غزل

 پریم ناتھ بسملؔمرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہاررابطہ۔8340505230
  تنہائی کی رات عجب ہے
 آنکھوں میں برسات عجب ہے
  دل کو تم نے توڑ دیا کیوں 
اے ساتھی یہ بات عجب ہے 
خاموشی کو توڑ دو ساتھی 
اس دل میں جذبات عجب ہے 
ساون برسا، رات ہے تنہا 
بوندوں کے نغمات عجب ہے 
ہمدم ہم سے جیت گیا تو 
ہم نے کھائی مات عجب ہے 
سچی لگتی جھوٹ ہے تیری
 تیری تو ہر بات عجب ہے
 دل کو لے کر درد دیا کیوں 
یہ کیسی سوغات عجب ہے
 اک دھرتی اور ایک ہے انساں
 لیکن سب کی بات عجب ہے 
ہر پل اپنا روپ بدلتا
  انسانوں کی ذات عجب ہے 
بسملؔ کیسا روگ لگایا
 حرکات وسکنات عجب ہے
 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں