مسلم سماج اور ابرہی ذہنیت

محمد یاسین جہازی، جمعیت علمائے ہند

امت مسلمہ کا دوسرا نام امت دعوت بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امت کے ہر فرد میں دعوت کا کچھ نہ کچھ فطری جذبہ ضرور پایا جاتا ہے۔ اور اس جذبہ کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہے؛ کیوں کہ سابقہ امتوں میں دعوت و ارشاد کا کام انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والتسلیم کے ساتھ مخصوص تھا، جب کہ اس امت کا ہر فرد براہ راست داعی کا فریضہ ادا کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے۔ گویا دعوت، نبوی فریضہ ادا کرنے کی ایک امتیازی صفت ہے اور یہی وجہ اس کی مدح و توصیف کے لیے کافی ہے۔ چنانچہ مشاہدہ بتلاتا ہے کہ جہاں چند جمعہ جمعہ پڑھنے والوں کے درمیان ایک پنج وقتہ نمازی ہوتا ہے، تو وہ ہر صدائے تکبیر کے وقت اپنے جمعہ ساتھیوں کو نماز کی دعوت دینا نہیں بھولتا ، اور یہ قابل تحسین جذبہ ہے۔
لیکن سماج کا عمومی تجزیہ ہمیں اس نتیجہ پر بھی پہنچاتا ہے کہ دعوت رسانی کا ہمارا یہ جذبہ بالعموم غیر ضروری اور لایعنی باتوں میں بھی الجھا دیتا ہے اور ہم فرائض و واجبا ت کے ترک پر تو کچھ نہیں کہتے ؛ البتہ مستحبات اور جائز کاموں کی اصلاح میں اپنی ساری توانائیاں صرف کردیتے ہیں۔ گویا ہمارے سوچنے کا انداز زمانہ جاہلیت کے انداز فکر سے کوئی بھی اختلاف نہیں رکھتا ۔ پورا سماج سوچ و فکر کے اسی نہج پر گامزن ہے، جس کی مثال ہمیں ابرہہ کی فکر میں ملتی ہے ، لہذا اگر ہم یہ کہیں کہ اتنے زمانے گذرجانے اورامت اتنی ترقیوں کے باوجود ابھی تک زمانہ جاہلیت کی ابرہی فکر سے آگے نہیں بڑھ پائی ہے تو یہ نہ مبالغہ ہوگا اور نہ ہی خلاف واقعہ حکایت۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ابرہہ کون ہے اور اس کا انداز فکر کیا تھا،تو وہ ذیل میں پیش ہے:
زمانہ جاہلیت میں بھی عرب سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کی کئی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہاں کعبہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی وابستگی عقیدت کے رشتے سے جڑی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے اطراف عالم کے لوگ یہاں کھینچے چلے آتے تھے۔اقتصادی مرکزیت کی بنیاد یہی آمدو رفت کی کثرت تھی، جب کہ کعبہ کی تولیت سیاسی تفوق کا ذریعہ تھی۔عرب کی یہ بالادستی دیکھ کر مسیحیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ چوں کہ عربوں کی یہ خصوصیات کعبہ کی وجہ سے حاصل ہوئی ہیں، اس لیے کعبہ کا کوئی متبادل تیار کیا جائے اور لوگوں کو مکہ کے بجائے یہاں اپنی گردن عقیدت خم کرنے کی دعوت دی جائے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے غالبا ۵۷۰، یا ۵۷۱ء قبل مسیح میں یمن کے گورنر ابرہہ نے اس کے دارالسلطنت صنعاء میں ایک نہایت خوب صورت کلیسا بنایا اور لوگوں کو اس کے طواف و زیارت کی دعوت دی۔ اہل عرب نے اسے اپنے لیے بے عزتی سمجھی اور انھوں نے اس گرجا کو یا تو نذر آتش کردیا اور یاپاخانہ کرکے اس کے تقدس کو پامال کردیا۔ اس واقعہ سے ابرہہ بہت برہم ہوا اور اس نے کعبہ پر حملہ کی ٹھان لی، چنانچہ اپنی اور دیگر مسیحی سلطنتوں کے فوجی تعاون پر مشتمل تقریبا ساٹھ ہزار فوج اور تیرہ ہاتھی کا لشکر لے کرمکہ آیا۔ مکہ پہنچتے ہی اس کے مقدمۃ الجیش نے اس کی گھاٹیوں میں چر رہے اونٹوں اور بکریوں پر قبضہ کرلیا۔ان میں سے دو سو یا چار سو اونٹ آں حضرت ﷺ کے دادا جناب عبد المطلب کے بھی تھے۔ ابرہہ نے گفت و شنید کے لیے سردار قریش کو دعوت دی۔ چنانچہ عبد المطلب یہاں سے گئے۔ ابرہہ نے جب پہلی مرتبہ عبد المطلب کو دیکھا تو وجیہ حیثیت و ہیئت کو دیکھ کر بہت مرعوب ہوا اور بہت عزت و احترام کا معاملہ کیا۔ پھر اصل موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ابرہہ نے جب یہ کہا کہ میں تمھارے کعبہ کو ڈھانے کے لیے آیا ہوں، اور ہمارے پاس بہت بڑی فوج ہے کیا تم اس کا مقابلہ کر پاؤگے؟ تم خانہ کعبہ کی کس طرح حفاظت کروگے؟ تو عبد المطلب نے کہا کہ تمھاری فوج نے ہمارے جن اونٹوں پر قبضہ کرلیا ہے، وہ مجھے لوٹا دو۔ یہ جواب سن کر ابرہہ کو بہت تعجب ہوا اور وہ سوچنے لگا کہ جو کعبہ کا متولی ہے اور جس کی وجہ سے مذہبی ، سیاسی و اقتصادی بالادستی حاصل ہے ، وہ شخص کعبہ کی فکر کرنے کے بجائے اپنے چند اونٹوں کے لیے پریشان ہے! یہ کیسا آدمی ہے ، اس کے خیالات کتنے سطحی ہیں! یہ تو لایعنی اور غیر ضروری باتوں کو اہمیت دے رہا ہے۔ چنانچہ حیرت و استعجاب میں ابرہہ نے پوچھا کہ آپ کو اپنے اونٹ کی فکر ہے اور کعبہ کی کوئی فکر نہیں ہے؟ ! اس پر عبد المطلب نے جواب دیا کہ میں اونٹ کا مالک ہوں، اس کا تحفظ میرے ذمہ ہے، اس لیے میں اس کی فکر کر رہا ہوں۔ رہا خانہ کعبہ کو ڈھانے کی تو وہ اللہ کا گھر ہے۔ اللہ اپنے گھر کی خود حفاظت کرلے گا۔ تم تو مجھے بس میرے اونٹ میرے حوالے کردو۔ چنانچہ ابرہہ نے اسے کعبہ ڈھانے کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے کی وجہ سے سارے اونٹ واپس کردیے اور اگلے دن اسے نیست و نابود کرنے کا تہیہ کرلیا۔
واقعہ اور دور تک جاتا ہے۔لیکن المختصر مضمون کی مناسبت سے اس واقعہ میں جو درس کا پہلو ہے، وہ یہ ہے کہ ابرہہ غیر اہم مطالبہ پرتو تعجب کا اظہار کر رہا ہے اور اونٹ طلبی پر بار بار متوجہ کر رہا ہے، لیکن اس سے بڑی جرات پر کوئی شرمندگی کا اظہار نہیں کر رہا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچ رہا ہے کہ اونٹ کا مالک جب اپنے اونٹ کے لیے اس قدر متفکر ہے ، تو جس قہار و جبار کایہ گھر ہے، وہ اپنے گھر کی حفاظت کے لیے کیا کچھ نہ کرے گا ۔
آج پورا مسلم سماج اسی فکر کا اسیر ہے۔ چند کھلی مثالیں پیش خدمت ہیں:
(۱) مسلم سماج فرض کی ادائیگی سے کوسوں دور ہوتا چلا جا رہا ہے۔ چنانچہ پنج وقتہ نماز چھوڑنے پر آپ کو کوئی بھی نہیں ٹوکے گا۔ گھر میں مائیں بہنیں کھلی بے پردگی کی شکار ہوکر حرام میں مبتلا ہو رہی ہیں، اس پر کبھی نہیں تنبیہہ کی جاتی۔ لیکن اگر آپ کا روزمرہ لباس ٹوپی، کرتا اور پاجامہ ہے، اور اتفاق سے ایک دن دوسرے جائز لباس پہن لیں، تو آپ کی اصلاح و دعوت کے لیے پورا سماج اٹھ کھڑا ہوگا، اور جس گلی و راستہ سے گذریں گے ، ہر جگہ سے ابرہی حیرت و استعجاب میں صدائے دعوت و اصلاح بلند ہوگی کہ ابے میاں ! یہ کیا پہن رکھا ہے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی اصلاح کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، جو خود غیر شرعی لباس میں ملبوس ہوں گے۔
(۲) عام افراد اپنی جائز یا ناجائز کمائی سے دنیا کے مزے لوٹیں، تو کوئی بات نہیں،اور نہ ہی انھیں کسی کو یہ کہنے کا حق ہے کہ آپ اپنی عیش کوشی کو جائز حدود تک ہی رکھیں۔ البتہ اگر ایک مولوی یا مولوی نما حضرات اپنی محنت و مشقت اور جائز کمائی سے چمچماتی گاڑیوں میں سیر کریں اور دنیا کی جائز عیش کوشیوں میں حصہ لیں، تو سماج کی عام ذہنیت ابرہی تعجب میں مبتلا ہوکر جملے کسنے لگتی ہے کہ ہوں، کہیں سے چندہ مارا ہوگا، کسی نے ہدیہ دیا ہوگا۔
(۳) مدرسے میں پڑھنے والے بالعموم غریب طلبہ ہوتے ہیں، یہ ایک زمین سچ ہے ، اس سے انکار ممکن نہیں۔ غربت کا یہ تصور سماج کو اس نظریے پر پہنچاتا ہے کہ وہ اسکول، کالج اور یونی ور سیٹیوں میں تعلیم پانے کا حق دار نہیں ہے۔ ایسے میں کوئی مولوی عصری اداروں کا رخ کرتا ہے توسماج ابرہی تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ملا کی دوڑ مسجد تک ہونی چاہیے، یونی ورسیٹی تک نہیں۔
(۴) کسی جائز مشاعرے میں غزل پر داد و تحسین کی برسات ہور ہی ہو، اور پورا مجمع غزل بدوش ہوجائے۔ اسی درمیان اگرکوئی تبلیغی جماعت سے وابستہ فرد یا ٹوپی کرتا میں ملبوس آدمی صدائے تحسین بلند کرنے لگے تو سماج کہنے لگتا ہے کہ دیکھو! مولوی صاحب غزل پر کتنے فریفتہ ہیں۔ اگر وہ مسکرا رہا ہو تو ، کہے گا کہ دیکھو مولوی مسکرا رہا ہے۔ گویا اس کا مسکرانا بھی سماج کے لیے حیرت و استعجاب کا سامان فراہم کرتا ہے۔
امت دعوت ہونے کا صحیح تقاضا یہ ہے کہ ہم فرض ، واجبات اور نفلوں کی پامالی پر خاموش نہ رہ سکیں، ان کی اصلاح و ارشاد کی مکمل کوشش کریں؛ لیکن اس جذبہ میں اس قدر غلو کہ جائز چیزوں پر تو تعجب کا اظہار کریں، لیکن ناجائز اور حرام پر تعجب تو دور ، اس کے حرام اور ناجائز ہونے کا احساس تک نہ ہو، سراسر اس جذبہ دعوت کے منافی ہے۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مرضیات پر چلائے ، آمین۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.