مشاعروں نے اردوکے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے: ڈاکٹر احتشام احمد خان

امریکن انسٹی ٹےوٹ آف انڈین اسٹڈیز کے زیر اہتمام مشاعرہ کااہتمام

لکھنو

¿۴اپریل،مشاعرہ ایک ادبی او ر شعری تربیت گاہ ہے ، اس سے صرف شاعری کی فہم ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایک سلیقہ مندی بھی آتی ہے جو زندگی کا شعور پیدا کرتی ہے اور یہی شعور قومی یکجہتی کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اور مشاعروں سے اردوزبان وادب کو بہت فروغ بھی حاصل ہوا۔مذکورہ خیالات کا اظہار امریکن انسٹی ٹےوٹ آف انڈین اسٹڈیز کے ہیڈڈاکٹراحتشام احمدخان نے افتتاحیہ کلمات دوران کیا۔ مشاعرہ کی صدارت معروف شاعر رفعت شیدا صدیقی نے کی اور بطور مہمان خصوصی مشہورشاعر منیش شکلا شریک ہوئے۔امریکن انسٹی ٹےوٹ کی طالبہ شیلبی نے شعراءکا استقبال کیا اوراپنے استقبالیہ کلمات میں شیلبی نے کہا کہ مشاعرہ اردوزبان ادب کی تہذیب اور قدیمی رواےت ہے۔اردوکے فروغ میں مشاعروں کا کردار تاریخی رہاہے،مشاعرے اردوزبان وادب کا دل ہیں،اردو زبان میں وہ چاشنی ، کشش اورحسن ہے جس کی وجہ سے ہرشخص اس کا دیوانہ ہوجاتا ہے اور اس سے پیار کرنے لگتا ہے۔اردونے مشاعروں کو اورمشاعروں نے اردوزبان کو زندگی عطا کی ہے۔

اس موقع پرپروگرام کے کنوینرتشنہ اعظمی نے کہا کہ امریکن انسٹی ٹےوٹ آف انڈین اسٹڈیز اردوزبان وادب کا معروف ادارہ ہے اور مشاعروں کی ایک رواےت یہاں سے وابستہ رہی ہے، اسی لئے شعر و ادب سے محبت کرنے والوں اس کی پذیرائی کرنے والوں کی بڑی تعداد یہاں پر طالبات اور اساتذہ کرام کی شکل میں موجود ہے۔ناظم مشاعرہ رحمت لکھنوی نے کہا مجھے اس ادارہ کے انتخاب پر بیحد مسرت ہے۔انہوں نے اپنے مخصوص لب ولہجے میں نظامت کرتے ہوئے تمام شعراءاور ان کی شاعری کاتعارف سامعین اور امریکن طالبات سے کرایا۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں