محرم میں شادی سے متعلق نحوست کا بے بنیاد نظریہ:

Views: 104
Spread the love
Avantgardia

🖋عبدالرحمن الخبیرقاسمی بستوی(رکن عاملہ کل ہندتنظیم ابنائےثاقب)محترم قارئین کرام!ہمارے معاشرے میں ماه محرم، صفر ، شوال اور ذوالقعدہ میں نکاح کرنے کو معیوب اور غلط سمجھا جاتا ہے بلکہ ان مہینوں میں نکاح کرنے کو نحوست کا باعث قرار دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نکاح کی تاریخ کے کرنے سے پہلے باقاعدہ ان مہینوں پر نظر رکھی جاتی ہے کہ اگر کہیں ان مہینوں میں نکاح کی تاریخ آرہی ہو تو بد فالی اور بد شگونی لیتے ہوئے اسے تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ “نحوست” سے حفاظت ہو سکے اور شادی کامیاب رہے۔مہینوں کو “منحوس” قرار دینے کے معاملے میں علاقوں اور قوموں کے نظریات بھی مختلف ہیں کہ مختلف قومیں مختلف مہینوں کو “منحوس” قرار دیتی ہیں۔ خصوصاً بہت سے علاقوں میں یہ افسوس ناک صورتحال ماهِ محرم سے متعلق بکثرت دیکھنے کو ملتی ہے کہ ماہِ محرم کی “نحوست” سے بچنے کے لئے اور ذوالحجہ ہی میں شادی بیاہ منعقد کرانے پر بہت زور دیا جاتا ہے حتی کہ ذوالحجہ کے آخر میں شادیوں کی بہتات کا یہ عالم ہوتا ہے کہ علاقے بھر میں جگہ جگہ شادی بیاہ کی تقریبات دکھائی دیتی ہیں، اور عموماً اس کی وجہ بھی صرف یہی ہوتی ہے کہ کہیں ماه محرم نہ آجائے اور اس کی “نحوست” ہماری شادی خانہ آبادی کو متاثر نہ کر دے-ایسے بے بنیاد نظریات و توہُمّات میں عموماً خواتین زیادہ مبتلا ہوتی ہیں، اس لیے اس معاملے میں بھی مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ دخل اندازی اور اصرار کرتی ہیں اور بھر پور کوشش کرتی ہیں کہ نکاح کی تاریخ ان “نحوست” والے مہینوں میں نہ آنے پائے۔ واضح رہے کہ ایسے معاملات میں خواتین کو مکمل اختیار دےدینا عموماً دنیوی اور اخروی خسارے کا باعث بن جاتا ہے۔ اس لئے ایسے امور میں خواتین کو حکمت و بصیرت سے سمجھانا چاہیے، لیکن اگر وہ سمجھانے کے باوجود بھی وہ غیر شرعی باتوں پر اصرار کریں تو ان کی بات ہر گز تسلیم نہ کی جائے بلکہ شادی دینی تعلیمات کے مطابق ہی سرانجام دی جائے۔ افسوس کہ آج کا مسلمان دین اسلام کی تعلیمات سے کس قدر بے خبر ہے اور کس قدر بے بنیاد نظریات و توہمات کا شکار ہے !!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart