غزل

Views: 29
Spread the love
Avantgardia

 پریم ناتھ بسملؔمرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہار

کاش یہ دم نکل گیا ہوتا

تو نہ مجھ سے صنم جدا ہوتا

ہر گھڑی لطف اک نیا ہوتا

تم جو ہوتے تو کیا مزہ ہوتا

میری آنکھوں میں تو بسا ہوتا

میں تیرا آئینہ بنا ہوتا 

چاندنی رات، پیار کی باتیں

 ہر طرف پیار کا سما ہوتا

 تم جو شرما کے منہ چھپا لیتے

چاند بادل میں آ گیا ہوتا 

مسکرا کر جو دیکھتے ہمدم 

دن کا سورج نکل رہا ہوتا 

تیرے ہونے سے تھا جہاں روشن 

تو جو ہوتا تو گھر سجا ہوتا

نفرت و فتنہ و فساد نہیں 

یہ جہاں پیار سے بھرا ہوتا

 روٹھتے تم تو میں منا لیتا

 تیرے قدموں میں سر دیا ہوتا

 جو نہ ہم پوجتے صنم بسملؔ

 ہم سے برہم نہ یوں خدا ہوتا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart