محبت روح کی خشبو ہے

Views: 50
Avantgardia

تحریر؛ فیاض احمد صدیقی؛

انسان فطری طور پر محبت پسند ہے اور دنیا کا کوئی بھی مزہب نفرت کی تعلیم نہیں دیتا، لیکن کچھ برس سے ملک میں نفرت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے، جس نے انسانیت کو اپنی زد میں لے رکھا ہے، جس جانب نظر دوڑا ئیں نفرت کے لاوے پھوٹ رہے ہیں، جس میں ہزاروں سال پرانے آپسی رشتے جل کر راکھ ہوتے چلے جارہے ہیں، جس میں پورا سماج اپا ہج ہوتا چلا جا رہا ہے، جبکہ ملک کی اکثریت ہندو اور مسلمان آپسی محبت اور بھائی چارہ سے رہنا چاہتے ہیں، لیکن کچھ شرپسند عناصر جو مزہب یا ذات کے نام پر فرقہ پرستی اور تشدد و نفرت کی دیوار کھڑی کر رہے ہیں، ان کا نہ مزہب سے کوئی تعلق ہے اور نہ ملک سے. ایسے لوگ مزہب اور تعلیم یافتہ سماج کی پیشانی کا بدنما داغ ہوتے ہیں، کوئی بھی مزہب یا مہزب معاشرہ ظلم اور آپسی عداوت کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ بھائی چارے. آپسی میل جول. رواداری اور ایک دوسرے کے جزبات کا احترام اور امن و سکون قائم کرنے کا حکم دیتا ہے، انسان دنیا میں محبت کا پیغام پھلانے آیا ہے، نفرت کا نہیں. ملک کی ترقی اور خوشحالی جمہوریت کی بقا کے ساتھ ہی ممکن ہے. محبت روح کی خشبو ہے اور نفرت دل کا کوڑھ ہے. دنیا کا ہر مزہب نفرت کی دیواریں گرانے کے لیے تعلیمات لے کر انسان کو انسان سے قریب کرنے کی تدبیر لے کر آیا، لیکن مٹھی بھر لوگ جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے نفرت کو ہوا دیتے ہیں، ہندو مسلمان کی بات کر کے اشتعال انگیز بیان دے کر سماج میں نفرت کا زہر بوتے ہیں، ایسے لوگ نہ اپنے مزہب کے پیروکار ہوتے ہیں اور نہ ملک کے ہمدرد ہوتے ہیں، وہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور ذات و مزہب کی بنیاد پر اپنی سیاسی عمارت کھڑی کرنا چاہتے ہیں اور انسانیت کا خون کر کے اپنی کرسی مضبوط کرنا چاہتے ہیں، ایسے لوگوں سے سماج کو باخبر رہنے کی ضرورت ہے :؛ :

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart