معاشرے میں شریعت اسلامی کے نفاذ کے لیے لاکھوں باصلاحیت مفتیان کی ضرورت. تحریک ایمان کانفرنس میں فارغین مفتیان کرام کی جدید طرز سے دستار بندی کرائی گئی اور علماء کو ایوارڈ سے نوازا گیا

نئی دہلی (پریس ریلیز)۱۳اپریل۲۰۱۹۔دہلی کے مشہور دینی وتربیتی ادارہ ولی اللّہی دارلافتاوالقضا وآن لائن فتوی کے زیرا ہتمام آج غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدین میں ’دستار تکمیلِ افتا وتحریکِ ایمان کانفرنس‘ کا انعقادکیا گیا جس میں ادارہ کی زیر نگرانی فقہ وفتاوی کی ٹریننگ پانے والے پانچ مفتیانِ کرام مفتی مشاہد ، مفتی خالدقاسمی، مفتی مسعود، مفتی طیب اورمفتی اشرف امینی کی دستارِ افتا باندھی گئی اورعبا پہنا کر اُن کا اعزاز کیا گیا ،نیز فقہ کی معروفِ زمانہ کتاب ’بدائع الصنائع ‘(عربی)اور’ آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘کا سیٹ اورتشجیعی رقم بھی دی گئی۔دارالافتا کے سالانہ تعلیمی سفر کے اختتام پرمنعقد آج کی اس اہم کانفرنس میں سینکڑوں علما وسامعین اور پردہ نشین خواتین حضرات سے خطاب کرتے ہوئے مجلس تحفظ شریعت اسلامی ہند کے صدر اور جمعیت علما ہنددہلی کے جنرل سکریٹری مولانا جاویدصدیقی قاسمی نے تاریخی حوالوں سے دہلی کی مرکزیت اور اس شہر کے علمی وتحقیقی کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے نام سے منسوب اس ادارے کی تعلیمی کارکردگی کوان تاریخی روایات کی زندہ تعبیر بتایا۔پروگرام میں ’فتوی کی اہمیت ومعنویت‘ کے موضوع پر تفصیلی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مفتی سعد مشتاق قاسمی سابق معین مدرس دارالعلو دیوبند نے دلائل کی روشنی میں کہا کہ تفقہ فی الدین کا اعلی ترین معیار فتوی دینے کا درک ہے جس میں وسیع مطالعہ اور عرفِ زمانہ پر گہری نظرلازمی عنصر ہیں۔رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند (برانچ دہلی) کے صدر اور مدرسہ باب العلوم جعفر آباد کے مہتمم مولانا داؤد امینی نے کہا کہ علما کرام کی فقہی ٹریننگ آج کی اہم ضرورت ہے، روایتی دستار بندی کی حدود کوتوڑتے ہوئے ادارہ کی جانب سے مفتیان کرام کے مثالی اعزاز کو قابلِ تقلید قراردیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ افتا سے بڑی کوئی ڈگری نہیں ہوسکتی ،لہذا اس کا اعزاز بھی اسی درجے کا ہونا چاہئے۔’مسلم سماج اوردارالقضاء کی ضر ورت ‘پر خطاب کرتے ہوئے ادارہ کے استاذ اور پرانی دہلی کے قاضی مفتی شاکر حسین قاسمی نے دارالقضا کو مسلم معاشرہ کے لیے رحمتِ خداوندی قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کواس جانب رُخ کرنے کی اپیل کی۔’تحریکِ ایمان اور موجودہ تقاضے‘ پر اپنی گفتگو کے درمیان فعال عالمِ دین مفتی نثار احمد حسینی نے مسلمانوں کو اپنی دینی رہبری پر اعتماد کامل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کانفرنس کے عنوان کو اہم قرار دیا۔آل انڈیاامام فاؤنڈیشن کے چیئرمین قاری عارف ،مولانا عبدالسبحان صدر جمعیت علما ہند چاندنی چوک ، چودھری اورنگ زیب میو چیئرمین حج کمیٹی حکومتِ ہریانہ،ماسٹر زاہد اسلامک کلچر سینٹر اور مشہور شاعر متین امروہوی نے بھی پروگرام میں سامعین سے خطاب کیا اور دارالافتا کی کارکردگی کو سراہا۔
دریں اثنا ایمانیات اورادبیات کے مختلف شعبوں میں بے لوث خدمت کرنے والی منتخب شخصیات کو ’ولی اللّٰہی‘’محبوب العلماء’، ،’تحریکِ ایمان‘ اور ’خدمتِ صحافت‘ ایوارڈز سے نوازا گیا، ڈاکٹر مفتی سعد مشتاق قاسمی، مفتی آصف اقبال قاسمی عربی ریسرچ اسکالر، مفتی شاکرقاسمی اور مفتی عبدالواحد قاسمی کو و لی اللہی ایوارڈ، مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی،مولانا یاسین قاسمی،مولانا ضیاء اللہ قاسمی جمعیت علماہند،غفران آفریدی اور متین امروہوی کو ’خدمتِ صحافت‘ ایوارڈ، مولانا داؤد امینی، مولانا فاروق مظہر اللہ،مولانا عبدالسبحان قاسمی، مفتی نثار حسینی،مفتی اسحق حقی قاسمی، مولانا خلیل قاسمی، مفتی طاہر اور مفتی عالمگیر کو ’محبوب العلما‘ ، مولانا جاوید صدیقی قاسمی ، قاری عارف، قاری ارشاد، مفتی عالمگیرلال کنواں، مولانا حسین احمد قاسمی،مولانا ضیاء الرحمن، مولانا عبدالسلام ، مولانا قاسم نوری،مولانا عطاء اللہ، چودھری اورنگ زیب ، ماسٹر زاہد،محمد خالد ، زوار حسین،محمد شکیل اورمحمد جاوید کو ’تحریکِ ایمان‘ ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔دارالافتاء کے تعلیمی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی آصف اقبال قاسمی نے کہا کہ ان مفتیان کرام کی ٹریننگ میں اہم مسائل پر تحقیقی مقالہ نگاری،مستند حوالہ جات کا طریقِ مراجعت،جدید مسائل کے منہجِ استنباط اور فتوی نویسی کے اسلوب کی مشق جیسی اہم چیزیں شامل ہیں۔پروگرام کی نظامت کررہے ادارہ کے ناظم اور کانفرنس کے کنوینر مفتی عبدالواحد قاسمی نے ادارے کے مقاصد وعزائم کو پیش کرتے ہوئے ادارے کے معاونین اورتمام مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا،انھوں نے آئندہ ادارے میں داخلے کے لیے دہلی واطراف کے ائمہ وعلما سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ۔آخر میں مفتی نثار حسینی کی دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ پروگرام میں مفتی بہاء الدین، مفتی نظام الدین، ماسٹر آفتاب، ڈاکٹر ظہیر،محمد عرفان کے علاوہ دہلی واطراف دہلی سے سینکڑوں کی تعداد میں مرد وخواتین نے حصہ لیا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.