مفکرملت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد فراست ایمانی کا ایک عملی نمونہ

محمد سالم جامعی
ایڈیٹر ہفت روزہ ’الجمعیۃ‘ دہلی
مدنی ہال، ۱-بہادرشاہ ظفر مارگ، نئی دہلی

مشکل حکایتے ست کہ ہر ذرّہ عین اوست
اما نمی تواں کہ اشارت بہ او کنند
جمعیۃ علماء ہند شمسی ماہ و سال کے حساب سے اپنی زندگی کے ننانوے سال پورے کرکے سوویں سال میں قدم رکھ چکی ہے،جو ہندستان کی ملّی تاریخ کا ایک ایسا عجیب؛ مگر خوشگوار واقعہ ہے،جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔
ہندستان میں نہ جانے ملت کے نام پر کتنی تنظیموں نے جنم لیا،جو آندھی اور طوفان کی طرح اُٹھیں اور سمندر کے جھاگ کی طرح اپنی آخری منزل کو پہنچتی چلی گئیں۔آزادی سے پہلے سقوطِ خلافت کے بعد خلافت تحریک اُٹھی، جس کا مقصد اس انگریز سامراج کے خلاف رائے عامہ بیدار کرنا تھا، جو خلافتِ اسلامیہ کے خاتمہ کا اوّلین محرک تھا،خلافت تحریک نے مسلسل ایک دہائی تک ملک میں سرگرم جدوجہد جاری رکھی؛لیکن ایک دہائی کے بعد وہ اپنی سرگرمی جاری نہ رکھ سکی۔ مسلم لیگ آندھی اور طوفان بن کر مسلمانوں کے دلوں پر چھائی؛لیکن ملک آزاد ہوتے ہی وہ اپنا وجود کھو بیٹھی، مجلس احرار اور خاکسار تنظیم کا بھی تقریباً ایسا ہی حشر ہوا اور آج کوئی یہ بھی نہیں جانتا کہ ان ناموں کی کوئی تنظیم کبھی وجود میں آئی بھی تھی،یا نہیں؟لیکن خدا کا بیکراں فضل و احسان ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اپنی درازیئ عمر کے باوجود نہ صرف زندہ ہے؛بلکہ پہلے دن جیسے جوشِ عمل اور سرگرمی کے ساتھ زندہ ہے۔ تنظیموں کے لیے ایک سو برس کی عمر کچھ کم نہیں ہوتی اور اگر کوئی تنظیم اپنی عمر کے سو سال پورے کرلے تو اسے فضلِ خداوندی اور اکابر و اسلاف کی دعائے نیم شبی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند ۹۱۹۱ء میں ایسے وقت میں قائم ہوئی،جب انگریزی استبداد اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا اور کسی میں یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ سات سمندر پار کی اس اجنبی مخلوق کے خلاف کوئی آواز بلند کرسکے؛ لیکن جمعیۃ علماء ہند اور اس کے بانیوں نے سب سے پہلی جو آواز لگائی، وہ وہی تھی جسے سننے کے لیے ہر ہندستانی گوش برآواز تھا، اس نے مکمل آزادی کا نعرہ دیا اور کہنا چاہیے کہ اس نعرہ کے ذریعہ اس نے تحریک آزادی کے لیے قائم تمام تنظیموں، تحریکوں اور انجمنوں پر سبقت حاصل کرلی۔
اپنی سو سالہ زندگی میں جمعیۃ علماء ہند نے ملتِ اسلامیہ ہند کی کیا خدمت انجام دی؟ اس کی صرف فہرست شماری کے لیے بھی ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے،چہ جائیکہ ان خدمات کی تفصیل بیان کی جائے؛ تاہم یہ بات انتہائی وثوق اور اطمینانِ قلب کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس نے مسلمانوں کی زندگی کا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں چھوڑا، جہاں اس نے اپنی خدمت کے نقوش نہ چھوڑے ہوں۔
الحمدللہ جمعیۃ علماء ہند اپنی زندگی کے سو سال پورے کررہی ہے اور جس کے اظہارِ تشکر کے لیے اس نے مختلف پروگراموں کی شکل میں ان شاء اللہ پورے سال صد سالہ تقریبات منانے کا فیصلہ کیا ہے، جن کا اختتام نومبر ۹۱۰۲ء میں ایک عظیم الشان صد سالہ اجلاسِ عام پر ہوگا،جمعیۃ علماء ہند اپنی ان صدسالہ تقریبات کو مؤثر اور یادگار بنانے اور اپنے اکابر و اسلاف، بانیان اور اہم جماعتی شخصیتوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی حیات و خدمات پر مشتمل سیمیناروں کا بھی اہتمام کررہی ہے اور الحمد للہ آج کا یہ سیمینار جو مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ کے سلسلہ میں منعقد ہورہا ہے، اسی سلسلۃ الذہب کی ایک سنہری کڑی ہے۔ مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ کی شخصیت اس کاروانِ ملت میں انتہائی اہمیت کی حامل تھی،جمعیۃ علماء ہند کے دورِ اوّل میں اگر سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ کو جمعیۃ علماء ہند کی زبان کہا جاتا تھا تو حضرت مولانا محمد سجادؒ اس کا دماغ کہے اور سمجھے جاتے تھے،وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ملک کے صف اوّل کے رہنماؤں میں شامل تھے،ملّی جدوجہد کے ذیل میں ملت کی شیرازہ بندی ان کا خاص موضوع تھا، ایک طرف انھوں نے جمعیۃ علماء ہند کی تحریک و تاسیس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تو دوسری طرف ملت کی شرعی رہنمائی کے لیے انھوں نے امارتِ شرعیہ کی بنیاد ڈالی جس کی ابتدا بہار سے کی گئی۔
دراصل انگریزی سامراج کی سازشوں کے ذریعہ خلافت کے سقوط نے ہندستانی مسلمانوں کو یہ سمجھنے پر مجبور کردیا تھا کہ انگریزی سامراج اگرچہ مسلمانوں کے دین و ایمان پر شب خون مارنے اور عیسائی مشنریوں کی ہزار کوششوں کے باوجود انھیں اسلام سے بیگانہ کردینے میں ناکام ہوگیا ہے، تاہم اس نے اپنے اقتدار کے سہارے مسلمانوں میں انتشار و افتراق اور ان کی عائلی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے انگریزی عدالتوں کے ذریعہ شریعت اسلامی کے خلاف بہت سے ایسے فیصلے کرائے،جن کے ذریعہ اسلامی روایات، موروثی و عرفی قوانین وراثت اور نکاح و طلاق کے معاملات میں شریعت اسلامی سے انحراف نے جنم لینا شروع کردیا۔یہ اور اس طرح کے بہت سے شرعی و عائلی مسائل و معاملات تھے، جو انگریزی سامراج کے نشانے پر تھے اور جس کا مقصد صرف اور صرف ان کا اسلامی تشخص ختم کرکے انھیں ان کے دین و ایمان سے بیگانہ کردینا تھا۔ یہ ایسی صورتِ حال تھی جس نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور ان کے دردمند اور حساس اربابِ فکر کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔ انھیں اربابِ فکر ودانش میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ بھی تھے۔ ملک کے مسلمانوں میں اپنے شعائر اسلامی کے تعلق سے بے چینی عام تھی،مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ کا ملّی موضوع چونکہ ملت کی شرعی شیرازہ بندی ہی تھا؛ اس لیے انھیں ملت کے اس احساس کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی اور پھر ۹۳۳۱ھ مطابق ۱۲۹۱ء میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ کی قیادت ورہنمائی میں اس احساس نے ایک ادارہ کی شکل اختیار کرلی،جسے امارتِ شرعیہ بہار کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے، جس کے تادم واپسیں (۰۴۹۱ء) آپ نائب امیر شریعت رہے۔ یہ آپ کی کسر نفسی تھی کہ آپ نے مولانا شاہ بدرالدین صاحبؒ کی موجودگی میں علماء و عوام کے شدید اصرار کے باوجود امارت قبول نہیں فرمائی؛ اس لیے کہ وہ ہی اس پورے نظام کا دماغ اور روحِ رواں تھے اور بلاشبہ امارت آپ کا حق تھا۔دراصل مولانا محمد سجاد قدس سرہٗ کو پروردگارِ عالم نے فراستِ ایمانی سے خوب خوب نوازا تھا،مستقبل پر ان کی گہری نظر تھی،مستقبل کے حالات کا اندازہ کرکے حال کا نقشہ بنانے میں وہ ماہر تھے۔ حدیث شریف میں فراستِ مومن کو بڑی اہمیت دی گئی ہے، ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ یہ نورِ حق کا پرتو ہوتی ہے،مومن نورِ خداوندی کی روشنی میں مستقبل کو دیکھ لیتا ہے۔بقول مفکر اسلام حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ: وہ دقیق النظر اور عمیق العلم تھے۔ حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ اپنے ایک مقالہ میں تحریر فرماتے ہیں:
”میرے محدود علم میں ان کا جیسا دقیق النظر اور عمیق العلم عالم دور دور نہ تھا۔ فقہ بالخصوص اصولِ فقہ پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔ سیاست و تمدن اور تاریخ کا بھی انھوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا، خاص طور پر قانونی و دستوری باریکیوں اور ہندستان کے دستور اور سیاسی نظاموں سے وہ گہری دلچسپی رکھتے تھے اور ان کا انھوں نے بنظرِ غائر مطالعہ کیا تھا۔ ان کے تکلم و خطابت اور تحریر و انشا کے حصہ کی قوت و صلاحیت بھی (جس سے ان کے بہت سے معاصرین نے عام طور پر بڑی فیاضی سے کام لیا) مسلمانوں کے موجودہ حالات، مستقبل کے خطروں اور ہندستان میں ان کے مقام کے تعین کے مسئلہ پر صرف ہوئی تھی۔ وہ بدلتے ہوئے ہندستان کو اپنی چشم بصیرت سے اس طرح دیکھ رہے تھے، جیسا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس وقت چشم بصارت سے بھی نہیں دیکھ پارہے تھے۔ وہ اقبال کی زبان میں ہر وقت زبانِ حال سے گویا تھے:
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
(ہفت روزہ ’نقیب‘ پھلواری شریف)
مفکرِ ملت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ کی فراستِ ایمانی کا اندازہ ۳۲/جنوری ۹۳۹۱ء کے مسٹر جناح کے نام لکھے گئے اس مکتوب سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے، جس میں انھوں نے وقت کے سیاسی مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ کے رہنماؤں کو مشورہ دیا تھا کہ چار کروڑ روپے جمع کرکے مسلمانوں کی صنعتی ترقی کے لیے کارخانے اور فیکٹریاں کھولی جائیں؛تاکہ بے کار و بے روزگار مسلم نوجوان کام اور روزگار حاصل کرسکیں اور مسلمانوں کے لیے ملک میں صنعتی کام فراہم ہوجائے۔دراصل مولانا مرحوم اپنی فراستِ ایمانی سے یہ بات سمجھ چکے تھے کہ جلد،یا بدیر انگریزی سامراج کو ملک سے راہِ فرار اختیار کرنی ہی ہوگی اور پھر ملک میں جو بھی حکومت قائم ہوگی،اس پر اکثریت کا غلبہ رہے گا اور حکومت کے زیر سایہ ملک کی صنعت و حرفت پر بھی برادرانِ وطن ہی قابض ہوں گے۔ مولانا مرحوم کی یہ دوراندیشی تھی، جسے آج ہم کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں۔ اپنے مکتوب میں حضرت مفکرِ ملت تحریر فرماتے ہیں:

”مکرمی! جس طرح میں نے ”الدین النصیحۃ“ کے تحت آپ کو پہلے خط میں محض اسلامی اور ملکی مفاد کے لیے عین وقت پر اہم مشورہ دیا تھا، اسی طرح ایک دوسرا مشورہ نہایت ضروری دیتا ہوں، یہ بھی آپ سال دو سال کے اندر کرسکتے ہیں، ورنہ پھر شاید موقع نہ رہے۔مجھے امید تھی کہ آپ اگر میری انقلابی تجویز کو منظور نہ کریں گے تو کم از کم کوئی تعمیری پروگرام مسلمانوں کے اقتصادی مفادکے لیے بناکر کام شروع کردیں گے؛ مگر افسوس ہے کہ سوائے بیکار اور لاحاصل شور وشغف کے کچھ نہیں ہوا؛اس لیے آج دوسری بات لکھتا ہوں۔ اس وقت خوش قسمتی سے مسلم لیگ کے جھنڈے کے نیچے تمام سرمایہ دار مسلمان جمع ہوگئے ہیں،اتنے سرمایہ دار اس سے پہلے کبھی جمع نہیں ہوئے تھے؛ لیکن آج غالباً کوئی مسلم سرمایہ دار ایسا نہیں ہے،جو اس سے الگ ہو، بس یہ دقت ہے کہ آپ تین کروڑ روپے ان سرمایہ داروں سے جلد از جلد جمع کرلیں اور ایک کروڑ روپے غریب مسلمانوں سے وصول کرنے کا انتظام کریں اور اس چار کروڑ روپے کے سرمایہ سے صنعتی کارخانے اور فیکٹریاں کھول دیں؛ تاکہ ایک طرف تو سرمایہ کا اضافہ ہوتا جائے اور دوسری طرف لاکھوں تعلیم یافتہ مسلم نوجوان اور مزدور جو ذریعہ معاش نہ ملنے سے تباہ ہورہے ہیں، برسرروزگار ہوجائیں؛کیونکہ اس وقت بھی الحمد للہ مسلمان سرمایہ داروں میں بست ہزاری سے لے کر لاکھ پتی تک ہیں،تمام ہندستان میں چند ہزار مسلمان ایسے موجود ہیں،جن سے آپ بآسانی تین کروڑ روپیہ جمع کرسکتے ہیں،پہلے ان سے روپے فراہم کرلیں، اس کے بعد متوسطین اور غریب افراد سے ایک کروڑ روپے کا جمع کرنا کوئی مشکل نہیں، اگر مسلم لیگ تمام باتوں سے علیحدہ ہوکر صرف اس کام کو انجام دے دے تو وہ مسلمانوں کے لیے بہت مفید کام کرے گی۔
تعجب ہے کہ کانگریس کے وزرا صنعتی کانفرنس کرکے ہندستان کی صنعتی ترقی کے مسئلہ پر غور کرتے ہیں،ان کی رپورٹیں اخبارات میں شائع ہوجاتی ہیں؛ مگر مسلم لیگ کے اصحاب صرف ہندوؤں اور کانگریس اور ان مسلمانوں کو کوسنے میں مشغول ہیں،جو انگریزی نظامِ حکومت کی تخریب کا کامل جذبہ اپنے دل میں رکھتے ہیں اور آج تک اس مسلک پر قائم ہیں؛ مگر مسلم لیگ کے سب سے بڑے شاندار اجلاس میں غریب مسلمانوں کے مالی مفاد کے لیے صنعتی ترقی کے مسئلہ پر ایک لمحہ بھی صرف نہیں کیا جاتا اور نہ کوئی اسکیم بنائی جاتی ہے اور نہ بنگال و پنجاب کے وزراء اعظم کو کوئی ہدایت دی جاتی ہے اور نہ وہ خود کوئی اسکیم پیش کرتے ہیں توکیا غریب مسلمانوں کی خدمت کے یہی آثار ہیں؟ میرے الفاظ پر نگاہ نہ کیجیے؛ بلکہ اس کے معانی پر غور کیجیے“۔
آپ کا خیراندیش
ابوالمحاسن محمد سجاد
مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ پر اکابر امت کا مکمل اعتماد تھا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدس سرہٗ کو جون ۰۴۹۱ء میں جمعیۃ علماء ہند کا صدر منتخب کیا گیا تو آپ نے جولائی ۰۴۹۱ء میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ کو مجلس عاملہ کے مشورہ پر ناظم عمومی نامزد فرمایا؛ مگر حضرت مولانا ابوالمحاسنؒ کی عمر نے وفا نہ کی،آپ کا اسی سال وصال ہوگیا،جس کے بعد حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی لکھنوی کی نامزدگی عمل میں آئی، اس سے قبل ۲۳۹۱ء میں حضرت مولانا محمد سجادؒ کی مومنانہ فراست، قوتِ عمل اور حاضردماغی کا ہمارے اکابر اس وقت مشاہدہ کرچکے تھے، جب جمعیۃ علماء ہند نے سول نافرمانی کا پروگرام طے کیا اور اس کے لیے آپ کی سربراہی میں ’ادارہ حربیہ‘قائم کیا۔ ادارہ حربیہ کا قیام، اس کا پس منظر اور مولانا مرحوم کی مومنانہ بصیرت کا حال مورخ جمعیۃ سیّد الملت حضرت مولانا سیّد محمد میاں صاحب قدس سرہٗ کی زبانی ملاحظہ فرمائیں۔حضرت سیّد الملّتؒ ’مجاہد ملت نمبر‘ میں مجاہد ملتؒ کے حالات پر ایک تفصیلی مضمون میں رقم طراز ہیں:
”تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو اس موقع پر یہ بات خاص طور سے نوٹ کرلینی چاہیے کہ جمعیۃ علماء ہند نے جب ۹۲۹۱ء میں جنگِ آزادی میں شرکت طے کی تھی تو ساتھ ہی یہ بھی طے کرلیا تھا کہ اس کا پلیٹ فارم علیحدہ ہوگا۔ اس کے رضاکاروں کا نظام بھی علیحدہ رہے گا، گرفتاریوں کا پروگرام بھی جمعیۃ علماء ہند اپنے ارکان اور کارکنوں کے لیے علیحدہ بنائے گی اور اگر مقدمات وغیرہ کے سلسلہ میں مصارف کی ضرورت ہوگی تو ان کا انتظام بھی جمعیۃ علماء اپنے طور پر کرے گی، کانگریس یا کسی اور پارٹی کی طرف نظر نہیں اُٹھائے گی، اب ۲۳۹۱ء میں جب تحریک میں دوبارہ جان پڑی تو اس کو زندہ رکھنے کے لیے غذا کی ضرورت تھی،پروگرام کے مطابق سول نافرمانی کرتے ہوئے گرفتار ہوجانا تحریک کی غذا تھی؛ مگر اس مرتبہ اس غذا کا فراہم کرنا کانگریس اور جمعیۃ علماء دونوں کے لیے مشکل ہورہا تھا؛ کیونکہ اوّل تو مسلسل تین سال گزر جانے کے بعد کارکنوں کے جوشِ عمل میں اضمحلال پیدا ہوجانا ایک قدرتی امر تھا، اس کے علاوہ ولنگڈن گورنمنٹ نے اس مرتبہ تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی صف اوّل کے تمام لیڈروں کو گرفتار کرلیا تھا، مزیدبرآں ضبطی جائداد اور گرفتاریوں کے سلسلہ میں بھی حکومت کی پالیسی پہلے سے بہت زیادہ سخت ہوگئی تھی،ان تمام حالات کی بنا پر اگرچہ کام بہت مشکل ہوگیا تھا؛ مگر ان حالات کا تقاضا یہ بھی تھا کہ تحریک کی رگوں اور پٹھوں میں تقویت کے انجکشن اس پردہ داری کے ساتھ لگائے جائیں کہ سی آئی ڈی کی نظرِ تفتیش اُن ڈاکٹروں تک نہ پہنچ سکے،جو انجکشن کی سوئیاں ہاتھ میں لیے ہوں۔
عام طور پر پروگرام یہ ہوا کرتا تھا کہ ہفتہ میں ایک یا دو مرتبہ رضاکاروں کے جھتے بھیجے جاتے تھے،جو برسرعام قانون کی خلاف ورزی کرتے تھے اور گرفتار کرلیے جاتے تھے،عام طور پر دفعہ ۸۸/۴۴۱ نافذ رہتی تھی، رضاکاروں کے جتھے خلافِ قانون نعرے لگاتے تھے،جو جماعتیں خلافِ قانون قرار دے دی جاتی تھیں،اُن کا پرچم لہراتے، یا اُن کا لٹریچر تقسیم کرتے تھے اور جب وہ جلوس بناکر چلتے تھے تو دفعہ ۸۸/۴۴۱ کی خلاف ورزی بھی ہوجاتی تھی،پولیس کی کوشش یہ رہتی تھی کہ وہ یہ معلوم کرے کہ رضاکاروں کا جتھہ کہاں سے روانہ ہوگا؛تاکہ روانگی سے پہلے ہی ان کو گرفتار کرلے اور یہ نہ ہوسکے تو جیسے ہی جتھہ روانہ ہو فوراً گرفتار کرلے؛ تاکہ شہر میں خلافِ قانون اقدام کا مظاہرہ نہ ہوسکے،پورے ملک میں سول نافرمانی اور خلاف ورزی قانون کے اس نظام کو زندہ رکھنے کے لیے ایک مستقل نظام کی ضرورت تھی؛چنانچہ کانگریس نے جنگی کونسل قائم کردی تھی اور جمعیۃ علماء ہند نے اپنے اس نظام کے لیے عربی کا لفظ ’ادارہ حربیہ‘ منتخب کیا تھا۔
وہ زمانہ بھی عجیب تھا،جمعیۃ علماء ہند کے صدر مفتی اعظم حضرت مولانا محمد کفایت اللہ صاحب اور ناظم اعلیٰ سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب تھے؛مگر وہ ڈاکٹر جس کو بہت سے انجکشن دے دیئے گئے تھے ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب (نائب امیر شریعت صوبہ بہار) تھے۔ ’ادارہ حربیہ‘ کے کلید بردار یہی حضرت تھے،جمعیۃ علماء ہند کے دفتر سے علیحدہ محلہ بلیماران کی ایک تاریک گلی میں ایک مکان لے لیا گیا تھا،حضرت مولانا سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا قیام اسی مکان میں رہتا تھا، جس کا علم دفتر کے لوگوں میں سے بھی غالباً صرف قاضی اکرام الحق صاحب کو تھا،جماعت کے جو حضرات اس ادارہ کی ضرورت سے حضرت موصوف سے ملاقات کرنا چاہتے تھے تو قاضی اکرام الحق صاحب ہی اُن کے رہبر بنتے تھے“۔
حضرت سیّد الملتؒ اپنے اسی مضمون میں مزید رقم طراز ہیں:
”موصوف کی ہدایت اس احقر کے لیے یہ تھی کہ ہر ہفتہ جمعہ کی صبح کو مرادآباد سے چل کر دہلی پہنچا کرے اور نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد میں تقریر کرکے واپس جایا کرے،چند جمعے اس طرح گزرے،مرادآباد سے تقریباً پانچ بجے صبح کو گاڑی چلتی تھی (جیسا کہ آج کل بھی چلتی ہے) احقر اس ٹرین سے تقریباً ساڑھے دس بجے دہلی پہنچتا تھا، اسٹیشن پر ہی کوئی صاحب موجود رہتے،جو احقر کو احتیاط سے طے کردہ مقام پر پہنچا دیتے تھے،پھر اسی احتیاط سے رقیبوں کی نظروں سے بچاتے ہوئے جامع مسجد پہنچاتے اور تقریر کے فوراً بعد اسی احتیاط سے کسی صاحب کی رہنمائی میں صوبہ دہلی کی حدود سے باہر پہنچا دیتے تھے،پولیس جب تلاش کرتی تو اس کو اپنی ناکامی پر کافی جھنجھلاہٹ ہوا کرتی تھی،جمعہ کا دن تھا، احقر حسب ہدایت مرادآباد سے دہلی پہنچا، اس روز پولیس پوری طرح چوکنی تھی اور احقر کی گرفتاری کا سامان اس نے مکمل کررکھا تھا، حضرت مولانا سجاد صاحب کو اس کا علم تھا، مولانا موصوف نے نمازِ جمعہ کے لیے احقر کو خفیہ راستوں سے روانہ فرمایا تو احقر کے رہبر قاضی اکرام الحق صاحب کو تاکید کردی کہ نماز کے بعد جنوبی دروازہ سے احقر کو نہ نکالیں، اس طرف پولیس چوکی ہے اور آج چوکی کے علاوہ بھی پولیس کا انتظام ہے؛بلکہ شمالی دروازہ کے سامنے تانگہ تیار رکھیں اور اسی راستہ سے نکال کر لائیں، اس طرف پولیس نہیں ہوگی،قاضی اکرام الحق صاحب سہو اور نسیان کے پرانے مریض ہیں،یہاں بھی وہ اس ہدایت سے ایسے غافل ہوگئے کہ خاص طور پر ممنوعہ راستہ ہی پر تانگہ کا انتظام کیا؛ یعنی جنوبی پھاٹک سے ہی احقر کو لے کر آئے جہاں پولیس کی چوکی ہے،پھر راستہ بھی چاؤڑی بازار کے علاوہ چاندنی چوک کی طرف کا اختیار کیا،چنانچہ جیسے ہی کوتوالی کے سامنے تانگہ پہنچا، سی آئی ڈی کے سب انسپیکٹر نے جو جامع مسجد سے ہی تانگہ کے پیچھے لگ لیا تھا اور اطمینان سے اپنی سائیکل پر ہمارے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا، اس سب انسپکٹر نے تانگہ رُکوالیا اور احقر کو پورے اعزاز کے ساتھ تانگہ سے اُتار کر حوالات میں پہنچا دیا“۔
مولانا مرحوم واقعی مفکرِ ملت تھے، وہ ملت کے درد کا درماں اور اس کے امراض کے نباض حکیم تھے،وہ جانتے تھے کہ دُنیا میں بلافکر کے کوئی نظام قائم نہیں ہوسکتا؛ اس لیے انھوں نے جو ادارے قائم کیے،پہلے ان کی فکری تربیت قائم کی اور پھر اس کا عملی نظام بنایا۔ دراصل وہ مولانا رومؒ کی اس نصیحت پر عمل پیرا تھے:
اوّل فکر آخر آمد در عمل
ہیئت عالم چناں داں در ازل
حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ کی شخصیت ان کے علمی و عملی کارنامے اور ان کی قومی و ملّی خدمات بہت وسیع اور ہمہ جہت ہیں جنھیں تحریر کرنے کے لیے ایک بڑے دفتر کی ضرورت ہے۔ راقم الحروف تو آخر میں مثنوی مولانا رومؒ کا ہی ایک شعر پیش کرکے رخصت ہونا چاہتا ہے:
خود نباشد آفتابے را دلیل
جز کہ نور آفتاب مستطیل
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العالمین

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں