مادی چاند سے حقیقی چاند تک

Views: 25
Spread the love
Avantgardia

*_*توقیر بدر آزاد*_*راقم نماز فجر اور حسب توفیق تلاوت قرآن کے بعد حسب معمول سیر قدمی کی غرض سے ہریالی پر مشتمل کھیتوں کی طرف نکل جاتا ہے.واپسی پر انٹرنیٹ کے سہارے اردو،ہندی،انگلش و عربی اخبارات کی بھی حسب ضرورت سیر کر لیا کرتا ہے.سو آج 7/9/2019 کو بھی حسب معمول مشہور انگریزی روزنامہ The Hindu پورٹل کھول کر بیٹھ گیا.ٹاپ ہیڈنگ میں جو خبریں تھیں.اس میں سب سے اوپر والی خبر نے توجہ اپنی طرف کھینچ لی.وہ خبر “وکرم چندریان مشن 2” سے متعلق تھی. بفضل اللہ مدرسہ سے قبل اسکول کی پڑھائی اور گزشتہ سال ہوای سفر کا فایدہ کہیے کہ چند اصطلاحات ایسی سامنے آئیں کہ انکا سمجھنا دشوار نہ رہا اور آگے پڑھتا چلا گیا،مثلاSmooth landing پھر Touching down یعنی خلائی بس کا مطلوبہ زمین یا دیگر سیارات کی سطح سے مس ہونا. Roll out یعنی مس ہونے کے بعد لیڈنگ کرتے ہوئے رفتار کم کرکے متعین مقام پر مستقر ہونا اسی کے ساتھ ساتھ ساینسی اصطلاح Trejactory، Altitude وغیرہ پڑھتا ہوا آگے بڑھتا رہا.پڑھتے پڑھتے پتا یہ چلا کہ جو متوقع وقت چاند پر وکرم کے نزول اور استقرار کا طے تھا،وہ سبھی زمین پر بیٹھے ISRO کے ذمہ داران ریاضی کے فارمولے کے مطابق رات ایک بجے سے ہی کیلکولیشن کرکے اپنے اپنے کمپیوٹر پر دیکھ اور بتارہے تھے.ایک قدردان کی زبانی معلوم ہوا کہ رات میں پل پل کی خبر الیکٹرانک میڈیا دکھا دکھا کر سبھی کو جگایے ہویے تھا.دیکھنے والا ہر کویی جوش میں تھا مگر صبح ہوتے ہوتے خبر یہ پھیلی کہ “وکرم لینڈر کا رابطہ ISRO سے منقطع”مطلب اب کیا ہورہا ہے اور ہوگا اسکی جانکاری نہیں دی جاسکتی.فیس بک آن کرنے پر تبصرہ کرنے والوں کے الگ الگ تاثرات بھی سوشل میڈیا پر پڑھنے کو ملے.کسی نے کہا “اتنی ساری لاگت گیی بیکار” تو کسی نے کہا “ہمت نہ ہاریں کوشش جاری رہے”! پی ایم صاحب کے ٹیوٹر ہینڈل سے بھی کل اور آج صبح ٹیوٹ کیے گیے، وہاں بھی انگلش و ہندی کے قارئین ایک سے جواب اور جواب الجواب پڑھ سکتے ہیں. بقول” The Hindu” خود ملک کے پی ایم نے پہنچ کر سبھی سائنسدانوں کی ڈھارس بندھائی اور سبھی سے کہا “بہادری کا ثبوت دیں” یعنی ہمت ہاریں نہیں!…حسب توقع اور بہت ساری باتیں، وہاں جاکر انکی زبانی پڑھی جا سکتی ہیں.الغرض اس طرح کی باتیں سن کر ہر کویی اداس ہوتا دکھایی دیا.کسی کے چہرے پر خوشی کے کویی آثار نہیں!یوں اسکو لیکر سبھی پرجوش کے ہوش پر گویا أوس پڑگیا…خیر راقم کی دعا یہی ہے کہ نفع ناس و نفع انسانیت پر مبنی کام پر لگے بھڑے سبھی قابل سائنسدانوں اور محنت کش کی محنت کو رب کریم بار یاب کرے آمین!لأنہ ھو فعال لما یرید! ___________________اس مادی چاند کی خبر کو پڑھنے کے بعد ذہن کے اسکرین پر فورا سورہ قمر کی آیات چلتی پھرتی محسوس ہوئیں،جنکے اندر اس اصلی چاند کا تذکرہ ہے جس کی چمک سے آج تک تاریکی پناہ مانگتی ہے!اسی کے ساتھ ساتھ شق القمر کا معجزہ تصورات کی دنیا میں اسکی پرزور تصدیق کرتا سنای دینے لگا.کیونکہ بقول شاعر :چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہوگیاکیوں کہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمال یار کاایسا لگ رہا تھا کہ آقا صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے انکے دشمن کا چیلنج اور رب کریم کا انکے ہاتھوں بلکہ انگلی کے اشارے اسی چاند کا دو ٹکرے ہونا،مخالفین کا یہ سب دیکھ دانتوں تلے انگلیاں دبانا،قرآن کریم کا اس پر ابدی صداقت کا مہر لگانا،ساڑھے چودہ سو سال سے لیکر قیام قیامت تک اسکا موضوع تحقیق بننا،فکر سلیم سے لیس انسان کا اس واقعے کے انجام پر ایمان سے سرفراز ہونا،سفر معراج پر اس چاند کا آقا صلی اللہ علیہ و سلم کے عروج کا گواہ بننا،اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم آگے بہت آگے اونچے بہت اونچے، بلند اور بلند تر،جبکہ چاند آپ سے پیچھے بہت پیچھے،نیچے بہت نیچے فرو اور فروتر یہ سبھی کچھ سراپا مجسم بن کر سامنے کھڑا ہوا ہے. سچ پوچھیے آج پھر سے یہ محسوس ہوا کہ اسلام کا حرف “الف”اگر ایک طرف رب واحد کی تعلیم دیکر ہمیں شرف حقیقی بخشتا ہے تو دوسری طرف ہمیں کاینات میں پھیلی ساری چیزوں کو مسخر کرکے اسے اپنی اطاعت و زیر خدمت کرنے کا حوصلہ دیتا ہے،نہ کہ اسکے سامنے سرجھکا کر مجسمہ توہین انسانیت بننے کی سیکھ دیتا ہےحسِّ مطالعہ و مشاہدہ نے ایک طرف یہ کہکر چونکایا کہ یوں تو قبل اسلام ملک عزیز میں باشندگان ملک،کاینات اور مظاہر کاینات کے سامنے انہیں دیوتا و دیو پیکر جانکر جھکتے رہے، مگر جب اسلام آیا، اپنے قابل و مجاہد داعیوں کی جلو میں یہاں فروکش ہوا توان کو اپنی قابلیت و ذہانت سے ان مظاہر کو مسخر کرکے اپنی خدمت و تحقیق کے میدان بنانے کا غیر شعوری حوصلہ و درس دیا!تو دوسری طرف دل حساس نے یہ کہکر عار دلایا کاش تم مسلم قوم آج بھی پھر اسی نظری و عملی برتری کے ساتھ ہر میدان میں تبلیغ کا فریضہ اسی طرح انجام دیتے اور یہ قابلیت و جرأت تم میں نظر آتی! جبھی اچانک محسوس ہوا اگلا حرف سین یوں گویا ہے،اسلام کا حرف “س” دنیا بھر میں سلامتی کا ہمیں راہبر بننے کہتا ہے.اس کے بعد “لام” لاکھوں کروڑوں سلام آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ عقیدت میں پیش کرنے کی تلقین کرتا ہے تو”الف” رب کریم کو ایک جاننے اور ماننے کے ساتھ ساتھ اسکی اطاعت کی بھرپور نصیحت کرتا ہے،جبکہ حرف “م” محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ہر آن و ہر گام اتباع اتباع اور اتباع کی تذکیر کرتا ہے.کیونکہ ایک یہی تو ذات اقدس ہے جسکے حقیقی، فکری و عملی وفادار ہوکر ہم سبھی کچھ کھوکر پھر سے دوبارہ پاسکتے ہیں.اقبال رح نے اسی تاریخ، تجزیہ،حوصلہ،فلسفہ اور ربانی وعدہ کو اپنے اس مشہور شعر میں یاد دلایا ہے. کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں کیا چیز ہے لوح و قلم تیرے ہیں بلغ العلی بکماله =كشف الدجى بجماله! حسنت جمیع خصاله=صلوا عليه و آله! __________________*ڈایریکٹرالمرکزالعلمی للافتاء والتحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار انڈیا+918789554895+919122381549

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart