مفسدات نماز

Views: 23
Avantgardia

مولانا علی احمد قاسمی




یعنی نماز کو توڑنے والی چیزیں
سوال: مفسدات نماز کتنے ہیں؟
جواب: مفسدات نماز چالیس ہیں:
(۱) بات کرنا اگرچہ بھول کر ہو یا غلطی سے ہو۔
(۲)ایسی دعا مانگنا جو لوگوں کی بات چیت کے مشابہ ہو۔
(۳) کسی کو سلام کرنا اگرچہ غلطی ہو۔
(۴)سلام کا زبان سے جواب دینا۔
(۵)عمل کثیر یعنی کوئی ایسا کام کرنا جس کے کرنے والے کو دیکھنے والا یہ سمجھے یہ نماز نہیں پڑھ رہا ہے ۔
(۶)سینے کو قبلہ سے پھیر دینا۔
(۷) کسی چیز کا جو منھ سے باہر ہو کھانا اگرچہ تھوڑا ہو۔
(۸) جو چیز دانتوں کے درمیان چنے کے برابر ہو اس کوکھالینا۔
(۹) پانی وغیرہ پینا۔
(۱۰) بلا ضرورت کھنکارنا۔
(۱۱) اف تف کہنا۔
(۱۲) آہ کہنا۔
(۱۳) اوہ کہنا۔
(۱۴) تکلیف اور درد کی وجہ سے آواز سے رونا۔
(۱۵) چھینکنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا۔
(۱۶) خدا کے شریک سے سوال کرنے والے کے جواب میں لا الٰہ الا اللہ کہنا ، یا رنج کی بات سن کر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنا۔ اور اچھی خبر سن کر الحمد للہ کہنا اور تعجب کی بات پر لا الٰہ الا اللہ یا سبحان اللہ پڑھنا۔
(۱۷) کسی قرآن کی آیت کو خطاب اور جواب کی نیت پڑھنا۔
(۱۸) تیمم کرنے والے کا پانی پر قادر ہوجانا۔
(۱۹) موزوں پر مسح کرنے والے کی مدت کا ختم ہوجانا۔
(۲۰) موزوں کو نکال دینا اگرچہ فعل قلیل سے نکالا جائے ۔
(۲۱) اَن پڑھ کا ایک آیت یاد کرلینا۔
(۲۲) ننگے کو کپڑا مل جانا۔
(۲۳) اشارہ سے نماز پڑھنے والے کا رکوع سجدہ پر قادر ہوجانا۔
(۲۴) صاحب ترتیب کو قضا نماز یاد آجانا۔
(۲۵) جو امامت کے قابل نہ ہو اس کو خلیفہ بنانا۔
(۲۶) نماز فجر میں سورج نکل آنا۔
(۲۷) عیدین کی نماز میں زوال ہوجانا۔
(۲۸) جمعہ کی نماز میں عصر کا وقت ہوجانا۔
(۲۹) پٹی کا زخم سے اچھا ہوکر گرجانا۔
(۳۰) معذور کے عذر کا جاتا رہنا۔
(۳۱) قصدا وضو توڑ دینا یا کسی دوسرے کے فعل سے وضو ٹوٹ جانا مثلا کسی نے کوء چیز ماری اور خون نکل آیا۔
(۳۲) بے ہوش ہوجانا۔
(۳۳) پاگل ہوجانا۔
(۳۴) نہانے کی حاجت ہوجانا۔
(۳۵) رکوع سجدہ والی نماز میں کسی عورت کا ایک مکان میں بلا حائل مرد کے برابر کھڑا ہوجانا بشرطیکہ تحریمہ میں دونوں شریک ہوں اور ایک ہی نماز پڑھ رہے ہوں اور امام نے عورت کی امامت کی نیت بھی کی ہو ۔
(۳۶) اپنے امام کے علاوہ دوسرے شخص کو نماز میں غلطی بتانا۔
(۳۷) اللہ اکبر کے ہمزہ میں مد کرنا۔
(۳۸) قرآن شریف دیکھ کر نماز میں پڑھنا۔
(۳۹) ایک رکن کی مقدار ستر کا کھل جانا۔
(۴۰) مقتدی کا امام سے پہلے کوئی رکن پورا کرلینا اور امام کے ساتھ بالکل شریک نہ ہونا۔



Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart