عقیدہ نمبر 37 قبروں کی زیارت

ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چئیرمین ہلال کمیٹی لندن

قسط نمبر 37

اس عقیدے کے بارے میں 22 آیتیں اور 44 حدیثیں ہیں ، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں۔

پچھلی قومیں ان 4 باتوں سے شرک میں مبتلاء ہوئیں ، اور اللہ نے ان کو ہلاک کیا 
[۱] اللہ کے علاوہ دوسروں کو معبود مانا 
[۲] اللہ کے علاوہ دوسروں کے سامنے سجدہ کیا 
[۳] اللہ کے علاوہ دوسروں سے مدد مانگی 
[۴] اللہ کے علاوہ دوسروں کو حاجت روا ، یعنی حاجت پوری کرنے والا سمجھا 

ان چاروں باتوں کا رواج اس طرح پڑا کہ اپنے مرے ہوئے بزرگوں کی پہلے تعظیم کی ، پھر رفتہ رفتہ سجدہ کرنے لگے اور اسی میں مشغول ہو گئے 
اپنے بزرگوں کے بارے میں سمجھا کہ یہ میری بات سنتے ہیں اور میری مدد کر سکتے ہیں ۔
اس لئے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے ان کی مورتی بنائی ، پھر ان سے مدد مانگنے کے لئے ان کے سامنے جھکے ، پھر سجدہ کیا ، اور رفتہ رفتہ ان کو بھی خدا مان لیا ، اور یہی شرک ہے جسکو خدا کبھی معاف نہیں کرے گا 
اس لئے ہمیں بزرگوں کی ایسی تعظیم نہیں کرنی ہے جس سے رفتہ رفتہ شرک شروع ہو جائے 
ہندؤوں کے رواجوں پر غور کریں

ہندؤوں کے سارے رواجوں پر غور کریں 
، ان کے بت بنانے پر غور کریں 
ان سے مدد مانگنے پر غور کریں ، 
اور ان کے سامنے پوجا کرنے پر غور کریں تو یہی باتیں کھل کر سامنے آئے گی
کہ انہوں نے اپنے بزرگوں کی حد سے زیادہ تعظیم کی ، پھر رفتہ رفتہ وہ شرک میں مبتلاء ہو گئے 

ہندو بھی ایک خدا کو مانتے ہیں ، جس کو وہ ،ایشور ، کہتے ہیں اور ان میں سے بعض پنڈت صرف اسی کو مانتے ہیں ، لیکن ان میں سے اکثر لوگ ایشور کو مانتے ہوئے بھی مورتی کی پوجا کرتے ہیں 
یہ جتنی مورتیاں بناتے ہیں وہ انکے بزرگوں کی شبیہ ہیں 
وہ جانتے ہیں کہ یہ مٹی کی بنی ہوئی مورتی ہے ، لیکن ان کااعتقاد یہ ہے کہ ان کے بزرگوں کی روحیں ، یا ان کی دیوی دیوتاؤوں کی روحیں ان مورتیوں میں آتی ہیں 
وہ ان کی بات سنتی ہیں ، اور ان کی مدد بھی کرتی ہیں، ان کو مدد کرنے کا اختیار ہے 
اسی لئے وہ لوگ ان مورتیوں کی پوجا کرتے ہیں ، اور جی بھرکے ان سے مانگتے ہیں ، جس کو شریعت شرک کہتی ہے 

حضور ؐ نے قبروں کی حد سے زیادہ تعظیم کرنے سے منع فرمایا 

چونکہ اللہ کو اس بات کا پتہ تھا کہ مسلمان بھی اپنے بزرگوں سے حاجت مانگیں گے ، یا ان کی مورتی بنائیں گے ، اور ان کے سامنے سجدہ کریں گے ، اس لئے حضور ؐ نے کبھی کبھی قبر پر جانے کی اجازت تو دی ، لیکن بار بار یہ تنبیہ کی کہ اس کے سامنے سجدہ نہ کرنا ، اس سے ضرورتیں نہ مانگنا ، اس کو عید گاہ نہ بنانا ، اس پر عمارت نہ بنانا ، بلکہ صرف ان کو سلام کرکے ، اور ان کے لئے دعائیں کر کے واپس آجانا ۔
آپ ان ساری تفصیلات کے لئے صحیح احادیث ملاحظہ فرمائیں 

قبر کس کو کہتے ہیں 

میت کے دفن ہونے کے بعد قیامت قائم ہونے تک کا جو وقت ہے اس کو قبر کہتے ہیں ، میت کا جسم زمین میں ہو ،یا جلا دیا گیا ہو ، یا اس کو کسی جانور نے کھا لیا ہو ان سبھوں کو اس میت کا قبر کہا جاتا ہے 
اسی وقت کو برزخ بھی کہتے ہیں 
اس آیت میں اس کی وضاحت ہے 
1۔حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب أرجعون لعلی أعمل صالحا فیما ترکت کلا انہا کلمۃ ھو قائلھا و من وراءھم برزخ الی یوم یبعثون ۔ ( آیت ۱۰۰ سورت المؤمنون ۲۳) 
ترجمہ ۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ، میرے رب مجھے واپس بھیج دیجئے ، تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں جا کر نیک عمل کروں ، ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہی بات ہے جو وہ زبان سے کہہ رہا ہے ، اور ان مرنے والوں کے سامنے برزخ کی آڑ ہے جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک انکو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے ۔ 
اس آیت میں ہے کہ موت کے بعد سے لیکر قبر سے اٹھائے جانے تک کو برزخ کہتے ہیں ، اس کے حالات دنیا کے حالات سے مختلف ہیں ۔ 

قبر پر اس لئے جانے کی اجازت ہے 
کہ وہاں آخرت یاد آنے لگے 
اگر قبر پر جانے سے آخرت یاد آنے لگے اور موت یاد آنے لگے تب توسمجھو کہ یہاں آنے کا فائدہ ہوا ، اور اگر یہاں آنے کا مقصد تفریح کرنا ہے ، یا کھیل تماشہ کرنا ہے ، یا پیسہ بٹورنا ہے تو پھر یہ قبر کا فائدہ نہیں ہوا ، اور ایسی صورت میں قبر پر جانا اچھا نہیں ہے 
اس کے لئے احادیث یہ ہیں 
1۔عن ابن مسعودان رسول اللہ ﷺ قال کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور فزوروھا فانھاتزھد فی الدنیا و تذکر الآخرۃ ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء فی زیارۃ القبور، ص ۲۲۳، نمبر ۱۵۷۱ )
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو قبر کی زیارت سے روکا کرتا تھا ، اب اس کی زیارت کیا کرو ، کیونکہ اس سے دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوتی ہے ، اور آخرت یاد آتی ہے 

2۔عن ابی ہریرۃ قال زار النبی ﷺ قبر امہ فبکی و ابکی من حولہ فقال استأذنت ربی فی ان أستغفر لہا فلم یأذن لی و استأذنت ربی ان ازور قبرہا فأذن لی ، فزوروا القبور ، فانہا تذکرکم الموت ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء فی زیارۃ قبور المشرکین، ص ۲۲۴، نمبر۱۵۷۲ ) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی تو وہ روئے ، اور جو قریب میں تھے انکو بھی رولایا ، پھر فرمایا 
میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت کی اجازت مانگی تو مجھ کو اجازت نہیں ملی ، ، اور اپنے رب سے انکی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی ، قبر کی زیارت کیا کرو ، اس لئے کہ اس سے موت یاد آتی ہے 
ان احادیث میں تین باتیں ہیں
[۱] قبر پر خود بخود رونا آجائے تو جائز ہے ، واویلا کرنا جائز نہیں
[۲] دوسری بات یہ ہے کہ کبھی کبھی قبر کی زیارت کرنی چاہئے ، کیونکہ حضور ؐ زندگی میں ایک بار ماں کی قبر کی زیارت کی ہے ، رات دن اس پر جم گھٹا نہیں لگانا چاہئے 
[۳] اور تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اس لئے قبر کی زیارت کرے کہ اس سے موت یاد آئے ، کھیل کود کے لئے ، یا تماشہ کے لئے قبر کی زیارت نہ کرے 

اس دور میں بہت سے لوگ تفریح کے لئے اور موج و مستی کے لئے مزار پر جاتے ہیں ، جو جائز نہیں ہے 

سات 7شرطوں کے ساتھ قبر پر جانے کی اجازت ہے 

ان سات 7 شرطوں کے ساتھ قبر پر جائیں ، اس کے بغیر نہ جائیں

[۱] اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرے 
پہلی شرط یہ ہے کہ ،اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت بھی نہ کرے
اس کی دلیل یہ آیتیں ہیں ۔
2۔قل انی نہیتُ ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ ۔( آیت ۵۶، سورۃالانعام ۶)
ترجمہ ۔ مجھکو اس بات سے روکا گیا ہے کہ اللہ کے علاوہ جس کو تم لوگ پکارتے ہو اس کی عبادت کروں 
3۔ان الحکم الا للہ أمر ان لا تعبدوا الا ایاہ ۔ ( آیت۴۰، سورۃ یوسف ۱۲)
ترجمہ ۔ صرف اللہ ہی کا حکم چلے گا ، اور اس نے یہ حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کریں ۔ 
4۔ان لا تعبدوا الا اللہ ۔ ( آیت۱۴، سورۃفصلت۴۱)
ترجمہ ۔ صرف اللہ ہی کی عبادت کرو 
5۔قل أتعبدون من دون اللہ ما لا یملک لکم ضراولا نفعا۔ ( آیت۷۶، سورۃ المائدۃ۵)
ترجمہ ۔ آپ یہ اعلان کر دیجئے کہ اللہ کے علاوہ جو نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہے ، اس کی عبادت کروں ۔ یعنی اللہ کے علاوہ کی ہر گز عبادت نہ کروں ۔ 
6۔ و ما امرو الالیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء۔ ( آیت۵، سورۃ البینۃ ۹۸)
ترجمہ ۔ صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ یکسو ہو کر خالص صرف اللہ ہی کی عبادت کریں ۔
7۔ و ما امرو الالیعبدوا الاھاواحدا ، لا الہ اللہ ھو ۔ ( آیت۳۱، سورۃ التوبۃ ۹)
ترجمہ ۔ اور اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ صرف ایک خدا کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے 
ان چھ 6 آیتوں میں ایک ہی حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک خدا کی عبادت کرو ، اس لئے کسی اورکی عبادت کرنا ہرگز جائز نہیں 

[۲] قبر والوں سے نہ مانگے
دوسری شرط یہ ہے کہ ،قبر والوں سے نہ مانگے 
، اس کے لئے آیتیں یہ ہیں 
8۔ایاک نعبد و ایاک نستعین۔ ( آیت ۴، سورہ فاتحۃ ۱) اس آیت میں حصر کے ساتھ بتایا کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور صرف اللہ ہی سے مدد مانگتے ہیں ، دن رات میں فرض نماز سترہ رکعتیں ہیں ، اور کم سے کم سترہ مرتبہ ایک مومن سے کہلوایا جاتا ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور صرف اللہ ہی سے مانگتے ہیں ، اس لئے کسی اور کی عبادت بھی جائز نہیں اور کسی اور سے مدد مانگنا بھی جائز نہیں ہے ۔ 
9۔والذین تدعون من دونہ لا یستطیعون نصرکم ، و لا انفسھم ینصرون ۔ ( آیت۱۹۷، سورۃ الاعراف۷)
ترجمہ ۔ اللہ کو چھوڑ کر جسکو تم پکارتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتا ، بلکہ وہ خود اپنی مدد بھی نہیں کر سکتا
10۔أغیر اللہ تدعون ان کنتم صادقین ، بل ایاہ تدعون ۔ ( آیت ۴۰۔۴۱، سورۃ الانعام ۶) .ترجمہ ۔ تو کیا اللہ کے علاوہ کسی اور کو پکارو گے اگر تم سچے ہو ، بلکہ اسی کو پکارو گے ۔
11۔ان المساجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا ۔ ( آیت ۱۸، سورۃ الجن ۷۲)
ترجمہ ۔ اور سجدے تو تمام تر اللہ ہی کا حق ہے ، اس لئے اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت مت کرو 
12۔ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکم ۔( آیت۱۹۴، سورۃ الاعراف۷)
ترجمہ ۔ اللہ کے علاوہ جس کو پکارتے ہو وہ سب تمہاری طرح اللہ کے بندے ہیں 
13۔و الذین تدعون من دونہ ما یملکون من قطمیر۔ ( آیت۱۳، سورۃفاطر۳۵)
ترجمہ ۔ اللہ کے علاوہ جس کو بھی پکارتے ہو وہ گٹھلی کے چھلکے کا بھی مالک نہیں ہے [ تو تمہاری مدد کیا کریں گے ]
14۔قل انما أدعوا ربی و لا اشرک بہ احدا ۔ ( آیت ۲۰، سورۃ الجن ۷۲)
ترجمہ ۔ آپ فرما دیجئے کہ میں صرف اللہ ہی کو پکارتا ہوں ، اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کرتا 

ان 7 سات آیتوں میں ہے کہ صرف اللہ کو پکارے ، اس لئے کسی اور کو پکارنا ، اور اس سے مدد مانگنا ہرگزجائز نہیں ہے ، اس لئے قبر پر جائے تو اللہ کے علاوہ کسی اور سے مدد نہ مانگے ، اور قبر والے چاہے ولی ہوں یا نبی ہوں ان سے بھی مددنہ مانگے 
اس وقت بہت سارے لوگ مزار اور قبرستان اس لئے جاتے ہیں کہ صاحب قبر سے حاجت مانگی جائے ، یہ جائز نہیں ہے ، دینے والی ذات صرف اللہ ہے ۔ 
اس کی پوری تفصیل اللہ کے علاوہ سے مانگنا ، کے عنوان کے تحت دیکھیں 

[۳] قبر پر سجدہ نہ کرے 
تیسری شرط ہے کہ قبر پر سجدہ نہ کرے اس کے لئے یہ آیت ہے 
15۔لا تسجدوا للشمس و لا للقمر و اسجدوا اللہ الذی خلقہن ۔ ( آیت۱۳۷، سورۃ فصلت۴۱)
ترجمہ ۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو ، جس نے تم کو پیدا کیا ہے صرف اسی کو سجدہ کرو 
16۔فأسجدوا للہ واعبدوا۔ ( آیت۶۲، سورۃ النجم ۵۳)
اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو ۔

3۔عن عائشۃؓ قالت قال رسول اللہ ﷺ فی مرضہ الذی لم یقم منہ ، لعن اللہ الیہود و النصاری اتخذوا قبور انبیاءھم مساجد۔ ( بخاری شریف ، باب ما جاء فی قبر النبی ﷺ و ابی بکر و عمرؓ ، ص ۲۲۳، نمبر ۱۳۹۰) 
ترجمہ ۔ جس بیماری سے حضور ؐ کا وصال ہوا اس بیماری میں حضور ؐ نے فرمایا ، اللہ یہود اور نصاری پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا 
اس حدیث میں ہے کہ قبر کوسجدے کی جگہ بنانا جائز نہیں ہے ۔ 

4۔ سمت ابا مرسد الغنوی یقول قال رسول اللہ ﷺ لا تجلسوا علی القبور و لا تصلوا الیھا ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الجنائز ، باب فی کراہیۃ القعود علی القبر ، ص ۴۷۱ نمبر ۳۲۲۹) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ قبر پربیٹھا نہ کرو ، اور اس کی طرف رخ کرکے نماز بھی نہ پڑھا کرو 
، اور یہ اس لئے فرمایا کہ آدمی کہیں قبر والے کو خدا نہ سمجھ بیٹھے ، اس لئے قبر کی طرف رخ کرکے بھی نماز پڑھنے سے منع فرمایا ،جب قبر کی طرف رخ کر کے نماز بھی نہ پڑھو تو قبر کو سجدہ کرنا کیسے جائز ہو جائے گا

۔عن قیس بن سعد قال أتیت الحیرۃ فرأیتھم یسجدون لمرزبان لھم فقلت رسول اللہ ﷺ احق ان یسجد لہ قال فأتیت النبی ﷺ فقلت انی اتیت الحیرۃ فرأیتھم یسجدون لمرزبان لھم فانت یا رسول اللہ ! احق ان نسجد لک ،قال: أرأیت لو مررت بقبری أکنت تسجد لہ ؟ قال قلت لا ، قال :فلا تفعلوا ،لو کنت آمرا احدا ان یسجد لاحد لامرت النساء ان یسجد ن لازواجھن لما جعل اللہ لھم علیھن من الحق ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب النکاح ، باب فی حق الزوج علی المرأۃ ، ص ۳۰۹، نمبر ۲۱۴۰؍ ابن ماجۃ شریف ، کتاب النکاح ، باب حق الزوج علی المرأۃ ، ص ۲۶۵، نمبر ۱۸۵۳) 
ترجمہ ۔ قیس بن سعد فرماتے ہیں کہ میں حیرہ مقام پر آیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں ، تو میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تو زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ، میں حضور ؐ کے پاس آیا اور کہا کہ میں حیرہ گیا تھا ، وہاں دیکھا کہ وہ اپنے سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں ، اس لئے آپ یا رسول اللہ زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، حضور ؐ نے فرمایا کہ اگر تم میری قبر پر گزروتو کیا اس کو سجدہ کرو گے ، قیس نے جواب دیا نہیں !، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ ، زندگی میں بھی مجھے سجدہ مت کرو ، ، اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا ، تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کیا کریں ، اس لئے کہ اللہ نے شوہروں کو بیویوں پر بہت حقوق دئے ہیں 
اس حدیث میں ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ تعظیمی کرنا بھی حرام ہے 
اس وقت کا عالم یہ ہے کہ بہت سے مجاور آنے والے لوگوں کو قبر کے سامنے سجدہ کرواتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح یہ صاحب قبر کا گرویدہ ہو جائے اور مجھے اس کا نذر و نیاز ملتا رہے ۔ 
[۴] پردے کے ساتھ جائے ، بے پردگی کے ساتھ ہر گز نہ جائے 
چوتھی شرط یہ ہے کہ پردے کے ساتھ جائے ، بے پردگی کے ساتھ ہر گز نہ جائے 
اس کے لئے حدیث اور آیتیں یہ ہیں 
5۔عن عائشۃ قالت ، کنت ادخل بیتی الذی دفن فیہ رسول اللہ ﷺ و ابی ، فاضع ثوبی فاقول : انما زوجی و ابی ، فلما دفن عمر معہم فواللہ ما دخلت الا انا مشدودۃ علی ثیابی حیاء من عمر ۔ ( مسند احمد ، باب حدیث السیدۃ عائشۃ ، ج ۷، ص ۲۸۸، نمبر ۲۵۱۳۲) 
ترجمہ ۔حضرت عائشہؓ فر ماتی ہیں کہ میرے جس گھر میں حضور ؐ دفن کئے گئے ہیں میں بغیر پردے کے بھی اس میں داخل ہوجایا کرتی تھی ، اور یوں سوچتی تھی کہ یہاں میرے شوہر ہیں اور میرے والدہیں ، پھر جب حضرت عمرؓ ا ن کے ساتھ دفن ہوئے ، حضرت عمر ؓ سے شرم کی وجہ سے میں جب بھی داخل ہوئی تو پورا کپڑا باندھ کر داخل ہوئی ۔
اس حدیث میں ہے کہ قبر پر پردہ کے ساتھ جانا چاہئے ۔

17۔ و قل للمومنات یغضضن من ابصارھن و یحفظن فروجھن و لا یبدین زینتہن الا ما ظہر منہا، لیضربن بخمرھن علی جیوبھن و لا یبدین زینتھن الا لبعولتھن او ابآءھن ۔ ( آیت۳۱، سورۃ النور ۲۴) 
ترجمہ ۔ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگائیں نیچی رکھیں ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، اور اپنی سجاوٹ کو کسی پر ظاہر نہ کریں ، سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہو جائے ، اور اپنی اوڑھنیوں کے انچل اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں ، اور اپنی سجاوٹ اور کسی پر ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ کے ۔ الخ ۔ 
اس آیت میں ہے کہ اپنی زینت کسی پر ظاہر نہ کریں 
18۔و قرن فی بیوتکن و لا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی ۔ ( آیت۳۳، سورۃ الاحزاب ۳۳)۔ترجمہ ۔ اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو ، اور غیر مردوں کو بناؤسنگھار دکھاتی نہ پھرو جیسا کہ پہلی جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا ۔ 
6۔عن عبد اللہ عن النبی ﷺ قال المرأۃ عورۃ فاذا خرجت استشرفھا الشیطان ۔ ( ترمذی شریف ، باب استشراف الشیطان المرأۃ اذا خرجت،۲۸۴، نمبر ۱۱۷۳) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ عورت جب باہر نکلتی ہے تو شیطان اشارہ کرتا ہے کہ اس کی تاک جھانک کرو 
اس حدیث میں ہے کہ عورت بن ٹھن کر باہر نکلتی ہے تو شیطان لوگوں کو متوجہ کرتا ہے کہ اس عورت کو دیکھو۔

مردوں کو بھی حکم دیا کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھا کریں 
اس آیت میں ہے 
19۔قل للمومنین یغضوا من ابصارھن و یحفظوا فروجھم ذالک ازکی لھم ۔ ( آیت ۳۰، سورت النور ۲۴) 
ترجمہ ۔ مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہی انکے لئے پاکیزہ ترین طریقہ ہے 
اس آیت میں مردوں کو حکم ہے کہ اپنی نگائیں نیچی رکھا کریں تو عورتوں کو کیسے اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ مزاروں پر بے پردگی کے ساتھ دوڑتی رہیں 
[۵] قبر پر واویلا نہ کرے 
پانچویں شرط یہ ہے کہ قبر پر واویلا نہ کرے یعنی بلا وجہ زور زور سے نہ روئے اور نہ سینہ پیٹے 
اس کے لئے احادیث ہ ہیں 
7۔ عن عبد اللہ قال قال رسول اللہ ﷺ لیس منا من شق الجیوب و ضرب الخدود و دعا بدعوی الجاہلیۃ ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء عن نہی ضرب الخدود و شق الجیوب ، ص ۲۲۵، نمبر ۱۵۸۴) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ ہم میں سے وہ نہیں ہے کپڑا پھاڑے ، اور چہرے پر مارے ، اور زمانہ جاہلیت کی جیسی بات کرے 
8۔لما ثقل ابو موسیؓ …. ان رسول اللہ ﷺ قال انا بری ممن حلق و سلق و خرق۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء عن نہی ضرب الخدود و شق الجیوب ، ص ۲۲۵، نمبر ۱۵۸۶؍ مسلم شریف ، کتاب الایمان ، باب تحریم ضرب الخدود ، ص ۵۸، نمبر ۱۰۳؍ ۲۸۵) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میں اس شخص سے بری ہوں جو سر کا بال اکھیڑے ،گلا پھاڑ پھاڑ کر کے واویلا کرے ، اور کپڑا پھاڑے 

9۔عن جابر بن عبد اللہ ۔۔۔قال : لا ، و لکن نھیت عن صوتین احمقین فاجرین صوت عند مصیبۃ خمش وجوہ وشق جیوب و رنۃ شیطان ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی الرخصۃ فی البکاء علی المیت ، ص ۲۴۳، نمبر ۱۰۰۵) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ دو احمق آواز جو فاجر ہیں ان سے مجھے روکا گیا ہے ، ایک آواز وہ ہے جو مصیبت کے وقت چہرے پر تھپڑ مارتے ہوئے آواز نکالے ، اور کپڑا پھاڑے ، اور دوسری آواز ہے شیطان کی گنگناہٹ ۔ 
اس حدیث میں واویلا کرنے سے سختی منع کیا ہے ، پتہ نہیں بعض لوگ محرم کے موقع پر کیوں اتنا وایلا کرتے ہیں 
باقی تفصیل ماتم کے عنوان میں دیکھیں 

[۶] قبر والوں کو سلام کرے اور دعا پڑھے 
چھٹی شرط یہ ہے کہ لوگ قبر پر بہت سارے خرافات کرتے ہیں ، اس لئے وہاں خرافات نہ کریں ، 
صرف ،قبر والوں کو سلام کریں ، ان کے لئے استغفار کریں ، ان کے لئے دعا کریں ، اور قرآن وغیرہ پڑھ کر بخش دیں ،، اور موت کو یاد کریں ،اوریوں خیال کریں کہ مجھے بھی قبرستان آنا ہے، یہاں اتنا ہی کام احادیث سے ثابت ہیں ، باقی باتیں ویسے ہی ہیں 

سلام اور استغفار کرنے کے لئے احادیث یہ ہیں 
10۔عن ابن عباس قال مر رسول اللہ ﷺ بقبور المدینۃ فاقبل علیہم بوجھہ فقال السلام علیکم یا اہل القبور یغفر اللہ لنا و لکم انتم سلفنا و نحن بالاثر ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما یقول الرجل اذا دخل المقابر ، ص ۲۵۴، نمبر ۱۰۵۳) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ مدینہ کے ایک قبر کے پاس سے گزرے ، تو اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ۔ السلام علیکم یا اہل القبور ، اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت کرے ، آپ ہمارے سلف ہیں اور ہم بعد میں آنے والے ہیں 
اس حدیث میں ہے کہ اہل قبر کو سلام کرے اور اس کے لئے مغفرت کی دعا کرے ۔ 
11۔عن عائشۃ انھا قالت کان رسول اللہ کلما کان لیلتھا من رسول اللہ ﷺ ۔ یخرج من آخر اللیل الی البقیع فیقول ، السلام علیکم دار قوم مومنین و اتاکم ما توعدون غدا مؤجلون ، و انا ، ان شاء اللہ، بکم لاحقون ، اللھم اغفر لاھل بقیع الغرقد ۔ ( مسلم شریف ،کتاب الجنائز ، باب ما یقال عند دخول القبور و الدعاء لاھلھا ، ص ۳۹۲، نمبر ۹۷۴، نمبر۲۲۵۵) 
ترجمہ ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب بھی حضور ؐ کی باری میرے ساتھ ہوتی تو رات کے آخیر حصے میں جنت البقیع [ قبرستان ] کی طرف تشریف لیجاتے ، اور یہ کلمات کہتے، السلام علیکم دار قوم مومنین الخ ، کہتے ، اورکہتے کہ ، ائے اللہ بقیع والوں کو معاف کر دے 
ان دونوں حدیثوں میں دو باتیں ہیں ، ایک تو یہ کہ اہل قبور کو سلام کس طرح کرے ، اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کے لئے استغفار کرے 

[۷] قبر والے کے لئے استغفار کرے 
ساتویں بات یہ ہے کہ قبر والوں کے لئے استغفار کرے 

اس کے لئے احادیث یہ ہیں 
12۔عن عثمان بن عفان قال کان النبی ﷺ اذا فرغ من دفن ا لمیت وقف علیہ فقال استغفروا لاخیکم و اسألوا لہ بالتثبیت فانہ الآن یسأل ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الجنائز ، باب الاستغفار ند القبر للمیت فی وقت الانصراف ، ص ۴۷۰، نمبر ۳۲۲۱) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو اس کے پاس کھڑے ہوتے ، اور فرماتے ، اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو ، اور اس کے لئے ثابت قدم رہنے کے لئے دعا مانگو، اس لئے کہ اب منکر نکیر [فرشتے ]اس سے سوال کریں گے ۔ 

13۔سمعت عائشۃ تحدث فقالت ۔۔۔فقال ان ربک یأمرک ان تأتنی اھل البقیع فتستغفر لھم ، قالت قلت کیف اقول لھم ؟ یا رسول اللہ ! قال قولی السلام علی اھل الدیار من المومنین و المسلمین و یرحم اللہ المستقدمین منا و المستأخرین ، و انا ان شاء اللہ بکم للاحقون ۔ ( مسلم شریف ،کتاب الجنائز ، باب ما یقال عند دخول القبور و الدعاء لاھلھا ، ص ۳۹۲، نمبر ۹۷۴، نمبر ۲۲۵۶) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ بقیع والوں کے پاس آئیں اور ان کے لئے استغفار کریں ، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں حضور ؐ سے پوچھا کہ کس طرح انکے ئے دعا کروں ، تو آپ نے فرمایا السلام علی اھل الدیار من المومنین و المسلمین ،آخرتک پڑھو 
14۔عن عائشۃ انھا قالت کان رسول اللہ کلما کان لیلتھا من رسول اللہ ﷺ ۔ یخرج من آخر اللیل الی البقیع فیقول ، السلام علیکم دار قوم مومنین و اتاکم ما توعدون غدا مؤجلون ، و انا ، ان شاء اللہ، بکم لاحقون ، اللھم اغفر لاھل بقیع الغرقد ۔ ( مسلم شریف ،کتاب الجنائز ، باب ما یقال عند دخول القبور و الدعاء لاھلھا ، ص ۳۹۲، نمبر ۹۷۴، نمبر۲۲۵۵) 
ترجمہ ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب بھی حضور ؐ کی باری میرے ساتھ ہوتی تو رات کے آخیر حصے میں جنت البقیع [ قبرستان ] کی طرف تشریف لیجاتے ، اور یہ کلمات کہتے، السلام علیکم دار قوم مومنین الخ ، ، اورکہتے کہ ، اے اللہ بقیع والوں کو معاف کر دے 
اس حدیث میں ہے کہ میت کے لئے استغفار کرے۔ 

قبر والے کو سلام کرنا ہو تو قبر کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے 
اس کے لئے حدیث یہ ہے 
15۔عن ابن عباس قال مر رسول اللہ ﷺ بقبور المدینۃ فاقبل علیہم بوجھہ فقال السلام علیکم یا اہل القبور یغفر اللہ لنا و لکم انتم سلفنا و نحن بالاثر ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما یقول الرجل اذا دخل المقابر ، ص ۲۵۴، نمبر ۱۰۵۳) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ مدینہ کے ایک قبر کے پاس سے گزرے ، تو اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ۔ السلام علیکم یا اہل القبور، الخ ، اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت کرے ، آپ ہمارے سلف ہیں اور ہم بعد میں آنے والے ہیں 
اس حدیث میں ہے کہ سلام کرنے کے لئے حضور ؐ اہل مدینہ کی قبروں کی طرف متوجہ ہوئے 

قبر کے پاس بیٹھنا ہو تو منہ قبلہ کی طرف ہو 

قبروں کے پاس بیٹھنا ہو تو چہرہ قبلے کی طرف ہونا چاہئے ، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ قبر والے سے بیٹھ کر مانگ رہے ہیں
اس کے لئے حدیث یہ ہے 
16۔عن البراء بن عازب قال خرجنا مع رسول اللہ ﷺ فی جنازۃ رجل من الانصار فانتھینا الی القبر و لم یلحد بعد فجلس النبی ﷺ مستقبل القبلۃ و جلسنا معہ ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الجنائز ، باب کیف یجلس عند القبر ، ص ۴۶۹، نمبر ۳۲۱۲) 
ترجمہ ۔ ہم حضور ؐ کے ساتھ ایک انصاری آدمی کے جنازے میں نکلے ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی قبر نہیں کھودی گئی تھی ، تو حضور ؐ قبلے کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھے ، اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے 

اس حدیث میں ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرکے حضور قبرستان میں بیٹھے ، ادب کا تقاضہ یہی ہے 

عام حالات میں عورتوں کو قبر پر جانا منع ہے 
عام حالات میں عورتوں کو قبر پر جانا منع ہے ، کیونکہ وہ واویلا کرتی ہیں ، اور خلاف شریعت کام کرنے میں مشغول ہو جاتی ہیں ، البتہ دوسری حدیثوں کی وجہ سے بعض حضرات نے کبھی کبھار جانے کی گنجائش دی ہیں اس میں بھی وہی سات شرطیں ہیں 

حدیث میں عورتوں کے لئے قبرستان جانا منع ہے اس کے لئے یہ حدیث ہے 
17۔عن ابن عباس قال لعن رسول اللہ ﷺ زورات القبور ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء عن زیارۃ النساء القبور ، ص ۲۲۴، نمبر۱۵۷۵) 
ترجمہ ۔ قبر کی زیارت کرنے والی عورتوں پر حضور ؐ نے لعنت کی ۔

18۔عن ابن عباس قال لعن رسول اللہ ﷺ زائرات القبور و المتخذین علیھا المساجد و السرج ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی کراہیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدا ، ص ۸۸، نمبر ۳۲۰؍ نسائی شریف، کتاب الجنائز ، باب التغلیظ فی اتخاذ السرج علی القبور ، ص ۲۸۶، نمبر ۲۰۴۵) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبر کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ، اور جو اس پر مسجدیں بناتے ہیں اور چراغ جلاتے ہیں ان پر بھی لعنت کی 
اس حدیث میں ہے کہ جو عورتیں قبر کی زیارت کرتی ہیں ان پر حضور ﷺ نے لعنت کی ، اس لئے عورتوں کو عام حالات میں قبر پر جانا اچھا نہیں ہے البتہ کبھی کبھار چلی جائے اس کی گنجائش ہے 
عورتوں کے لئے کبھی کبھار قبر کی زیارت کی گنجائش دی ہے

اس کے لئے حدیث یہ ہے 
19 ۔عن عائشہ ان رسول اللہ ﷺ رخص فی زیارۃ القبور۔ ( ابن ماجۃ شریف باب ماجاء فی زیارۃ القبور ، ص ۲۲۳، نمبر ۱۵۷۰) ۔۔ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبر کی زیارت کی رخصت دی 
اس رخصت کے لفظ سے پتہ چلتا ہے کہ کبھی کبھار زیارت کر لے تو اس کی رخصت ہے 

20۔ عن سلیمان بن بریدۃ قال قال رسول اللہ ﷺ قد کنت نہیتکم عن زیارۃ القبور فقد اذن لمحمد فی زیارۃ قبر امہ فزوروھا فانھا تذکر الآخرۃ ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی الرخصۃ فی زیارۃ القبور ، ص ۲۵۴، نمبر ۱۰۵۴) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو قبر کی زیارت سے روکا کرتا تھا ، لیکن محمد ؐ کو اپنی ماں کی قبر کی اجازت دی ، اس لئے اب اس کی زیارت کیا کرو ، کیونکہ اس سے آخرت یاد آتی ہے 
21۔قال توفی عبد الرحمن بن ابی بکر بالحبشی قال فحمل الی مکۃ فدفن فیہا فلما قدمت عائشۃ اتت قبر عبد الرحمن بن ابی بکر ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی الرخصۃ فی زیارۃ القبور ، ص ۲۵۵، نمبر۱۰۵۵) 
ترجمہ ۔ حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر کی وفات حبشہ میں ہوئی تو انکو مکہ لایا گیا اور وہاں دفن کیا ، جب حضرت عائشہ ؓ سفر سے واپس آئیں تو حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کی قبر کی زیارت کے لئے آئیں ۔ 
ان احادیث سے معلوم ہوتا کہ عورتیں بھی کبھی کبھار قبر پر جا سکتی ہیں ۔ 
قبر پر عمارت بنانا مکروہ ہے 

قبر پر عمارت بنانا مکروہ ہے ،اس کی دلیل یہ حدیث ہے 
22۔عن جابر قال نہی رسول اللہ ﷺ ان تجصص القبور و ان یکتب علیھا ، و ان یبنی علیہا و ان تؤطأ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی کراہیۃ تجصیص القبور و الکتابۃ علیہا ، ص ۲۵۴، نمبر ۱۰۵۲؍ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء فی النہی عن البناء علی القبور و الکتابۃ علیہا ، ص ۲۲۲، نمبر ۱۵۶۲ )
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع کیا ، ، اور اس پر لکھنے سے منع کیا ، اور اس پر عمارت بنانے سے منع کیا ، اور اس کو روندنے سے منع کیا ۔

23۔ عن جابر نہی رسول اللہ ﷺ ان یجصص القبر ، و ان یقعد علیہ ، و ان یبنی علیہا۔ ( مسلم شریف ، کتاب الجنائز ، باب النہی عن تجسیس القبر و البناء علیہ ، ص ۳۹۰، نمبر ۹۷۰؍۲۲۴۵)
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبر کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے ، اور اس پر بیٹھنے سے ، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے 

24۔عن ابی سعید ان النبی ﷺ نہی ان یبنی علی القبور ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء فی النہی عن البناء علی القبور و الکتابۃ علیہا ، ص ۲۲۲، نمبر ۱۵۶۴) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا ۔ 
ان تینوں حدیثوں میں قبر پر عمارت بنانے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے 

قبر پر عمارت بنانے والوں کی ایک دلیل 
بعض حضرات کہتے ہیں کہ لوگوں کے قرآن پڑھنے کے لئے ، یا دعا کرنے کے لئے قبر کے گرد عمارت بنانا جائز ہے ، اور اس کے لئے وہ کچھ بزرگوں کے اقوال پیش کرتے ہیں 

لیکن اس میں یہ خامیاں ہیں 
[۱] حدیث میں شدت کے ساتھ منع کیا ہو تو پھر کسی بزرگ کے قول کو استدلال میں پیش کرنا صحیح نہیں ہے 
[۲] آج کل لوگ قرآن پڑھنے کے لئے تو کم ، اور شہرت ،قوالی اور ڈھول کے لئے زیادہ عمارت بناتے ہیں ، آپ اس کے لئے یو ٹیوب you tube اور انٹرنیٹ ، دیکھ لیں ، پھر فیصلہ کریں 
[۳] حضور ؐ کو خطرہ تھا کہ پچھلی قوموں کی طرح یہ قوم بھی قبر اور اہل قبر کے خرافات میں پڑ جائے گی اس لئے قبر پر عمارت بنانے، اور اس پرچراغ جلانے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے ۔ 

حضور ﷺ کی قبر مبارک پر قبہ کیوں ہے
حدیث کی بنیاد پر حضور ؐ کی قبر پر چھت نہیں ہونی چاہئے ، لیکن پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کی قبر شریف حضرت عائشہ کے کمرے میں تھی اس لئے پہلے سے سائبان تھا ، اور یہی سائبان کافی سالوں تک رہا ، بعد میں دیکھا کہ جو لوگ بھی باہر سے آتے ہیں وہ قبر کے پاس ہی جانا چاہتے ہیں ، اور کچھ لوگ وہاں سے مٹی بھی اٹھانے لگے ، کیونکہ باہر کے سب لوگ اتنے تربیت یافتہ نہیں ہوتے ، اس لئے اس کے اردگرد دیوار کھڑی کر دی تاکہ لوگ وہاں تک نہ جا سکے ، اور کسی توہین کا ارتکاب نہ کر سکے 

۵۵۷ ؁ ھ مطابق ۱۱۶۲ ؁ ء میں سلطان نور الدین زنگی ؒ والی دمشق کے زمانے میں ایک حادثہ پیش آیا ، وہ یہ کہ کچھ یہودیوں نے حضور ؐ کی قبر تک سرنگ بنایا اور آپ کی توہین کرنے کی کوشش کی اس لئے اس نور الدین زنگی ؒ نے ؒ قبر کے ارد گرد شیشے کی مضبوط بنیاد بنائی تاکہ کوئی یہودی سرنگ نہ بنا سکے 
ان حالات کو دیکھتے ہوئے ۶۷۸ ؁ ھ مطابق ۱۲۷۹ ؁ ء میں سلطان سیف الدین قلاوون نے اس کی مرمت کی اور لکڑی کی مضبوط دیوار بنائی ، اورچھت بھی بنا دی ،تاکہ کوئی اوپر سے بھی نہ آسکے ، اور کوئی شخص ارد گرد سے بھی اندر نہ جا سکے اور نہ کوئی نقصان پہونچا سکے ، اس لئے اس مجبوری کی وجہ سے حضور کی قبر شریف کے ارد گرد لکڑی کی دیوار ، اور لکڑی کی چھت بنائی گئی ، ورنہ حدیث کے اعتبار سے اس پر بھی کوئی عمارت ، یا چھت نہیں ہونی چاہئے ۔
اس وقت یہ دیوار لکڑی کی تھی اس لئے ،۸۸۶ ؁ ھ مطابق ۱۴۸۱ ؁ ء میں اس عمارت میں زبردست آگ لگ گئی اور جل گئی ، جس کی وجہ سے سلطان قاتیبائی مصری نے اینٹ اور پتھر سے اس کی تعمیر کی اور اس پر مضبوط گنبد ڈال دی ، تاکہ کوئی اندر نہ آسکے ، اس وقت اس عمارت پر سادہ رنگ سے رنگا جاتا تھا 
۱۲۵۳ ؁ ھ مطابق ۱۸۳۷ ؁ ء میں سلطان محمود بن عبد الحمید نے اس کو ہرے رنگ سے رنگ دیا ، اور وہ رنگ آج تک چل رہا ہے 
قبر پر عمارت نہ بناؤ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے آج بھی حضور ؐکی قبر، اور حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کی قبر یں مٹی کی ہیں ، اور ان پر کنکریاں بچھی ہوئی ہیں ، البتہ لوگوں سے حفاظت کی غرض سے دور میں دیوار اور اس کی چھت بنائی گئی ہے ۔ 

حضور کی قبر مبارک پر مٹی ہے اس کے لئے حدیث یہ ہے 
۔عن القاسم قال دخلت علی عائشۃ فقلت یا امۃ !اکشفی لی عن قبر رسول اللہ ﷺ و صاحبیہ رضی اللہ عنھما فکشفت لی عن ثلاثۃ قبور ، لا مشرفۃ ، و لا لاطءۃ مبطوحۃ ببطحاء العرصۃ الحمراء ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الجنائز ، باب فی تسویۃ القبر ، ص ۴۷۰، نمبر ۳۲۲۰) 
ترجمہ ۔ حضرت قاسم ؒ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشۃؓ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے حضور اور انکے دو ساتھیوں کی قبر دکھائیں ؟ تو انہوں نے تین قبریں دکھائیں ، جو بہت اونچی بھی نہیں تھیں اور بہت نیچی بھی نہیں تھیں ، ان پر بطحاء کی سرخ کنکریاں بچھائی ہوئی تھیں 
اس قول صحابی میں ہے کہ حضور کی قبر پر ابھی بھی سرخ نگ کی کنکری پڑی ہوئی ہے 

اس لئے حضور ؐ کی قبر کے گرد عمارت سے دوسری قبروں پر قبہ ، اور گنبد بنانے پر استدلال نہیں کرنی چاہئے یہ حدیث کے خلاف ہے 
قبر کو بہت اونچی بنانا بھی مکروہ ہے 

قبر کو اونچی بنانا بھی صحیح نہیں ہے ۔ 
اس کے لئے یہ حدیث ہے ۔
25۔ عن ابی الھیاج الاسدی قال : قال لی علی بن طالب الا ابعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللہ ﷺ ؟ ان لا تدع تمثالا الا طمستہ و لا قبرا مشرفا الا سویتہ ۔ ( مسلم شریف ، کتاب الجنائز ، باب الامر بتسویۃ القبر ، ص ۳۸۹، نمبر ۹۶۹؍۲۲۴۳) 
ترجمہ ۔ ابی الھیاج اسدی فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے مجھ سے کہا کہ ، جس کے لئے مجھے حضور ؐ نے بھیجا ہے میں تم کو نہ بھیجوں ؟ ، مجھے اس بات کے لئے بھیجا ہے کہ کوئی بت نہ دیکھوں مگر اس کو توڑ دوں ، اور کوئی اونچی قبر نہ دیکھوں مگر اس کو برابر کردوں 
اس حدیث میں ہے کہ اونچی قبر کو برابر کردے ، اس لئے قبر کو اونچی رکھنا بھی اچھا نہیں ہے ، اس لئے قبر کو پختہ بنا کر اس کو اونچی کرنا اچھی بات نہیں ہے 
بعض حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ یہ کافر کی قبر کے بارے میں برابر کرنے کاحکم تھا ، لیکن یہ تاویل اس لئے صحیح نہیں ہے اس حدیث میں کسی قبر کی تخصیص نہیں ہے ، بلکہ تمام قبروں کے لئے یہ حکم عام ہے 

قبر کے ارد گرد مسجد بنانا بھی مکروہ ہے 
اس کے لئے حدیث یہ ہے 
26۔عن ابن عباس قال لعن رسول اللہ ﷺ زائرات القبور و المتخذین علیھا المساجد و السرج ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی کراہیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدا ، ص ۸۸، نمبر ۳۲۰؍ نسائی شریف، کتاب الجنائز ، باب التغلیظ فی اتخاذ السرج علی القبور ، ص ۲۸۶، نمبر ۲۰۴۵) ۔ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبر کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ، اور جو اس پر مسجدیں بناتے ہیں اور چراغ جلاتے ہیں ان پر بھی لعنت کی 

27۔عن عائشۃ ان ام سلمۃ ذکرت لرسول اللہ ﷺ کنیسۃ رأتھا بارض الحبشۃ یقال لھا ماریۃ فذکرت لہ ما رأت فیھا من الصور فقال رسول اللہ ﷺ اولئک قوم اذا مات فیھم العبد الصالح او الرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا و صوروا فیہ تلک الصور اولئک شرار الخلق عند اللہ ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ فی البیعۃ ، ص ۷۵، نمبر ۴۳۴) 
ترجمہ ۔ حضرت ام سلمہ ؓ نے حضور کے سامنے حبشہ میں جو چرچ دیکھا تھا ، جس کو ماریہ ، کہتے ہیں ، اس میں جو تصویر لگی ہوئی ہے اس کا تذکرہ کیا ، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ یہ ایک قوم تھی جس کے نیک بندے مر جاتے تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے ، اور اس میں یہ تصویر لگا دیتے ، اللہ کے نزدیک یہ شریر مخلوق ہے 
ان احادیث میں ہے کہ قبر کے پاس مسجد بنانا بھی مکروہ ہے ، لیکن کچھ لوگوں نے اس کے خلاف خواہ مخواہ فتوی دے دیا ہے ، اور لوگوں کو گمراہ کیا ہے 
قبر پر چراغ جلانا بھی مکروہ ہے 

اس کے لئے حدیث یہ ہے 
28۔عن ابن عباس قال لعن رسول اللہ ﷺ زائرات القبور و المتخذین علیھا المساجد و السرج ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی کراہیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدا ، ص ۸۸، نمبر ۳۲۰؍ نسائی شریف، کتاب الجنائز ، باب التغلیظ فی اتخاذ السرج علی القبور ، ص ۲۸۶، نمبر ۲۰۴۵) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبر کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ، اور جو اس پر مسجدیں بناتے ہیں اور چراغ جلاتے ہیں ان پر بھی لعنت کی 
29۔عن ابن عباس قال لعن رسول اللہ ﷺ زائرات القبور و المتخذین علیھا المساجد و السرج ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب الجنائز ، باب فی زیارۃ النساء القبور ، ص ۴۷۲، نمبر ۳۲۳۶)
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبر کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ، اور جو اس پر مسجدیں بناتے ہیں اور چراغ جلاتے ہیں ان پر بھی لعنت کی 

اس دور میں لوگ قبر پر کتنے چراغاں کرتے ہیں، اور کتنی رنگ برنگ بجلیاں جلاتے ہیں ، اور اس کو ثواب کا کام سمجھتے ہیں 

قبر پر پھول چڑھانا ٹھیک نہیں ہے 

حضور ؐ نے یا صحابہ نے کبھی بھی کسی قبر پر پھول نہیں چڑھایا ہے ، 
یہ ہندؤوں کا طریقہ ہے کہ وہ لوگ اپنے بتوں پر ، اور مورتیوں پر پھول چڑھاتے ہیں اور اس کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ہمیں ہندؤوں کاطریقہ اختیار نہیں کرنا چاہئے 

کچھ حضرات اس حدیث سے قبرپر پھول چڑھانے پر استدلال کرتے ہیں 
29۔عن ابن عباسؓ عن النبی ﷺ انہ مر بقبرین یعذبان فقال انھما لیعذبان ۔۔۔ ثم اخذ جریدۃ رطبۃ فشقھا بنصفین ثم غرز فی کل قبر واحد ۃ فقالوا یا رسول اللہ لم صنعت ھذا ؟ فقال لعلہ ان یخفف عنھما ما لم یبسا ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجنائز ، باب الجریدۃ علی القبر ، ص ۲۱۸، نمبر ۱۳۶۱) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ کا دو قبروں پر گزر ہوا جن پر عذاب ہو رہا تھا ، تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں پر عذاب ہو رہا ہے ۔۔۔پھر ایک تر شاخ کو لیا اور اس کو دو ٹکڑا کیا ، پھر ہر قبر پر ایک ایک شاخ گاڑ دی ، لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کیوں کیا ؟ توآپ نے فرمایا کہ جب تک سوکھ نہ جائے تو ہو سکتا ہے کہ اس وقت تک دونوں سے عذاب میں کمی رہے ۔
اس حدیث میں حضور ؐ نے فرمایا کہ صاحب قبر پر عذاب ہو رہا ہے تو آپ نے اس پر کھجور کی ٹہنی گاڑی اور کہا جب تک یہ خشک نہ ہو تو اس وقت تک اس سے عذاب کم ہوجائے گا 
اس سے استدلال کرتے ہیں کہ قبر پر پھول چڑھانا جائز ہے 
لیکن اس میں یہ باتیں دیکھنے کی ہے ، کہ حضور ؐ نے صرف ایک مرتبہ ایسا کیا ، اس لئے ممکن ہے کہ یہ آپ کی برکت سے عذاب کم ہوا ہو ، اس لئے کیا ضروری ہے کہ ہمارے گاڑنے سے بھی عذاب کم ہو جائے 
حضور نے کھجور کی ٹہنی ڈالی ہے ، ہم پھول ڈالتے ہیں ، اور پھول ڈالنا ہندؤوں کا طریقہ ہے وہ بھی اپنے بتوں پر پھول ڈالتے ہیں ، اس لئے اس سے پرہیز بہتر ہے 
آج کل قبروں پر ایک پھول نہیں ڈالا جاتا ، بلکہ یہ مجاوروں کی بزنس بن گئی ہے ، اس سے کتنے لوگ تجارت کر رہے ہیں ، دیکھیں کہ کتنا بڑا فرق ہے 

غرائب کا فتوی 
کچھ حضرات یہ فتوی پیش کرتے ہیں ، لیکن اس فتوے کا اعتبار اس لئے نہیں ہے کہ فتاوی ہندیہ والوں نے ، غرائب، کوئی کتاب ہے وہاں سے فتوی نقل کیا گیا ہے ، اور اس پر کوئی حدیث بھی پیش نہیں کی ہے 
غرائب کا فتوی یہ ہے 
وضع الورد و الریاحین علی القبور حسن و ان تصدق بقیمۃ الورد کان احسن کذا فی الغرائب ۔ ( فتاوی ھندیۃ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب سادس عشر ، فی زیارۃ القبور ، ج ۵ ، ص ۳۵۱) 
ترجمہ ۔ قبر پر گلاب کا پھول ، یا خوشبو رکھے تو بہتر ہے ، اور اس کی قیمت صدقہ کردے تو اور زیادہ بہتر ہے ، غرائب کی کتاب میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے 
اس عبارت میں دیکھیں کہ کوئی حدیث پیش نہیں کی ، اور نہ کسی اہم کتاب کا حوالہ دیا ہے ، یہ تو غرائب کی ایک عبارت ہے اس لئے یہ فتوی ٹھیک نہیں ہے ، خصوصا جبکہ آج کل یہ ایک بہت بڑی تجارت بن گئی ہو 

قبر پر لکھنا بھی اچھا نہیں ہے 
30۔عن جابر قال نہی رسول اللہ ﷺ ان یکتب علی القبر شیء ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء فی النہی عن البناء علی القبور و الکتابۃ علیہا ، ص ۲۲۲، نمبر۱۵۶۳) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبر پر کوئی چیز لکھنے سے منع فرمایا ہے
اس حدیث میں ہے کہ قبر پرلکھنے سے منع کیا ہے 

قبر پر پتھر کی علامت رکھنا جائز ہے 
قبر پر کوئی علامت کی چیز رکھ دے جس سے پتہ چلے کہ یہ فلاں کی قبر ہے تو اس کی تھوڑی سی گنجائش ہے ،لیکن اس کا عام رواج نہ بنا لے ۔
اس کی دلیل یہ حدیث ہے 
31۔ عن انس بن مالک ان رسول اللہ أعلم قبر عثمان بن مظعون بصخرۃ ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء فی العلامۃ فی القبر ، ص ۲۲۲، نمبر۱۵۶۱)
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے عثمان بن مظعون کی قبر پر چٹان رکھ کرنشان لگائی ۔ 

قبر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا جائز نہیں 
قبر کی طرف رخ کر کے نماز بھی پڑھنا جائز نہیں ہے تو اس کے سامنے سجدہ کرنا کیسے جائز ہو گا !
حدیث یہ ہے 
32۔عن ابی مرسد الغنوی قال قال رسول اللہ ﷺ لا تجلسوا علی القبور ، و لا تصلواالیھا۔ ( مسلم شریف ، کتاب الجنائز ، باب النہی عن الجلوس علی القبر و الصلاۃ علیہ ، ص ۳۹۰، نمبر ۹۷۲؍ ۲۲۵۰) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا قبر پر مت بیٹھو ، اور اس کی طرف رخ کر کے نماز بھی نہ پڑھو 
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قبر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا بھی جائز نہیں تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ یہ صاحب قبر کی عبادت کر رہا ہے 

قبر پر بیٹھنا مکروہ ہے 
قبر پر بیٹھنے سے صاحب قبر کی توہین ہو گی اس لئے قبر پر بیٹھنا مکروہ ہے
اس کے لئے حدیث یہ ہے 
،33۔ حدیث یہ ہے ۔عن ابی مرسد الغنوی قال قال رسول اللہ ﷺ لا تجلسوا علی القبور ، و لا تصلواالیھا۔ ( مسلم شریف ، کتاب الجنائز ، باب النہی عن الجلوس علی القبر و الصلاۃ علیہ ، ص ۳۹۰، نمبر ۹۷۲؍ ۲۲۵۰) 
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا قبر پر مت بیٹھو ، اور اس کی طرف رخ کر کے نماز بھی نہ پڑھو ۔

34۔ عن جابر نہی رسول اللہ ﷺ ان یجصص القبر ، و ان یقعد علیہ ، و ان یبنی علیہا۔ ( مسلم شریف ، کتاب الجنائز ، باب النہی عن تجسیس القبر و البناء علیہ ، ص ۳۹۰، نمبر ۹۷۰؍۲۲۴۵)
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبر کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے ، اور اس پر بیٹھنے سے ، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے

قبر کو روندنامکروہ ہےۂ35۔عن جابر قال نہی رسول اللہ ﷺ ان تجصص القبور و ان یکتب علیھا ، و ان یبنی علیہا و ان تؤطأ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی کراہیۃ تجصیص القبور و الکتابۃ علیہا ، ص ۲۵۴، نمبر ۱۰۵۲؍ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء فی النہی عن البناء علی القبور و الکتابۃ علیہا ، ص ۲۲۲، نمبر ۱۵۶۲ )
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع کیا ، ، اور اس پر لکھنے سے منع کیا ، اور اس پر عمارت بنانے سے منع کیا ، اور اس کو روندنے سے منع کیا ۔

قبروں کے درمیان گزرنے کی ضرورت پڑ جائے تو جوتا نکال کر چلے 
قبروں کے درمیان گزرنے کی ضرورت پڑ جائے تو جوتا نکال کر چلے تاکہ قبر کی توہین نہ ہو ، لیکن اگر وہاں گھاس وغیرہ کی وجہ سے چلنا ممکن نہ ہو تو چپل پہن سکتا ہے ،

اس کے لئے حدیث یہ ہے 
36۔ان بشیر ابن الخصاصیۃ قال کنت امشی مع رسول اللہ ﷺ فمر علی قبور المسلمین فقال : لقد سبق ھٰؤلاء شرا کثیرا ، ثم مر علی قبور المشرکین فقال لقد سبق ھٰؤلاء خیرا کثیرا ، فحانت منہ التفاتۃ فرأی رجلا یمشی بین القبور فی نعلیہ فقال یا صاحب السبتیتین القھما ۔ ( نسائی شریف ، کتاب الجنائز ، باب کراھیۃ المشی بین القبور فی النعال البتیۃ ، ص ۲۸۷، نمبر ۲۰۵۰) 
ترجمہ ۔بشیر ابن خصاصیہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور ؐ کے ساتھ مسلمان کی قبروں کے درمیان سے چل رہے تھے ، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ یہ لوگ شر کی بہت ساری چیزوں کو پار کر گئے ، پھر ہم مشرکین کی قبروں سے گزرے تو حضور ؐ نے فرمایا کہ، یہ لوگ بہت سارے خیر کو چھوڑ آئے ہیں ،اس درمیان آپ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جوتا پہن کر قبروں کے درمیان چل رہا ہے تو آپ نے فرمایا ، آئے جوتے والے اس کو نکال لو ۔ 
اس حدیث نے حضور ؐ نے فرمایا کہ چمڑے کے جوتے کو نکال کر قبروں کے درمیان میں چلو ۔
لغت : سبتیۃِ چمڑے کا جوتا 

جن کے یہاں موت ہوئی ہے
انکے یہاں کھانا بنا کر بھیجنا سنت ہے 
اس کے لئے حدیث یہ ہے 
37۔عن عبد اللہ بن جعفر قال لما جاء نعی جعفر قال رسول اللہ ﷺ اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد اتاہم ما یشغلہم او امر یشغلہم ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب فی الطعام یبعث الی اہل المیت ، ص ۲۲۹، نمبر ۱۶۱۰) 
ترجمہ ۔ حضرت بد بن جعفرؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت جعفرؓ کی موت کی خبر آئی تو حضور ؐ نے فرمایا کہ حضرت جعفر کے رشتہ داروں کے لئے کھانا بناؤ ، کیونکہ انکے پاس ایسی خبر آئی ہے ، جس کی وجہ سے انکو مشغولیت ہو گئی ہے ، یا یوں فرمایا کہ ، ایسا معاملہ آگیا ہے ، جس میں وہ لوگ مشغول ہیں [ یعنی غمی کی وجہ سے کھانا بنانے کی فرصت نہیں ہے ]۔ 
اس حدیث میں ہے کہ میت کے گھر میں کھانا بھیجنا چاہئے ۔ 

لیکن اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ جنکے یہاں وفات ہوئی ہو تو اس کے یہاں کھاناکہاں بھیجتے ہیں ، بلکہ انکے یہا ں رشتہ دار اور عوام مل کر اتنا کھاتے ہیں ک گھر والے تنگ آجاتے ہیں

جنکے یہاں موت ہوئی ہے انکے یہاں کھانا کھانا مکروہ ہے 

آج کل ایصال ثواب کے نام پر اتناخرچ کرواتے ہیں کہ وارثین تنگ آجاتے ہیں 
حالانکہ ایصال ثواب کرنا ایک مستحب کام ہے ، اور وہ وارثین کی اپنی مرضی کی چیز ہے ، کہ جب چاہے اپنی خوشی سے کچھ غرباء کو چپکے سے کھانا کھلا دے ، یا کپڑا پہنا دے ، اور اس کا ثواب میت کوپہنچا دے، یہی ثواب میت کو پہنچتا ہے 
اس کے لئے نہ وقت متعین کرنے کی ضرورت ہے اور نہ اعلان کرنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ چپکے سے غرباء کو کھلانا ہے 
لیکن میں نے دیکھا کہ کئی غریب کی والدہ کا انتقال ہوا تو کچھ ذہین لوگوں نے اتنا مجبور کیا کہ وہ بنیوں سے کئی ہزار روپیہ سودی قرض لاکر لوگوں کو کھاناکھلایا تب اس کی جان چھوٹی 
اس کے لئے صحابی کا قول یہ ہے 
38۔عن جریر بن عبد اللہ بجلیؓ قال کنا نری الاجتماع الی اہل المیت و صنعۃ الطعام من النیاحۃ ۔ ( ابن ماجۃ شریف ، باب ما جاء فی النہی الاجتماع الی اہل المیت و صنعۃ الطعام ، ص ۲۳۰، نمبر ۱۶۱۲؍ مسند احمد ، مسند عبد اللہ بن عمر و بن العاص، جلد ۱، ص ۵۰۵، نمبر ۲۲۷۹) 
ترجمہ ۔ جریر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ ہم ، میت والوں کے پاس جمع ہونا ، اور ان سے کھانا بنوانا نوحہ کرنے کے قسم سے سمجھتے تھے 
اس حدیث میں ہے کہ جس طرح نوحہ کرنا نا جائز سمجھتے تھے اسی طرح میت والوں کے یہاں کھانا بھی ناجائز سمجھتے ہیں ۔
میت کے لئے بہت زیادہ اعلان کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے 
میت کے لئے بہت زیادہ اعلان کریں گے تو اس کے یہاں بھیڑ ہو جائے گی اور اس کوسنبھالنا مشکل ہو گا ، اس لئے شریعت نے یہ معیار مقرر کیا ہے کہ مرنے والوں کے یہاں بہت بھیڑ جمع نہ ہو جائے

اس کے لئے حدیث یہ ہے 
39۔ عن عبد اللہ عن النبی ﷺ قال ایاکم و النعی فان النعی من عمل الجاھلیۃ ، قال عبد اللہ و النعی اذان با لمیت۔( ترمذی شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی کراہیۃ النعی ، ص ۲۳۹، نمبر ۹۸۴؍ ابن ماجۃ شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی النھی عن النعی ، ص ۲۱۱، نمبر ۱۴۷۶) 
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان موت کے اعلان سے بچا کرو ، اس لئے کہ یہ جاہلیت کا عمل ہے ، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا کہ ،نعی ، کا ترجمہ ہے لوگوں کے درمیان موت کا اعلان کرنا ۔ 
اس حدیث میں اہتمام کے ساتھ لوگوں میں میت کی موت کے اعلان کرنے سے منع کیا ہے ، ہاں تھوڑا بہت جنازے کی اطلاع دے اس کی گنجائش ہے ، لیکن جم گھٹا کرنا صحیح نہیں ہے ،

اس وقت کا عالم یہ ہے کہ جنکے یہاں موت ہو جائے وہاں مہینوں لوگ جمع ہوتے رہتے ہیں ، اور گھر والوں کو کوئی کام کرنا مشکل ہوتا ہے ، اور بے پناہ خرچ ہو جاتا ہے 

تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے

بیوی تو چار مہینے دس روز تک سوگ منائے گی ۔ اس کے علاوہ کے لوگ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے ، حدیث میں اس کو منع فرمایا ہے ، 
یہ جو لوگ چالیس دن تک سوگ مناتے رہتے ہیں یا ہر سال سوگ مناتے ہیں، اور پورا ہنگامہ کرتے ہیں یہ حدیث کے اعتبار سے غلط ہے 
اس کے لئے یہ حدیث ہے 
40۔عن ام عطیۃ قالت کنا ننھی ان نحد علی المیت فوق ثلاث الا علی زوج اربعۃ اشھر و عشرا ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الحیض ، باب الطیب للمرأۃ عند غسلھا من المحیض ، ص ۵۴، نمبر ۳۱۳؍ مسلم شریف ، کتاب الطلاق ، باب وجوب الاحداد فی عدہ الوفاۃ و تحریمہ فی غیر ذالک ،الا ثلاثۃ ایام ، ص ۶۴۴، نمبر ۱۴۸۶، نمبر ۳۷۲۵) 
ترجمہ ۔ حضرت ام عطیہؓ فرما تی ہیں کہ ، تین دن سے زیادہ میت پر سوگ منانے سے ہم کو روکا جاتاتھا ، سوائے شوہر کے کہ اس پر چار مہینے دس دن بیوی سوگ منائے 
اس حدیث میں ہے کہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے ۔ 

قبر میں گناہ گاروں کو عذاب ہوتا ہے

قبر کا عذاب حق ہے ، اور ان کی زندگی برزخی زندگی ہے 

اس کی دلیل یہ آیتیں ہیں
20۔حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب أرجعون لعلی أعمل صالحا فیما ترکت کلا انہا کلمۃ ھو قائلھا و من وراءھم برزخ الی یوم یبعثون ۔ ( آیت ۱۰۰ سورت المؤمنون ۲۳) 
ترجمہ ۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ، میرے رب مجھے واپس بھیج دیجئے ، تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں جا کر نیک عمل کروں ، ہرگز نہیں ! یہ تو ایک بات ہی بات ہے جو وہ زبان سے کہہ رہا ہے ، اور ان مرنے والوں کے سامنے برزخ کی آڑ ہے جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک انکو دوبارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے ۔ 
21۔و حاق بأل فرعون سوء العذاب ، النار یعرضون علیھا غدوا و عشیا و یوم تقوم الساعۃ أدخلوا آل فرعون أشد العذاب ۔( آیت ۴۵۔۴۶، سورۃ غافر ۴۰)
ترجمہ ۔ اور فرعون کے لوگوں کو بدترین عذاب نے آ گھیرا ، آگ ہے جس کے سامنے ان کو صبح شام پیش کیا جاتا ہے ، اور جب قیامت آئے گی تو حکم ہو گا کہ اس کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو 
22۔و لو تری اذ الظالمون فی غمرات الموت و الملائکۃ باسطوا أیدہم أخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الہون ۔ ( آیت ۹۳، سورۃ الانعام۶ )
ترجمہ ۔ اگر تم وہ وقت دیکھو جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا 
ان تین آیتوں میں اشارۃ قبر کے عذاب کاتذکرہ ہے 

41۔عن ابی ایوب ؓ قال خرج النبی ﷺ و قد وجبت الشمس ، فسمع صوتا فقال یہود یعذب فی قبورھا ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجنائز ، باب التعوذ من عذاب القبر ، ص ۲۲۰، نمبر ۱۳۷۵) 
ترجمہ ۔ سورج ڈوبتے وقت حضور ؐ ﷺ نکلے تو ایک آواز سنی تو آپ نے فرمایا ، یہود کو اپنی قبر میں عذاب ہو رہا ہے ۔

42۔عن عائشۃؓ …..قالت عائشۃؓ فما رأیت رسول اللہ ﷺ بعد صلی صلاۃ الا تعوذ من عذاب القبر ، و زاد غندر ، عذاب القبر حق ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی عذاب القبر ، ص ۲۲۰، نمبر ۱۳۷۲) 
ترجمہ ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہر نماز کے بعد میں حضور ؐ کو دیکھا کہ وہ قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ، حضرت غندر ؒ نے یہ بھی فرمایا کہ قبر کا عذاب حق ہے ۔

43۔حدثنی ابنۃ خالد بن سعید ابن العاصی انہا سمعت النبی ﷺ و ھو یتعوذ من عذاب القبر ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الجنائز ، باب التعوذ من عذاب القبر ، ص ۲۲۱، نمبر۱۳۷۶)
ترجمہ ۔ حضرت سعید بن عاصؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضور ؐ قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے
اس حدیث میں ہے کہ حضور ؐ قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ، اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ حیات برزخی ہے ۔ 

44۔عن البراء بن عازب قال خرجنا مع النبی ﷺ فی جنازۃ ……قال فتعاد روحہ فی جسدہ ، فیاتیہ ملکان فیجلسان فیقولا لہ من ربک فیقول ربی اللہ ……فتعاد روحہ و یاتیہ ملکان فیجلسانہ فیقولان من ربک ؟ فیقول ہا ہا لا ادری ۔( مسند احمد ، حدیث البراء بن عاذب ، ج ۵، ص ۳۶۴، نمبر ۱۸۰۶۳؍ ابو داود شریف ، باب المسألۃ فی القبر و عذاب القبر ۶۷۲، نمبر ۴۷۵۳) 
ترجمہ ۔ہم حضور ؐ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے ۔۔۔فرمایا کہ اس کی روح کو جسم میں لائی جاتی ہے اور اس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں اور اس کو بیٹھاتے ہیں ، اور پوچھتے ہیں تمہارا رب کون ہے؟ تو وہ مسلمان کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ۔۔۔کافر کی روح کو لوٹائی جاتی ہے ، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بیٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تمہارا رب کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے ، ہاہ ہاہ مجھے معلوم نہیں ہے 
ان احادیث میں ہے کہ انسان کو قبر میں عذاب ہوتا ہے ، اوریہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی یہ زندگی برزخی ہے

Facebook Comments

POST A COMMENT.