فلاحی تنظیمیں اور خودنمائی

شیخ اکرم، ناندیڑ
Cell:9028167307
فلاحی تنظیموں کی جانب سے وقتاً فوقتاً مستحق افراد میں راشن اور امداد تقسیم کی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے غریبوں کو وقتی طور پر راحت مل جاتی ہے۔ غریبوں کی عادت ہوتی ہے کہ اُن پر کوئی احسان کیا جائے تو وہ ہزار دعائیں دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ ایک حساس دل رکھتے ہیں، اپنے محسن کو فراموش نہیں کرتے۔ غریب لوگ نہ صرف حساس ہوتے ہیں بلکہ مجبور بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ فلاحی تنظیموں کی جانب سے دی جانے والی امداد یا راشن کو حاصل کرنے کے لئے لائن یا مجمع میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اندر ایک شرم محسوس کرتے ہیں۔ کوئی اُن کا قریبی نظر آجائے تو وہ چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ اُسے مجبوری کی حالت میں دوسروں کے سامنے دست دراز کرنا پڑجائے تو اُسے اپنے اندر شرم محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ فلاحی تنظیموں کی جانب سے غریبوں میں راشن تقسیم کرتے وقت لی جانے والی تصاویر میں لینے والوں کے چہرے اور دینے والوں کے چہرے پر الگ الگ تاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تصاویر کو اخبارات اور سوشل میڈیا، واٹس ایپ و فیس بک پر صرف دینے والے ہی ڈالتے ہیں، لینے والے نہیں ڈالتے، اور نہ ہی پسند کرتے ہیں کہ راشن یا امداد لیتے وقت کی تصویر منظر عام پر آئے۔ کیونکہ انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے شرم و حیاء کو ودیعت کردیا ہے۔ میں نے یہ بات ایک فلاحی تنظیم کے ذمہ دار سے کہی تھی۔ جس پر اُن کا جواب تھا کہ آج کل فلاحی تنظیم کو اپنی کارکردگی عوام کے سامنے بتانے کے لئے تصویر لینا ہی پڑتاہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کی بہن کی کوئی فلاحی تنظیم تصویر اُتار کر شائع کرے تو کیا آپ پسند کریں گے؟ تب وہ خاموش ہوگئے۔ اسی طرح ایک اور فلاحی تنظیم کے ذمہ دار سے میں نے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے تو کوئی بہن نہیں ہے۔ میں نے کہا اگر بھائی ہوتا تو؟ تب وہ کافی برہم ہوگئے اور کوئی معقول جواب نہ دے سکے۔ بہرحال مجھے فلاحی تنظیموں سے قطعی اُمید بھی نہیں ہے کہ وہ غریبوں کی غریبی کا مذاق اُڑاتے ہوئے اور اُن کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہوئے فوٹو اُتار کر شائع کرنا بند کریں گے۔ کیونکہ خودنمائی کا جذبہ لوگوں میں ایسا سرایت کرگیا ہے کہ وہ اپنے خودنمائی کے فعل کو دُرست قرار دینے کے لئے کوئی نہ کوئی عذر یا جواز پیش کردیں گے۔ اس لئے میری خصوصاً اخبارات کے مدیران، سوشل میڈیا کے یوزرس اور فلاحی تنظیموں کو چندہ دینے والے اصحاب سے بالترتیب ادباً درخواست ہے کہ اخبار میں فلاحی تنظیموں کی جانب سے دی جانے والی نیوز میں فوٹو شائع نہ کریں اور اگر فوٹو شائع کرنا ضروری ہی ہو تو پھر کم از کم راشن یا امداد لینے والوں کے چہرے کو حذف کردیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جانے والی تصاویر پر مثبت انداز میں کمنٹس کے ذریعہ مذمت کریں۔ اور چندہ دینے والے اصحاب فلاحی تنظیموں سے اس بات کا زبانی عہد لے کہ وہ غریبوں کی غریبی کا مذاق اُڑانے اور اُن کی عزت نفس کو مجروح کرنے والی تصاویر اُتار کر اپنے خودنمائی کے جذبہ کی تسکین نہیں کریں گے۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں