قبر میں جنت و جہنم دکھائی جاتی ہے

مولانا شوکت علی قاسمی صاحب بھاگلپوری
ایک طویل حدیث میں ہے کہ: میت کو دفن کر نے کے بعد قبر میں جنت و جہنم دکھائی جاتی ہے، اور مومن کے لئے جنت کی ایک کھڑکی قبر کی طرف کھول دی جاتی ہے، جب کہ کافر کے لئے قبر میں جہنم کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے، اس سے معلوم ہو تا ہے کہ: جنت و جہنم دونوں موجود ہیں، ورنہ ان کے دکھانے اور کھڑکی کھولنے کے کوئی معنی ہی نہیں رہ جاتے ،یہ حدیث واضح الفاظوں میں بتارہی ہے کہ: جنت وجہنم موجود ہے ، اس میں انکار وتاویل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے ؛پوری حدیث ملاحظہ فرمائیے :
حدیث(۱۷):۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّا قال:اِنَّ المَیِّتَ یَصِیْرُ اِلٰی القَبْرِ فَیَجْلِسُ الرَّجُلُ فِیْ قَبْرِہٖ غَیْرَ فَزِعٍ وَلاَ مَشْغُوْبٍ،ثُمَّ یُقَالُ: فِیْمَ کُنْتَ؟ فَیَقُوْلُ کُنْتُ فِیْ الْاِسْلَامِ،فَیُقَالُ مَا ھٰذَا الرَّجُلُ،فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ،جَاءَ نَا بِالبَیِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ فَصَدَّقْنَاہٗ،فَیُقَالُ لَہٗ:ھَلْ رَأَیْتَ اللّٰہَ؟ فَیَقُوْلُ:مَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ اَنْ یَرٰی اللّٰہَ،فَیُفَرَّجُ لَہٗ فُرْجَۃً قِبَلَ النَّارِ، فَیَنْظُرُ اِلَیْہَا یَحْطِمُ بَعْضُھَا بَعْضَا،فَیُقَالُ لَہٗ اُنْظُرْ اِلٰی مَا وَقَاکَ اللّٰہٗ، ثُمَّ یُفَرَّجُ لَہٗ فُرْجَۃً قِبَلَ الجَنَّۃِ،فَیَنْظُرُ اِلٰی زَھْرَتِھَا وَمَا فِیْھَا فَیُقَالُ لَہٗ، ھٰذا مَقْعَدُکَ عَلٰی الیَقِیْنِ کُنْتَ وَعَلَیْہِ تُبْعَثُ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی،وَیَجْلِسُ الرَّجُلُ السُّوْ ءُ فِیْ قَبْرِہٖ فَزِعاً مَشْغُوْباً، فَیُقَالُ لَہٗ :فِیْمَ کُنْتَ؟ فَیَقُوْلُ لَا اَدْرِیْ، فَیُقَالُ لَہٗ : مَا ھٰذا الرَّجُلُ؟ فَیَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّاسَ یَقُوْلُوْنَ قَوْلاً فَقُلْتُہٗ، فَیُفَرَّجُ لَہٗ فُرْجَۃً قِبَلَ الجَنَّۃِ، فَیَنْظُرُ اِلٰی زَھْرَتِھَا وَمَا فِیْھَا لَہٗ: فَیُقَالُ اُنْظُرْ اِلٰی مَا صَرَفَ اللّٰہُ عَنْکَ ثُمَّ یُفَرَّجُ لَہٗ فُرْجَۃً قِبَل النَّارِ فَیَنْظُرُ اِلَیْہِ یَحْطِمُ بَعْضُھَا بَعْضَا،فَیُقَالُ:لَہٗ ھٰذا مَقْعَدُک عَلٰی الشَّکِّ کُنْتَ وَعَلَیہِ مُتَّ وَعَلَیْہِ تُبْعَثُ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی رواہ ابن ماجہ۔(:۳۱۵،رقم:۴۲۶۸،تھانوی ،مشکوۃ شریف : ۲۶۔۲۷ ،باب اثبات عذاب القبر)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس ا کا ارشاد مروی ہے کہ: جب مردہ قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے، تو (مومن اور نیک)بندہ قبر میں اس طرح اٹھ کر بیٹھتا ہے کہ: اس پر نہ کوئی خوف ہو تا ہے، نہ کسی قسم کی گھبراہٹ، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ :تم (دنیا میں )کس دین پر قائم تھے، وہ کہتا ہے کہ: میں دین اسلام پر تھا،پھر (روضۂ اطہر تک زمین کا حجاب اٹھا کر، حضور اقدس ا کے بارے میں میت سے )پو چھا جاتا ہے کہ: یہ شخص (جو سامنے نظر آرہے ہیں)کون ہے؟ وہ کہتا ہے کہ: اللہ کے رسول محمد مصطفےٰ ا ہیں، جو خداوند ذوالجلال کی طرف سے ہمارے لئے کھلی ہو ئی دلیلیں لے کر آئے ،اور ہم نے ان کی تصدیق کی ،پھر اس میت سے پوچھا جاتا ہے کہ :کیا تو نے اللہ کو دیکھا ہے ؟وہ جواب دیتا ہے کہ:(دنیا میں)خداوند ذو الجلال کو کوئی دیکھ نہیں سکتا،اس سوال و جواب کے بعد اُس کے لئے دوزخ کی طرف ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے، وہ اُدھر دیکھتا ہے تو آگ کے شعلوں کو اِس طرح بھڑکتا ہوا پاتا ہے کہ: گویا اُس کی لپٹیں ایک دوسرے کو کھا رہی ہیں، اور اُس میت سے کہا جاتا ہے کہ: اِس چیز کو دیکھو! جس سے اللہ نے تجھے بچا لیا، پھر اُس کے لئے ایک کھڑکی جنت کی طرف کھول دی جاتی ہے ،جس سے وہ جنت کی چمک دمک رونق اور اُس کی چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے ،تب اُس سے کہا جاتا ہے کہ: یہ تمہارا ٹھکانا ہے ، کیونکہ (تمہارا اعتقاد مضبوط اور اس پر یقین کامل تھا ،)اور اُسی یقین کامل پر تمہاری وفات ہوئی، اور اگر اللہ نے چاہا تو اُسی یقین و اعتقاد کے ساتھ (قیامت کے دن ) تمہیں اٹھایا جائے گا، اور بد کار بندہ اپنی قبر میں خوف زدہ اور گھبرایا ہوا اٹھ کر بیٹھتا ہے،تو اس سے پوچھا جاتا ہے کہ: تو کس دین پر تھا؟ وہ کہتا ہے کہ :میں نہیں جانتا (کہ کس دین پر تھا، )پھر اُس سے (زمین کا حجاب اٹھا کر )حضور اقدس ا کے بارے میں پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہے؟ وہ کہتا ہے (مجھے کچھ معلوم نہیں کون ہے، )میں تو لوگوں کو جو کہتے ہوئے سنتا تھا وہی کہتا تھا، اس کے بعد اس کے لئے بہشت کی جانب ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے، جس سے وہ بہشت کی رونق اور اُس کی چیزوں کو دیکھتا ہے ، پھر اُس سے کہا جاتا ہے اِس چیز کی طرف دیکھو جسے اللہ نے تم سے پھیر لیا ہے ،پھر اس کے لئے دوزخ کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے، جس سے اُس کو یہ نظر آنے لگتا ہے کہ: جہنم کی آگ کے تیز شعلے ایک دوسرے کو کھا رہے ہیں، اس وقت اس سے کہا جاتا ہے کہ :یہ ہے تیرا ٹھکانا اس شک کی بنا پر جس میں تو دنیا میں مبتلا تھا ، اور جس پر تیری موت ہوئی اور اگر اللہ نے چاہا تو تم کو اسی شک کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
خلاصۂ کلام
اِنہیں آیات و روایات کی روشنی میں علماء اہل السنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ: جنت و جہنم پیدا کی جاچکی ہیں، اور فی الحال موجود ہیں، اِن بے شمار آیات و روایات کے ہو تے ہو ئے جنت و جہنم کے موجود و مخلوق ہو نے کا انکار کر نا، اُن کو ناحق سمجھنا اور اُن کے وجود کی شہادت دینے والی آیات و روایات اور نصوص قطعیہ میں غلط قسم کی تاویلات کرنا، سراسر کفر و زندقہ اور بے دینی ہے ، مسلمانوں کا کوئی فرد سوائے معتزلہ کے جنت و جہنم کے مخلوق اور فی الحال موجود ہو نے کا منکر نہیں ہے، اللہ جل شانہ اُنہیں بھی ہدایت اور صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین
محی الدین ابن العربی ؒ کی رائے
البتہ شیخ محی الدین ابن العربی کے بیان کے مطابق ،جنت و جہنم کی تخلیق کے بارے میں تھوڑی سی تفصیل ہے ،موصوف کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ: جنت و جہنم پیدا تو کی جا چکی ہیں مگر اُس کا حال شاہی قلعے کی طرح ہے، جو باہر سے دیکھنے میں تو کامل و مکمل نظر آتے ہیں،مگر شاہی تعمیرات کا کچھ نہ کچھ کام ہمیشہ جاری رہتا ہے ،اِسی طرح جنت و جہنم کو سمجھئے کہ ان کی چاروں طرف سے باؤنڈری کر دی گئی ہے، گیٹ لگا دئے گئے ہیں، باہر سے دیکھنے والا ان کو کامل و مکمل سمجھے گا، مگر اندر تعمیرات کا کام قیامت تک جاری رہے گا، انسان کے اچھے برے اعمال کے اعتبار سے خاص خاص عمارتیں اور چیزیں بنتی رہیں گی، کیونکہ جنت کے بعض محلات، اور جہنم میں بعض سزائیں، انسان کے اچھے برے اعمال ہی کی بنا پر تیار ہو تے ہیں، اس لئے جب تک اعمال کا سلسلہ جاری رہے گا، جنت و جہنم کی تعمیر کا سلسلہ بھی جاری رہے گا، اور اِس طرح یہ سلسلہ دنیا کے ختم پر قیامت کے دن ہی تھمے گا ،بہت سی احادیث میں اس کی صراحت بھی پائی جاتی ہے۔واللہ اعلم
( التعلیق الصبیح: ۶/۳۸۶ ۔۳۸۷)



Facebook Comments

POST A COMMENT.