مسلکی اختلافات میں تشدد کی مذمت

محمد یاسین قاسمی




قرآن کریم کی تشریح کے مطابق خدائے بزرگ و متعال نے امت محمدیہ کے لیے بھی وہی دین مقرر فرمایا ہے ، جس کی بنیادی دفعات میں سابقہ پیغمبروں کی دفعات شامل ہیں۔ ارشاد باری ہے: شرع لکم من الدین ماوصیٰ بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراھیم وموسیٰ وعیسیٰ ان اقیموا الدین ولاتتفرقوا فیہ (شوریٰ ، الاٰیۃ ۱۳)۔ اللہ نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے ، جس کا تاکیدی حکم نوح کو دیا گیااور وہی دین وحی کے ذریعے آپ پر نازل کیا گیا ہے اور اسی کا ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو تاکیدی حکم دیا گیا تھا کہ دین کو قائم رکھواور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔
وحدانیت کا اقرار، رسالت کی تصدیق، آخرت، ملائکہ اور کتب سماویہ پر ایمان لانا وغیرہ سابقہ مذاہب کی بنیادی دفعات ہیں۔ ان کے بعد عملی احکام ہیں، جیسے عبادات ، نکاح و وراثت وغیرہ وغیرہ۔ یہ احکام بھی اصولی طور پر تمام مذاہب میں مشترک رہے ہیں، لیکن ان کے عملی طریقوں میں جزوی اختلاف بھی رہا ہے۔ قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھاجا (مائدہ، الایۃ۴۸)۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک دستور اور طریق عمل مقرر کیا ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پچھلے پیغمبروں کی شریعتوں اور اسلامی احکام میں جو اختلافات ہیں ، وہ صرف منہاج یعنی طریقِ کار کا اختلاف ہے اور اس اختلاف کے باوجود وہ تمام احکام برحق ہیں۔اسی طرح مسائل میں مدارک اجتہاد کے اختلاف کی وجہ سے نصوص فہمی میں جو اختلاف رائے ہے، وہ بھی درحقیقت منہاج ہی کا اختلاف ہے ۔ اور چوں کہ اس طرح کے اختلاف کرنے والے اہل علم اور مجتہدین کا مقصد صرف تعلیمات اسلام کی تشریح تھا، اس لیے ان اختلافات کو پسندیدہ اور امت کے لیے عمل میں توسع پیدا کرنے کی وجہ سے رحمت قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے کہ اختلاف امتی رحمۃ۔ میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے۔
لیکن اگر اختلاف رائے اس منہاج کی حدود سے آگے بڑھ کر کیا جائے اور پھر وہ بغض و عناد اور مسلکی تشدد و نفرت کی صورت اختیار کرلے، تو یہ سخت مذموم ہے ۔ شریعت مطہرہ میں اس کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے ۔ قرآن کریم کی زبان میں اسے بغیا بینھم کہا گیا ہے ۔ ومااختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ماجاء ھم البینات بغیا بینھم(البقرۃ، الاٰیۃ ۲۱۳)۔ اور نہیں جھگڑا ڈالا کتاب میں ، مگر انھیں لوگوں نے ، جن کو کتاب دی گئی تھی اس کہ بعد کہ ان کے پاس صاف حکم پہنچ چکے تھے ، صرف آپس کی ضد کی وجہ سے۔
اختلاف علٰی المنہاج کو تجزیے کے طور پر اس طرح بھی تعبیر کرسکتے ہیں کہ اسلا م میں تین چیزیں ہیں: دین، مذہب اور مسلک۔ دین وہ ہے، جو قرآن و حدیث میں واضح طور پر موجود ہے اور جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مذہب وہ قوانین ہیں، جن کو علما نے اپنے علم وعقل کی روشنی میں نہایت غور و خوض اور اجتہاد سے اخذ کیا ہے اور اس میں اختلاف رائے بھی ہے۔ مسلک سے ہماری مرادوہ باتیں ہیں جن کو کوئی بھی شخص اپنے میلان طبعی سے پہلے ایک نظریہ گھڑ لیتا ہے ، پھر قرآن و حدیث سے غلط استدلال کے ذریعے صرف اسی کوصحیح اور جائز مانتاہے۔ اس کے علاوہ تمام آراء کو غلط اور ان کے ماننے والے کوغلطی پر ٹھہراتاہے۔ دین و مذہب سے اسلام کا رشتہ قائم ہے ، جب کہ مسلک سے اختلاف و افتراق جنم لیتا ہے۔
تاریخ شاہد عدل ہے کہ امت کا سواد اعظم منہاجی اختلاف کے نتیجے میں پیدا شدہ احکام کے طریق کار کے اختلاف کے باوجود صراط مستقیم پر گامزن رہااور اسے برحق تسلیم کیا گیا؛کیوں کہ ان کا اختلاف صرف مذہب کی حد تک تھا؛ لیکن حالیہ صدی میں ناپسندیدہ اختلافات پیدا کرنے والے کچھ ایسے فرقے پیداہوگئے ہیں، جن کی سراسر دل چسپی مسلکی اختلاف میں ہے۔جن کاطرز فکر اور اختلافی روش مذکورہ بالا منہاج سے منحرف ہوگئی ہے۔ ایسے افراد ضد ، ہٹ دھرمی اور عناد کو ہوا دے رہے ہیں جن کے ، نتیجۃ میں یہ اختلافات ،فتنے اور تشددکا سبب بن رہے ہیں، فرقہ پرستی کو بڑھاوا مل رہا ہے، امت مسلمہ کے اتحاد کا شیرازہ منتشر ہورہا ہے اورقومی یکجہتی کے فروغ میں رکاوٹیں آرہی ہیں ۔
حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ’’ میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیاکہ پوری دنیا میں مسلمان دینی و دنیاوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں، تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے: ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا اور دوسرے آپسی اختلافات اور خانہ جنگی۔ اس لیے میں وہاں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کردوں کہ قرآن کریم کو لفظا ومعنا عام کیا جائے۔ بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب ہربستی میں قائم کیے جائیں۔ بڑوں کو عوامی درس کی صورت میں قرآن کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے انھیں آمادہ اور تیار کیا جائے ۔ اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر بھی برداشت نہ کیا جائے‘‘۔معلوم یہ ہواکہ مسلکی تشدد نہ صرف فتنہ و فساد کی جڑ ہے ؛ بلکہ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی دونوں حیثیتوں سے تباہی کا باعث بھی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر متعدد ایجنسیاں اور فسطائی طاقتیں اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کی ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ یہ عناصر کہیں شیعہ، سنی ، کہیں دیوبندی ، بریلوی اور کہیں سلفی و اہل حدیث کے درمیان منافرت کا بیج بوکرمسلکی فسادا ت کرانے کے فراق میں لگے رہتے ہیں۔ شرپسند عناصر اس طرح کے حالات سے فائدہ اٹھا کر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی قوت کو منتشر کرنے اور انھیں دبانے ، ستانے کے مواقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے آپسی اختلافات اور مسلکی تنازعات سے انھیں تقویت ملتی ہے اور امت مسلمہ مزید دشواریوں میں گھر جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کی سازشوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور مسلکی منافرت کی آگ کے ایندھن بننے کے بجائے وحدت ملی کے لیے ہر ممکن اور ہر سطح پر کوششیں کریں۔
انسان کے لفظی معنی میں انس ومحبت کا مفہوم شامل ہے۔ یہ صفت اس کی فطرت کا ایک حصہ ہونا چاہیے۔ محض مذہب اور اعتقادات و نظریات کے الگ ہونے سے اس کی انسانیت اور جسمانی ہیئت میں کچھ تغیر واقع نہیں ہوتا۔ وہ بہر حال انسان ہی ہوتا اور انسان ہی کہلاتا ہے۔اس تناظر میں اسلام کے حقوق آدمیت اور احترام انسانیت کا تقاضا ہے کہ کسی بھی انسان کے ساتھ بھید بھاو نہ برتا جائے ، اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہ کیا جائے۔ ایک انسان کے سا تھ محض اس لیے تشدد برتنا کہ اس کا مذہب دوسرا ہے، اس کے نظریات آپ سے الگ ہیں ؛نہ تو انسانی فطرت اس کی اجازت دیتی ہے اور نہ ہی اسلام میں اس کی کوئی گنجائش ہے ۔ اور مسلکی تشدد کا تو کوئی جوا ز و سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں