زبان و ادب

غزل

احمد حسین محرمؔ دربھنگوی

ہوں باغ محبت میں مگر خار سے ہٹ کے
کہتا ہوں غزل میں لب و رخسار سے ہٹ کے
سائے کے طلب گار سنو، بات ہماری
بیٹھو گے مگر ظلم کی دیوار سے ہٹ کے
ائے تاجران حسن مرا عذر ہو قبول
لے جاؤ مجھے مصر کے بازار سے ہٹ کے
طوفان بلا خیز تو چلتا ہے چلا کر
چلیو مگر، ان گیسوئے خم دار سے ہٹ کے
پتوار تری جرات و ہمت پہ میں نثار
لے جاؤ مری کشتی کو منجھدھار سے ہٹ کے
ارباب حکومت نہ دو تم شہر کو دھمکی
گھر اپنا بساؤں گا سنسار سے ہٹ کے
شاہوں کی سواری سے کوئی جاکے یہ کہہ دے
گذرے اگر تو محرمؔ لاچار سے ہٹ کے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close