مسلمان خاندانی اور برادری اونچ نیچ کو ختم کریں اور تقوی کی بنیاد پر نکاح کریں

Views: 29
Avantgardia

جامع مسجد نظام آباد میں حضرت مولانا سید محمد طلحہ قاسمی صاحب نقشبندی مجددی کا فکر انگیز خطاب

ناقل …………………عبدالقیوم شاکرالقاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نظام آباد  9505057866

       خطبہ نکاح میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن آیات کریمہ کا انتخاب فرمایا ہے، ان سب کا تعلق تقوی سے ہے، حالانکہ ان آیات کا سیاق وسباق بالکل الگ اور جداگانہ، ان کا پس منظر ان کا شان نزول سب کچھ علیحدہ تو غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ نکاح کے موقع پر زوجین کو بطور خاص تقوی والی زندگی پر آمادہ کرنا ہے، عرب میں ذات پات حسب ونسب کا فرق اور اونچ نیچ کا مرض بہت زیادہ تھا، قرآن مجید نے اس کو یکسر ختم فرمادیا تھا، مگر افسوس کہ مسلمان آج پھر سے وہی مرض اپنے اندر پیدا کرکے پوری دنیا میں ذلیل وخوار ہورہے ہیں، اللہ پاک ان آیات میں واضح فرمادیا کہ ذات پات کا فرق نہ ہوں وہ تو صرف تمہارے آپس میں تعارف اور پہچان کا ایک ذریعہ ہے، اگر کوئی ان کو اونچ نیچ کا ذریعہ سمجھتا ہے کہ فلاں خاندان والے بڑے اور فلاں خاندان والے چھوٹے ہیں، تو گویا وہ قرآن مجید کا منکر ہورہا ہے، جس کا ایمان پر خاتمہ ممکن نہیں ہے، اس لئے مسلمانوں ایسے امتیاز اور فرق نہ کرو، فرمایا کہ امام اعظم رحمہ اللّٰہ کے ایک شاگرد عبداللہ ابن المبارک رح محدث فقیہ متقی اور سخی تھے، جن کو مال ودولت ماں کی نسبت سے وافر مقدار میں ملا تھا، ان کے والد (مبارک) نادار اور غریب گھرانہ سے تعلق رکھتے تھے بڑے متقی آدمی تھے ایک مالدار کے پاس ملازمت کیا کرتے تھے اور وہ مالک ہر موقع پر مبارک سے مشورہ لیا کرتا تھا اک روز وہ سنجیدہ اور خاموش بڑا متفکر تھا مبارک نے سوچا کہ شاید مالک کسی گہری سونچ میں ہے اور مجھ سے مشورہ بھی نہیں کیا پوچھنے پر مالک نے کہا کہ میری ایک ہی لڑکی ہے اور وہ جوان العمر ہوچکی ہے اس کے نکاح کے سلسلہ میں الگ الگ قسم کے بہت رشتے بھی آرہے ہیں، لیکن میں فیصلہ نہیں کر پارہا ہوں کہ کس کو ہاں کروں تو مبارک نے کہا کہ پہلے آپ کیسا داماد چاہتے ہیں کس معیار کا چاہتے ہیں وہ منتخب کرلیں مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا پھر مبارک نے کہا کہ مشرکین عرب خاندان اور حسب ونسب کو معیار بناتے ہیں خواہ لڑکا تعلیم یافتہ اور با اخلاق و ہنر رہے نہ رہے، اور یہودی دولت کو معیار بناتے ہیں کہ دولتمند ہونا چاہئے، خواہ خاندانی ہو یا نہ ہو؛ تعلیم وتربیت ہو یا نہ ہو اور نصاری حسن و جمال اور خوبصورتی کو معیار بناتے ہیں، چاہے لڑکا پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو، اور اسلام تقوی کو معیار بناتا ہے، خواہ مذکورہ تینوں چیزیں اس میں مفقود ہوں۔ اور اگر تقوی کے ساتھ خاندانی بھی مالدار بھی حسین وجمیل بھی تو بہت بہتر ہے، اور اگر صرف تقوی ہے تو وہ لڑکا مال ودولت حسن وجمال اور خاندان سے عاری ہو تو یہ ان تینوں کے مقابلہ میں اچھا ہے. مالک نے اس مشورہ کو اپنی اہلیہ کے سامنے رکھا اور دونوں مل کر اس بات کو منظور کیا کہ مبارک سے بہتر تقوی والا کوئی اور لڑکا نہیں ہوسکتا اور اس ملازم کام کرنے والے سے مالک نے اپنی بیٹی کا نکاح کرادیا۔ انہی کی اولاد ہے حضرت عبداللہ ابن مبارک رح جو امت کا ایک قیمتی اثاثہ اور گرانمایہ دولت تھی، تو معلوم ہوا کہ تقوی سے انسان بڑا اور معزز بنتا ہے مال و منال کی وجہ سے نہیں اسی لئے نکاح کے موقع پر اللہ کے نبی نے تقوی والی آیات کا انتخاب فرمایا ہے      فرمایا کہ ہر انسان کو ایک آخرت کے پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے، کوئی بجلی کی طرح کوئی ہوا کی طرح کوئی تیز رفتار سوار کی طرح وغیرہ اسی طرح ہر نوجوان کو نکاح کے بعد دنیا میں بھی ایک پل صراط سے گذرنا پڑتا ہے اگر اس پل صراط سے آسانی سے گزرنا ہو تو وہاں بھی تقوی ضروری ہے، تفصیل بات بتاتے ہوئے فرمایا کہ اصل میں یہ نوجوان اپنے بچپن سے ایک ہی خاندان اور رشتہ داروں کے درمیان پلا بڑھا ہوتا ہے لیکن نکاح کے بعد ایک اور رشتہ اس سے منسلک ہوجاتا ہے وہ ہے ساس سسر بیوی وغیرہ جن کے حقو ق سے وہ ابھی آشنا نہیں ہوتا ہے، قرآن مجید نے ان دونوں رشتوں کو ذکر کیا ہے (نسباً و صھرا) اس نوجوان کو اب دونوں کے برابر برابر حقوق ادا کرنا پڑتا ہے ان دونوں رشتوں میں توازن کو برقرار رکھنا پڑتا ہے اور یہی پل صراط ہے یہاں بھی اگر دل میں تقوی ہوگا تو آسانی کے ساتھ زندگی گزر جائے گی ماں کا حق باپ کا حق بیوی کا حق سب میں توازن رکھ پائے گا اور سمجھداری سے نبھاسکے گا۔                      آج کل جو حالات طلاق وخلع کے حوالہ سے امت میں پیش آرہے ہیں ان میں سب سے بڑا دخل ناسمجھی کا ہے، آپ چاہے کتنی ہی ڈگریاں کیوں نہ حاصل کرلیں اگر دین کو نہیں سمجھا تو ناسمجھ ہی رہیں گے، آج دین کی سمجھ بہت ضروری ہے ایک بات اور اچھی طرح سمجھ لیں کہ عورت کو اللہ پاک نے کمزور بنایا ہے فطری طور پر اور اس کی اسی کمزوری کی وجہ سے اس کو کسی نہ کسی کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ سہارے کی محتاج رہتی ہے چھوٹی رہی تو باپ کا سہارا کچھ اور بڑی ہوئی تو بھائ کا سہارا جوان ہوئی نکاح ہوگیا تو اب شوہر کا سہارا اس کے لئے لازم ہے بوڑھی ہوگئی تو اب اولاد کا سہارا چاہئے، اب کوئی بھی عورت یہی چاہے گی کہ میرا سہارا مجھ سے دور نہ ہوں اب شوہر کے سلسلہ میں بیوی چاہتی ہیکہ یہی میرا سہارا ہے یہ کہیں ماں کی طرف نہ چلا جائے اور ماں بوڑھی ہوگئی ہے تو وہ یہ چاہتی ہیکہ میرے بوڑھاپے کا سہارا میرا بیٹا ہے، کہیں وہ بیوی کا نہ ہوجائے اسی فطری تقاضہ کے تحت آپس میں یہ تناؤ پیدا ہوتا ہے اب لڑکا سمجھداری سے کام لے اور وہ ماں کا سہارا بھی بنے اور بیوی کا سہارا بھی بنے، اگر ناسمجھی کا مظاہرہ کرکے کسی ایک کی طرفداری کرے گا تو لازما دوسرے کی حق تلفی ہوگی جو اس کے لئے مصیبت اور و بال جان بن جائے گی اور یہ کشمکش ہر جگہ پیدا ہوتی ہے خواہ وہ کسی ولی کا گھرانہ ہو یا کسی نبی کا، چونکہ عورت تو عورت ہے فطرت نے ہی اس کو اس طرح کمزور بنایا ہے اسی لئے نکاح کے موقع پر ان آیات کا انتخاب کرکے اللہ کے نبی نے یہ تعلیم دے دی کہ تم کو کسی ایک کا ساتھ دے کر دوسرے  کی حق تلفی نہیں کرنی ہے اور یہ اس وقت ہوگا جب دل میں تقوی ہوگا۔          اسی طرح مال : کہ کہیں بیوی کی خواہشات کی تکمیل یا اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت اور پرورش کے لئے حرام مال کی آمدنی نہ لائیں ہر حال میں حلال کا انتظام کریں یہ شوہر کی ذمہ داری ہے اس موقع پر بھی اگر تقوی ہوگا تو حرام سے بچے گا اور کسب حلال کی فکر کرے گا  ایک صحابی رسول کے گھر میں دو دن سے فاقہ تھا روزآنہ کمائی کے لئے جاتے لیکن کچھ بھی کام ہاتھ نہ آتا جس کی وجہ سے دو دن سے خالی ہاتھ گھر لوٹ رہے تھے تیسرے دن گھر سے نکلتے وقت اہلیہ نے دروازہ پر روک کر کہا کہ دیکھو میری ضرورت اور فاقہ کو دیکھ کر کہیں حرام کام کرکے اللہ کو ناراض کرکے مال لانے کی کوشش نہ کرنا اگر کام ملے اور کچھ انتظام نہ ہو تو تیسرے دن بھی فاقہ کرلیں گے لیکن حرام کا لقمہ نہیں کھائیں گے ایسی کیفات اسی وقت پیدا ہوتی ہیں جب دلوں میں تقوی ہوتا ہے ورنہ تو انسان حلال وحرام کی پرواہ کئے بغیر جو مال ملے اس کو اپنا ہی حق سمجھ کر لے لیتا ہے اسی لئے نبی نے ان آیات کا انتخاب فرمایا کہ ایسے موقع پر تقوی کی تعلیم بہت ضروری ہے. نیز اللہ کے رسول نکاح کے موقع پر آپسی مودۃ ومحبت اور خیر وبرکت کی دعائیں دیتے تھے چونکہ اس موقع پر ان کو دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے اور دعائیں بازار اور فنکشن ہال کی بنسبت مسجدوں میں قبول ہوتی ہیں اسی وجہ سے مسجدوں میں نکاح کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور رشتوں کی حفاظت کرنا عاقدین میں محبت کی بات کرنا چاہئے جو لوگ رشتوں کو توڑنے یا آپس میں دراڑیں ڈالنے کی بات کرتے ہیں اللہ کے نبی نے ایسے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے حتی کہ اگر دونوں میں محبت پیداکرنے کے لئے جھوٹ بات یعنی خلاف واقعہ بات بھی بولنے کی گنجائش دی گئی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart