مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒکے علوم ومعارف خطبات ومکاتیب کا ایک مطالعہ

                              امتیازاحمدواعظ قاسمی
                  استاذتفسیروفقہ جامعہ ربانی منورواشریف سمستی پور

۔
مفکر اسلام حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ جیسی عظیم اور ممتاز شخصیت دنیا میں کم پیدا ہو تی ہے، جنہوں نے ہر میدان میں انسانیت کی رہنمائی کی،ہرمشکل وقت میں قوم و ملت کے کام آئے اورجوہر لمحہ اپنے اندرقوم کی فکر اور کڑھن محسوس کرتے تھے،آپ کے خطبات ومکاتیب میں بھی آپ کے سوزجگر کی تپش موجود ہے، آپ کی فکرمندی کے جلوے وہاں بھی محسوس ہوتے ہیں،آپ کے افکارکابڑاحصہ ان میں پوشیدہ ہے،آئیے آج فکر وخیال کے ان تراشوں سے ایک گلدستہ تیار کریں،جواس زوال پذیردورمیں رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں ماضی کی جھلکیاں بھی ہیں، حال کاآئینہ بھی اورمستقبل کی پیش بندیاں بھی۔
جمیعت علماء کے قیام کا پس منظر:
مسلمانوں پر ہونے والے مصائب وآلام کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے علمائے کرام کو اجتماعی غور وفکر کے ذریعہ اس کو دور کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے، اسی حقیقت کو حضرت مولانا ابو المحاسن محمدسجادؒنے اجلاس جمیعۃ علماء ہند منعقدہ مرادآبادکے اپنے خطبہ ئصدارت میں اس طرح بیان فر مایا:
”یوں تو مسلما نوں کے ادبار وتنزل وہلاکت کا دور تیسری صدی ہجری سے شروع ہو تا ہے اور اس وقت سے مسلما نوں پر پیہم مصیبتیں نازل ہو رہی ہیں،جس سے تمام تا ریخ کے صفحات لبریز ہیں اور گذشتہ چند سا لوں میں ایک سے زائد مرتبہ اس کا آموختہ بھی پڑھا گیا؛کیونکہ موجودہ مسلمانوں کے تازہ زخموں کو ہرا کر نے کے لئے پرانے نمک دانوں سے نمک پاشی کی ضرورت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور کے اندر ایسے ایسے مہالک اور خطرات سامنے آئے ہیں کہ جن کی نظیر تاریخ کے صفحات میں ملنی مشکل ہے اور یہ مہالک غافل سے غافل مسلمانوں کو متنبہ وہوشیار کرنے کے لئے کافی ہیں۔
ایسی سراسیمگی و پریشانی کی حالت میں اللہ تعالی نے آخر مسلمانوں کی رہنمائی فر مائی کہ وہ غوروفکرکریں کہ ان پر مصیبتیں کیوں نازل ہو رہی ہیں، ہلاکت وبربادی کے اسباب وعلل کیا ہیں؛کیوں کہ قا نون الٰہی یہ ہے:
(مااصاب من مصیبۃ الا باذن اللّٰہ ومن یؤمن باللّٰہ یہد قلبہ واللّٰہ بکل شیء علیم)(۱)
(جو کچھ مصیبتیں نازل ہوتی ہیں سب اللہ کے حکم سے (اوراس کے حکم ومصالح واسباب و علل کو کوئی نہیں جانتا)لیکن جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ان کے قلوب کو اللہ پاک ہدایت کرتا ہے(وہ سمجھتے ہیں کہ مصیبتیں کیوں آئیں اور ان سے نجات کا کیا طریقہ ہے اور یوں تومدعیان ہدایت بہت سے پیدا ہو سکتے ہیں؛ لیکن) اللہ تعالی ہر شئے کو جانتا ہے(اور اس کو خوب معلوم ہے کہ کون قلب راہ یافتہ ہے)۔
چنانچہ اس قانون کے ماتحت اکثر مسلمانان ہند اور علماء ہند کی معتدبہ جماعت نے ان حقائق اور واقعات پر غورو خوض کیا اور اس کے علل و اسباب کے ساتھ اس کے دفاع کی تدبیریں بھی سوچنے لگے۔آخر اللہ پاک نے ان حضرات کی رہنمائی کی اور حکمائے امت کو ان امراض مہالکہ کی تشخیص کی تو فیق عطا فرمائی اور پھر فوری طور پر اس ہلاکت کے ہیجان وسوران کو توڑنے کے لیے جو کچھ تدبیریں ہو سکتی تھیں کی گئیں۔ انھیں تدا بیر میں سے ایک اہم تدبیر جمیعت کا قیام تھا؛ تاکہ علماء کرام جو حقیقۃًحکمائے امت ہیں، امت کو مہالک سے نجات دلانے کے لیے بہتر سے بہتر نسخے تجویز کریں اور دوسروں کے نسخہ جات کو شریعت کے اصول حکمیہ سے جانچ کر امت کے استعمال کے لیے پیش کریں“۔(۲)
جمیعت علماء ہند سے غفلت:
جمیعت علماء ہند کی بقا اور استحکام کی طرف عوام الناس اور زعمائے قوم کے ساتھ خاص طور پر علماء کرام کو توجہ دلاتے ہوئے حضرت مولانا ؒ تحریر فرماتے ہیں:
”کچھ عرصہ سے میں دیکھ رہا ہوں کہ اب مسلمانان ہند کو جمعیۃ علماء ہند کی بقا اور استحکام کی فکر نہیں ہے اور میری یہ شکایت کچھ صرف عوام الناس سے اور زعمائے قوم ہی سے نہیں؛بلکہ اپنے گروہ کے محترم علماء کرام سے بھی مجھ کو مؤدبانہ شکایت ہے کہ یہ حضرات بھی جمیعۃ کے معاملہ میں ایک طرح پر عازمانہ غفلت برت رہے ہیں“۔ (۳)
جمیعت علماء مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرنے والی طاقت:
اسلام اور مسلمانوں کو بالکل ختم کرنے کی باطل طاقتیں جو کوششیں کر رہے ہیں،اس کی فکر اور حفاظت ہندوستان میں اس وقت کی اہم جماعت جمیعت علماء ہندکو تھی؛ اس لیے حضرت مولاناؒنے ان خطرات سے حفاظت کرنے والی اہم طاقت جمیعۃ علماء ہند کی طرف خاص طور پرتوجہ دلا تے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”کامل غوروخوض کے بعدمیں نہات وثوق کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ دنیائے اسلام کے حالات اور خود ہندوستان کے واقعات جو ہمارے اورآپ کے سامنے پیش آرہے ہیں ان کے اسباب وعلل اور ان کے نتا ئج وعواقب مسلمانوں کے لیے ایک مہالکہ عظیمہ کی خبر دے رہے ہیں؛ اگر ہم نے جلد از جلد اسلام اور مسلمانوں کی فکر نہ کی تو یقین مانئے کہ تمام باطل پرستان اسلام اور مسلمانوں کی بیخ و بن اکھاڑ کر رکھ دیں گے اور اس کے ساتھ یہ بھی مجھے یقین ہے کہ ان تمام مہالک سے محفوظ رکھنے کی اگر کوئی طاقت اس وقت ہندوستان میں موجود ہے تو وہ صرف جمیعت علماء ہے“۔(۴)
مصائب سے بچنے کے رہنما علماء ہیں:
مسلمانوں پر ہو نے والے مصائب وآلام وہ سب اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو چھوڑنے اور اس کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے ہو رہے ہیں، جن سے بچنے کی صورت بیان کر تے ہوئے حضرت مولاناتحریرفرماتے ہیں:
”کیوں کہ جتنے مصائب مسلمانوں پر آرہے ہیں وہ صرف ترک شریعت کے باعث؛اس لیے اگر اس کا دفاع بھی ممکن ہے تو صرف اعتصام بالشریعت کے ذریعہ؛لیکن یہ معلوم ہے کہ سوائے علماء ماہرین کے اور کون ہے، جو اس کی طرف رہنمائی کرے۔ ؎
ہر کسے ازسرِّاوآگاہ نیست زانکہ اینجا ہر کسے را راہ نیست
اس لیے سب سے پہلے تمام قوم اور بالخصوص علمائے کرام سے ہماری پر زور درخواست ہے کہ خدارا غفلت کو دور کیجئے،جمیعت کو مستحکم اور مضبوط بنایئے، ایسا نہ ہو کہ ہماری لاپروائیوں اور غفلت کی بدو لت (خدانخواستہ)یہ تباہ اور برباد ہو جائے،خوب یقین کر لیجئے کہ اس وقت جمعیت کے ساتھ غفلت کرنا عین اپنی خود کشی کے مرادف ہے۔؎
شرم بادت کہ نمیدانی وآگاہ نئی کہ ترا در رہ ایں مادیہ چندیں خطرست(۵)
اسلامی جمہوریت کے فوائد:
مروجہ جمہوریت کے مقابلہ میں اسلامی جمہوریت کا فائدہ یہ ہے کہ ملک کا ہر ایک شخص،چاہے وہ غریب سے غریب ہو؛ لیکن وہ اہل الرائے ہو تو وہ صاحب شوریٰ ہوتا ہے، وہ مشورہ دے سکتا ہے اور احکام شرع سے واقف ایک ادنیٰ فرد بھی خلاف شرع امور میں بڑے سے بڑے حاکم کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے، اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے حضرت مولاناؒ تحریرفرماتے ہیں:
”بخلاف اسلامی جمہوریت کے کہ اصحاب شوریٰ معین ومحدود نہیں ہیں؛بلکہ ملک کا ہر اہل الرائے و العلم صاحب شوریٰ ہے اور ہر ایک کے مشورہ کے لیے دروازہ کھلاہوا ہے غریب سے غریب آدمی جس کی دنیاوی حیثیت کی کوئی وجاہت نہیں مگر اہل العلم والرائے ہے،وہ ہر وقت مشورہ دے سکتاہے اور اس سے مشورہ لیاجاسکتا ہے اور اگر بعد مشورہ کوئی ایسا حکم نافذ کیا جائے،جو خلاف حق ہے تو امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ فرد کو جو احکام شرع سے واقف ہے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ بڑے سے بڑے اسلامی حاکم کا ہاتھ پکڑ لے اور سختی سے زجر کر سکتا ہے۔ آپ حضرات کے سامنے خلفائے راشدین کے واقعات موجود ہیں،ان سے اسلامی جمہوریت کی پوری شان عملی صورت میں نظر آتی ہے ان پر غور کیجئے اور مروجہ جمہوریت کو سامنے رکھئے،دونوں میں آسمان و زمین کا فرق ہے؛بلکہ میں یہ کہوں گا کہ مروجہ جمہوریت اسلامی جمہوریت کو مردہ کر دیتی ہے اور اس کے ساتھ ہزاروں دیگر مفاسد کا فتح باب کرتی ہے“۔(۶)

وطنی پرستی کا مرض:
یورپ کی با طل طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں میں پھیلایا جا نے والا تیسرا مہلک مرض وطن پرستی ہے؛تا کہ مسلمان اسی میں الجھ جائیں اور ان میں اتحاد عالم نہ ہونے پائے،پھرباطل دشمن طاقتیں آسانی سے ایک ایک کو اپنا لقمہ بنا سکیں،اس حقیقت کو آشکارا کرتے ہوئے حضرت مولانا ؒ تحریر فرما تے ہیں:
”تیسرا نہایت مہالک مرض جو اب چند سالوں سے پیدا ہو رہاہے،وہ مسلمانوں کی وطنی فدویت ہے؛یعنی قومیت کی تعمیر اپنی وطنیت کی زمین پر کی جائے۔ ؎
حب الوطن از ملک سلیماں خوشتر
حالانکہ اسلامی قومیت کی تعمیر صرف کلمہ لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ اور اصول اسلام کی تسلیم انقیاد پر ہے اور اسلامی قومیت حدود جغرافیہ سے بالا تر ہے۔
وطنیت کے جذبہ کا یقیناًآخری یہی اثر ونتیجہ ہو گا کہ مختلف ممالک کے مسلمان ایک دوسرے سے بے نیاز ہو کر اس وطن پرستی میں مشغول ہو جا ئیں گے،جو یقیناً اتحاد عالم اور اسلامی مرکزیت کو ہمیشہ کے لئے ناممکن بنا دے گا، اس کے بعد مغربی گروہ ایک ایک کر کے ہر ایک کو نگلنا شروع کر دیں گے“۔(۷)
ان امراض کے شیوع کے اسباب:
علماء کرام جو دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے مسلما نوں کے رہنما ہو تے ہیں،انھوں نے مسلمانوں کے نفس کی اصلاح اور علوم شرعیہ میں تو بڑی بڑی خدمتیں انجام دیں؛ لیکن اجتماعی زندگی اور حکومت و سیاست میں جس طرح خدمت انجام دینی تھی،اس طرح کما حقہ فرض ادا نہیں کیا گیا، اسی کوتا ہی کو حضرت مولاناؒ بیان کرتے ہوئے تحریر فرما تے ہیں:
”ان تمام امور کے اصلی وجوہ کیا ہیں؟جہاں تک میں حالات اور واقعات اور اسلامی سوانح پر غور کرتا ہوں تو سب سے بڑی وجہ یہ معلوم ہو تی ہے کہ علمائے ربا نیئین اور علوم شرعیہ کے ماہرین نے اگر چہ اپنے نفس کی اصلاح اور علوم شرعیہ و حکمیہ کی بڑی بڑی خدمتیں انجام دیں اور انفرادی زندگی کی اصلاح میں اپنی عمریں گذاریں؛مگر مجھے معاف فرمایا جائے، ایک بہت بڑی کوتاہی یہ ہو ئی ہے کہ اجتماعی زندگی،حکومت اور سیاست مدن کے متعلق جو ان کے فرائض تھے ان سے کسی نہ کسی بنا پر چشم پوشی کی گئی اور کماحقہ فرض ادا نہیں کیا۔
میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ میدان سیاست میں ان حضرات نے کبھی قدم نہیں رکھا اور اجتماعی زندگی کی خاردار وادی میں انھوں نے بادیہ پیمائی نہیں کی،حاشاوکلاّ۔اگر خدانخواستہ یہ حضرات ان ابواب میں کچھ بھی نہ کرتے تو مسلمان جس حالت میں اس وقت موجود ہیں غالباً یہ بھی نہ ہو تا؛بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ جس قدر ہونا چاہئے تھا اور جس حد تک کر نا چاہئے تھا وہ قرون اولیٰ کے بعد سے نہ ہوااور ان میدانوں میں ہمیشہ علمائے ربانیین کی کمی نمایاں طور پر محسوس ہوتی رہی، اگر علمائے کرام کی معتد بہ جماعت علمی اور عملی حیثیت سے ان میدانوں میں پیش پیش رہتی تو غالباً معاملہ اس حد تک نہ پہونچتا“۔(۸)
سیاست میں علماکی شرکت کے بارے میں غلط تصور:
علمائے کرام کے سیاست میں عدم دلچسپی کی وجہ سے آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ غلط تصور پیدا ہو گیا کہ علمائے کرام کا سیاست میں شریک ہونا بیجا مداخلت اور منصب علماء کے منافی ہے،چنانچہ اس غلط تصور کو حضرت مولانا ؒ بیان کرتے ہوئے تحریرفر مایاتے ہیں:
”اسی عملی دلچسپی کی کمی کا نتیجہ ہے کہ آج علماء اسلام کے متعلق بہت سے خیالات فاسدہ پیدا ہو گئے اور علماکے توغل فی السیاسۃ کو ایک بیجا مداخلت تصور کیا جانے لگا؛بلکہ مجھے اگر معاف کیا جائے تو میں یہ بھی کہوں گا کہ خود ہمارے بعض علمابھی اشتغال فی السیاسۃ کو منصب علماء کے منافی سمجھنے لگے“۔(۹)
سیاست دین کا حصہ ہے اورعلماء کی ذمہ داری ہے:
سیاست عین دین ہے اور علماء کرام کو اس میں شریک ہو نے کی ذمہ داری بھی ہے، یہ کوئی دنیاکی مذ مومہ شیء نہیں ہے،جس سے کنارہ کشی اور پہلو تہی کی جا ئے چنانچہ حضرت مولانا ؒ نے قرآن و احادیث سے اس کو ثابت کرتے ہوئے فرمایا:
”قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:إن بنی اسرائیل کانت تسوسھم الأنبیاء“۔(الحدیث)(۰۱)
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایاہے کہ قوم بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرام کے ہاتھ میں تھی۔)
اسی کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃوالسلام کی اس مخاطبت اور مطالبہ کو بھی پیش نظر رکھئے، جس کو قرآن حکیم نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے:
(ان ادوا الی عباد اللّٰہ انی لکم رسول امین)(۱۱)
(اے فرعون اور فرعونی حکومت کے ارباب حل و عقد! خدا کے بندوں کو ہمارے سپرد کر دے؛کیوں کہ میں خدا کا بھیجا ہوا ہوں اور میں ہی ان خدا کے بندوں کا امین ہوں،ان کی نگرانی کا میں مستحق ہوں۔)
اس کے بعد آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات گرامی کو بغور ملاحظہ فر مائیں، جس سے نہ صرف ان کا منصب معلوم ہو تا ہے؛بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان سے علماء کے فرائض پر بھی کافی روشنی پڑتی ہے۔
”علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل“۔(۲۱)
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ہے کہ ہماری امت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کے مثل ہیں۔)
”قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:العلماء مصابیح الأرض وخلفاء الأنبیاء و یورثتی وورثۃ الانبیاء“۔
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علماء روئے زمین کے روشن چراغ ہیں اور انبیاء کے قائم مقام ہیں اور ہمارے اور تمام انبیاء کے وارث ہیں۔)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ ہماری امت کے امانت دار علماء ہیں۔
ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے خدا کی مخلوق کے امین علماء ہیں۔
اب آپ ان تمام باتوں کو ملا کر غور فر مائیے کہ آپ کا منصب کیا ہے؟ خدا کی مخلوق کی نگہبانی اور حفاظت آپ کے ذمہ ہے، یا دوسرے لفظوں میں یوں خیال فر مائیے کہ آپ کا اہم مقصد سیاست ہے؛کیوں کہ آپ کو انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کا کیا فرض تھا،”تسوسھم“ میں ان کی نگرانی اور حفاظت ان کے تمام کاموں کی ذمہ داری اورپھر سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کو امت کا امین قرار دیا گیاہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اپنے وصف امانت کا اعلان کیا؛ مگر کس وقت؟اس مطالبہ کے وقت کہ خدا کے بندوں کو ہمارے سپرد کر دو،تم انسانی غلامی سے ان کو نجات دو اور آزاد کردواور اپنے اسی مطالبہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے فر ماتے ہیں:(انی لکم امین)میں من جانب اللہ امانت دار ہوں۔
کیا ان شواہد کے بعد یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ علماء کو سیاست میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں،یا گمان کیا جا سکتا ہے کہ سیاست میں اشتغال علماء کے منصب کے منافی ہے۔
حضرات علماء کرام!سیاست دنیا مذمومہ شئے نہیں ہے،جو اس پر لعنت کی جائے اور اس سے کنارہ کشی کی جائے، اگر سیاست منافی دین ہوتی اور دنیائے مذ مہ ہوتی،تو ایسا ارشاد نہ ہوتا:”تسوسھم الانبیاء“ اور پھر علماء محمدیہ کو انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہ دے کر ان کے سیاست میں قدم ڈالنے کی ترغیب نہ دی جاتی“۔(۳۱)
سیاست کی حقیقت:
سیاست کی حقیقت سمجھا نے کے لیے حضرت مولا ناؒ نے قرآن وحدیث کے بعد مزید وضاحت کے لیے اہل لغت اور فقہائے کرام کے قول کو پیش کرتے ہیں؛تاکہ یہ بات پوری طرح آشکارا ہو جائے کہ سیاست عین دین ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
”سیاست کے معنی اہل لغت نے لکھے ہیں:”نگاہ داشتن ورعیت داری کردن“۔
علامہ مقریزی خطط میں لکھتے ہیں:”یقال ساس الامر سیاسۃ بمن قام بہ وھو سائس من قولھم ساسہ ویسوسہ ویسوسہ القوم جعلوہ یسوسھم“۔
پھر معانی لغویہ کی تشریح کے بعد اصطلاحی معنی اس طرح بیان فرماتے:
”ثم رسمت با نھا القانون الموضوع لرعایتہ الآداب و المصالح والانتظام والاموال“۔
(سیاست کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ سیاست وہ قانون ہے،جو رعایت و نگرانی آداب مصالح وانتظام و اموال کے لئے وضع کیا گیا ہو۔)
ہمارے فقہاء نے ذرا اور وضاحت کے ساتھ سیاست کی تعریف کی ہے،چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ!
”والسیاسۃ استصلاح الخلق بارشادھم الی الطریق المنجی فی الدنیاوالآخرۃ“۔(یعنی سیاست کیا ہے؟ اللہ کی مخلوق کو دنیا وآخرت میں تمام مہالک سے نجات پانے کی راہ بتاکر ان کی اصلاح کی سعی کرنا۔)

پھر انھیں فقہاء کرام نے تعریف سیاست کے بعد اس کی دو قسمیں بیان کی ہیں اور ہر ایک کا حکم بھی بتاتے ہیں، چنانچہ صاحب البحر الرائق لکھتے ہیں کہ!
”والسیاسۃ نوعان،سیاسۃ عادلۃ تخرج الحق من الظالم الفاجر فھی من الشریعۃ علمھامن جھلھاوجھلھا من جھلھا و النوع الآخر سیاسۃ ظالمۃ فا لشریعۃ یحرمھا“۔(۴۱)
(اور سیاست کی دو قسمیں ہیں:سیاست عادلہ،جو حق کو ظالم فاجر کے ہاتھ سے چھڑائے،پس جو شریعت کے اندر داخل ہے اور وہی اس کا ماخذ ہے،جس خوش نصیب کے حصہ میں یہ علم ہے، اس نے جانا اور اچھا جانا اور جس کے نصیب میں اس سے جہل تھا، اس سے جاہل رہا اور وہ سخت جاہل رہا اور دوسری قسم سیاست کی ”سیاست ظالمہ“ ہے، پس اسی سیاست کو شریعت نے حرام بتایا ہے۔)
بہرحال آپ غور فر مائیں کہ سیاست کے اندر کون سی ایسی چیز ہے،جو شریعت کے منافی ہے اور اس کو دنیائے مذمومہ کہا جائے،اگر تمکین فی الارض کی سعی مسلمانو ں کے لیے غیر محمود ہے تو پھر آیت تمکین اور آیت استخلاف کا کیا منشا ہے۔
علماء سلف کاسیاست میں اشتغال:
”میں سمجھتا ہوں کہ شریعت کی کماحقہ واقفیت رکھنے والا یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ سیاست کو خارج از دین کہے؛ بلکہ سیاست حقہ تو درحقیقت شریعت ہی سے معلوم ہو سکتی ہے اور وہ عین دین ہے،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور خلفاء راشدین و دیگرصحابہ کرام جو بہترین علماء امت تھے، نے سیاست میں بہترین حصہ لیا اور ہمارے لیے اپنے اسوہ حسنہ کے اندر کافی ذخیرہ جمع کردیا ہے۔
خلفائے راشدین توخود سادات العلماء تھے،وہ بھی سیاست میں کام کرتے تھے،خلفائے کرام کی مجلس شوریٰ میں شریک ہوتے اور رائے دیتے تھے،ہمای خوش قسمتی سے ہمارے سامنے ایسے آثار بھی موجود ہیں کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کی جماعت میں ایسے لوگ تھے کہ جن کو علماء سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ خلفاء کرام کی مجلس مشاورت میں حصہ لیا کرتے تھے“۔(۵۱)
محض ازدیاد اطمنان کے لئے میں یہ بھی عرض کرتاہوں کہ علماء امت محمدیہ کاسیاست میں توغل صرف قرون اولیٰ تک محدود نہیں ہے؛بلکہ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا، چنانچہ دور اول کے بعد بھی بڑے بڑے علماء نے سیاست میں حصہ لیا،اگرچہ حصہ لینے والوں کی تعداد میں کمی ہوتی گئی۔
حضرت مولانا ؒنے نمونہ کے طور پر چند اکابر علماء کے اسمائے گرامی پیش فرمائے ہیں؛تاکہ ہمیں اپنی بزدلی پر ندامت ہو کر الو العزمی پیدا ہو، جسے طوالت کی وجہ سے یہاں ترک کیا جاتا ہے، چنانچہ حضرت مولاناؒ فرماتے ہیں
”چند اکابر علماء،محدثین اور فقہاکے اسمائے گرامی تو اس لیے پیش کرتاہوں؛تا کہ ہماری بزدلی اور پست ہمتی کوکچھ ندامت ہو،اور ہم میں الو العزمی پیدا ہو اور ہم عزیمت کی راہ اختیار کریں،ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے علماء ایک طرف علم و عمل اور زہد وتقویٰ کے علمبردار ہیں تو دوسری طرف وزارت خارجہ،داخلہ اور وزارت مالیہ کے قلمدان کو بھی سنبھالے ہوئے ہیں،اگر ایک وقت فقاہت کی مسندپر جلوہ گرہیں تودوسرے وقت بین السلاطین سفارت کی خدمت انجام دے رہے ہیں، تیسرے وقت دشمنان اسلام سے جہاد بالسیف بھی کر رہے ہیں“۔(۶۱)
اقامت خلافت کے سلسلے میں دستور:
حالات کے پیش نظر خلافت کے قیام کے سلسلے میں دستور کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولاناؒ نے فرمایا کہ!
”میرے نزدیک مسلمانان ہند کا اولین فرض یہ ہے کہ:
(۱) سب سے پہلے نظام اسلام کے تمام اصول وقواعدکونہایت ترتیب وتہذیب کے ساتھ مرتب کیا جائے اور اس کی ترتیب میں حسب ذیل امور کا خیال رکھا جائے۔
(الف)شرعی اصول سے تمام دنیائے اسلام میں اقتدار خلافت کے قیام کے لئے جن جن امور کی ضرورت ہے، سب کو نہایت تفصیل کے ساتھ اس میں داخل کیا جائے اور ان امور ضروریہ کے اندراج میں کسی خوف وملامت کی پرواہ نہ کی جائے۔
(ب)رخصت کے اصول کی رعایت اسی حد تک کی جائے، جس سے کسی بنیادی اصول کے اندرخلل واقع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
(ج)نظام اسلام کی ترتیب میں اولیت اور سابقیت حالت اختیار کے اصول پردیاجائے اور بعدہ بدرجہ مجبوری حالت صبر کی صورتوں میں درج کیا جائے۔
(د)تمام اصول ونظام کی ترتیب میں صرف اقوال فقہائے کرام اور محدثین و متکلمین کو سامنے نہ رکھا جائے؛ بلکہ ہر ایک اصول کے تدارک کو معلوم کر کے اور اصول استصلاح کالحاظ کرکے مرتب کیا جائے۔
(۲) نظام اسلام جو مذکور الصدرطر یقہ پر تیار کیا جائے، اس کی ایک شرح مبسوط لکھی جائے،جس میں تمام دفعات کے مآخذ ومدارک شرعیہ کو واضح کیا جائے اور ہر دفعہ کے اخذ ونتائج کوبیان کرتے ہوئے اس کے ترک، یااس کی مخالف صورت کو بھی ظاہر کیا جائے۔
(۳) اصل نظام اسلام اور اس کی شرح کو عربی،اردو اور انگریزی میں بکثرت شائع کیا جائے اور تمام دنیائے اسلام کواس پر غور کرکے عمل کرنے کی دعوت دی جائے۔
(۴) اس کے علاوہ جن جراثیم کا میں نے پہلے تذکرہ کیا ہے، اس کے اندفاع کے لیے وطنیت کااصل مفہوم اور اس کے حدود پر شرعی نقطہ نظر سے تبصرہ کیا جائے اور عقلی دلائل سے بھی اس پر روشنی ڈالی جائے اور ان الفاظ کے ان حقائق کے غلط ہونے کو پر زور دلائل سے ثابت کیا جائے، جو عموماً ان دنوں کئے جارہے ہیں اور ان تمام رسائل کواردو،عربی اور انگریزی میں شائع کیا جائے؛تاکہ تمام دنیا کے اہل اسلام کے ہاتھوں میں یہ رسائل پہونچیں اور دنیائے اسلام کے ہر طبقہ کے تعلیم یافتہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔
(۵) ایک مستقل رسالہ مسئلہ استصلاح پر لکھا جائے، جس میں بتایا جائے کہ مصلحت کی حقیقت کیا ہے اور اس کے کتنے معانی ہیں،شریعت اسلامیہ مصلحت کے ٍکس معنیٰ کو اختیار کرتی ہے اور پھر مصلحت کے کتنے مدارج ہیں اور باعتبارمدارج مصالح کسی مصلحت کی رعایت کا کیا حکم ہے،اس رسالہ سے یہ مقصود ہے کہ رعایت، مصلحت کے باب میں جتنی غلط فہمیاں ہیں دور ہو جائیں گی اور یہی وہ حقیقت ہے کہ جس کے عدم انکشاف کے باعث علماء اور جدید تعلیم یافتہ افراد کا ایک مرکز پر پورے اخلاص کے ساتھ اجتماع نہیں ہو رہا ہے؛ بلکہ روز بروز دونوں کے درمیان تفریق کی خلیج وسیع ہوتی جارہی ہے۔(اناللہ وانا الیہ راجعون)
اس رسالہ کو بھی تینوں زبانوں میں شائع کیا جائے،جس سے نظام خلافت کے سمجھنے اور اس کی مقبولیت میں بڑی مدد پہونچے گی۔
(۶) ”نظام اسلام مع اس کی شرح“کو لے کر تمام ممالک اسلامیہ بالخصوس خود مختار وآزاد ممالک میں وفود روانہ کئے جائیں،تاکہ گفتگو اور مکالمہ کے بعد اس نظام پر عمل در آمد کے لیے ان سے مخلصانہ عہدوپیمان حاصل کریں اور اصول نظام کی صحت پروثوق حاصل ہونے کے بعد پھر آخری مشورہ اس اسلوب پرکریں،جس طرح پر حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خلافت راشدہ ثالثہ کے قیام کے وقت اصحاب سۃ سے کیا تھا، بعدہ مؤتمراسلامی کرکے خلافت اسلامہ کی بنیاد ایک مستحکم نظام پر قائم کرکے تمام دنیائے اسلام کو ایک مسلک میں منسلک کر دیاجائے۔
(۷) اور ان تمام رسائل کومدارس واسکول وکا لج میں حسب مدارج نصاب تعلیم میں لازم قرار دیاجائے اور کوشش کی جائے کہ تمام ممالک اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں یہ سب رسالے لازم قرار دئیے جائیں؛ تاکہ یہ جراثیم فساد پھر ہمارے نوجوانوں میں نہ پیدا ہونے پائیں اور نظام اسلام کی تعلیم سے ان کا دماغ ہمیشہ ترو تازہ رہے“۔(۷۱)
جزیرۃ العرب سے غیر مسلوں کو نکالنا:
جزیر ۃ العرب جہاں حرم،مسلمانوں کا قبلہ اور بہت سارے مقدس مقامات ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر مسلوں کو وہاں سے نکالنے کی واضح وصیت اور صحابہ کرام کا عمل ہمارے سامنے ہے، اس کے با وجود عمل اس کے خلاف ہو نے پر مولانا ؒ توجہ دلاتے ہوئے فر ماتے ہیں:
”بیرونی مسائل میں ہمارے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ جزیرۃ العرب کو غیرمسلم اثر سے ہمیشہ کے لیے مامون ومحفوظ بنادیاجائے کہ جس میں دنیائے اسلام کا واحد قبلہ اور ہزاروں اسلامی مشاہد اور مقدس مقامات واقع ہیں، جن کی تفصیلات ایک سے زائد مرتبہ خلافت کانفرنسوں اور جمیعت علماء کے اجلاسوں میں بیان کی گئی ہیں، نیز اس کو غیر مسلم اثرات سے پاک رکھنے پر حکم و مصالح بھی بتائے جا چکے ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکم شرعی اس آخری وصیت پر مبنی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ان لفظوں میں فرمائی تھی کہ:
”اخرجوا الیھود والنصاریٰ عن جزیرۃ العرب“۔وفی روایۃ:”اخرجوآ المشرکین عن جزیرۃ العرب“۔
جو نہایت معروف ومشہور ہے۔
چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اس حکم پر عمل کر کے اس مقدس سر زمین کو مشرکین اور دیگر کفار کی نجاستوں سے ہمیشہ کے لیے پاک وصاف کر دیا تھا۔
(لھم البشریٰ فی الحیاۃ الدنیا و فی الآخرۃ)
لیکن شریف حسین کی غداریوں نے اسلام اور مسلمانوں پر وہ مصائب کبریٰ نازل کئے، جن نہ صرف ساکنان حرمین شریفین زادھم اللہ شرفاً وتعظیماً چیخ اٹھے؛بلکہ تمام دنیائے اسلام لرز اٹھی اور انھوں نے انگریزوں کے اشارہ اور امداد کے بھروسہ پر وہ وہ فتنے برپا کئے، جن کو سن کر دنیائے اسلام حیرت زدہ و مبہوت رہ گئی“۔(
۸۱)

وہابیت اور حنفیت کی جنگ نہ چھیڑیئے:
خدارا اس وقت وہابیت وحنفیت کی جنگ نہ چھیڑئیے،ورنہ دنیائے اسلام پر ایک عظیم مصیبت نازل ہو گی،کیا آپ کو معلوم نہیں کہ عبد الوہاب نجدی کے وجود سے پہلے بھی دنیائے اسلام حنفیت و شافعیت کے محاربے پر ماتم کر چکی ہے،جس سے ہزاروں علماء کے پاک خون سے عراق وشام کی زمین رنگی ہو ئی ہے:
(ان فی ذٰلک لعبرۃ لاولی الالباب)
باہمی سب وشتم کو بند کیجئے،مسائل میں اختلاف ہو تونہایت زور دار لفظوں کے ساتھ عملی اصول سے بحث کیجئے،جو علماء کے شایان شان ہے؛ بلکہ یہ ان کا فریضہ ہے۔ (۹۱)
ترک موالات کا مفہوم:
ترک موالات کے سلسلے میں چونکہ جمعیۃ علماء نے متفقہ فتویٰ شائع کیا تھا،جو در اصل حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز ؒ کا فتویٰ ہے،اس کی صحیح حقیقت اور مفہوم کو بیان کرتے ہو ئے حضرت مولاناؒ فر ماتے ہیں:
”ترک موالات کے متعلق جمعیۃ علماء ہند نے جو متفقہ فتویٰ شائع کیا ہے، وہ فتوی ٰموجو دہ دور کے علماء کا نہیں ہے؛بلکہ در اصل جناب مولانا سید شاہ عبد العزیزؒ کافتویٰ ہے“۔
پھر موالات کی حقیقت کو بیان کر تے ہو ئے فر ماتے ہیں:
”ہر مسلم کو جاننا چاہئے کہ موالات کے دو معنی ایک معنی محبت اور مودت ہے اور پھر محبت کی دو جہتیں ہیں:ایک دینی ومذہبی دوسرے دنیاوی اور محبت دنیاوی کی بھی دو صورتیں ہیں: اختیاری واضطراری۔الغرض کافر کے ساتھ محبت کی تین صورتیں ہیں:
نمبر ایک دینی محبت من جہۃ الدین؛یعنی کسی کافر کی دوستی اس طرح پر ہو کہ اس کے دین و مذہب کو پسند کیا جائے تو وہ عین کفر ہے۔
نمبر۲۔محبت من جہۃ الدنیا ہو اور اختیاراً ہو؛ یعنی کسی کافر کے ساتھ دلی محبت ہو؛ مگر نہ اس جہت سے کہ اس سے دین کو اچھا سمجھتا ہو؛ بلکہ کسی دنیاوی وجہ سے ہو؛ مگر یہ دنیاوی اختیار کی ہوئی محبت یعنی اپنی خواہش و اختیار سے کسی کافر سے کوئی دنیاوی مقصد اور غرض کے حصول کے لیے محبت کرتا ہو اور فطری اسباب اس محبت کے پیدا ہونے کے لیے موجود نہ ہوں تو یہ محبت بھی حرام ہے؛مگر کفر نہیں۔
نمبر۳،محبت میں جہۃ الدنیاہو؛ مگراضطراراً ہو اور اس محبت کا سبب غیر اختیاری ہو، جیسے کسی مسلمان کا باپ یا بھائی کافر ہو اور بسبب رشتہ داری اور قرابت کے مسلمان کے دل میں کافر باپ، یا بھائی کی محبت ہو تو یہ محبت جائز ہے، بشرطیکہ اس دلی محبت کا اثر مسلمانوں کے ایمان پر نہ پڑے۔
اورمحبت کی پہلی صورت یعنی محبت من جہۃ الدین اور دوسری صورت یعنی محبت من جہۃ الدنیا اختیاراً کا جو حکم بیان کیا گیا، وہ ہر کافر کے ساتھ یکساں وبرابر ہے؛عام ازیں کہ کافر محارب ہو یا غیر محارب، دونوں کے ساتھ ان دونوں قسموں کی محبت کا ایک ہی حکم ہے؛یعنی اول کفر ہے دوم حرام بغیر کفر اور یہ حکم بہرحال دوامی اور بہرحال ہے۔
لیکن محبت کی تیسری قسم یعنی محبت من جہۃ الدنیا اضطراراً،اس میں محارب اورغیرمحارب میں فرق ہے،یہ کہ غیر محارب کے ساتھ تو یہ محبت جائز ہے؛ لیکن محارب کے ساتھ یہ محبت بھی حرام ہے،بقولہ تعالیٰ: لا تجد قوماً یؤمنون باللّٰہ والیوم الآخر یوادون من حاد اللّٰہ ورسولہ ولو کانوا آبائھم أو أبناۂم أو إخوانہم أو عشیرتھم،الخ۔(سورہ مجادلہ پ:۸۲)
موالات بمعنی محبت کے احکام تو سب کو معلوم ہی ہیں اور متفقہ فتوے میں بھی مذکور ہے اور موالات کے دوسرے معنی نصرت اور مدد کے ہیں،جس کا تعلق افعال و جوارح سے ہے،دل سے اس کا کوئی سروکار نہیں، اس معنی کے اعتبارسے کافروں کے ساتھ موالات کرنے کے متعلق شرعی احکام مختلف احوال اور مختلف اسباب اور مختلف مقتضیات کی وجہ سے مختلف ہو تے ہیں۔
بعض حالتوں اور بعض اسباب کی موجودگی میں کافروں سے موالات بمعنی نصرت ومعاملہ بھی حرام ہو جاتا ہے اوربعض حالتوں میں اوربعض دوسرے اسباب کی موجودگی سے موالات بمعنی نصرت حرام نہیں ہوتا ہے“۔(۰۲)
تبدیل احکام کی حقیقت:
یہاں پر ایک بات یہ بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اختلاف احوال سے بعض احکام بدلتے ہیں تو اس سے یہ سمجھنا چاہیے کہ در حقیقت حکم شرعی نہیں بدلتا کہ اس سے یہ بد گمانی ہو کہ حکم شرعی تو ہمیشہ کے لیے ہے تو اس میں ردوبدل کے کیا معنی؟بلکہ واقعہ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ حکم شرعی کا محل بدل جاتا ہے اور جب وہ محل نہیں رہا تو اس کا جو حکم تھا وہ بھی نہیں رہا۔
اس کی مثال یہ سمجھنا چاہیے کہ کہ ایک کپڑا ہے جو دھوبی کے یہاں سے دھل کر آیا ہے؛ اس میں کوئی نجاست نہیں لگی ہوئی ہے تو اس کپڑے پر حکم شرعی یہ ہوا کہ یہ کپڑا طاہر ہے؛ اور جب اسی کپڑے میں نجاست لگ گئی تو حکم شرعی یہ ہوا کہ کپڑا نجس ہے اور طہارت کا حکم شرعی جو اس کپڑے میں تھا بدل گیا؛مگر حقیقتاً حکم شرعی نہیں بدلا ہے؛بلکہ وہ چیز بدل گئی ہے، جس پر حکم طہارت تھا،جب وہ چیز ہی نہیں ہے تو پھر وہ حکم کیوں کر رہ سکتا ہے اور پھر اس کپڑے سے نجاست دور کردی جائے تو پھر چونکہ محل حکم بدل گیا؛ یعنی کپڑے کی حالت بدل گئی؛ اس لئے پھر حکم دیا جائے گا کہ کپڑا طاہر ہے۔
پس حکم شرعی در حقیقت جس حال اور جس محل کے لئے مخصوص ہے،وہ اس حال اور اس محل مخصوص کے لئے یکساں رہتا ہے، حکم شرعی میں حقیقتاً کوئی تبدیلی نہیں ہو تی ہے۔
امیر شریعت کے اختیارات:
امیر کے انتخاب میں جو غلط خیالات ذہن میں پیدا ہوئے کہ امیر شریعت جس خیال ومشرب کا ہوگا،اسی کے مطابق احکامات نافذ کرے گا،جس کی اتباع سارے لوگوں کے لئے دشوار ہوگی، حضرتؒ اس خیال کو دور کر تے ہوئے امیر شریعت کے اختیارات کو ذکر کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں کہ:
(۱) امیر کے اختیارات محدود ہوں گے وہ نہایت مدبر مصالح شریعت سے واقف ہوگا؛یعنی وہ مسائل متفقہ منصوصہ کو نافذ کرے گا۔
(۲) مقاصد ووسائل اعلاء کلمۃ اللہ پر ہمیشہ نگاہ رکھے گا اور ان کے متعلق خصوصیت کے ساتھ احکامات نافذ کرتا رہے گا۔
(۳) وہ ایسے احکامات نافذ کرے گا،جس سے بلا امتیاز فرق تمام امت مسلمہ کی فلاح و بہبود متصور ہو۔
(۴) فروعی اور مختلف فیہ مسائل کے اجراء وتنفیذ کو اس سے کوئی تعلق نہ ہو گا کہ جن کی اجتماعی زندگی میں کوئی حاجت نہیں ہے۔
(۵) مختلف فیہ مسائل کی بحث وتحقیق کو نہیں روکے گا؛ لیکن جنگ وجدال اور فساد کو رفع کرنے کی ہمیشہ کوشش کر ے گا۔
(۶) اس کا ہر عمل اور ہرخیال تمام فرق اسلامیہ کے لئے واجب الاتباع نہیں ہو گا، جس عالم کی تحقیق امیر کی تحقیق کے خلاف ہو اور اس بنا پر اس مسئلہ خاص میں امیر کی اتباع نہ کرے تو کوئی حرج نہیں وہ عالم ہرگز مستحق طعن نہیں اور نہ اس کی بیعت ٹوٹ سکتی ہے، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ کتنے مسائل ہیں، جن میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف تھے؟ کتنے جزئیات ہیں جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے موافق نہ تھے؟ تو کیا آج تک کسی نے اس کو نقض بیعت سمجھا، یا ان پر طعن کیا گیا اور کیا اس فروعی مخالفت کی وجہ سے ان حضرات نے دوسرے اجتماعی احکامات میں امیر کی اتباع وانقیاد سے روگردانی کی؟ ہرگز نہیں۔
پس آج کس قدر ہماری بد نصیبی ہے کہ ہم ان مسائل کو جانتے ہیں؛لیکن محض ظنون واوہام کی بنا پر ایک اہم الواجبات کی ادائیگی میں پس و پیش کرتے ہیں۔
امیر کے انتخاب کے شرائط:
امیر کے انتخاب میں امیر کے لئے کیا کیا شرائط ہیں؟حضرت ؒ ان شرائط کاذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”اس قحط الرجال کے زمانہ میں اغراض و مقاصد شریعت کو مد نظر رکھ کر میرے نزدیک جن شرائط کے ساتھ امیر کا انتخاب ہو نا چاہیے، وہ حسب ذیل ہیں،مجھے امید ہے کہ آپ بھی پسند کریں گے۔
(۱) عالم باعمل صاحب فتاویٰ جس کا علمی حیثیت سے زمرہئ علماء میں ایک حد تک وقار واثر ہو؛ تاکہ علماء کرام اس کے اقتدار کو تسلیم کریں اور صاحب بصیرت ہو؛ تاکہ نہایت تدبر کے ساتھ احکامات نافذ کرے۔
(۲) مشائخ طریقت میں بھی صاحب وجاہت ہو اور اس کے حیطہء اثر میں اپنے صوبہ کے مسلمانوں کی ایک معتدبہ جماعت اس حیثیت سے موجود ہوکہ عوام وخاص اس کے اثر سے متأثر ہوں اور تنظیم شرعی واجتماعی قوت جلد سے جلد پیدا ہو سکے۔
(۳) حق گوئی وحق بینی میں نہایت بیباک ہو اور کسی مادّی طاقت سے متأثر ومرعوب ہو نے کا بظاہر اندیشہ نہ ہو۔
(۴) مسائل حاضرہ میں بھی ایک حد تک صاحب بصیرت ہو اور تدبیر کے ساتھ کام کررہا ہو؛ تاکہ ہمارا کام بحسن وخوبی تیزی کے ساتھ آگے بڑھے۔
(۵) لاپرواہی اور خود رائی کے مرض سے پاک ہو۔
میرے نزدیک اسی قدر شرائط موجودہ وقت میں مع احکام شریعت بہت کافی ہیں؛بلکہ یہ وہ معیار ہے،جس کی بناپر شاید صوبہئ ہذا میں ایک دو ہی آدمی مل سکتے ہیں۔(۱۲)

پنچایت کے مقابلے میں قضا کی اہمیت:
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے(الحیلۃالناجزۃ) کو جس میں پنچایت کی اہمیت بیان کی گئی ہے،جب تقریظ کے لئے حضرت ابو المحاسن محمد سجاد رحمہ اللہ کے پاس بھیجا تو حضرت نے بلا تکلف قضاء کے سلسلے میں فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ کی تجویز کی ہوئی صورت اورکتابوں کی طرف اشارہ فرمایا، نیز پنچایت کو اختیار کرنے میں بلا ضرورت مسئلہ غیر کو اختیار کرنا اور عملی دقتیں اور ان شرائط کی نگاہ داشت کی دشواری کی طرف حضرت نے توجہ دلائی، چنانچہ حضرت اپنے مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:
”دار الکفرمیں قضاء بین المسلمین کی ضرورت کو پوری کرنے کے لیے فقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے جو صورت تجویز فرمائی ہیں، وہ نہ معلوم کیوں اس رسالہ میں مذکور نہ ہوئیں؛یعنی:”یصیرالقاضی قاضیا بتراضی المسلمین“ اور”أن ینفقوا علی واحد یجعلونہ والیا فیولی قاضیا،الخ“.
اور جب یہ صورت موجود ہے تو پنچایت کی صورت اختیار کرنا بلا ضرورت مسئلہ غیر کا اختیار کرنا ہوگا، اس مسئلہ کی بابت شامی، بحر، فتح القدیر وغیرہ میں جو عبارتیں ہیں،وہ آپ سے پوشیدہ نہ ہوں گی،اگر جناب کے متبرک قلم سے حنفیہ کے اس مسلک کا بیان بھی اب بطور ضمیمہ اس رسالہ میں شامل ہو جائے تو بہتر ہوگا، اس مسئلہ کی ضرورت واہمیت کے علاوہ پنچایت کی عملی دقتیں بہت زیادہ ہیں اور ان شرائط کی نگاہ داشت بھی بہت مشکل ہوگی“۔(۲۲)
اصلی ہلاکت کا سر چشمہ برٹش حکومت کا دستور حکومت:
ایک اصلی ہلاکت کا سر چشمہ برٹش حکومت کا دستور حکومت ہے؛کیونکہ برٹش امپائرنے جس قسم کی جمہوری حکومت کی بنیاد رکھی ہے،اسی بنیاد پر گور نمنٹ آف۵۳۹۱ء کی عمارت کھڑی کی گئی ہے،اس حقیقت کوحضرت مولاناؒ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر مسٹر جناح کو خط لکھتے ہوئے تحریر فرمایا:
”اندرون ملک مسلمانوں کی ملی ومذہبی پوزیشن جن مصائب و مشکلات میں گھری ہوئی ہے،وہ کسی واقف کار پر مخفی نہیں ہے، جا بجا فرقہ وارانہ فساد جو ہوتے رہتے ہیں، یا ذبیحہ گاؤ و قربانی میں رکاوٹیں ہوتی رہتی ہیں، جو اگر چہ نہایت تکلیف دہ اور مصیبت زدہ ہیں؛ لیکن ان سے زائد مصیبت کبری’ یہ ہے کہ برٹش امپائر نے۵۳۹۱ ء سے جس قسم کی جمہوری حکومت کی بنیاد رکھی ہے اور جس بنیاد پر گورنمنٹ آف انڈیاایکٹ ۵۳۹۱ء کی عمارت کھڑی کی گئی ہے، وہ اسلامی نقطہ ئنظر سے ملت اسلامیہ کے لیے خصوصیت کے ساتھ نہایت خطرناک ہے۔
گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے اندر اور اس کے ماتحت حکومت کے جمہوری اداروں کے اندر مسلمانوں کو دین و ملت کے کاموں کے لیے کوئی اختیار بھی نہیں دیا گیا ہے، پس اصلی فساد اور ہلاکت کا سر چشمہ برٹش حکومت کا لعنتی دستور حکومت ہے،یہ روگ بمنزلہ سل و دق ہے اور فرقہ وارانہ فسادات، نوکریوں یا وزارتوں میں حق تلفی بمنزلہ پھوڑا پھنسی ہیں“۔(۳۲)
مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی طرف”مسلم لیگ“کو توجہ دلانا:
حضرت مولانا ؒنے اس وقت کی مسلمانان ہند کی نمائندگی اور دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعت”مسلم لیگ“کو اسلامی سیاست اور مذہبی حقوق کی طرف توجہ نہ کرنے پر بلا تکلف”مسلم لیگ“کے صدر مسٹر جناح کو اس کمی کی طرف خاص طور پر توجہ دلاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
”نہایت افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ اس مقصد کے اعتبار سے مسلم لیگ کا اجلاس پٹنہ بھی اپنی ۳۳/سالہ روایات کا حامل اور اپنی زندگی میں مسلمانان ہند کی واحد نمائندہ جماعت کے ادعا کے باوجود اسلامی سیاست اور مذہبی حقوق کی حفاظت کی طرف اس نے ادنیٰ توجہ بھی نہیں کی،چنانچہ حضرت مولا نا ؒچند چیزوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:جیسے (الف)احکام ورارثت میں تبدیلی،(ب)محکمہئ دار القضاء کی بربادی،(ج)ساردا ایکٹ،(د)شریعت بل اوراس میں ترمیم،(ہ) نص قرانی کی تنسیخ،(و)مسودہئ فسخ نکاح کا مرکزی اسمبلی میں حشر،(ز)کرسچن میرج ایکٹ کے ذریعہ اسلامی قانون میں مداخلت بیجا،(ح)اجتماع بین الاختین اورالہ آبادہائی کورٹ۔(۴۲)
پس ان حالات اور واقعات کی روشنی میں جب آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس پٹنہ کی تمام کاروائیوں پر ایک مسلمان غائر نظر ڈالتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ مسلم لیگ کے لیڈران کرام ان آٹھ اہم اسلامی حقوق کی پامالی پر جو بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں،ایک لفظ نہیں کہتے اور اس وجہ سے کہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ ارباب مسلم لیگ کو یا تو اسلام کے اصول اور حقیقی مفادات وحقوق سے کوئی لگاؤ نہیں،یا یہ کہ وہ اس کی حفاظت کو ضروری نہیں سمجھتے۔(۵۲)
مصادر ومراجع
(۱) سورۃالتغابن:۱۱
(۲) خطبہ صدارت ص:۶۱
(۳۔۴)خطبہ صدارت:ص۸۱
(۵) خطبہ صدارت:ص۹۱
(۶) خطبہ صدارت ص:۵۳
(۷) حوالہ بالا، ص:۶۳
(۸) حوالہ بالا،ص:۰۴۔۱۴
(۹) حوالہ بالہ،ص:۴۴
(۰۱) رواہ ابن ماجہ،باب الوفاء بالبیعۃ،حدیث نمبر:۱۷۸۲
(۱۱) سورہ الدخان:۸۱
(۲۱) مرقاۃ المفاتیح:۹/۳۳۹۳
(۳۱) ص:۵۴ تا۷۴
(۴۱) البحر الرائق:۵/۱۱
(۵۱) حوالہ بالا،ص:۰۵
(۶۱) تفصیل کیلئے طبہ صدارت ص:۵۲ تا ۵۴ ملاحظہ فرمائیں
(۷۱) حوالہ بالا،ص:۰۶ تا۳۶
(۸۱) ص:۸۶
(۹۱) ص:۷۷
(۰۲) ص:۷۸
(۱۲) مکاتیب سجاد، ص:۵۱
(۲۲) مکاتب سجاد، ص:۸۱
(۳۲) مکاتیب سجاد،ص:۵۲
(۴۲) تفصیل کے لئے ملاحظہ فر مائیں مکاتیب سجادؒ،ص۳۶ تا۴۴
(۵۲) مکاتیب سجادؒص:۴۶

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں