہاتھ انکے ہاتھوں پر ہے ، اس کے بعد جو کوئی عہد توڑے گا ، اس کا وبال اسی پر پڑے گا ، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے ، تو اللہ زبردست ثواب عطا کرنے والا ہے 
5۔لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ فعلم ما فی قلوبہم فانزل السکینۃ علیہم و اثابہم فتحا قریبا۔ ( آیت ۱۸، سورت الفتح ۴۸) 
ترجمہ ۔ یقیناًاللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے ، اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا ، اس لئے ان پر سکینت اتار دی ، اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی ۔ 
ان دونوں آیتوں میں جہاد پر بیعت کرنے کا ذکر ہے ۔ 

[۳] خلافت کے لئے بیعت کے لئے صحابی کا یہ عمل ہے 

4۔فحمد اللہ ابو بکر و اثنی علیہ ……فقال عمر بل نبیعک انت سیدنا و خیرنا و احبنا الی رسول اللہ ﷺ، فاخذ عمر بیدہ فبایعہ و بایعہ الناس ۔ ( بخاری شریف ، کتاب فضائل الصحابۃ باب، ص ۶۱۶، نمبر ۳۶۶۸) 
ترجمہ ۔ حضرت ابو بکرؓ نے اللہ کی حمد و ثنا کی ۔۔۔حضرت عمر ؓ نے کہا کہ آپ ہمارے سردار ہیں ، ہم میں سے اچھے ہیں ، حضور ؐ کو آپ بہت محبوب تھے ، یہ کہہ کر حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ کا ہاتھ پکڑا ، اور ان سے بیعت کر لی ، پھر لوگوں نے بھی حضرت ابو بکرؓ سے بیعت کی 
اس حدیث میں خلافت پر بیعت کرنے کا ثبوت ہے ۔ 

[۴] اعمال صالحہ کرنے کے لئے ، اوراس میں ترقی کرنے کے لئے بیعت کرنا 

5۔سمعت جریر بن عبد اللہؓ یقول بایعت رسول اللہ ﷺ علی شہادۃ ان لا الہ الا اللہ ، و ان محمد رسول اللہ و اقامۃ الصلاۃ و ایتاء الزکوۃ و السمع و الطاعۃ و النصح لکل مسلم ۔ ( بخاری شریف کتاب البیوع ، باب ھل یبیع حاضر لباد بغیر اجر ، ص ۳۴۵، نمبرر ۲۱۵۷)
ترجمہ ۔ حضرت جریر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور ان باتوں پر بیعت کی ، شہادۃ ان لا الہ الا اللہ ، و ان محمد رسول اللہ ، اور نماز قائم کروں ، زکوۃ دوں ، حضور کی بات سنوں ، ان کی اطاعت کروں ، اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کروں 
اس حدیث میں ہے کہ اعمال صالحہ کرنے کے لئے حضور ؐ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی 

حضور ؐ عورتوں سے بیعت کرتے تھے لیکن انکے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے ،

حضور ؐ عورتوں سے بیعت کرتے تھے انکے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے ، پردے میں رہ کر بیعت کرتے تھے
، اس کے لئے یہ حدیث ہے 
6۔عن عائشۃ زوج النبی ﷺ….. قالت عائشۃ فمن اقر بہذ الشرط من المومنات فقد اقر بالمحنۃ، فکان رسول اللہ ﷺ اذا اقررن بذالک من قولہن قال لہن رسول اللہ ﷺ انطلقن فقد بایعتکن ، لا و اللہ ما مست ید رسول اللہ ﷺ ید امراۃ قط غیر انہ بایعھن بالکلام ، و اللہ ما اخذ رسول اللہ علی النساء الا بما امرہ اللہ ،یقول لہن اذا أخذ علیہن قد بایعتکن کلاما ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الطلاق ، باب اذا اسلمت المشرکۃ او النصرانیۃ تحت الذمی او الحربی ، ص ۹۴۵، نمبر ۵۲۸۸)
ترجمہ :حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ، مومن عورتوں میں سے جو آیت کی شرطوں کا اقرار کر لیتی تو گویا کہ اس نے امتحان دینے کی باتوں کا اقرار کر لیا ، عورتیں جب باتوں سے ان چیزوں کا اقرار کر لیتیں، تو حضور ؐ کہتے ، تم لوگ چلے جاؤ ، میں نے تم سے بیعت کر لی ہے ، ، خدا کی قسم حضور ؐ کے ہاتھ نے کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھویا ، صرف بات سے ہی بیعت کر لیا کرتے تھے ، اللہ نے جتنا حکم دیا تھا ، حضور ؐ عورتوں کے ساتھ اتنا ہی معاملہ کرتے ، حضور جب عورتوں سے بیعت لیتے تو یہی کہتے ، میں نے بات [ کلام ] سے ہی تم سے بیت کر لی ہے 
اس حدیث میں ہے کہ عورتوں سے صرف کلام سے بیعت کی اس کا ہاتھ نہیں چھویا ۔ 
آج کل دیکھا جا رہا ہے کہ مریدہ عورت پیر کے سامنے بے محابہ بیٹھی ہوئی ہے ، اور بے پردگی کے وہ سارے کھیل کرتے ہیں جو نہیں ہونی چاہئے، اس سے ہر حال میں بچنا چاہئے
پیر صاحب آپ کوکوئی معنوی فیض دے دیں گے ایسا نہیں ہے 

بعض پیر حضرات یہ تأثر دیتے رہتے ہیں کہ میری خدمت کروگے تومیں تمہیں کوئی معنوی فیض دے دوں گا اور مرید اس کے حاصل کرنے کے لئے برسوں خدمت میں لگا رہتا ہے اور وہ اس حدیث سے استدلا ل کرتے ہیں ، لیکن یاد رہے کہ یہ معنوی چیز دینے کا واقعہ حدیث میں صرف ایک مرتبہ ہے جو معجزہ کے طور پر تھا ، اس کے بعد پھر صادر نہیں ہوا ۔۔۔ورنہ ہر پیر اپنی اولاد کو یہ فیض پہلے دے دیتا ۔
7۔حدیث یہ ہے ۔ عن ابی ہریرۃؓ …. و قال النبی ﷺ یوما لن یبسط احد منکم ثوبہ حتی اقضی مقالتی ھذہ ثم یجمعہ الی صدرہ فینسی من مقالتی شیئا ابدا ، فبسطت نمرۃ لیس علی ثوب غیرہا ، حتی قضی النبی ﷺ مقالتہ ثم جمعتہا الی صدری فوالذی بعثہ بالحق ما نسیت من مقالتہ تلک الی یومی ھذا ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الحرث و المزارعۃ ، باب ما جاء فی الغرس، ص۳۷۷، نمبر ۲۳۵۰) 
ترجمہ۔ حضور پاک ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ ،،کوئی اپنا کپڑا پھیلائے تاکہ اس میں اپنی کوئی بات کہہ دوں اور اس کو اپنے سے لگا لے تو کبھی وہ میری بات نہیں بھولے گا ، پس میں نے اپنی ایک چادر پھیلا دی ، میرے پاس اس کے علاوہ تھی بھی نہیں ، حضور ﷺ نے اپنی بات اس میں کہی ، پھر اس چادر کو اپنے سینے پر چپکا لیا ، پس قسم اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا ، آپ کی کوئی بات ابھی تک نہیں بھولی ۔ 
یہ حدیث معجزہ کے طور پر ہے ، ہمیشہ یہ بات نہیں تھی ، ورنہ بار بار حضور ؐ یہ فیض دیتے 

Facebook Comments

POST A COMMENT.