مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ اوران کی تحریک امارت شرعیہ

مولانانورالحق رحمانی قاسمی
استاذ المعہد العالی برائے قضا وافتاامارت شرعیہ

چودھویں صدی ہجری کے آغاز میں سرزمین ہند نے ایک ایسی عبقری شخصیت کو جنم دیا،جن کی سیرت،علمی ودینی کارناموں اورملی خدمات کے مختلف النوع پہلو ہیں،جن کو تمام شرعی علوم وفنون میں کامل دسترس اورمہارت حاصل تھی،زمانہ تعلیم میں بھی ہمیشہ ممتاز رہے،پھر تقریبا بیس سال کے عرصہ تک مدارس اسلامیہ میں تدریسی اور فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دی،خصوصا فقہ وفتاویٰ،تاریخ وادب اورمنطق وفلسفہ میں انہیں یدطولیٰ حاصل تھا، پھر ان کے دست مبارک پر صوبہ بہار،اڑیسہ وجھارکھنڈ میں امارت شرعیہ کی تاسیس عمل میں آئی جو اپنی نوعیت کا منفرد اور مثالی تجربہ اورہندوستان جیسے سیکولر ملک میں مسلم معاشرہ میں شرعی احکام کے نفاذ کی ایک کامیاب کوشش ہے،جو ان تمام ممالک کے لیے ایک مثال ہے،جہاں مسلمان اقلیت کی حیثیت سے زندگی گذار رہے ہیں۔
شہر پٹنہ جو صوبہ بہار کی راجدھانی ہے،اس کا شمار ہندوستان کے مشہور اورقدیم شہروں میں ہوتا ہے،ہندوستان میں علم وادب کے چار مراکز دلی،لکھنؤ،حیدرآؓباد اورعظیم آباد،شہر عظیم آباد ہی کا موجودہ نام پٹنہ ہے،اسے تاریخ کے ہر دور میں مرکزیت حاصل رہی ہے،چنانچہ وہ ہندوبادشاہوں کے دور میں بھی اورمسلم سلاطین کے زمانے میں بھی علم وادب کا گہوارہ رہا ہے،جہاں مشرقی علوم میں سے ہر فن مین ماہرین اوررجال کار پیدا ہوتے رہے ہیں،جن کی تصنیفات وتحقیقات کو اہل علم کے درمیان خاص اہمیت حاصل رہی ہے،بہار شریف پہلے پٹنہ ضلع کا ایک قصبہ تھا، اسی کے نام پر صوبہ کا نام بہار رکھا گیا،جس سے اس قصبہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے،بہار شریف کو عالم ربانی حضرت شرف الدین یحی منیری رحمۃاللہ علیہ جو مخدوم بہاری کے نام سے مشہور ہیں،ان کے مولد ومسکن ہونے کا شرف حاصل ہے۔
بہار شریف کا خطہ بڑا زرخیز اورتاریخی اہمیت کا حامل ہے،جس میں بہت سے علماء ومشائخ،صلحاء واتقیا اورعلوم اسلامی کے ماہرین اقطاب واعلام پیدا ہوئے،خصوصا ماضی قریب میں مولانا محمد سجاد،عظیم اسلامی اسکالر مولانا مناظر احسن گیلانی اورسیرت النبی کے مصنف علامہ سید سلیمان ندوی رحمہم اللہ پیدا ہوئے،پنہسہ،گیلان اوردسنہ یہ سب پندرہ کیلومیٹر ہی کے فاصلہ پر ہیں۔
اس قصبہ سے چند میل کے فاصلے پر راجگیر نامی مقام ہے،جسے مخدوم بہار نے اپنی عبادت وریاضت کا مرکز بنایا تھا اوروہ سڑک جو بہار شریف سے راجگیر کو جاتی ہے،اسی سڑک کے پچھم جانب چھ میل کے فاصلے پر پنہسہ گاؤں واقع ہے،یہ ایک چھوٹی سی بستی ہے،جو شہر کی آبادی اورشوروشغب اورہنگاموں سے بالکل دور ہے، اس گاؤں کے باشندوں کا پیشہ کاشتکاری ہے۔
حضرت مولانا سجاد رحمۃاللہ علیہ اسی گاؤں میں مولوی حسین بخش کے گھر پیدا ہوئے،جو گاؤں کے زمین دار اورمعزز لوگوں میں تھے اورصلاح وتقویٰ کی صفت سے متصف تھے،انہوں نے عربی پڑھی تھی اوردینی علوم حاصل کئے تھے،لیکن عا لمیت کا نصاب مکمل نہ کرسکے تھے،کچھ عرصہ انہوں نے تدریسی خدمات مدارس میں انجام دیں، پھر کاشتکاری میں لگ گئے،جو ان کا آبائی پیشہ اورذریعہئ معاش تھا اورپھر تاحیات زراعت ہی سے وابستہ رہے،وہ بڑے متقی،پرہیزگار،بااخلاق اورمتواضع تھے،سخاوت وفیاضی اورمہمان نوازی ان کا نمایاں وصف تھا،جو لوگ اس راہ سے راجگیر جاتے اوروہاں سے لوٹتے تو کم از کم ایک دن ان کے گھر ضرور قیام کرتے۔
مولانا محمد سجاد کی پیدائش چودھویں صدی کے بالکل آغاز میں ماہ صفر ۱۰۳۱ھ مطابق ۱۸۸۱ء میں ہوئی،ان کے والد ماجد نے ان کا نام محمد سجاد رکھا اوروہ اپنی کنیت ابوالمحاسن کے ساتھ مشہور ہوئے،چار سال ہی کی عمر کو پہونچے تھے کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا اوربچپنے ہی میں یتیم ہوگئے؛لیکن اللہ رب العزت کی خاص عنایت ان کے ساتھ رہی،پھر وہ اپنے برادر بزرگ مولوی احمد سجاد مرحوم کی کفالت وتربیت میں آئے،مولانا نے اپنی علمی زندگی کا آغاز اپنی بستی ہی میں کیا،پھر مدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں ۰۱۳۱ھ میں تعلیم کی غرض سے داخلہ لیا،جو ان کی بستی سے صرف چھ میل کی دوری پر واقع ہے،اس مدرسہ کے بانی اورناظم مولانا حافظ سید وحید الحق استھانوی رحمۃاللہ علیہ تھے،جن سے ان کی چچا زاد بہن منسوب تھیں،بعد میں چل کر مولانا وحید الحق رحمۃاللہ علیہ کی صاحبزادی مولانا سجاد علیہ الرحمہ کے نکاح میں آئیں اوروہ آپ کے خسر بنے،جب مدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلب علم کے لیے انہوں نے بیرون صوبہ کا سفر کیا،اس وقت ان کی عمر تقریبا چودہ سال تھی،اس سلسلے میں ان کی پہلی منزل کانپور یوپی قرارپائی اوروہاں کے مدرسہ میں مولانا احمد حسن کانپوری رحمۃاللہ علیہ کے حلقہئ درس میں داخل ہوئے،وہاں چند سال قیام کرنے کے بعد ازہر الہند دارالعلوم دیوبند کا سفر کیا اوروہاں کچھ عرصہ رہ کر اس کے بڑے علماء واساتذہ سے کسب فیض کیا،پھر فقہ وتفسیر اورعلم حدیث کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں داخل ہوئے اوروہاں کے سب سے بڑے استاذ مولانا عبدالکافی رحمۃاللہ علیہ کے حلقہ درس میں شامل ہوئے اوران سے خصوصی استفادہ کیا اورشرعی علوم کی تکمیل کرکے ۲۲۳۱ھ میں فارغ ہوئے اورسندفضیلت حاصل کی۔
مولانا مرحوم قیادت کے میدان میں:
فراغت کے بعدمولانا مرحوم نے پوری زندگی تعلیم وتدریس اور قوم وملت کی خدمت میں گذاری،البتہ آپ کی زندگی کاآخری دور قیادت وسیاست سے تعلق رکھتا ہے،جو چالیس سال کے بعد سے لے کر اخیر عمر تک جاری رہا،یہ آپ کی عمر کا سب سے بیش قیمت اورعہد زریں ہے،جو تقریبا بیس برسوں پر محیط ہے اوریہ بھی گویا قدرتی فیصلہ تھا کہ آپ نے قیادت کے میدان میں اس وقت قدم رکھا،جب عمر مبارک مقررہ عمر نبوت سے تجاوز کرچکی تھی،تعلیم وتربیت کے میدان میں ایک طویل عرصہ گذارنے کے بعد علم میں رسوخ،عقل وشعور میں پختگی،تجربات میں وسعت اورملکی وعالمی حالات اورسیاست حاضرہ پر نظر ہوچکی تھی جوایک کامیاب اورمخلص قائد کے لیے ضروری صفات ہیں،انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے عام طور پر اسی عمر میں انسانیت کی قیادت ورہنمائی سپرد کی،ماہرین نفسیات بھی اس سے قبل اس میدان میں قدم رکھنے کو مناسب خیال نہیں کرتے۔خلاصہ یہ کہ اصلاح وقیادت کے میدان میں آپ اس وقت داخل ہوئے،جب اس کی مطلوبہ تمام شرائط اورخوبیاں آپ کی ذات میں جمع ہوچکی تھیں۔
مولانا قرآن وحدیث اورتاریخ کے گہرے مطالعہ اوراپنی خداداد بصیرت کی روشنی میں مسلمانوں کے باہمی اختلاف وانتشار کو مسلمانوں کے عالمگیر زوال کا سبب سمجھتے تھے اوران کی شرعی تنظیم،امارت شرعیہ کے قیام اورنصب امیر کو اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے وجود وبقا اورباعزت زندگی کے لیے ضروری سمجھتے تھے،مگر اس راہ میں ان کا باہمی اختلاف اورگروہی اورمسلکی جھگڑے سب سے زیادہ رکاوٹ تھے،وہ پوری امت کی شیرازہ بندی کلمہ واحدہ کی بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں اورانہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا چاہتے تھے،لیکن یہ اس کے بغیرممکن نہ تھا کہ پہلے علما میں اتحاد قائم ہو اوروہ دین کے مصالح اوربلند مقاصد کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں،اس لیے انہوں نے مدرسہ انوارالعلوم گیا کے سالانہ اجلاس کے موقع پر جو وہ ہر سال منعقد کرتے تھے،۰۳/صفر ۶۳۳۱ھ مطابق ۷۱۹۱ء میں پورے صوبہ کے علما کو دعوت دی اوران کی ایک بڑی تعداد کو جمع کرکے انجمن علماء بہار کے نام سے ان کی ایک متحدہ تنظیم قائم کی اوربہار کے علماء ومشائخ اورارباب حل وعقد کی اجتماعی شیرازہ بندی کرکے انہیں ایک مرکزی نقطہ اورایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع کیا،اس انجمن کا مختصر لفطوں میں دوبڑا مقصد تھا،ایک اسلامی دعوت کی نشرواشاعت اوردوسرا حقوق ملیہ کی حفاظت۔
مولانا مرحوم کی اسی کوشش نے جمعیۃ علماء ہند کے قیام کے لیے میدان ہموار کیا،پھر تقریبا سال بھر کے بعد جمعیۃ علماء ہند کا قیام عمل میں آیا،مولانا جمعیۃ علماء کے بڑے داعی اوراعوان وانصار میں سے تھے،چنانچہ جمعیۃ علماء کی تاسیس کے لیے جو مجلس شوریٰ دہلی میں منعقد ہوئی تھی مولانااس میں بھی شریک ہوئے، اس طرح جمعیۃ کے قیام میں مولانا کا اہم رول رہاہے۔
بہرحال انجمن علماء بہار کے قیام کے بعد مولانا اس انجمن کی ترقی،علماء امت کے اتحاد اورمسلمانوں کے دینی،ملی اورسیاسی مصالح کے تحفظ کے لیے بالکل فارغ ہوگئے اورمدرسہ انوار العلوم گیا جس کے وہ بانی اورمہتمم تھے،اس کے نظم واہتمام کی ذمہ داری اپنے ایک ممتاز شاگرد رشید جناب مولانا عبدالحکیم کے سپرد کرکے ملی کاموں کے لیے فارغ ہوگئے،صوبہ بہار جو اس وقت جھارکھنڈ اوراڑیسہ ان سب پر مشتمل تھا،اس کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا،علماء ومشائخ اورارباب دانش سے ملاقاتیں کیں اورقیام امارت کے سلسلے میں ان سے مشورہ اورتبادلہ خیال کیا اورملک کے موجود حالات کے پیش نظر اس دینی وشرعی فریضہ کی ضرورت واہمیت کا انہیں احساس دلایا اوراس سلسلے میں علماء کے جو شکوک وشبہات تھے،ان کا ازالہ کیا،اس سلسلے میں آپ نے بہار کے دو دینی وروحانی مراکز خانقاہ رحمانی مونگیراورخانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ کا خاص طور پر دورہ کیا اورقطب عالم حضرت مولانا محمد علی مونگیری اوربدرالکاملین حضرت مولانا بدرالدین قادری پھلواروی کی تائیدوحمایت حاصل کی۔
مولانا مرحوم کی پہلی کوشش یہ تھی کہ جمعیۃ علماء ہند کی طرح آل انڈیا پیمانے پر امارت شرعیہ قائم ہوجائے؛لیکن ان کی انتھک کوشش اورجمعیۃ علماء ہند کی تجویز اورفیصلے کے باوجود جب ملکی پیمانے پر امارت شرعیہ کا قیام اورامیر الہند کا انتخاب بچند وجوہ ممکن نہ ہوسکا تو مولانا نے سوچا کہ جس طرح انجمن علماء بہار کے قیام سے جمعیۃ علماء ہند کے قیام کی راہ ہموار ہوئی،اسی طرح بہار میں امارت شرعیہ قائم ہوجانے سے پورے ملک اورہرصوبہ کے لیے نمونہ اورمثال بنایا جائے،چنانچہ انجمن علماء بہار کا سالانہ اجلاس جو دربھنگہ میں ۳۲،۴۲/شعبان ۹۳۳۱ھ مطابق ۲،۳/مئی ۱۲۹۱ء منعقد ہوا،اس میں تمام ارکان نے بہ اتفاق رائے قیام امارت کی تجویز منظور کی،جو درج ذیل ہے:

”صوبہ بہار واڑیسہ کے محکمہ شرعیہ کے لیے عالم مقتدر شخص منتخب کیا جائے،جس کے ہاتھ میں تمام محاکم شرعیہ کی باگ ہو اوراس کا ہر حکم مطابق شریعت ہر مسلمان کے لیے واجب العمل ہو،نیز تمام علماء ومشائخ اس کے ہاتھ پرخدمت وحفاظت اسلام کے لیے بیعت کریں جو سمع وطاعت کی بیعت ہوگی اورجو بیعت طریقت سے الگ ایک ضروری اوراہم چیز ہے،یہ جمعیۃ متفقہ طور پر تجویز کرتی ہے کہ انتخاب امیر محکمہ شرعیہ کے لیے ایک خاص اجلاس علماء بہار کا بمقام پٹنہ وسط شوال میں منعقد کیا جائے“۔(۴۱)
اجلاس سے قبل جو تاریخی مکتوب مولانا مرحوم نے علماء ومشائخ اوردانشوران ملت کے نام ارسال فرمایا،وہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے،اس میں ہندوستان جیسے غیر اسلامی ملک میں امارت کی ضرورت واہمیت،اس کی شرعی حیثیت اوراس سلسلے میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کا مدلل جواب ہے،یہ مکتوب تاریخ امارت کے گیارہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے،صوبہ کے اکثر علماء ومشائخ نے مولانا کی اس تجویز سے مکمل اتفاق کیا اورمثبت جواب لکھا، حضرت مولانا بدرالدین صاحب سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ نے اپنے جواب میں لکھا کہ امیر شریعت کے لیے جن صفات وشرائط کا جناب والا نے ذکر کیا ہے،وہ مولانا مونگیری کے علاوہ کسی اورشخصیت میں نہیں پائی جاتی،دوسری طرف حضرت مولانا مونگیری جو عمر میں بڑے تھے،ان کا اصرار تھا کہ اس عہدہ کے لیے سب سے زیادہ موزوں شخصیت حضرت مولانا بدرالدین قادری کی ہے،بالآخر انہیں کی تجویز غالب رہی اورحضرت بدر الکاملین کو ا میر شریعت منتخب کیا گیا،یہ ہمارے بزرگوں کا ایثار آج کے دور کے لیے ایک مثال اورباعث عبرت ہے۔
چنانچہ یہ انتخابی اجلاس حسب تجویز ۸۱/شوال ۹۳۳۱ھ کو ۸/بجے صبح بمقام پٹنہ پتھر کی مسجد میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی صدارت میں منعقد ہوا،جس میں صوبہ کے سو سے زائد علماء ومشائخ شریک ہوئے،بیرون صوبہ کے شرکاء میں مولانا آزاد کے علاوہ مولاناآزاد سبحانی اورمولانا سبحان اللہ خاں قابل ذکر ہیں،عام شرکاء کی تعداد تقریبا چار ہزار تھی،شرکائے اجلاس نے بہ اتفاق رائے حضرت مولانا شاہ بدرالدین سجادہ نشیں خانقاہ مجیبیہ کو امیر شریعت اورحضرت مولانا سجاد کو نائب امیر شریعت منتخب کیا،یہ مسلمانان ہندبالخصوص صوبہ بہار کے لیے ایک مبارک اورتاریخی دن تھا،جس میں شرعی امارت کا قیام اورامیر شریعت کا انتخاب عمل میں آیا اوراس طرح اس دینی فریضے کی تکمیل ہوئی،جو کسی ملک پر غیر مسلمانوں کے غلبہ وتسلط کے بعد وہاں کے باشندوں پر انتخاب امیر کے سلسلے میں عائد ہوتا ہے،اس شرعی تنظیم نے صوبہ کے مسلمانوں میں ملی واجتماعی روح کو بیدار کردیا اوراسلامی زندگی کی لہر دوڑ گئی،دارالقضاء،بیت المال اورزکوٰۃ وصدقات کی اجتماعی وصولی اورتقسیم کا نظام قائم ہوا،شرعی مسائل میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے دارالافتاء کا شعبہ قائم ہوا اوراکل آٹھ شعبے قائم ہوئے اوراس کے لیے مولانا مرحوم نے خود شہر شہر اوربستی بستی کا دورہ کرکے مسلمانوں کی بہت سی آبادی کو مرکزی امارت سے جوڑا اورتمام مقامی مسائل ومشکلات کو شریعت کی روشنی میں حل کرنے کا نظام بنایا اورہر آبادی کے دینی سردار کے لیے قرآنی تعبیر کے مطابق نقیب کا اصطلاحی نام تجویز کیا،اس طرح تبلیغ اسلام،تحفظ مسلمین،دارالاشاعت اوردیگر شعبے باضابطہ قائم ہوئے اورکام کرنے لگے۔
امارت شرعیہ کے قیام کے بعد مولانا نے اپنی تدریسی اوردیگر مصروفیات سے کنارہ کش ہوکر اس اہم دینی تنظیم کے استحکام کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا اوربقول مولانا عبدالصمد رحمانی کے کہ جب وہ دور آیا کہ مولانا جماعتی اوردینی کاموں میں ایسے منہمک ہوئے کہ اس کی(یعنی کھیتی کی)طرف سے بے توجہی ہوگئی تو آہستہ آہستہ کاشتکاری خراب ہوگئی اورمحض خراب نہیں؛بلکہ بربادی کی حد تک پہونچ گئی،یہاں تک کہ اس کی پیداوار سے زمین کی مالگذاری بھی ادا نہ ہوسکی اورکچھ زمین نیلام ہوگئی اورحضرت امیر شریعت رابع کی تحریر کے مطابق چوبیس بیگھہ زمین مالگذاری ادا نہ کرنے کے باعث نیلام ہوگئی۔
امارت شرعیہ کے قیام کے بعد امارت ہی آپ کا اوڑھنا بچھونا بن گئی،پورے صوبہ کا دورہ کرکے آپ نے مسلمانوں کے درمیان اس اہم تنظیم کو متعارف کرایا،اپنے تبلیغی دوروں میں مسلمانوں کے عقائد واعمال کی اصلاح کی،شرک وبدعات،غیر شرعی اورجاہلانہ رسوم ورواج کو ختم کیا،ان کے باہمی اختلاف وانتشار کو مٹاکر انہیں اتحاد واتفاق کی لڑی میں پرویا،عشروزکوٰۃ کی اہمیت کو سمجھایا اوراس کی اجتماعی وصولی اورصحیح مصارف میں صرف کرنے کے لیے عمال ومبلغین مقرر کئے،ادارہ کی ضروریات کی تکمیل کے لیے قومی محصول کا نظام قائم کیا،ارتداد اورتمام اسلام دشمن تحریکات کا مقابلہ کیا،مظلوم عورتیں جو امارت کے قیام سے قبل اپنے شوہروں کے ظلم وستم کا شکار تھیں،یا شوہر کے مفقود الخبر ہونے کی وجہ سے حقوق زوجیت سے محروم تھیں،دارالقضاء کے ذریعہ ان کے حقوق دلائے،مجبوری کی حالت میں نکاح فسخ کیا،امت کی ڈھارس بندھائی،ان کے آنسو پوچھے اوران کے زخم پر مرہم رکھا،تحریک سدھی سنگٹھن کا مقابلہ کیا،ضلع چمپارن،سارن اورہزاری باغ کے مرتدین کو حکمت کے ساتھ اسلام کی طرف واپس لائے،ان علاقوں میں امارت شرعیہ اوردیگر اہل خیر کے تعاون سے مساجد اورمکاتب کی تعمیر کی،ان میں بچوں کی دینی تعلیم کے لیے امارت شرعیہ کی طرف سے اساتذہ بحال کئے،ان میں متعدد مکاتب ومدارس کی کفالت آج تک امارت شرعیہ کررہی ہے۔
مرتدین کو اسلام کی طرف واپس لانے کے ساتھ دوسرا اہم کام آپ نے یہ بھی کیا کہ بعض جرائم پیشہ غیر مسلم قوموں کو حلقہ بگوش اسلام کیا،مگھیا ڈوم اپنے جرائم وکرائم سے مشہور ہے،موضع چوتروا تھانہ بگہا ضلع چمپارن میں انگریز حکومت انہیں عیسائی بنانا چاہتی تھیں،مولانا نے اپنے مبلغین بھیج کر ان میں اسلام کی تبلیغ کا کام کیا،اللہ کے فضل وکرم سے سو(۰۰۱) گھرانے بخوشی اسلام میں داخل ہوگئے۔
۸۲/رمضان ۲۵۳۱ھ مطابق ۴۳۹۱ء میں بہار میں ہولناک زلزلہ آیاجس میں بے حد تباہی ہوئی،ہزاروں مکانات منہدم ہوگئے،آپ نے ان کی تعمیر کے لیے یہ اسکیم چلائی کہ رضاکاروں کی ایک ٹیم آپ کے ہمراہ کام کرتی اورآبادی کے لوگوں کو ساتھ لے کر باری باری ایک ایک گھر تعمیر کرتے،اس طرح تھوڑے عرصہ میں بہت سے مکانات کم خرچ میں تعمیر ہوگئے،اسی زلزلہ کے بعد آپ متاثرہ علاقوں کے دورہ پر تھے کہ آپ کے اکلوتے صاحبزادے مولانا حسن سجاد مرحوم جنہوں نے دارالعلوم دیوبند سے امیر شریعت رابع کے ساتھ دورہ ئحدیث سے فراغت حاصل کی تھی،جن کی عمر ۴۲،۵۲/سال تھی اورشادی کی بات چل رہی تھی کہ وہ سخت علیل ہوئے،حالت نازک ہوگئی،گھر سے تار پر تار جاتا ہے،جواب میں علاج کی ہدایت فرماتے ہیں،قوم وملت کے ہزاروں فرزندوں کی فکر وخدمت اپنے اکلوتے فرزند کی فکر سے باز رکھتی ہے،جب آخری وقت میں گھر سے آدمی آتا ہے تو رفیق سفر مولانا احمد سعید دہلوی باصرار آپ کو گھر جانے پر مجبور کرتے ہیں،جب گھر پہونچتے ہیں تو بیٹے کو سکرات کی حالت میں پاتے ہیں اوربس تجہیز وتکفین کا موقع مل پاتا ہے،صحیح معنوں میں آپ کی ذات گرامی اس شعر کا مصداق تھی ؎
پھونک کر اپنے آشیانے کو
بخش دی روشنی زمانے کو
امارت شرعیہ اوراس کے بنیادی شعبے:
یہاں تک تو میں نے حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ کے حالات وواقعات اوران کی مختلف النوع علمی،دینی اورملی خدمات کا اجمالی تذکرہ کیا،اب آگے چند صفحات میں اس امارت شرعیہ کا مختصر تعارف کرانا چاہتے ہیں،جو ان کا سب سے بڑا دینی وملی کارنامہ ہے اورجو ان کے لیے ان شاء اللہ صدقہ جاریہ اورباقیات صالحات کی حیثیت رکھنے والی الشان دینی خدمت اورہندوستانی تاریخ میں دینی جدوجہد کا روشن باب ہے، امارت شرعیہ کا جواجمالی تخیل مولانا مرحوم نے علماء ومشائخ کے سامنے پیش فرمایا تھا،ابتداءً اس کے آٹھ شعبے قائم فرمائے جو اس کے مستقل اوربنیادی شعبے میں اوروہ سب قرآن وحدیٖث سے ماخوذ اورحکم الٰہی کی تعمیل ہے،بعد میں ضرورت کے مطابق اس میں اضافہ ہوتا رہا اوراب ان نئے شعبوں نے بھی مستقل شعبہ کی صورت اختیار کرلی ہے،مستقل شعبے یہ ہیں:
(۱) دارالقضاء
(۲) دارالافتاء
(۳) شعبہ تبلیغ
(۴) شعبہ تنظیم
(۵) شعبہ تعلیم مذہبی وعصری
(۶) شعبہ تحفظ مسلمین
(۷) شعبہ نشرواشاعت
(۸) شعبہ بیت المال
اوربعدمیں قائم ہونیوالے شعبہ جات:
(۹) المعہد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء،پھلواری شریف پٹنہ
(۰۱) دارالعلوم الاسلامیہ رضانگر گونپورہ پھلواری شریف پٹنہ
(۱۱) امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئرترسٹ
(۲۱) شعبہ امور مساجد
(۳۱) شعبہ تعمیرات
(۴۱) ریلیف فنڈ،ریلیف فنڈ دراصل بیت المال ہی کے تحت آجاتا ہے۔
اب ان تمام شعبہ جات کا تعارف تاریخ امارت اوران دو کتابچوں کی روشنی میں اجمالا ذکر کیا جاتا ہے،جو امارت کے ذمہ داروں کے ایما پر اس عاجز نے اردو میں ”امارت شرعیہ تعارف وخدمات“کے نام سے اورعربی میں ”منظمۃ الإمارۃ الشرعیۃ مؤسسۃ إسلامیۃ رائدۃ فی إقامۃ نظام القضاء وتنظیم شؤن المسلمین“ کے نام سے مرتب کئے ہیں۔

دارالقضاء:
یہ امارت شرعیہ کا سب سے اہم شعبہ ہے،جس کا مقصد مسلمانوں کے عائلی مقدمات اورمعاشرتی مسائل کا شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا ہے،قرآن کریم میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ اوراس کے رسول اوراپنے امیر کی اطاعت کریں اورآپس میں کوئی نزاع اوراختلاف ہو تو اسے اللہ اوررسول کی طرف لوٹائیں۔(سورہ نساء) یعنی شریعت کی روشنی میں اس کا حل تلاش کریں،اسلامی عدالت اورمسلم قاضی کے ہوتے کسی غیر شرعی عدالت یا غیر مسلم جج کی طرف رجوع کرنا کسی صاحب ایمان کے لیے روا نہیں،اسی حکم الٰہی کی تعمیل میں امارت کے تحت نظام قضاء قائم کیا گیا،پھلواری شریف میں دارالقضاء مولانامحمد سجاد علیہ الرحمہ نے امارت شرعیہ کے قیام سے قبل انجمن علماء بہار کی نگرانی میں قائم فرمایاتھا،پھر جب امارت شرعیہ کا قیام عمل میں آیا تو اسے امارت شرعیہ کے ماتحت کردیا، ہندوستان جیسے سیکولر ملک میں جہاں اسلامی حکومت نہیں ہے،وہاں مسلم قاضی اوردارالقضاء کے بغیر مسلمانوں کے بہت سے مسائل حل نہیں ہوسکتے،مثلا اگر کسی عورت کا شوہر مفقود الخبر اورلاپتہ ہے اوروہ نفقہ اورحقوق زوجیت سے محروم ہے،یا زوجین کے درمیان کسی بناپر حرمت مصاہرت پیدا ہوگئی تو مسلم قاضی ہی فسخ نکاح کا فیصلہ کرسکتا ہے،سرکاری عدالت کا کوئی غیر مسلم جج اگر تفریق کا فیصلہ کردے تو وہ شرعا معتبر نہیں ہے،اسی طرح اگر کوئی مسلم خاتون شوہر کے ظلم وتعدی کا شکار ہو اورنان ونفقہ اورحقوق زوجیت سے محروم ہو تو اس صورت میں عورت کی رہائی اورگلوخلاسی کا واحد ذریعہ مسلم قاضی کا فیصلہ ہے،اسی طرح یتیم اورلاوارث بچوں کی ولایت اوران کے مفادات ومصالح کا تحفظ مسلم قاضی ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے،چنانچہ اس ناگزیر ضرورت کاحل دارالقضاء کے قیام کے ذریعہ ہوا اورمسلمانوں کے لیے بڑی راحت کا ذریعہ بنا،اس کے پہلے قاضی شریعت حضرت مولانا نورالحسن پھلواری رحمۃاللہ علیہ تھے جو بڑے قد آور عالم وقاضی اوربانی امارت شرعیہ کے رفقا میں تھے،علامہ قاری محمدطیب صاحب رحمۃاللہ علیہ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند ایک مرتبہ امارت شرعیہ تشریف لائے اوردارالقضاء کے نظام کا معاینہ فرمایا تو بہت خوش اورمطمئن ہوئے اورفرمایا کہ کون کہہ سکتا ہے کہ اگر یہاں اسلامی حکومت ہوتی تو اس کے دارالقضاء کا نظام اس سے زیادہ منظم اوربہتر ہوتا۔
اب تک دارالقضاء سے ۰۳۷/ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے شریعت کے مطابق ہوچکے ہیں،قیام امارت کے بعد صرف پھلواری شریف میں مرکزی دارالقضاء تھا اورپہلے تینوں امراء شریعت کے زمانہ تک یہی ایک دارالقضاء مسلمانوں کے مقدمات کے فیصلے کرتا تھااورلوگ تینوں صوبوں کے دوردراز علاقوں سے یہاں آتے تھے، جس میں انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا؛لیکن جب حضرت مولانا منت اللہ رحمانی چوتھے امیر شریعت منتخب ہوئے تو انہوں نے نظام قضاء کو وسعت دی،خانقاہ رحمانی مونگیر میں تربیت قضا کے لیے دو ہفتے کا کیمپ لگایا جس میں صوبہ کے علماء نے قضا کی تربیت حاصل کی،اس وقت کے قاضی شریعت حضرت مولانا شاہ عون احمد قادری رحمۃاللہ علیہ نے ان کی تربیت کا فریضہ انجام دیا،پھر صوبہ کے مختلف مرکزی مقامات میں دارالقضاء کی شاخیں قائم ہوئیں اوران ہی تربیت یافتہ علماء کو ان میں قضاء کے منصب پر فائز کیا گیا،اس وقت صوبہ بہار،جھارکھنڈ،اڑیسہ اورمغربی بنگال میں ۶۶/دارالقضاء قائم ہیں،جس کے ماتحت مسلمانوں کے عائلی مقدمات کے فیصلے شریعت کے مطابق انجام پاتے ہیں،ان کے علاوہ راجستھان،یوپی اورنیپال وغیرہ سے بھی مقدمات دائر ہوتے ہیں اورکتاب وسنت کے مطابق ان کے فیصلے ہوتے ہیں،قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کے بعد قاضی جسیم الدین رحمانی صدر قاضی ہوئے،اس وقت قاضی عبدالجلیل قاسمی صاحب اس عہدے پر ہیں،ان کے نائبین ومعاونین مرکزی دارالقضاء پانچ ہیں۔
دارالافتاء:
امارت شرعیہ کا دوسرا اہم شعبہ دارالافتاء ہے،جو امارت شرعیہ کے قیام ہی کے دن سے کام کررہا ہے،شریعت کا حکم یہ ہے کہ مسلمان اللہ اوررسول کے حکم کے مطابق زندگی گذاریں،حلال وحرام کا حکم معلوم کریں،نہ جاننے والے جاننے والوں سے پوچھیں:(فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون)امارت شرعیہ کا دارالافتاء ملک کے ان چند اہم مراکز میں شمار ہوتاہے،جنہیں مسلمانوں کا اعتماد حاصل ہے،ملک وبیرون ملک سے لوگ اہم مسائل میں اس کی طرف رجوع کرتے ہیں،بڑے بڑے علماء وارباب افتاء نے یہاں یہ مبارک خدمت انجام دی ہے،خود بانی امارت شرعیہ، مولاناعبدالصمد رحمانی،مفتی محمد عثمان،مفتی محمد عباس(والد مولانا عبداللہ عباس ندوی)،مفتی یحی،مفتی صدر عالم،مفتی نعمت اللہ،مفتی جنیداحمدقاسمی وغیرہ اس منصب پر فائز رہے ہیں،اس وقت مفتی سہیل احمد قاسمی، مفتی نصر اللہ مظاہری،مفتی سعیدالرحمن،مفتی احتکام الحق قاسمی اس خدمت پر مامور ہیں،اس طرح یہ اہم شعبہ ایک صدی سے زیادہ مسلمانوں کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہاہے،دارالافتاء کے فتاویٰ کا ریکارڈ محفوظ ہے اور ان کی ترتیب کا کام جاری ہے،اب تک اس کی پانچ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں،چھٹی جلد زیر ترتیب ہے،یہ عوام اوراہل علم دونوں کے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔
شعبہ دعوت وتبلیغ:
دین کی تبلیغ ودعوت،معاشرے کی اصلاح،امر بالمعروف اورنہی عن المنکر مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے،اس مقصد کے لیے یہ شعبہ امارت شرعیہ میں شروع سے کام کررہاہے،مبلغین کرام کی ایک بڑی تعداد ہے جو فیلڈ میں اتر کر کام کرتی،دوردراز علاقوں کا دورہ کرتی ہے،بدعات ومنکرات اورغیر اسلامی رسوم ورواج کا ازالہ،صحیح اسلامی عقائد اوراعمال صالحہ کو عام کرنے اورارتداد والحاد کا خاتمہ کرنے میں اس شعبے نے بڑی خدمت انجام دی ہے،خود بانی امارت حضرت مولانا محمد سجاد صاحب علیہ الرحمہ نے شدھی تحریک اورچمپارن کے علاقے میں گدیوں کے درمیان پھیلے ہوئے ارتداد کا اپنی ٹیم کے ساتھ مقابلہ کیا اورانہیں اسلام پر قائم رکھا،ایسے علاقوں میں بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے مدارس ومکاتب قائم کئے اورخوشگوار دینی انقلاب برپا کیا،خصوصا رد قادیانیت کے سلسلے میں کوسی کمشنری،پورنیہ،نیپال اوراڑیسہ میں فتنہئ قادیانیت کی سرکوبی کی اوربہت سے لوگ جو جہالت کی بناپر قادیانی بن گئے تھے،ان کو دوبارہ اسلام کی طرف واپس لایاگیا،آج بھی امارت شرعیہ کے حلقوں اورتینوں صوبوں میں امارت شرعیہ کے مبلغین کے مسلسل دورے ہوتے ہیں اوران کے ذریعہ سماج کی اصلاح کا کام انجام پاتا ہے،خصوصا قدرتی آفات وحوادث اورفرقہ وارانہ فسادات کے موقع پر مصیبت زدہ انسانوں کی امداد واعانت اوران کی ریلیف اورراحت رسانی کا کام انجام پاتا ہے۔
شعبہ تنظیم:
یہ بھی امارت شرعیہ کا اہم اوربنیادی شعبہ ہے،اس کا مقصد یہ ہے کہ ہرگاؤں،ہر شہر اورشہر کے ہرمحلے میں تنظیم امارت شرعیہ قائم کی جائے ا وراسے مرکزی امارت شرعیہ سے جوڑا جائے اوراس کا طریقہئ کار یہ ہے کہ جس علاقے میں یہ تنظیم قائم نہیں ہے،اس آبادی کے لوگوں کا کسی خاص تاریخ میں کوئی اجتماع مقرر کیا جاتا ہے اورگاؤں والوں کو اس کی پیشگی اطلاع دی جاتی ہے،جس میں آبادی کے لوگ کسی مسجد یا کسی خاص مقام پر جمع ہوتے ہیں،ان کی موجودگی میں امارت شرعیہ کا کوئی مبلغ یا ذمہ داروہاں پہونچتا ہے اوران کی مرضی اورباہمی اتفاق سے ان کا کوئی امیر اوردینی سردار منتخب کرتا ہے،جس کا اصطلاحی نام نقیب ہے،جو قرآن کریم سے ماخوذ ہے،اس نقیب کے کچھ ممبران بھی منتخب ہوتے ہیں،جنہیں مشیران نقیب کہاجاتا ہے،یہ نقیب اپنے مشیروں کے ساتھ شریعت کے احکام کواپنی آبادی پر نافذ کرتا ہے،آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا اوراختلاف ہو تو حکمت عملی کے ساتھ ان کا تصفیہ کرتا ہے،اگر اس میں کامیابی نہ ہوتو امارت کے ذمہ دارسے مدد حاصل کرتا ہے اورایسے جھگڑوں کو مرکزی دارالقضاء میں بھیج دیتا ہے اوروہاں سے قاضی شریعت کا جو فیصلہ ہوا،اسے دونوں فریق قبول کرتے ہیں،یہ نقیب امیر شریعت اوراپنی آبادی کے لوگوں کے درمیان واسطہ کاکام دیتا ہے،امیر شریعت کی طرف سے صادر ہونے والے احکام وہدایات کو محلہ والوں تک پہونچاتا ہے اورنافذ کرتا ہے اوراپنے بستی اورعلاقے کے حالات سے امیر شریعت اورامارت کے ذمہ داروں کو باخبر کرتا ہے اوراہم معاملات میں ان سے رہنمائی حاصل کرتا ہے،بانی امارت شرعیہ نے خود بہت سے علاقوں کا دورہ کرکے یہ تنظیم قائم فرمائی۔
شعبہ تعلیم مذہبی وعصری:
تعلیم کی اہمیت ہر مذہب وملت اورہر ملک اورسماج میں مسلم ہے؛لیکن اسلام میں اس کی اہمیت دوسرے مذاہب وادیان کے مقابلے میں زیادہ ہے،اس لیے کہ اس نے حصول علم کو ہرفرد وبشر کے لیے لازم قراردیا ہے؛اس لیے امارت شرعیہ نے شروع سے تعلیم کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے اوراس میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں،ایسے دیہی علاقے جو تعلیمی مراکز سے دور ہیں اوروہاں کے لوگ جہالت کی بناپر غلط رسوم ورواج میں مبتلا ہیں اورغیر اسلامی تہذیب سے متاثر ہیں،ایسے مقامات کا سروے کرانے کے بعد امارت شرعیہ نے وہاں سینکڑوں مکاتب قائم کئے اورامارت شرعیہ میں تربیتی کیمپ منعقد کرکے تعلیم یافتہ افراد کی تربیت کی اورانہیں وہاں اساتذہ اورمدرس بحال کیا اورامارت شرعیہ کی طرف سے ان کی تنخواہ جاری کی،ایسے مکاتب جو پسماندہ علاقوں میں امارت شرعیہ کے فنڈ سے چل رہے ہیں،ان کی تعداد ہزارسے متجاوز ہے،بہت سے غریب اورنادار طلبہ کو جو مدارس میں زیر تعلیم ہیں،انہیں امارت شرعیہ کی طرف سے وظائف دیئے جاتے ہیں۔اسی طرح اعلیٰ عصری تعلیم کے لیے بھی امارت شرعیہ نے فنڈ قائم کیا ہے اوراس سے ایسے طلبہ کو وظائف دیئے جاتے ہیں،جو گھر کے لحاظ سے کمزور ہیں؛لیکن میڈیکل اورانجینئرنگ وغیرہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے آرزومند ہیں،بہت سے نوجوانوں نے امارت شرعیہ کے تعاون سے اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کی ہے اورآج وہ سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دینی ماحول میں عصری تعلیم مسلم معاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے؛اس لیے سرکاری اسکولوں اورعصری تعلیم گاہوں میں دینیات اوراخلاقیات کی تعلیم عام طور پر نہیں ہوئی اورمسلمان بچے دین سے بے گانہ رہتے ہیں،اس لیے امارت شرعیہ کے ذمہ داروں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر ضلع میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں،جن میں دین کی بنیادی تعلیم اوراخلاقی تربیت ہوتاکہ وہ بچے جہاں رہیں مسلمان بن کر زندگی گذاریں،اس طرح کا ایک اسکول عرصہ سے پھلواری شریف میں قاضی نورالحسن میموریل اسکول کے نام سے چل رہاہے،امارت کے ذمہ داروں کا نشانہ یہ ہے کہ دیگر مقامات پر بھی اس طرح کے اسکول قائم کئے جائیں،تاکہ نئی نسل دین سے بہرہ ور ہو اورلڑکیوں کی تعلیم کے علاحدہ ادارے قائم ہوں اوران میں دینی تعلیم وتربیت کا معقول نظم ہو۔
شعبہ تحفظ مسلمین:
امارت شرعیہ کے بنیادی مقاصد میں مسلمانوں کی جان ومال اورعزت وآبرو کی حفاظت اوران کے مذہبی حقوق، مساجد ومدارس اوراسلامی شعائر کا تحفظ بھی ہے اوراس نے اپنی سوسالہ تاریخ میں اس میدان میں اہم کارنامے انجام دیئے ہیں،مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کا نعرہ،بھارتیہ کرن کی آواز،دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کامنصوبہ،یہ وہ خطرناک عزائم ہیں،جن سے مسلمانوں کے ملی وجود کو خطرہ لاحق ہے،اسی طرح قادیانیت، بہائیت اورشکیلیت کا فتنہ،شدھی سنگٹھن تحریک اوراسلام اورمسلمانوں کو نقصان پہونچانے کی دوسری باطل تحریکوں کے سد باب کے لیے امارت شرعیہ کے ذمہ داروں نے ہمیشہ کوشش کی ہے،شریعت اسلامی اورمسلم پرسنل لا کے تحفظ میں امارت شرعیہ کی کوشش لائق تحسین ہے،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تاسیس اوراس کی قیادت میں امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کا اہم رول رہاہے،امیر شریعت رابع،قاضی مجاہدالاسلام،مولانا سید نظام الدین اورموجودہ امیر شریعت اس کے صف اول کے قائدین میں ہیں اوراس پلیٹ فارم سے وہ شریعت کا دفاع کرتے رہے ہیں۔

شعبہئ نشرواشاعت:
یہ امارت شرعیہ کا بنیادی شعبہ ہے،جس کا مقصد مختلف زبانوں میں دینی موضوعات اورسیرت نبوی پر کتابوں اوررسائل کی اشاعت ہے،تاکہ ایک طرف غیر مسلموں میں اسلام کا تعارف ہو اوردوسری طرف خود مسلمانوں کو دین کے سلسلے میں ضروری معلومات فراہم کرنا،غلط رسوم ورواج کو مٹانا اورمسلمانوں میں اسلامی اوراجتماعی شعور کو بیدار کرنا ہے۔
اسلام میں اتحاد واتفاق اوراجتماعی زندگی کی اہمیت،صالح معاشرہ،صحیح اسلامی عقائد،اسلامی اخلاق،سیرت نبوی، زکوٰۃ اورعشر کے احکام ومسائل،تلک جہیر اورشادی کی بری رسمیں،نظام قضاء کی اہمیت،اسلامی نظام قضاء کا طریق کار اوراس طرح کے دوسرے موضوعات پر کتابیں،مضامین،پوسٹر اورکتابچے ہزاروں کی تعداد میں اب تک شائع کئے جاچکے ہیں۔
زکوٰۃ وعشر کے مسئلے پر امارت شرعیہ کی شائع شدہ کتابوں نے اس فریضہ کو زندہ کیا اورمسلمان جو کم ازکم عشر کے احکام کو بالکل فراموش کرچکے تھے،اب پابندی سے عشر نکالنے کے عادی ہوچکے ہیں،اسی طرح ایک بڑی تعداد پابندی سے زکوٰۃ بھی ادا کررہی ہے،خاندانی منصوبہ بندی کے سلسلے میں جب حکومت کی سختی کی وجہ سے زبان کھولنا مشکل ہورہاہے تھا،حضرت امیر شریعت رابع رحمۃاللہ علیہ نے خاندانی منصوبہ بندی نامی رسالہ لکھ کر اعلان حق کا جو فریضہ ادا کیا،وہ تاریخ میں یادگار ہے،جبری نس بندی کے خلاف یہ رسالہ بڑی تعداد میں دارالاشاعت امارت شرعیہ نے شائع کیا،اس رسالہ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی اوراس نے پورے ملک میں فیملی پلاننگ اورنس بندی کے مسئلہ پر قول فیصل کاکام کیا،اسی طرح مسلم پرسنل لا کے موضوع پر بھی دارالاشاعت سے متعدد رسالے شائع ہوچکے ہیں،اسی شعبہ سے امارت شرعیہ کا ترجمان ہفتہ وار نقیب پابندی سے شائع ہورہاہے،شروع میں یہ پندرہ روزہ جریدہ امارت کے نام سے نکلتا تھا،بعد میں انگریز حکومت کی طرف سے پابندی لگنے کی وجہ سے نقیب کے نام سے جاری ہوا،اس کے اداریے اورمضامین ملک بھر میں توجہ سے پڑھے جاتے ہیں،اس شعبہ سے شائع شدہ اہم کتابوں کی تعداد پچاس (۰۵)سے متجاوز ہے۔اس شعبہ کے تحت تجارتی مکتبہ بھی ہے،جو اسلام کے تعارف اوردعوت اسلامی کے فروغ کے لیے دینی موضوعات پر کتابیں شائع کرکے فروخت کرتا ہے اورملک کے دیگر ناشرین کی علمی ودینی کتابیں اس میں فروخت کے لیے رہتی ہیں،امارت شرعیہ کے وفود کے دوروں میں مختلف اجتماعات کے موقع پر مکتبہ کا بک اسٹال لگایا جاتا ہے،تاکہ لوگ اس مکتبہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکیں۔
بیت المال:
بیت المال امارت شرعیہ کا بنیادی اورکلیدی شعبہ ہے،جس پر دیگر تمام شعبوں کی کارکردگی کا انحصار ہے،یہ دراصل اسلامی خزانہ ہے،جہاں مسلمانوں کی زکوٰۃ وصدقات اورعطیات کی رقم جمع ہوکر دینی وملی کاموں میں خرچ ہوتی ہے،یہاں سے یتیموں،مسکینوں،بیوگان اوردوسرے محتاجوں کو وظائف دیئے جاتے ہیں،دینی تعلیم حاصل کرنے والے نادار طلبہ کو ماہانہ وظائف دیئے جاتے ہیں،دوردراز دیہاتوں کے مکاتب کے معلمین کو تنخواہ دی جاتی ہے،اس کے علاوہ دین وملت کے مختلف کاموں میں بیت المال سے رقمیں خرچ کی جاتی ہیں۔قدرتی آفات وحوادث، زلزلہ،سیلاب،طوفان،آتش زدگی،فرقہ وارانہ فسادات اورہنگامی حالات میں متاثر افراد اورمصیبت زدہ لوگوں کی امداد واعانت بیت المال کے ذریعہ انجام پاتی ہے،ملک وبیرون ملک جہاں کہیں مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے تو بیت المال کے ذریعہ ان کی ریلیف اورراحت رسانی کاکام انجام پاتا ہے۔
یہ آٹھ شعبے شروع سے کام کررہے ہیں،وقت اورحالات کے لحاظ سے اس میں مزید شعبوں کا اضافہ ہوا ہے، مثلا المعہد العالی للتدریب فی القضاء والافتاء،دارالعلوم الاسلامیہ رضانگر پھلواری شریف،امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ جس کے تحت نو تکنیکی تعلیمی ادارے اوراسپتال وہیلتھ سنٹر چلتے ہیں،وفاق المدارس الاسلامیہ، شعبہ امور مساجد وغیرہ۔
المعہد العالی للتدریب فی القضاء والاافتاء:
امارت شرعیہ نے اپنے قیام ہی کے دن سے فقہ اسلامی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے،کیوں کہ اس کے بنیادی شعبوں میں دارالقضاء ہے جو مسلمانوں کے عائلی مقدمات کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں کرتا ہے اوردوسرا اہم شعبہ دارالافتاء ہے،جو مسلمانوں کی طرف سے آنے والے فقہی سوالات کا کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیتا ہے،ان دونوں ذمہ داریوں کو انجام دینے کے لیے فقہ اسلامی میں بصیرت اورمہارت کی ضرورت ہے؛اس لیے امارت شرعیہ کو شروع سے بڑے بڑے علماء وفقہاء کی ایک خدمت حاصل رہی ہیں اورابھی بھی ان خدمات کو انجام دینے کے لیے قضاۃ وارباب افتاء ایک جماعت کاکام کررہی ہے،قضاء کے اس نظام کو مزید وسعت دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے نظام قضاء کو پورے ملک میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا،اس لیے یہ مسلم معاشرے میں قانون شریعت کی تنفیذ کی مؤثر عملی تدبیر ہے،چنانچہ بورڈ نے اپنے گیارہویں اجلاس منعقدہ جے پور میں قاضی شریعت حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کی تجویز پر یہ فیصلہ کیا کہ ان تمام مرکزی شہروں اورعلاقوں میں جہاں مسلمانوں کی قابل لحاظ تعداد ہے،وہاں بورڈ کی نگرانی میں دارالقضاء قائم کیا جائے،تاکہ مسلمانوں کے مقدمات کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں ہوسکے۔ظاہر ہے کہ دارالقضاء کے قیام کے لیے تربیت یافتہ قضاۃ کی ضرورت ہے،اس لیے بورڈ کے سابق صدر حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی علیہ الرحمہ نے قضاء کی تربیت کی ذمہ داری حضرت قاضی شریعت امارت شرعیہ کے سپرد فرمائی جو اس وقت اس فن کے ہندوستان میں سب سے بڑی اورمعتبر شخصیت کے حامل تھے،پھر انہوں نے سابق امیر شریعت حضرت مولانا نظام الدین صاحب کے مشورہ سے یہ فیصلہ فرمایا کہ یہ اہم کام امارت شرعیہ کی نگرانی میں انجام دیا جائے،جس کے پاس قضا کا سوسالہ تجربہ ہے اورجو ہندوستان میں نظام قضاء کا سب سے بڑا مرکز ہے،چنانچہ المعہد العالی کے نام سے یہ مستقل ادارہ قائم ہوا اور اس کے لیے ایک وسیع رقبہئ زمین پر چار منزلہ بلدنگ تعمیر ہوئی اورشوال ۹۱۴۱ھ مطابق ۹۹۹۱ء سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوا،ماہرین کے مشورہ سے اس کا دوسالہ نصاب مقرر کیا گیا،ہر سال شوال میں انٹرویو کے بعد مدارس کے نوجوان علماء وفضلا کا داخلہ ہوتا ہے،طلبہ کی مجموعی تعداد پچاس ہوتی ہے،انہیں قیام وطعام کی سہولت کے علاوہ ماہانہ وظائف بھی دیئے جاتے ہیں،علماء وماہر اساتذہ کی نگرانی میں فقہ کی متداول کتابوں کی تدریس کے ساتھ بنیادی مصادر ومراجع کا مطالعہ کرایا جاتا ہے،طلبہ فتویٰ نویسی کی مشق کرتے ہیں اورعصر حاضر کے اہم مسائل اورفقہی موضوعات پر اساتذہ کی نگرانی میں مقالات لکھتے ہیں اورقضاء کی عملی مشق کے لیے روزانہ دارالقضاء میں حاضر ہوتے ہیں،جہاں روزانہ مقدمات کی سماعت اورفیصلے ہوتے ہیں اوروہ ابتدائی کارروائی سے لے کر فیصلے تک قضاء کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔
المعہد العالی میں محاضرات اورتوسیعی خطبات کا بھی نظم ہے،تھوڑے تھوڑے عرصہ پر ملک وبیرون ملک سے شرعی علوم کے ماہرین خصوصا فقہ وفتاویٰ کے متخصصین کو منتخب موضوعات پر محاضرات کے لیے دعوت دی جاتی ہے اوراس کے لیے معہد کے فوقانی ہال میں ایک خوبصورت وسیع سیمینار ہال ہے،جس میں مختلف دینی وعصری موضوعات پر خطابات ومحاضرات ہوتے رہتے ہیں،اب تک اس معہد سے بیس سال کے عرصہ میں چارسو سے زائد علماء فارغ ہوئے ہیں اورملک ومختلف صوبوں میں قضاء وافتاء،تعلیم وتدریس اورامامت وخطابت کی خدمت انجام دے رہے ہیں،دو سال قبل”قسم الدعوۃ“کے نام سے ایک نئے شعبے کا آغاز ہوا ہے،جس کا ایک منتخب نصاب ہے،جس میں تفسیر،حدیث اورسیرت نبوی کے علاوہ اصول الدعوۃ کتاب پڑھائی جاتی ہے،کچھ کتابیں مطالعہ میں ہیں،اس کے علاوہ ہندی،انگریزی اورسنسکرت کی بھی تعلیم دی جاتی ہے،مختلف مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرایا جاتا ہے اورفیلڈ میں اتارکر غیر مسلم بھائیوں کے درمیان دعوت کی عملی مشق کرائی جاتی ہے،اس معہد کے سکریٹری مولانا عبدالباسط ندوی ہیں۔
دارالعلوم الاسلامیہ:
المعہد العالی کے قیام کے اگلے سال حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی کی تحریک اورسعی جمیل کی بدولت شوال ۰۲۴۱ھ مطابق ۸۲/جنوری ۰۰۰۲ء کوامارت شرعیہ کی نگرانی میں ایک دینی مدرسہ کا آغاز دارالعلوم الاسلامیہ کے نام سے ہوا،جو امارت شرعیہ کی مرکزی عمارت سے آٹھ میل کے فاصلہ پر رضانگر گونپورہ پھلواری شریف پٹنہ میں واقع ہے،شروع میں یہ مدرسہ پھلواری شریف میں کرایہ کے مکان میں چلتا رہا،پھر ایک صاحب خیر جناب احمد رضاخاں مرحوم نے پانچ بیگھہ زمین خرید کر اس مدرسے کے لیے وقف کی،پھر اس کی تعمیر کا کام مکمل ہوا تو ۸۱/فروری ۶۰۰۲ء کو اس بلڈنگ کا افتتاح ہوا،اس موقع پر دارالعلوم دیوبند اوردارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤسے اکابر علماء تشریف لائے اورجلسہ عام ہوا اوراب دورہئ حدیث تک وہاں تعلیم ہورہی ہے،ہوسٹل میں طلبہ کی تعداد تقریباً چار سو سے زائد ہے،اساتذہ پندرہ کے قریب ہیں،بجٹ تقریبا اسی لاکھ ہے،جو عوامی چندہ ہی سے پورا ہوتا ہے،المعہدالعالی اوردارالعلوم الاسلامیہ کا مالی نظام امارت شرعیہ کے بیت المال سے علاحدہ ہے اوران دونوں اداروں کو چلانے کے لیے الگ الگ ٹرسٹ ہیں،نگرانی وسرپرستی امارت شرعیہ کی ہے اورامیر شریعت تمام ذیلی اداروں کے بھی ذمہ دار اعلیٰ ہیں،اس دارالعلوم کے قیام وبناء میں مفتی جنیداحمدقاسمی کی ناقابل فراموش خدمات رہی ہیں اسی لئے ان کواس ادارہ کاپہلاناظم مقرر کیاگیا،اب اس کے سکریٹری(ناظم) جناب مولانا سہیل احمد ندوی ہیں۔
وفاق المدارس الاسلامیہ
اسلامی مدارس اس ملک میں دین کے مضبوط قلعے ہیں،جنہوں نے دینی علوم کی نشروواشاعت،اسلامی تہذیب وتمدن کی حفاظت اورنسل نو کی دینی تعلیم وتربیت کا عظیم الشان فریضہ انجام دیا ہے اورآج بھی قلت وسائل کے باوجود اورحکومت کے تعاون سے کنارہ کش ہوکر یہ اہم اورنازک فریضہ انجام دے رے ہیں،یہ براہ راست مدارس ہی کا فیض ہے اوران ہی کی برکت ہے کہ آج اس ملک میں اسلام اپنی صحیح شکل وصورت میں محفوظ ہے،ورنہ شاید حکومت اسلامیہ کے سقوط کے بعد یہاں بھی اندلس اورسمرقند وبخاریٰ کی تاریخ دہرائی جاتی،دشمنان اسلام آج بھی مدارس اسلامیہ کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں،وہ ان کی نظر میں کانٹے کی طرف چبھ رہے ہیں اوروہ انہیں بے جا تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اورانہیں دہشت گردی کا اڈہ کہہ کر ان کے کردار کو مسخ اوران کی شبیہ کو بگاڑنا چاہتے ہیں؛لیکن اللہ کے فضل وکرم سے ان کے بے جا پروپیگنڈہ اورمعاندانہ سازشیں اب تک ناکام ہوتی رہی ہیں اوران شاء اللہ آئندہ بھی ناکام ہوں گی اورمدارس اپنا کام کرتے رہیں گے؛لیکن اس دور انحطاط میں جہاں زندگی کے دیگر شعبے ہیں اورسرکاری اورعصری تعلیمی اداروں میں تعلیم وتربیت کے میدان میں جو انحطاط اوربگاڑ رونما ہوا،اس سے ہمارے یہ دینی مدارس بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے؛لیکن ایک زندہ قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقتا فوقتا اپنے تعلیم وتربیت کے نظام کا جائزہ لیتی رہے اوراس کی اصلاح اورسدھار کے لیے ٹھوس لائحہ عمل تیار کرتی رہے۔
مدارس کی اس اہمیت کی بنیاد پر امارت شرعیہ اوراس کے ذمہ داروں نے مدارس اسلامیہ کی طرف اپنی توجہ مبذول کی ہے،بانی امارت شرعیہ مولانا محمد سجاد علیہ الرحمہ نے اپنی حیات مبارکہ میں اس سلسلے میں کتنی کوشش کی اوران کے نظام کی اصلاح اورمعیار کو بلند کرنے کے لیے مدارس کے ذمہ داروں کے کتنے اجتماعات بلائے اوراس کے لیے کیا کیا تجاویز منظور فرمائی،ان کے شاگرد رشید امیر شریعت رابع رحمۃاللہ علیہ نے بھی اپنے عہد مبارک میں ۷۷۹۱ء میں امارت شرعیہ کی طرف سے ایک بڑا کنوینشن جامعہ رحمانی مونگیر میں منعقد کیا تھا،جس نے بہ اتفاق رائے مدارس اسلامیہ کونسل کے قیام کی تجویز منظور کی تھی؛تاکہ یہ کونسل مستقل طور پر مدارس کی اصلاح وترقی اورتعلیم وتربیت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کرتی رہے،اس کے بعد مونگیر میں اساتذہ کی تربیت کا پندرہ روزہ کیمپ دومرتبہ قائم ہوا،جناب ڈاکٹر سید حسن صاحب مرحوم سابق ڈائرکٹر انسان اسکول وکالج نے تربیت کے فرائض انجام دیئے تھے،جس کا خوشگوار اثر محسوس کیا گیا تھا۔

پھر اسی ضرورت کے پیش نظرحضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی نے امارت شرعیہ کے زیرنگرانی مئی ۶۹۹۱ء میں مدرسہ ضیاء العلوم رامپور سمستی پور میں مدارس اسلامیہ کانفرنس منعقد کی،جس میں مدارس کے دو سونمائندے شریک ہوئے،پھر اس کے بعد وفاق المدارس الاسلامیہ کا قیام عمل میں آیا جو مدارس کی اصلاح وترقی اوران کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اورمعیار تعلیم کو بلند کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے،مدارس کاسالانہ امتحان وفاق کی نگرانی میں ہوتا ہے،ہر سال اساتذہ مدارس کا تربیتی کیمپ کسی بڑے مدرسہ میں لگتا ہے،ڈھائی سو مدارس بہار کے اس وفاق سے ملحق ہیں،جن کی فہرست شائع ہوچکی ہے،اس وقت وفاق کے ناظم جناب مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ اور حضرت امیر شریعت مدظلہ اس کے سرپرست ہیں۔
امارت شرعیہ ایجوکیشنل ایند ویلفئرٹرسٹ:
امارت شرعیہ کے قیام کا مقصد مسلم معاشرے پر شریعت کا نفاذ اوران کے دینی،ملی اورسیاسی حقوق کا تحفظ ہے اورانہیں دینی،تعلیمی اورمعاشی میدان میں آگے بڑھانا ہے،اس صنعتی وسائنسی دور میں مسلمانوں کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانی علیہ الرحمہ،حضرت امیر شریعت خامس مولانا عبدالرحمن صاحب،حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی صاحب،حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب امیر شریعت سادس نے مسلم اقلیت کے نوجوانوں کو اخلاقی اوردینی تربیت کے ساتھ عصری تعلیم سے آراستہ کرکے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا اور۳۹۹۱ء میں امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ترسٹ کا قیام عمل میں آیا،اب تک مختلف مقامات میں آئی ٹی آئی،پارامیڈیکل،کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ اوراسپتال قائم ہوچکے ہیں۔ان اداروں میں سینکروں کی تعداد میں طلبہ فارغ ہوکر ہندوستان کے علاوہ ایشیا کے دوسرے ملکوں نیز افریقہ اورامریکہ وغیرہ میں برسرروزگار ہیں اورصرف ۴۰۰۲ء تا ۵۰۰۲ء کے درمیان فارغ شدہ لڑکوں میں سے ۱۵/لڑکے دہلی میٹرو ریلوے میں روزگار پانے میں کامیاب ہوئے،بارسوئی کٹیہار،بہار شریف،گریڈیہہ وغیرہ میں تعمیراتی کام جاری ہے،کوشش یہ ہے کہ جہاں جہاں اس طرح کے ادارے قائم ہوں،وہاں مسجد اوراسپتال بھی قائم کیا جائے، علاوہ ازیں خدمت خلق کے لیے پھلواری شریف میں مولانا سجاد میموریل اسپتال اورسبزی باغ پٹنہ،جمشیدپور جھارکھنڈ اورراورکیلا اڑیسہ میں امارت ہیلتھ سنٹر کا قیام عمل میں آیا ہے،اس ٹرسٹ کے تحت درج ذیل ٹکنیکل ادارے چل رہے ہیں۔
(۱)مولانا منت اللہ رحمانی ٹکنیکل انسٹی ٹیوٹ،ایف سی آئی روڈ پھلواری شریف پٹنہ(۲) مولانا منت اللہ رحمانی ٹکنیکل انسٹی ٹیوٹ(پارا میڈیکل) پھلواری شریف پٹنہ(۳)امارت انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر اینڈ الکٹرونکس پھلواری شریف پٹنہ(۴)ڈاکٹر عثمان غنی امارت گرلس کمپیوٹر سنٹر ہارون نگر پھلواری شریف پٹنہ(۵)امارت مجیبیہ ٹکنیکل انسٹی ٹیوٹ مہدولی دربھنگہ(۶)امارت ٹکنیکل انسٹی ٹیوٹ گلاب باغ پورنیہ(۷)امارت ٹکنیکل ٹریننگ سنٹر،راورکیلا اڑیسہ(۸)ریاض انڈسٹریل ٹریننگ سنٹر ساٹھی مغربی چمپارن۔
مولانا سجاد میموریل اسپتال:
اسلامی تعلیمات میں خدمت خلق کو خاص اہمیت حاصل ہے،وہ بیک وقت قرب الٰہی کا ذریعہ بھی ہے اورلوگوں کے دل ودماغ کو فتح کرنے کا وسیلہ بھی،اس لیے امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈویلفئر ٹرسٹ نے پھلواری شریف میں جہاں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہے اوراکثر مسلمان خط افلاس سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں،بانی امارت شرعیہ حضرت مولانا سجاد رحمۃاللہ علیہ کی یادگار کے طور پر مولانا سجاد میموریل اسپتال قائم کیا،جس کا افتتاح ۲۲/شعبان ۸۰۴۱ھ مطابق ۰۱/اپریل ۸۸۹۱ء کو ہوا،یہ اسپتال امارت شرعیہ کے احاطہ میں واقع ہے،وقت کی اہم ضرورت اورخدمت خلق کا بہترین ذریعہ ہے،جس سے بلا تفریق مذہب وملت سبھی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں،روزانہ سینکڑوں غریب مریضوں کا علاج ہوتا ہے اورجو دوا اسپتال میں فراہم ہے،مریضوں کے درمیان مفت تقسیم کی جاتی ہے۔
شروع میں صرف آؤٹ ڈور کا انتظام تھا،رفتہ رفتہ اس میں ترقی ہوئی اوردوسرے شعبے بھی کھلے،خواتین کو نسوانی امراض خصوص ولادت میں دشواریوں کاسامنا کرنا پڑتا تھا،اس لیے کہ جنرل اسپتالوں میں پردہ کا اہتمام نہیں ہوتا؛اس لیے خواتین کے علاج کے لیے مزید دو شعبے کھولے گئے،ولادت کے شعبہ کا ۰۲/اکتوبر ۱۹۹۱ء میں افتتاح ہوا اوراس کے لیے لیڈی ڈاکٹر اورنرسوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔
اسی طرح خون پیشاب کی جانچ کے لیے اسی تاریخ میں خاص شعبہ کھولا گیا اوراسے مشینوں اورنئے آلات سے آراستہ کیا گیا اورماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کی گئی۔امراض قلب کا علاج کافی مہنگا ہوتا ہے،جو غریب مریضوں کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے،۹/دسمبر ۲۹۹۱ء میں امراض قلب کے علاج کا شعبہ کھولا گیا اوراس کے لیے ماہر ڈاکٹر بحال کئے گئے اورغریب مریضوں کے لیے آسانی فراہم کی گئی۔آنکھ کے شعبہ کا افتتاح ۹۱/اکتوبر ۲۹۹۱ء میں ہوا،اس میں ہفتہ میں چار دن بدھ جمعرات سنیچر اوراتوار کو علاج کا نظم ہے اوردو ڈاکٹر اس میں کام کرتے ہیں۔موتیابند کے آپریشن کے لیے جاڑے کے زمانے میں کیمپ لگائے جاتے ہیں،جس میں مریضوں کا مفت آپریشن ہوتا ہے اورچشمہ اورکمبل مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ہڈی کے علاج کے لیے ہفتہ میں ایک دن اتوار کو ڈاکٹر کی خدمت حاصل کی گئی ہے۔اکسرے اورالٹراساؤنڈ کی سہولت بھی عرصہ سے حاصل ہے۔امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کا ارادہ ہے کہ مستقبل قریب میں آپریشن اوردوسرے امراض کا علاج کرنے لیے بھی مستقل شعبے کھولے جائیں۔بہرحال تیس(۰۳) برسوں سے یہ اسپتال غریب،نادار اورلاچار مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کررہاہے اوراس کا دروازہ بلالحاظ مذہب وملت سب کے لیے کھلا رہتا ہے،اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
دینی وملی فریضہ سمجھ کر محض انسانیت کی بنیاد پر خدمت خلق،کم خرچ اورصحیح علاج،مریضوں کے ساتھ محبت وہمدردی کا برتاؤ،بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ کے مختلف مقامات پر موبائل میڈیکل سروس کے ذریعہ مریضوں کا مفت علاج،غریب ونادار مریضوں کے موتیابند کا مفت آپریشن۔
شعبہ امور مساجد:
مساجد کی اہمیت مسلم سماج میں مسلم ہے،یہ وہ مرکزی کیل ہے جس کے گرد اسلامی زندگی کی چکی گھومتی ہے، ضرورت ہے کہ مسلم معاشرے میں مسجد کی مرکزیت بحال کی جائے،عہد رسالت میں مسجد عبادت وریاضت، تعلیم وتربیت،تبلیغ ودعوت،خدمت خلق،افتاء وقضاء اوردیگر تمام دینی وثقافتی سرگرمیوں کا مرکز تھی،خلافت راشدہ کے زمانے میں،تابعین وتبع تابعین کے دورمیں مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل تھی،بعد کے ادوار میں جب دین سے دوری بڑھتی گئی تو مسجد کی وہ مرکزیت بھی باقی نہیں رہی،معاشرہ کی اصلاح میں مسجد کا بڑا اہم رول ہے،اس لیے ضروری ہے کہ مسجد کی طرف بھی خاص توجہ دی جائے،اس سلسلے میں امارت شرعیہ کے ذمہ داروں نے ائمہ مساجد کا تربیتی کیمپ پھلواری شریف میں لگایا اوربہار کے ائمہ وخطباء اورمؤذنین کو جمع کیا گیا،حضرت قاضی شریعت مولانا مجاہدالاسلام قاسمی اورحضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحبؒ نے ائمہ سے خصوصی خطاب فرمایا اورانہیں ان کی اہم اور نازک ذمہ داری کا احساس دلایا،جس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوئے اورشرکائے کیمپ نے بہت فائدہ محسوس کیا، ان کا تاثر تھاکہ اس طرح کے کیمپ امارت شرعیہ کی نگرانی میں وقتا فوقتا لگتے رہنا چاہیے؛تاکہ ائمہ وخطباء کی تربیت ہو اوران کے ذریعہ مساجد کی فعالیت وحرکیت کو بحال کیا جائے۔موجودہ امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی مدظلہ العالی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر وجنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس جانب خصوصی توجہ مبذول فرمائی ہے اورایک باصلاحیت عالم دین کو جنہیں اس لائن کا اچھا تجربہ تھا،اس شعبے میں بحال فرمایاہے،جو ائمہ کرام سے مستقل طور پر رابطے میں رہتے ہیں اورمختلف مقامات پر اس طرح کا کیمپ لگتا ہے،اب تک مختلف مقامات پر ۰۴/سے زائد کیمپ لگائے جاچکے ہیں،ائمہ وخطباء کی رہنمائی کے لیے متعدد کتابیں اوررسالے شائع کئے گئے ہیں،وقتا فوقتا ضروری پمفلٹ اوررسائل انہیں فراہم کئے جاتے ہیں،اسی طرح امارت شرعیہ کے ہفتہ وار نقیب میں دینی موضوعات اورحالات حاضرہ سے متعلق اہم مضامین شائع ہوتے ہیں،اس کا ایک مخصوص کالم اللہ کی باتیں اوررسول کی باتیں ہے،جس میں قرآنی آیات کی تفسیر اوراحادیث کی تشریح ہوا کرتی ہے،بہت سے ائمہ وخطباء اس سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اوراسے اپنی تقریر کا موضوع بناتے ہیں،بعض مساجد میں نقیب کا یہ کالم پڑھ کر سنایا جاتا ہے،امارت کے ذمہ دار حضرات چاہتے ہیں کہ ائمہ،خطباء اورمؤذنین کی تربیت کے کام کو منظم طور پر انجام دیا جائے؛تاکہ مساجد کے ذریعہ اصلاح معاشرہ کا پورے طور پر کام انجام پاسکے۔والحمد للّٰہ اولا وآخرا۔
مصادر ومراجع
(۱) حیات سجاد،ص:۲۴
(۲) حضرت امیر شریعت نقوش وتاثرات،ص:۵۱
(۳) حوالہ سابق،ص:۱۳۔۲۳
(۴) حوالہ سابق،ص:۷۳
(۵) نقیب،سجاد نمبر،ص:۹۱
(۶۔۷)حیات سجاد،ص:۷۵
(۸) امارت شرعیہ دینی جدوجہد کا روشن باب،ص:۲۲۔۳۲
(۹) حیات سجاد،ص:۶۳
(۰۱) حیات سجاد،ص:۴۳۱۔۵۳۱
(۱۱) حوالہ سابق،ص:۲۳۔۳۳
(۲۱) حوالہ سابق،ص:۵۳
(۳۱) قانونی مسودے،ص:۶،۷
(۴۱) تاریخ امارت،ص:۴۵،۵۵

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں