عقیدہ نمبر 38… قبر پرعرس جائز نہیں ہے

ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چئیرمین ہلال کمیٹی

قسط نمبر 38

اس عقیدے کے بارے میں 2 آیتیں اور 10 حدیثیں ہیں ، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں۔

قبر پر عرس کرنے سے عید کی شکل بنتی ہے ، اور حضور ؐ نے قبر پر عید کرنے سے منع فرمایا ہے ، اس لئے یہ بھی جائز نہیں ہے
اس کی دلیل یہ حدیث ہے ۔
1 ۔عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ لا تجعلوا بیوتکم قبورا ، و لا تجعلوا قبری عیدا ، و صلوا علی فان صلاتکم تبلغنی حیث کنتم ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب المناسک ، باب زیارۃ القبور ، ص۲۹۶، نمبر ۲۰۴۲) اس حدیث میں ہے کہ میری قبر کو میلے کی جگہ نہ بناؤ،
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اپنے گھروں کو قبر کی طرح مت بناؤ [ اس میں نماز پڑھتے رہو] اور میری قبر کو عید کی طرح مت بناؤ، مجھ پر درود بھیجتے رہو ، تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے ۔

اس حدیث میں ہے کہ قبر پر عید کی شکل مت بناؤ ، اور عرس میں عید کی شکل ہوتی ہے اس لئے یہ جائز نہیں ہے

اس حدیث سے عرس پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے

بعض حضرات نے اس حدیث سے عرس کے جائز ہونے پر استدلال کیا ہے
2۔عن محمد بن ابراہیم التیمی قال کان النبی ﷺ یأتی قبور الشہداء عند رأس الحول ، فیقول السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار ، قال و کان ابو بکر ، و عمر وعثمان یفعلون ذالک ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب زیارۃ القبور ، جلد ۳ ، ص ۵۷۳، نمبر ۶۷۱۶)
ترجمہ ۔ محمد بن ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ حضور ؐ سال کے شروع میں شہداء کی قبر پر آیا کرتے تھے
اس حدیث میں ہے کہ سال کے شروع میں حضور شہداء احد کی قبروں پر جایا کرتے تھے، فیقول السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار،اور حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ اورحضرت عثمانؓ بھی ایسا کرتے تھے ۔
اس حدیث میں ہے کہ حضور ہر سال کے شروع میں شہداء احد کے پاس تشریف لایا کرتے تھے
اس سے بعض حضرات نے استدلا ل کیا ہے کہ ہر سال میں ایک مرتبہ عرس کرنا جائز ہے

لیکن اس میں یہ 4 خامیاں ہیں
[۱] پہلی بات یہ ہے کہ حضور ؐ بغیر کسی اعلان کے جایا کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ کسی کو خبر ہوئی کسی کو خبر نہیں ہوئی ، یہی وجہ ہے کہ یہ حدیث کہ، ہر سال کے شروع میں جایا کرتے تھے ، صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نہیں ہے ، اور اس کے اساتذہ کی بھی کسی کتاب میں نہیں ہے ، صرف مصنف عبد الرزاق والے نے اس کا ذکر کیا ہے۔
اس حدیث کے مطابق اگر کوئی آدمی کبھی کبھار قبروستان چلا جائے اور صرف ، السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار ، پڑھ کر واپس چلا آئے تو کسی کو اشکال نہیں ہے ، لیکن یہاں ہو یہ رہا ہے کہ تاریخ متعین کی جاتی ہے ، عرس کے نام پر لاکھوں روپیہ خرچ کیا جاتا ہے ، مہینوں سے اس کا اعلان ہوتا ہے ،بے پناہ لوگوں کو بلایا جاتا ہے اور وہ دھمال ہوتا ہے کہ ہندووں کا میلہ شرما جائے ، اس کی گنجائش کیسے دی جا سکتی ہے
[۲] دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث میں تابعی نے حضور ؐ کا عمل نقل کیا ہے ، اور بیچ میں صحابی کا نام چھوڑ دیا ہے [ کیونکہ محمد بن ابراہیم التیمی ، تابعی ہیں ] ، اس لئے یہ حدیث مرفوع نہیں ہے حدیث مرسل ہے ، اس لئے اس کی حیثیت کم ہے
[۳] عرس میں عید کا سما ہوتا ہے ، اور ابھی اوپر گزرا کہ قبرستان پر عید کا سما کرنے سے حضور ؐ نے منع فرمایا ہے تو عرس کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے
[۴] کبھی بھی کسی صحابی یا تابعی نے عرس نہیں کیا ہے تو یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے ،
بلکہ اوپر کی احادیث کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی باتوں سے حضور ؐ نے منع فرمایا ہے ، تاکہ رفتہ رفتہ لوگ شرک میں مبتلاء نہ ہو جائے ۔
[۵] اصل بات یہ ہے کہ ذہین لوگوں کے کھانے پینے کا اور سال بھر کے خرچ جمع کرنے کا ایک دھندا ہے ۔ آپ خود بھی اس پر غور کرلیں

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ؐ کبھی کبھی شہداء کی قبر پر آیا کرتے تھے ، اس میں تاریخ متعین نہیں تھی
3۔سمعت طلحہ بن عبید اللہ یحدث ۔۔۔ قال خرجنا مع رسول اللہ ﷺ نرید قبور الشہداء حتی اذا اشرفنا علی حرۃ واقم فلما تدلینا منھا فاذا قبور بمحنیۃ قال قلنا یا رسول اللہ ! قبور اخواننا ھذہ ؟ قال قبور اصحابنا فلما جئنا قبور الشہداء قال ھذہ قبور اخواننا ۔ ( ابو داود شریف ، کتاب المناسک ، باب زیارۃ القبور ، ص ۲۹۶، نمبر ۲۰۴۳)
ترجمہ ۔ فرمایا کہ ہم حضور ؐ کے ساتھ نکلے ، شہداء کی قبر پر جانے کا ارادہ تھا ، ہم جب حرا واقم[ مقام ]آئے ، ہم جب آگے بڑھے تو محنیہ میں قبر تھی ، تو ہم نے کہا یا رسول اللہ یہ ہمارے بھائیوں کی قبر ہیں ، تو حضور ؐ نے فرمایا یہ ہمارے ساتھیوں کی قبریں ہیں ، پھر جب ہم شہدا ء احد کی قبر کے پاس آئے ، تو آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں
اس حدیث سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کبھی کبھار شہداء احد کی قبروں پر جایا کرتے تھے

کچھ حضرات نے 1100 اگیارہ سو سال بعد والے بزرگوں کے اقوال اور انکے اعمال سے عرس ، چہلم وغیرہ کے جواز کا ثبوت پیش کرتے ہیں
[۱] لیکن یہ اس لئے ٹھیک نہیں ہے کیونکہ بہت بعد کے بزرگوں کے عمل سے اعتقادی مسئلہ ثابت نہیں ہوتا ، اس کے ثابت کرنے کے لئے صریح آیت ، یا پکی حدیث چاہئے
[۲] اس کے خلاف کئی حدیثیں پیش کی جا چکی ہیں
[۳] اب یہ چیزیں آخرت کی یاد ، اور دنیا کی بے رغبتی کی چیزیں نہیں رہیں ، بلکہ صرف تفریح ، کھیل ، اور مذہب کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ بنا لیا ہے

گانا اور ڈھولک ،طبلہ بجانا حرام ہے

تھوڑا بہت نظم ، یا نعت پڑھ لینا جائز ہے ، اس میں شرط یہ ہے کہ ڈھول، طبلہ ، ہارمونیم ، اور بجانے سے ساز نہ ہوں ، اگر بجانے کے ساز ہوں تو کوئی بھی گیت جائز نہیں ہے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
1۔ و من الناس من یشری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم و یتخذھا ھزوا اولئک لھم عذاب مھین ۔ ( آیت ۶۔ سور لقمان ۳۱)
ترجمہ ۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں ، تاکہ ان کے ذریعہ لوگوں کو بے سمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں اور اس کا مذاق اڑائیں ، ان لوگوں کو وہ عذاب ہو گا جو ذلیل کرکے رکھ دے گا
اس آیت میں غافل کرنے والی باتوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے ۔
2۔و ما کان صلوتھم عند البیت الا مکاء و تصدیۃ فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون ۔ ( آیت ۳۵، سورت الانفال ۸)
ترجمہ ۔ اور بیت کے پاس ان کی نماز سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں اس لئے جو کافرانہ باتیں تم کرتے رہے ہو ان کی وجہ سے اب عذاب کا مزا چکھو
کافر لوگ بیت اللہ کے پاس تالیاں اور سیٹی بجایا کرتے تھے ، اللہ نے اس سے نفرت کا اظہار کیا ، اور قوالی میں یہی کچھ ہوتا ہے ، اس لئے اس سے بھی رکنا چاہئے ۔

اس کے لئے احادیث یہ ہیں
4۔حدثنی ابو عامر ۔۔۔و اللہ ما کذبنی : سمع النبی ﷺ یقول لیکونن من امتی یستحلون الحر ، و الحریر ، و الخمر ، و المعازف ۔ ( بخاری شریف ، کتاب الاشربۃ ، باب ما جاء فی من یحل الخمر و یسمیہ بغیر اسمہ ، ص ۹۹۲، نمبر ۵۵۹۰)
ترجمہ ۔ خدا کی قسم مجھ سے جھوٹ نہیں بولا ، میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے آزاد آدمی کو ، ریشم کو ، شراب کو اور بجانے کی چیزکو حلال کر لیں گے
5۔عن ابی امامۃ عن النبی ﷺ قال ان اللہ بعثنی رحمۃ للعالمین و امرنی ان امحق المزامیر و الکنارات ، یعنی برابط و المعازف و الاوثان التی کانت تعبد فی الجاھلیۃ ۔ ( مسند احمد ، حدیث ابی امامۃ باھلی الصدی ،جلد ۳۶، ص ۵۵۱، نمبر ۲۲۲۱۸؍ نمبر ۲۲۳۰۷)
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ مجھ کو اللہ نے دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ، اور اس بات کا حکم دیا کہ ،بانسری ، ڈھول ، ، باجہ ، بجانے کی چیز ، اور بتوں کو مٹا دوں ،زمانہ جاہلیت میں جس کی عبادت کی جاتی تھی

ان احادیث میں ہے کہ مزامیر اور ڈھولک حرام ہیں تو پھر عرس میں یہ گانے اور قوالیاں ، اور یہ دھمال کیسے جائز ہوں گے

گنگنا کر گیت گانا بھی مکروہ ہے

کھیل کود اور لہب و لعب کے وقت جو گنگنا کر گیت گاتے ہیں ، حدیث میں اس کو بھی منع کیا ہے
اس کے لئے حدیث یہ ہے
6۔عن عبد الرحمن بن عوف ۔۔۔و لکنی نھیت عن صوتین احمقین فاجرین ،صوت عند نغمۃ لھو و لعب و مزامیر الشیطان ۔ ( مستدرک للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابہ ، باب ذکر سراری رسول اللہ ﷺ فاولھن ماریۃ القبطیۃ ام ابراہیم ، جلد ۴، ص ۴۳، نمبر ۶۸۲۵)
ترجمہ ۔ مجھ کو دو احمق آواز جو فاجر ہیں ان سے منع کیا گیا ہے لہو و لعب کے وقت میں گنگنانے کی آواز ، اور شیطان کی بانسری کی آواز ۔
اس حدیث میں ہے کہ لہو لعب کے وقت گنگنا کر گانا بھی ٹھیک نہیں ہے
7۔عن جابر بن عبد اللہ ۔۔۔قال : لا ، و لکن نہیت عن صوتین احمقین فاجرین صوت عند مصیبۃ خمش وجوہ وشق جیوب و رنۃ شیطان ۔ ( ترمذی شریف ، کتاب الجنائز ، باب ما جاء فی الرخصۃ فی البکاء علی المیت ، ص ۲۴۳، نمبر ۱۰۰۵)
ترجمہ ۔ ہم کو دو احمق فاجر آواز سے روکا گیا ہے ، ایک ایسی عورت جس نے مصیبت کے وقت چہرہ زخمی کر لیا ہو ، کپڑے پھاڑ لیا ہو اس عورت کی آواز، اور دوسرا شیطان کا گنگنانا ۔
ان دونوں حدیثوں میں ہے کہ گانے کے طور پر گانا حدیث میں ممنوع ہے
اس لئے مزاروں پر ڈھول اور طبلے کے ساتھ جو گاتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے
اب تو عرس میں لڑکیاں بھی قوالی گانے کے لئے آنے لگی ہیں
ان احادیث سے کچھ حضرات قوالی کے جواز پر استدلال کرتے ہیں

کچھ حضرات نیچے والی حدیث کی وجہ سے قوالی کے جواز پر استدلال کرتے ہیں
یہ استدلال اس لئے ٹھیک نہیں ہے کہ اس میں صرف نظم اور نعت کی شکل ہے ، اور اس میں ڈھول ، طبلہ ،سارنگی بالکل نہیں تھے ، اور قوالی میں یہ سارے دھمال ہوتے ہیں تو وہ کیسے جائز ہو جائے گی
حدیث یہ ہے
8۔عن سعید بن المسیب قال: مر عمر فی المسجد و حسان ینشد فقال کنت انشد فیہ و فیہ من ھو خیر منک ثم التفت الی ابی ھریرۃ فقال انشدک باللہ أسمعت رسول اللہ ﷺ یقول ، اجب عنی اللھم ایدہ بروح القدوس ؟ قال نعم ۔ ( بخاری شریف ، کتاب بدء الخلق ، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللہ علیھم ۔ ص ۵۳۷، نمبر ۳۲۱۲؍ مسلم شریف ، کتاب فضائل صحابۃ ، باب فضائل حسان بن ثابتؓ ، ص۱۰۹۴، نمبر۲۴۸۵، نمبر۶۳۸۴)
ترجمہ ۔ حضرت عمر ؓ مسجد سے گزرے ، اور حضرت حسان بن ثابتؓ شعر کہہ رہے تھے [ شاید حضرت عمر کو یہ ناگوار گزرا ] تو حضرت حسان نے فرمایا کہ ، تم سے جو بہتر تھے یعنی حضور ؐ ان کے سامنے میں شعر پڑھتارہا ہوں ، پھر حضرت ابو ہریرہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے ، اور کہا کہ میں تم کو اللہ کی قسم دیکر کہتا ہوں کہ ، کیا تم نے حضور ؐ سے یہ فرماتے سنا تھا کہ ، میری جانب سے قریش کو جواب دو ، آے اللہ حضرت جبرئیل ؑ کے ذریعہ سے ان کی [ یعنی حسان ] کی مدد کر ، تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا کہ ، ہاں میں نے حضور ؐ سے سنا تھا ۔
اس حدیث میں نظم پڑھنے کا ذکر تو ہے ، لیکن اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اس کو ناپسند فرمایا ، اسی وجہ سے حضرت حسانؓ کو حضرت ابو ہریرہؓ کی گواہی لینی پڑی ، اس لئے نظم پڑھنا اتنا اچھا نہیں ہے
9۔عن عائشۃ قالت :قال حسان یا رسول اللہ ﷺ ائذن لی فی ابی سفیان ، قال کیف بقرابتی منہ ؟ قال و الذی اکرمک لاسلنک منھم کما تسل الشعراۃ من الخمیر فقال حسان
ع و ان سنام المجد من آل ھاشم ۔ الخ
( مسلم شریف ، کتاب فضائل صحابۃ ، باب فضائل حسان بن ثابتؓ ، ص۱۰۹۵، نمبر۲۴۸۹، نمبر۶۳۹۳)
ترجمہ ۔ حضرت حسان ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ابو سفیانؓ کی ہجو کرنے کی مجھے اجازت دیجئے ؟ تو حضور ؐ نے فرمایا کہ وہ تو میرے رشتہ دار ہیں تو اس کی ہجو کیسے کریں گے ، تو حضرت حسانؓ نے فرمایا کہ ، جس خدا نے آپ کو عزت دی ہے ، جس طرح آٹے سے بال کو نکالتے ہیں اس طرح میں آپ کو ان کی ہجو سے نکال دوں گا ، پھر آگے لمبا قصیدہ پڑھا جس کا ایک مصرع یہ ہے
ع و ان سنام المجد من آل ھاشم ۔ الخ
اس حدیث میں حضرت حسانؓ کو حضور نے نظم پڑھنے کی اجازت دی ہے

10۔عن عائشۃ ان ابا ابو بکر دخل علیھاو عندھا جاریتان فی ایام منی تدفقان و تضربان ، و النبی ﷺ متغش بثوبہ فانتھرھما ابو بکر فکشف النبی ﷺ عن وجھہ و قال دعھما یا ابا بکر فانھا ایام عید ، و تلک الایام ایام منی ۔ ( بخاری شریف ، کتاب العیدین ، باب اذا فاتہ العید یصلی رکعتین ، ص ۱۵۹، نمبر ۹۸۷؍ مسلم شریف ، کتاب صلاۃ العید ، باب الرخصۃ فی اللعب الذی لا معصیۃ فیہ فی ایام العید ، ص ۳۵۶، نمبر ۸۹۲، نمنر ۲۰۶۱)
ترجمہ ۔حضرت ابو بکرؓ داخل ہوئے ، یہ منی کا زمانہ تھا ، اس وقت دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں ، اور حضور ؐ پر کپڑا ڈھکا ہوا تھا ، تو حضرت ابو بکر ؓ نے ان دونوں لڑکیوں کو ڈانٹا ، تو حضور ؐ نے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا : ابو بکر انکو چھوڑ دو ، یہ عید کا دن ہے ، اور یہ زمانہ منی کا زمانہ تھا
ان احادیث میں ہے کہ کچھ اشعار بھی پڑھ سکتے ہیں اور بغیر جلاجل کے دف بھی بجا سکتے ہیں
لیکن حدیث میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کوا تنا بھی پسند نہیں تھا ، اسی لئے حضرت ابو بکرؓ نے روکا ، لیکن چونکہ عید کا دن تھا ، اور چھوٹی چھوٹی بچیاں تھیں تو حضور ؐ نے تھوڑی سی گنجائش دے دی
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ علماء کے جلسوں میں طلبہ نظم پڑھتے ہیں ، نعت پڑھتے ہیں ، اور اس میں کوئی دف وغیر ہ نہیں ہوتا نہ تالی بجائی جاتی ہے ، نہ جھومنا ہوتا ہے ،تو اتنا سا حدیث سے جائز ہے
بزرگان دین اور مشائخ بھی ذکر و اذکار کرکے تھک جاتے تھے تو تفریح کے لئے کبھی کبھار نظم سن لیتے تھے جو حدیث کے مطابق جائز ہے
بعد کے لوگوں نے اپنی روزی کمانے کے لئے اسی کو سماع بنایا ، اسی کو قوالی بنائی ، اور پھر اس میں سارنگی ڈھول ، طبلہ سب کچھ ونے لگاجنکو حدیث اور آیت میں سختی سے منع کیا تھا پھر وہ سارے دھمال کئے جس سے ہندوں کے میلے شرما گئے ، فیا للاسف ۔
ایک بات یہ بھی سمجھنے کی ہے کہ حدیث میں جوتھوڑی بہت گیت تھی وہ خوشی کے موقع پر گائی گئی تھی ، یا بزرگوں نے جو سماع کیا تھا وہ اپنی خانقاہوں میں کی تھی، اور قوالی تو ڈھول اور طبلہ پر گائی جاتی ہے ، حالانکہ یہ جگہ غم کرنے کی ہے ، اور آخرت کو یاد کرنے کی جگہ ہے ، یہاں گیت اور قوالی کو گانے کا جوڑ بالکل سمجھ میں نہیں آتا ، یہ تو مندروں میں مرتیوں کے سامنے بھجن گانے جیسا ہو گیا۔
۔ آپ اس نکتہ پر غور کریں

اس عقیدے کے بارے میں 2 آیتیں اور 10 حدیثیں ہیں ، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں۔
ہندو اپنے بزرگوں کی مندر وں کے پاس میلہ لگاتے ہیں
ہندو لوگ ہر سال اپنے بزرگوں کی مندروں کے پاس میلہ لگاتے ہیں ، اس پر گاتے اور بجاتے ہیں ، اس سے مانگتے ہیں ، اس کی پوجا کرتے ہیں ، ان کے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں ، اور سجدہ کرتے ہیں ، جو شرک ہے
قبر پر عرس اسی کی مشابہ ہے ، اس لئے اس کو نہیں کرنا چاہئے ۔
اس نکتہ پر غور کریں

Facebook Comments

POST A COMMENT.