مقربین کے باغات

مولانا شوکت علی قاسمی بھاگلپوری

سورہئ رحمٰن میں تیسرے رکوع کے پہلے آدھے حصے میں، جنت کے دو باغوں کا ذکر ہے؛جو خاص خاص مؤمنین،اور مقربین بارگاہ ایزدی کے لئے ہیں،جنت میں ہر مقرب کے لئے دو دو باغ ہوں گے۔اور دوسرے آدھے حصے میں بھی دو باغوں کا ذکر ہے؛ وہ عام مؤمنین کے لئے ہوں گے کہ: اُن میں سے ہر ایک کو دو دو باغ ملیں گے؛ مگر یہ دونوں باغات مقربین کے باغوں سے کم درجے کے ہوں گے، مقربین کے باغوں کا ذکر کرتے ہوئے،حق تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا:

”وَلِمَن خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِo فَبِأَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ oذَوَاتَٓا اَفنَانِo فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِoفِیھِمَاعَینٰنِ تَجرِیٰنِ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo فِیھِمَا مِن کُلِّ فَاکِھَۃٍ زَوجٰنِ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo مُتَّکِءِینَ عَلٰی فُرُشٍ بَطَاءِنُھَا مِن اِستَبرَقٍ ط وَجَنٰی الجَنَّتَینِ دَانٍ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo فِیھِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرفِ لا لَم یَطمِثھُنَّ اِنسٌ قَبلَھُم وَ لٓا جَانٌّ oفَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo کَاَنَّھُنَّ الیَاقُوتُ وَالمَرجَانُ o فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo ھَل جَزَاءُ الاِحسَانِ اِلَّا الاِحسَانِo فَبِاَیِّ اٰلٓاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِo (الرحمن:۶۴-۱۶)
ترجمہ مع تفسیر: اور جو کوئی ڈرا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے آگے،اُس کے لئے ہیں دو باغ (یعنی جس کو دنیا میں ڈر لگا رہا کہ: ایک روز اپنے رب کے آگے کھڑا ہونا، اور رتی رتی کا حساب دینا ہے،اور اُسی کے ڈر کی وجہ سے، اللہ کی نا فرمانی سے بچتا رہا، اور پوری طرح تقوٰی کے راستے پر چلا،اُن کے لئے وہاں (جنت میں) دو عالی شان باغ ہیں، جن کی صفات آگے آرہی ہیں) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟جن میں بہت سی شاخیں (یعنی مختلف قسم کے پھل ہوں گے اور درختوں کی شاخیں پُر میوہ اور سایہ دار ہوں گے) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟ اُن دونوں (باغوں) میں دو چشمے بہتے ہیں (جو نہ کسی وقت تھمتے ہیں اور نہ خشک ہوتے ہیں) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟ اُن دونوں میں ہر طرح کا میوہ قسم قسم کا ہوگا،(بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ہر میوہ دو قسم کا ہوگا، ایک تر دوسرا خشک مگر لذت و عمدگی میں دونوں برابر ہوں گے، بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک ہوں گے (روح المعانی جزء:۷۲؛ ج:۴۱/۰۸۱) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ایسے بچھونوں پر،جن کے اَسْتَرْدبیز ریشم کے ہوں گے (اور قاعدہ ہے کہ اوپر کا کپڑا بہ نسبت اَسْتَرْ کے نفیس ہوتا ہے،تو جب استر موٹے ریشم کا ہوگا تو اوپر کا کیا کچھ حال ہوگا) اور میوہ باغوں کا جھک رہا ہوگا (تاکہ جنتی کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حالت میں متمع ہو سکیں،اور پھلوں کو چننے میں تکلیف نہ اٹھانی پڑے،روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ: پھل اور شاخیں سب جنتی کے تابع کر دی جائیں گی،جنتی لیٹا ہوگا تو منہ کے پاس جھک کر آجائیں گی، بیٹھے گا تو اُسی کے مطابق اونچی ہو جائیں گی،کھڑا ہوگا تو وہ بھی ساتھ ساتھ اُتنی ہی اونچی ہو جائیں گی) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟ اُن میں عورتیں ہوں گی نیچی نگاہ والیاں، نہیں قربت کی اُن سے کسی آدمی نے اُن سے پہلے، اور نہ ہی کسی جن نے (یعنی نہ اُن کی عصمت کو کسی نے چھوا،اور نہ اُنہوں نے اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟ وہ(عورتیں) کیسی (ہوں گی) جیسے لعل اور مونگا، موتی اور ہیرا، یعنی موتی اور ہیرے کی طرح صاف شفاف،خوش رنگ،اور سرخ و سفید ہوں گی، پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟اور کیا بدلہ ہے نیکی کے سوا؟ (اچھی بندگی کا بدلہ اچھے ثواب کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ اُن جنتیوں نے دنیا میں اللہ کی بے انتہا عبادت کی تھی، گویا وہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے، اللہ نے بھی اُن کو بے انتہا بہتر بدلہ دیا) پھر کیا کیا نعمتیں اپنے رب کی جھٹلاؤگے؟اُس کے بعد عام مؤمنین کے باغوں کا ذکر ہے

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں