غلام کب بنایا جا سکتا ہے

Views: 20
Spread the love
Avantgardia

مولانا ثمیر الدین قاسمی چئیرمین ہلال کمیٹی لندن

ہر آدمی کو غلام یا باندی نہیں بنایا جاتا ہے ، بلکہ جو آدمی جہاد کے میدان میں لڑتے ہوئے پکڑا جائے ، صرف اس کو غلام یا باندی بنا جاتا ہے ،اس کے علاوہ جو آدمی اپنے گھر پر ہو ، کاشتکاری کرتا ہو ، یا کوئی کام کرتا ہو ، وہ جنگ میں باضابطہ شریک نہ ہو انکو غلام یا باندی بنا نا حرام ہے ، وہ آزا د ہیں ۔

غلام یا باندی بنانے کی وجہ ۔
میدان جنگ میں آدمی پکڑا جائے تو اب اس کی چار صورتیں ۔
[۱] ان قیدیوں کو قتل کر دیا ۔ یہ صورت بہت سے لوگ اچھا نہیں سمجھتے ہیں ، کیونکہ مجبور قیدیوں کو قتل کرنا اچھانہیں ہے ، اور رحمدلی کے خلاف ہے ۔
[۲] دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو چھوڑ دیا جائے ، یہ صورت بھی ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ اتنی محں ت سے جان کی بازی لگا کر دشمن کو قید کیا اب اس کو چھوڑ دیا یہ کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے ، کیونکہ اس کا بھی قوی خطرہ ہے کہ دوبارہ وہ لوگ جمع ہو جائیں اور مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کریں ۔
[۳] تیسری صورت یہ ہے کہ یہ ہے کہ اس کوزندگی بھر جیل میں ڈالا جائے ، یہ صورت دو باتوں سے اچھی نہیں ہے ، ایک تو یہ قیدی زندگی بھر دیوار کے پیچھے رہے گا ، اور زندگی بھر کوئی فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملے ۔ نہ اس کی شادی بیاہ ہو گی ، اور نہ یہ کھلی فضا میں سانس لے سکے گا ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کا سارا خرچ قوم پر پڑے گا ، اگر دس بیس ہزار قیدی ہو جائیں تو اس کا کتنا خرچ زندگی بھر کے لئے مسلمانوں پر پڑ جائے ، اور اس سے قوم کنگال ہو سکتی ہے ۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ جیل کے لئے لمبی چوڑی عمارت بنا نا آسان کام نہیں ہے ۔ اور چوتھی بات یہ ہے کہ پرانے زمانے میں جیل کا نظام تھا بھی نہیں ، ۔
[۴] اب چوتھی صورت یہ ہے کہ قیدیوں کو مجاہدین کے درمیان تقسیم کر دیا جائے ، وہ اس سے کام لے ، اور اس کو کھلائے ، پلائے ، کپڑا دے اور بہت آسان انداز میں رکھے ، نہ اس پر زیادہ بوجھ ڈالے ، نہ اس سے زیادہ کام لے ، اور نہ کھانے پینے میں کمی کرے ، بلکہ کوشش کرے کہ اس کی شادی بیاہ بھی کرائے ، اور اس کی فیملی کو بھی بسائے ۔
یہ چوتھی صورت مجبوری کے درجے میں اختیار کی گئی ہے ، کیونکہ قیدیوں کے لئے اس سے بہتر راستہ کوئی اور نہیں ہے ۔
یہ صورت اسلام سے پہلے سے اارہا تھا ۔، اس لئے اسلام نے اس کو برقرار رکھا ، لیکن اس کو بہت آسان بنایا ۔
[۱] اسلام آنے سے پہلے ہر کسی آدمی کو غلام بنا لیا جاتا تھا ، اسلام نے یہ شرط لگائی کہ صرف جنگ میں شریک ہونے والے کو ہی غلام بنا یا جا سکتا ہے ، جو میدان جنگ سے باہر ہو اس کو ہر گز ہر گز غلام نہیں بنا جا سکتا ہے ۔
[۲] اسلام سے پہلے غلاموں کے لئے کوئی حقوق نہیں تھے ، اسلام نے بڑی سختی سے اس کا پابند بنایا کہ وسعت سے زیادہ کام نہ لیا جائے ، اور کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی چیزیں ہیں اس کو ضرور دی جائے ، ورنہ وہ گناہ گار ہو گا ۔ یہاں تک کہ غلام اور باندی کی شادی بیاہ کرانے پر بھی زور دیا ، اور یہاں تک فرمایا کہ غلام یا باندی حرام کاری میں مبتلاء ہوں گے تو اس کا گناہ اس کے مالک کو ہو گا ۔

غلام کو آزاد کرنے پر اسلام نے بہت زور دیا ہے
غلام اور باندی کے آزاد کرنے پر اسلام نے بہت زور دیا ، تاکہ زیادہ سے زیادہ غلام آزاد ہو جائیں ۔ جتنے بھی کفارے تھے سب میں سب سے پہلے کفارہ غلام کو آزاد کرنے کے لئے بتایا ، ایک ادنی کام ہے قسم کھانا ، اس میں بھی فرمایا کہ اس کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ، اس کے بعد کسی اور کفارے کا ذکر ہے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ غلام آزاد ہو جائیں

قتل کا کفارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غلام آزاد کریں
روزہ توڑنے کا کفاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غلام آزاد کریں
قسم کا کفاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غلام آزاد کریں
بیوی سے ظہار کریں تو اس کا کفارہ ۔۔۔۔غلام آزاد کریں
سورج گرہن کے وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔غلام آزاد کریں
عام حالت میں بھی۔۔۔۔۔۔. غلام آزاد کریں تاکہ اس کا بہت ثواب ملے
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام سے پہلے مکے میں کافی غلام تھے ، اور اسلام آنے کے بعد اس میں سے اکثر غلام اور باندی آزاد ہو گئے ۔

غلام آزاد کرنے کے لئے آیتیں یہ ہیں
ان آیتوں میں غلام اور باندی کو آزاد کرنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے ۔
ٍفک رقبۃ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ ( آیت ۱۳، سورت البلد۹۰)
و من قتل مومنا خطأفتحریر رقبۃ مومنۃ ۔ ( آیت ۹۲، سورت النساء ۴)
لا یواخذ کم اللہ باللغو فی ایمانکم و لکن یواخذکم بما عقدتم الایمان فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین من اوسط ما تطعمون اہلیکم او کسوتہم او تحریر رقبۃ ۔ ( آیت ۸۹، سورت المائدۃ ۵)
و الذین یظاہرون من نساۂم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبۃ ۔ ( آیت ۳، سورت المجادلۃ ۵۸)
و المساکین و ابن السبیل و السائلین و فی ارقاب ( آیت ۱۷۷، سورت البقرۃ ۲)
و العاملین علیھا و المولفۃ قلوبھم و فی الرقاب ۔ ( آیت ۶۰، سورت التوبۃ ۹ )
اس کی بھی ترغیب دی کہ جو خود کھاؤ وہی غلام کو کھلاؤ، اور جو خود پہنو، وہی غلام کو پہناؤ، چنانچہ حضرت ابو زرؓ نے اس پر ایسا عمل کیا کہ دو رنگ کا حلہ تھا ، [ لنگی ، اور چادر ] تو ایک رنگ کی لنگی غلام کو دیا اور دوسرے رنگ کی چادر غلام کو دیا ، اور خود مالک نے پہلے رنگ کی چادر اوڑھی اور دوسرے رنگ کی لنگی پہنی ، اور لوگوں کے پوچھنے پر بتایا کہ یہ اس لئے کیا تاکہ آقا اور غلام میں برابری ہو جائے ، کیونکہ حضور ؐ نے برابری کا حکم دیا ۔
اس لئے یہ کہنا کہ غلام اور باندی بنانا بہت برا کام ہے ، جو اسلام میں جائز ہے ، یہ صحیح نہیں ، بلکہ اسلام نے ایک بہت بڑے مصلحت کے تحت اس کو جائز رکھا ہے ، اور اس میں بہت سی اصلاحات کیءں ، بلکہ آدمی کو آزاد کرنے کے لئے بھر پور ترغیب دی ، یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں کوئی غلام ، یا باندی نہیں ہے ،

آج کے عربوں کا بعض رویہ غلط ہے
اور یہ جو عرب کے بعض ملکوں غلام یا باندی بنا کر بیچتے ہیں ، یہ غلط کر رہے ہیں ، یہ لوگ غلام یا باندی نہیں ہیں ، بلکہ زبر دستی کر کے آزاد آدمی کو بیچتے ہیں ، جو اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے ۔
سمعت المعرور بن سوید قال رأیت ابا ذر الغفاریؓ وعلیہ حلۃ و علی غلامہ حلۃ فسألناہ عن ذالک فقال انی سببت رجلا فشکانی الی النبی ﷺ فقال النبی ﷺ أعیرتہ بامہ ؟ثم قال ان اخوانکم خولکم جعلہم اللہ تحت ایدیکم فمن کان اخوہ تحت یدہ فلیطعمہ مما یأکل و لیلبسہ مما یلبس و لا یکلفوہم ما یغلبہم ، فان کلفتموہم ما یغلبہم فأعینوہم ۔ ( بخاری شریف ، کتاب العتق، باب قول النبی ﷺ العبید اخوانکم فاطعموہم مما تأکلون ، ص ۴۱۱، نمبر ۲۵۴۵؍ مسلم شریف ، نمبر ۱۶۶۱؍۴۳۱۳) اس حدیث میں ہے کہ جو تم کھاتے ہو وہ غلام کو کھلاؤ، اور جو تم پہنتے ہو وہ غلام کو پہناؤ ، اور طاقت سے زیادہ اس کو کام نہ دو ، اور اگر کبھی طاقت سے زیادہ کام دے دیا ، تو اس کی اس میں مدد کرو ۔ اتنا بڑا اخلاق کوئی پیش کر سکتا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart