فرائض منصبی سے مستقلاً دستبرداری

سپریم کورٹ کے احکامات سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ریاستی حکومتیں و سیاسی جماعتیں جو عوام کے سامنے تقریر کرتے ہیں وہ کشمیریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں

ترجمہ و تلخیص اداریہ انڈین ایکسپریس : جناب محمد بہاو الدین صاحب ایڈوکیٹ

عام طور پر یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ شہریوں کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ لیکن سپریم کورٹ میں داخل کردہ ایک درخواست جس کے ذریعہ سے کشمیریوں کے تحفظ کے لئے ملک بھر کی 11 ریاستوں میں تحفظ فراہم کیا جائے۔ عدالت نے دلی پولیس کمشنر اور چیف سیکریٹریوں اور تمام ڈی جی پیز بشمول جموں و کشمیر، اترکھنڈ، ہریانہ، اترپردیش، بہار، میگھالیہ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، پنجاب اور مہاراشٹر کو ہدایت کی کہ وہ تمام ضروری کارروائی کریں او راس بات کی ضمانت دیں کہ کشمیری شہریوں اور دیگر اقلیتوں کو تحفظ فراہم ہو۔ عدالت عظمیٰ کی بنچ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیر قیادت نے ان حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ’’ فوری اور ضروری کارروائی کی جاکر کشمیریوں اور دیگر اقلیتوں پر کی جانے والی دھمکی، مارپیٹ، سوشل بائیکاٹ کی روک تھام کی جائے۔‘‘ اس طرح یہ ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔ لیکن اس کے لئے بھی یاددہانی کی خاطر عدالت کو احکام جاری کرنے پڑے۔ ‘‘
پلوامہ کے بدبختانہ واقعہ کے بعد چابک دستی سے کشمیریوں کو حکومت تحفظ نہ دینے کی وجہ سے یہ احکامات جاری کئے ہیں۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ پوری قوم کو معتوب بنانے کا عمل صرف اس لئے کیا جارہا ہے کہ چند معدودے افراد اس میں شامل تھے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے تھا بہت ہی تیزی کے ساتھ پوری کمیونٹی کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی جانی چاہئے تھی۔ باوجود اس کے فروغ انسانی ذرائع وسائل کے وزیر پرکاش جاؤڑیکر نے اعلان کیا کہ پوری کمیونٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جبکہ اطلاعات آرہی ہیں کہ طلبہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور مزدور لوگ کام کرنے کے لئے گئے ہیں انہیں بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس قسم کی اطلاعات میڈیا سے مل رہی ہے۔ حکومتی ادارہ جات نے عوامی طورپر اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ کشمیریوں یا ان کے ورکرس کو داخلہ دیں، جبکہ وہ تمام لوگ خوف و دہشت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ سب سے زیادہ تشدد کا خاتمہ کی مدافعت پولیس کی حرکت و عمل کی وجہ سے ہوئی ہے۔ لیکن اسی وقت میگھالیہ کے گورنر نے ٹوئٹ کیا کہ ملکی سطح پر کشمیریوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کی پیدوار اور کاروبار کا بائیکاٹ کیا جائے۔ یہ ایک جذباتی اپیل کی گئی ہے جو یوروپ کے سیاہ زمانے کی یاد دلاتی ہے۔ جس کی وجہ سے پوری سوسائٹی میں ہیجان پیدا ہوگیا ہے۔ لیکن اس خلفشار کے باوجود حکومت خاموش رہی۔ بہت دیر کے بعد یونین لا منسٹر روی شنکر پرشاد نے اس اپیل کے خلاف بات کی اور اپنے آپ کو اس مخالفت کی حد تک ہی محدود رکھا کہ وہ گورنر سے متفق نہیں ہیں۔ بتدریج نتائج جو شہریوں کے کسی ریاست میں آرہے ہیں جبکہ وہاں پہلے سے ہی کشمیریوں کو حاشیہ پر رکھا گیا ہے۔ اور اب یہ حقیقت ہے کہ اب وہ ناپسندیدہ بن گئے ہیں۔ 
تاریخی طو ر پر سپریم کورٹ کے احکامات کی اجرائی جو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہوتی ہے وہ اس وقت تحفظ کی یقین دہانی کے لئے اجراء ہوئی کہ جس طرح زیردوران مقدمات کے لوگوں کی ماحول کے ذریعہ سے تحفظ کیا جاتا ہے۔ حالانکہ شہریوں کو اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ وہ عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹائے۔ تاکہ کمیونٹی کو تحفظ کا حصول ہو۔ اس میں اضافہ کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن نے بھی اس متنازعہ بیان کے خلاف احتجاج کرنے سے تعجبیہ طور پر دور ہی رہی۔ یعنی وہ بھی اپنے فرائض منصبی میں ناکام رہی۔ جبکہ یہ اس کے فرائض میں شامل ہے کہ جب کبھی حکومت لڑکھڑاتی ہے اس وقت وہ اپنا اہم رول نبھائے۔ اس لئے یہ سیاسی جماعتوں کے لئے ایک شرمناک بات ہے کہ وہ اپنی جماعت و نظریات سے بالاتر ہوکر اس کی مذمت کرنے کے بجائے خاموش رہے۔ جبکہ ہجومی تشدد کا خاتمہ غصہ کی شکل میں تبدیل ہوا۔ جو سیکوریٹی عملہ کے قتل کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اور اس طرح یہ داخلی و اندرونی معاملہ صرف ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.