ملک کی ابتر معاشی حالت کو پوشیدہ رکھنے کا ناکام حربہ

Views: 40
Avantgardia

جاوید جمال الدین

ملک کے موجودہ حالات کا عوام کو بخوبی علم ہے ،مندی کا شکار ہمارا ملک مہنگائی اور بھکمری کی سمت میں تیزی سے آبڑھ رہا ،مہاراشٹر،کرناٹک ،کیرالا کے بعد اترپردیش اور دیگر ریاستوں میں بھیانک سیلاب نے رہی سہی کسر بھی ختم کردی ،ان حالات کی وجہ عوام شدید بے چینی پائی جا رہی ہے کوئی بھی موجودہ صورتحال سے مطمئن نظرنہیں آرہا ہے ،بلکہ مرکزی حکومت کی جانب سے جس قسم کے فیصلہ لیے جارہے ہیں اور حزب اختلاف کی حکومتیں گرانے اور بی جے پی کی قیادت میں حکومت قائم کرنے اور دل بدلی کو فروغ دینے کی کوشش کے ساتھ ساتھ قدآور رہنماﺅں کو ڈرانے دھمکانے کا بھی ارباب اقتدار پر الزام عائد کیا جارہا ہے۔ایسے حالات پیدا کردیئے گئے ہیں کہ ہرایک کے ذہن میں یہ بات پیدا ہورہی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ماضی میں ذرا سی بھی بھول چوک ہوگئی ہے تواب اسے بھی کہیں اس کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے اور یہی سوچ کر لوگ بیان بازی اور سرگرمیوں میں احتیاط برتنے کا ذہن بناچکے ہیں۔
حالانکہ مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس قسم کی کارروائی بدعنوان افراد کے خلاف کی جارہی ہے ،لیکن اس تیزی سے کی جانے والی کارروائیوں کے سبب یہ محسوس ہوتا ہے کہ مودی حکومت یا پھر ان کی مخالفت کر نے والوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اورایک طرح سے یہ انتقامی کارروائی ہے۔بلکہ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ ملک کی 70سالہ تاریخ میں ایسا کچھ نہیں ہوا کہ صرف حکومت یا اس کے سربراہ پر تنقید کرنے کی سزایہ دی جائے کہ اس کے ماضی کی سرگرمیوں اور غلطیوں کا فائدہ اٹھایا جائے اوراس کے خلاف محاذ کھڑا کرکے اسے جیل میں ٹھونس دیا جائے۔ اکثر کسی ملازم سے ناراضگی اور اختلاف کے مدنظر مالکان اور اعلیٰ عہدیداران جس انداز میں اس کی معمولی معمولی غلطیوں کی فائل اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں ،بالکل وہی انداز موجودہ حکومت نے اپنا رکھا ہے ۔اگر ملک کے حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات آئینہ کی طرح شفاف ہے کہ مودی حکومت اس بات کا فیصلہ کرچکی ہے کہ وہ اپوزیشن کے قدآور رہنماﺅں اور اپنے مخالفین کو ہر حالت میں پریشان کرے ،کیونکہ اس کی عوام مخالف پالیسیوں کے سبب اس کی امیج کو نقصان پہنچتا ہے اور حکومت نے یہ پالیسی بنالی ہے کہ ایسے لوگوں کو پریشان کرنے کے لیے بدعنوان قراردینے کا حربہ سب سے آسان ہے۔اور بس یہی کیا جارہا ہے ۔تاکہ مستقبل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہو۔
حال میں دواہم ترین واقعات پیش آئے ہیں اور بی جے پی کے ترجمان نیوز چینلوں پر چیخ چیخ کرکہہ رہے ہیں کہ انصاف سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بخشا نہیں جائے گا ،وہیں نیوز چینل بھی یہی پرانا راگ الاپنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔دراصل آئی این ایکس ویڈیو معاملے میں ڈرامائی انداز میں گرفتار کیے گئے سابق وزیر داخلہ و مالیات اور سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم کو سی بی آئی عدالت میں پیش کیا گیا اور سی بی آئی نے انہیں چار روز کی تحویل میںدے دیا ،عدالت میں سماعت کے دوران چدمبرم کے وکیلوں نے ان کی ضمانت کی مسلسل درخواست کرتے ہوئے بھرپور انداز میں دلیل پیش کیں، لیکن عدالت نے تمام دلائل کو مسترد کرتے ہوئے چد مبرم کو سی بی آئی کی تحویل میں دے دیا۔بس کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات کا خیال رکھا کہ انہیں ہر روز 30 منٹ تک وکلاءاور اہل خانہ کو چدمبرم سے ملنے کی اجازت دے دی ہے اور عدالت نے اتنا ضرور کہا کہ ریمانڈ کے دوران ملزم کی عزت اور ذاتی وقار کی خلاف ورزی نہ ہو ان کی عزت کا خیال رکھا جائے۔اب بتائے کہ سی بی آئی کی تحویل میں دیئے جانے کے بعد چدمبرم کی عزت ووقار کا ویسے ہی بیڑہ غرق ہوچکا ہے ۔حالانکہ عدالت کی اجازت کے بعد پہلے چدمبرم کے وکلاءنے اور پھر خود چدمبر م نے مطلع کیا کہ 6 جون 2018 کو سی بی آئی نے انہیں طلب کیا تھا اور اس وقت ان سے پوچھے گا ہر سوال کا جواب انہوں نے واضح انداز میں دے دیا تھا،اس کی تصدیق کیلئے سی بی آئی کے ذریعے عدالت میں پیش کی گئی پوچھ گچھ کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے اس طرح ان سے پانچ ملین ڈالر کی رقم کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا جو سوال کیا گیا وہ یہی تھا کہ کیاان کاغیر ملکی بینک میں کھاتہ ہے اور کیا ان کے بیٹے کا بھی غیر ملکی بینک میں اکاو ¿نٹ ہے یا نہیں ، انہوں نے اپنے کھاتے کے بارے میں منفی اور بیٹے کے اکاونٹ کے بارے میں مثبت جواب دیا تھا۔اور یہ سب کچھ ریزرو بینک کی ہدایات کے مطابق ہے ۔فی الحال سی بی آئی نے چدمبرم پر ساڑھے تین سوکروڑ روپے رشوت لینے کاسنگین الزام عائد کیا ہے جس کے بارے میں پہلے ان سے کوئی سوال نہیں کیا گیا تھا۔
چدمبرم کی ڈرامائی گرفتاری کے پیش نظر کانگریس کی کارگزار صدر سونیا گاندھی نے اپنے آنجہانی شوہر اور سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے دبے لفظوں میں مودی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ کانگریسی حکومت یعنی راجیو گاندھی کی حکومت کوموجودہ مودی حکومت سے زیادہ بڑی اکثریت حاصل ہوئی تھی، لیکن کانگریس نے کبھی کسی کو سیاسی فائدے کے نام پر ڈرایا دھمکایا نہیں اورہمارے پاس جو اکثریت تھی ،وہ موجودہ سرکار سے کہیں زیادہ تھی لیکن ہم نے اس کا استعمال ڈرانے دھمکانے کے لیے نہیں کیا اور نہ ہی خوف کا ماحول پیدا کرنے کے لئے کیا تھا۔
 واضح رہے کہ سونیا کا طنزیہ بیان پارٹی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر چدمبرم کی ڈرامائی گرفتاری کے پس منظر میں انتہائی اہم ہے ،حالانکہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو احساس ہوگا کہ کانگریس کے ایک قدآور رہنماءکی گرفتاری پر کانگریسی حلقوںمیں عجیب قسم کا خوف پایا جارہا ہے ،چند مقامات کو چھوڑ کر بڑے پیمانے پر کوئی احتجاج اور مظاہرہ نہیں ہوا ،بلکہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ انہیں سانپ سونگھ گیا ہے۔
چدمبرم پر ہی بات ختم نہیں ہوتی ہے، بلکہ ایک اور اہم شخصیت اور مودی کے کٹرمخالف مہاراشٹرنونرمان سینا( ایم این ایس )کے سربراہ راج ٹھاکرے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ،انہیں انفورسمینٹ ڈائریکٹریٹ(ای ڈی)نے ایک پرانے تعمیراتی کمپنی کے لین دین کے معاملہ میں طلب کیا اور ای ڈی کے افسران نے اپنے دفتر میں آٹھ گھنٹے تک تفتیش کی ۔کانگریس لیڈرشپ کے بیان کے باوجود کانگریسیسوں میں کوئی جوش نظرنہیں آیا ،اس کے برعکس ایم این ایس کے ورکروں نے شدید احتجاج کی دھمکی دے دی اور اس وجہ سے ممبئی اور تھانے پولیس کو کئی مقامات پر دفعہ 144نافذ کرنا پڑا اور کئی گرفتاریاں بھی کی گئیں ،اس کے باوجود ایم این ایس کے ورکروں نے جگہ جگہ احتجاج کیا بلکہ ای ڈی کے دفتر بھی پہنچ گئے تاکہ اپنے رہنماءکا حوصلہ بڑھایا جاسکے ۔کانگریس کے مقابلہ میں ایم این ایس ایک علاقائی پارٹی ہے اور اس کا سیاسی اثر بھی کم ہے۔
اس کے ساتھ ہی حیرت انگیز طورپر راج ٹھاکرے کے خلاف مذکورہ کارروائی کی وجہ سے مہاراشٹر کی سیاست میں زبردست تبدیلی کا امکان پیدا ہو چکا ہے کیونکہ راج کے معاملے میں ان کے چچا زاد بھائی اورشیوسینا کے سربراہ ادھوٹھاکرے نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے جوکہ ایک نیک شگون ہے ، اس طرح سے ادھو نے اپنے خاندان کی عزت رکھ لی ہے کیونکہ وہ بھی اسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں، جس خاندان سے راج ٹھا کرے ہیں۔ادھوٹھاکرے کشمکش میں مبتلا ہیں ،لیکن ایسا ممکن نہیں ہے کہ راج ٹھاکرے کے خلاف مودی حکومت کی کارروائی کے مدنظر شیوسینا بی جے پی حکومت کی حمایت واپس لے کر دستبردار ہوجائے۔جوسیاسی ماحول بناہے ،اس میں شیوسینا سربراہ کو اہم رول اداکرنا ہوگا۔ انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ظلم کے مخالف ہیں اور حق کے ساتھ ہیں ،کیونکہ بی جے پی نے اپنے دوسرے دورحکومت میں جو انتقام لینے کی پالیسی اپنائی ہے ،وہ انتہائی خطرناک ہے ۔راج ٹھاکرے نے لوک سبئا انتخابات کے دوران مودوی اور شاہ کو جگہ جگہ ریلیاں کرکے نشانہ بنایا تھا اور بی جے پی کو آئندہ اسمبلی الیکشن کے تعلق سے فکر لاحق ہوگئی ہے ۔اس لئے ان کا دم خم نکالنے کے لیے ابتدائی پھندہ ڈالا جاچکا ہے ۔سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں معاشی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے اورکشمیرکی پالیسی میں ناکامی کو چھپانے اور مندی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کیے جارہے ہیں،لیکن یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ فرانس کے اپنے حالیہ دورہ کے موقع پرپیرس میں وزیراعظم نریندر مودی ترقی اور کامرانی اور طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں بڑے بڑے دعوے کررہے تھے ،وہیں نئی دہلی میں نتیی آیوگ کے وائس چیئرمین راجیوکمارنے اس حقیقت پر سے پردہ اٹھا دیا کہ ”ملک کے معاشی حالات 70سال میں سب سے زیادہ ابتر ہوچکے ہیں۔“
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart