مولانا ابوالمحاسن محمد سجادکی ملی خدمات

مولانا ڈاکٹر محمد سعود عالم قاسمی سابق ڈین فیکلٹی دینیات،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

مولانا ابوالمحاسن محمد سجادعلیہ الرحمہ (م۰۴۹۱؁ء)ہندوستان کے برگزیدہ،اولوالعزم اورنابغہئ روزگار علماء میں تھے، خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری اداکی تھی، جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو ایسے وقت میں سہارا دیا،جب وہ انگریزوں کے ظلم وستم کا شکار تھے،ان کے حقوق سلب کئے جارہے تھے اوران کو غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جارہاتھا،مختلف عنوانوں سے ان کو ستایا جاتا تھا اورمختلف بہانوں سے ان کے علماء اوررہنماؤں کو قید وبند میں ڈالا جاتا تھا،ان کا سماجی اورسیاسی شیرازہ منتشر کیا جارہاتھا اوران کی قومی زندگی کو شدید خطرہ لاحق تھا۔مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒنے ایسے وقت میں ملک وملت کی خدمت کی،اس کی قومی وحدت کو بچانے اوردینی غیرت کی حفاظت کرنے میں مدد کی،انہوں نے اہل وطن کی بھی خبر گیری اوردست گیری کی،ان کو مخالف ماحول میں جینے کا حوصلہ دیا اورباد مخالف سے لڑنا سکھایا اورخاص طور پر مسلمانوں کی شیرازہ بندی کی،وہ اقبالؒ کے اس شعر کا مصداق تھے ؎
جب اس انگارہئ خاکی میں ہوتا ہے یقین پیدا
تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا
مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نہ تو صاحب زر تھے اورنہ صاحب منصب وزور،نہ بڑے قلم کار تھے اورنہ شعلہ بیان صاحب گفتار،نہ ان کے پاس فوج تھی اورنہ تلوار؛مگر وہ اخلاص اورخدمت خلق کے جذبہ سے سرشار تھے،دینی حمیت،علمی بصیرت،دینی قابلیت،مومنانہ فراست اورقائدانہ صلاحیت میں وہ دوسروں سے ممتاز تھے،ان کے بارے میں علامہ سید سلیمان ندوی نے بجا طور پر لکھا ہے:
”ان کی تواضع میں بلندی،سادگی میں بناؤ اورخاموشی میں گویائی تھی،وہ اکیلے تھے؛لیکن لشکر تھے،پیادہ تھے مگر برق رفتار تھے،وہ قال نہ تھے،سراپا حال تھے،کہتے کم تھے،کرتے زیادہ تھے،ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ راہ اورمنزل کے فرق کو کبھی فراموش نہیں کیا،انہوں نے راہ میں ہم راہیوں کے لطف کلام میں پھنس کر منزل سے ہٹنا کبھی گوارہ نہ کیا“۔(۱)
مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد بنیادی طور پر معلم اورمدرس تھے،مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد اورمدرسہ انوارالعلوم گیا میں مدتوں تدریسی فرائض انجام دیئے،وہ علم دین کی اشاعت کے لیے اس نسل کو تیار کررہے تھے،جو مسلمانوں کے دینی فرائض کی ادائیگی میں رہنمایانہ کردار ادا کرسکے اورمسلم معاشرہ کو داخلی تضاد اورخارجی فساد سے بچا یاجاسکے،وہ خود دین کے اصولوں کو عوام کے قلوب میں راسخ کرنے کے لیے شبانہ روز محنت کرتے تھے؛مگر اس پر نظر رہنی چاہیے کہ ان کا تصور دین ومذہب،مدرسوں،مسجدوں اورخانقاہوں تک محدود نہ تھا،وہ اللہ کے دین کو اپنی تمام تر وسعت اوررفعت کے ساتھ قابل نفاذ سمجھتے تھے اوراللہ کے بندوں اوراللہ کی سرزمین میں اسے غالب دیکھنا چاہتے تھے،وہ گوشہئ تعلیم گاہ سے سیاست کے ایوانوں تک اورخوابگاہ بشر سے رزم گاہ خیر وشر تک اسلام کے پاکیزہ احکام کی جلوہ گری اورہمہ گیری کے قائل تھے،ان کا نصب العین حکومت الٰہیہ کا قیام تھا،چنانچہ اس یقین کو سلیقہ اوراعتماد کے ساتھ انہوں نے اپنی کتاب”حکومت الٰہیہ“میں پیش کیا اورہندی مسلمانوں کو راستہ دکھایا کہ(ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ)کی عملی تعبیر کیوں اورکس طرح پیش کی جاسکتی ہے،اس سلسلہ میں بزرگوں کا سرمایہ نئی نسل تک کیسے پہونچایا جاسکتا ہے،خاص طور پر علماء اسلام اپنی ذمہ داریوں سے کیوں کر عہدہ برآ ہوسکتے ہیں،دین کا علم تو بہتوں کے پاس ہے؛مگر دین کے نفاذ کا شعور اورسلیقہ بہت کم کے پاس ہے۔
مگر ان کے عہد کے مسلمان جن مشکل حالات میں گرفتار تھے اورانگریز کے پنجہئ خونیں کا جس طرح شکار تھے، اس کا تقاضا تھاکہ پہلے ان سلگتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کیا جائے،ان کی شیرازہ بندی کی جائے اوربحیثیت امت مسلمہ ان کا عزم وحوصلہ استوار کیا جائے،چنانچہ مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒنے آزادی وطن کی تحریک میں بھی حصہ لیا، تحریک آزادی میں کانگریس کا ساتھ دیا اورکانگریس کے ساتھ مل کر اپنی سیاسی جماعت بھی بنائی اورقوت واقتدار میں شرکت بھی کی؛مگر ہمیشہ ان کی اپنی منزل پہ نظر رہی،بقول علامہ سیدسلیمان ندوی!
”وہ وطن کی آزادی اوراحکام مذہبی کی پیروی کے درمیان التباس اورتصادم سے کبھی بے خبر نہیں رہے،جذبہئ آزادی کی پوری قوت کے باوجود انہوں نے کانگریس یا کانگریسی حکومت کے غلط اقدام اٹھانے پر بزدلانہ یا صلح پسندانہ درگذر سے کام نہیں لیا“۔(۲)
مسلمانوں کی شیرازہ بندی کے لیے ضروری تھا کہ ان کے دینی اورفکری رہنماؤں کو متحد کیا جائے،یعنی طبقہئ علماء کی صف بندی کی جائے؛کیوں کہ یہ طریقہ امت میں وحدت کا شعور پیدا کرسکتا ہے اورشریعت محمدی کی پاسداری کے لیے امت محمدی میں روح پھونک سکتا ہے،چنانچہ ۷۱۹۱ء؁ میں انہوں نے مدرسہ انوار العلوم گیا مین بہار کے برگزیدہ علما وارمشائخ کو سالانہ جلسہ میں شرکت کی دعوت دی اوراس جلسہ میں انہوں نے علماء بہار کی انجمن کی بنا ڈالی۔سلطان القلم سید مناظر احسن گیلانی نے مولانا سجاد کے بارے میں لکھا ہے:
”ابھی چند مہینے ہوئے تھے کہ وہی استھانواں کا الکن خطیب مونگیر اس غرض سے آیا تھا کہ علما کی منتشر اور پراگندہ جماعت کو ایک نقطہ خاص سیاسی حالات کے ساتھ جمع کیا جائے،اس وقت تک دلی کی جمعیۃ العلماء کا خواب بھی نہ دیکھا گیا تھا،طے ہوا کہ صوبہ بہار کے علماء کو پہلے ایک نقطہ پر متحد کیا جائے،پھر بتدریج اس کا دائرہ بڑھایا جائے، صوبہ کی جمعیۃ العلماء کے پہلے اجلاس کے پہلے صوبہ بہار کا انتخاب عمل میں آیا،مونگیر کی خانقاہ کی طرف سے جمعیۃ کی شرکت کے لیے خاکسار کو بھیجا گیا“۔(۳)
یہ نہ بھولنا چاہیے کہ برادران وطن بیدار اورہوشیار تھے،جبکہ مسلمان خوابیدہ اورباہمی افتراق کا شکار تھے، آزادی کی تحریک اورسیاسی شعور میں مسلمانوں سے کہیں آگے برادران وطن تھے،مولانا ابوالمحاسن سجادنے اس تنظیم علماء کے ذریعہ مسلمانوں کے علاقوں کا دورہ کیا،ان میں سیاسی شعور کی بیداری اوراپنے حقوق کی بازیابی کے لیے قدم بڑھانے کی گذارش کی اوراپنی صف بندی اورتنظیمی وحدت کو باعزت زندگی کا ذریعہ قراردیا،علماء کی اس تنظیم کا جب پہلا اجلاس مدرسہ عزیزیہ بہار شریف میں ہوا تو اس میں مدارس ومکاتیب کے ذمہ داروں کے علاوہ بڑی خانقاہوں کے مشائخ کی بھی نمائندگی ہوئی اورمولانا ابوالمحاسن کی اس جدوجہد کو تائید اورتقویت ملی،بقول مولانا عبدالصمد رحمانی علیہ الرحمہ:
”مولانا علماء کو ایک جگہ مجتمع کرنے میں،ایک راہ پر لگانے میں،نئے ڈھب،نئے طریقے اختیار کرنے، ماحول کے مقتضیات اورمواقع واحوال کی نامساعدات کے ساتھ کام کو بڑھانے میں اس کی اہمیت وافادیت کو منوانے میں کامیاب ہوگئے“۔(۴)
مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے صرف صوبہ بہار کے علماء کو مجتمع کرنے پر قناعت نہیں کی،ان کی نظر میں پورا ہندوستان تھا اورپورے ملک کے علماء کو متحد کرنا ان کا ان مشن تھا،ان کے دل ودماغ میں یہ بات جاگزیں ہوچکی تھی کہ مسلمان حکومت اوراقتدار سے محروم ہیں اورمنتشر رہ کر وہ اپنا قومی ورثہ اوردینی خصوصیت کو برقرار نہ رکھ سکیں گے،رفتہ رفتہ ہر شعبہئ زندگی میں زوال پذیر ہوجائیں گی،اسلام کی امانت جوان کو بزرگوں سے ملی ہے،اس کی حفاظت نہ کرپائیں گے،اس لیے ملک گیر سطح پر ان کی اجتماعیت ضروری ہے،اس طرح وہ ایک ایسی تنظیمی طاقت میں ڈھل جائیں گے،جو اسلام کی حفاظت بھی کرسکے گی اورمسلمانوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے موثر جدوجہد بھی کرسکے گی،نیز اغیار کے لیے آسان نہ ہوگا کہ اس اجتماعیت کو لقمہئ ہوس بنالے۔
چنانچہ دہلی میں ۹۱۹۱ء؁ میں ایک درجن منتخب علماء کا ایک خصوصی جلسہ سید حسن رسول نما کی در گاہ میں منعقد ہوا اوراس میں جمعیۃ علماء ہند کے قیام کا مبارک اورتاریخی فیصلہ لیا گیا،اس یادگار جلسہ میں مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے اپنے دلی جذبات اورعملی تجربہ کا اظہار جس طرح کیا،وہ مولانا احمد سعید دہلوی کے الفاظ میں سنئے:
”حضرت مولانا سجاد صاحب نے بھی اس جلسہ میں مختصر تقریر فرمائی تھی،اس تقریر کا ایک ایک لفظ مولانا سجاد کے جذبات ایمانی کا ترجمان تھا،حاضرین کی تعداد اگرچہ دس بارہ آدمیوں سے زیادہ نہ تھی؛لیکن کوئی آنکھ اورکوئی دل ایسا نہ تھا،جس نے اثر قبول نہ کیاہو“۔(۵)
جمعیۃ علماء ہند کاقیام عمل میں آیا،اس کا پہلا اجلاس ۹۱۹۱ء؁ میں امرتسر میں اوردوسرا اجلاس ۰۲۹۱ء؁ میں دہلی میں منعقدہوا،دہلی کے اجلاس میں پورے ملک سے تقریبا ًپانچ سو(۰۰۵) علماء ومشائخ اوردردمندان اسلام کی جماعت حاضر تھی،مسلمانان ہند کے لیے جمعیۃ علماء کے قیام کا فیسلہ تائید غیبی لیئے ہوا تھا،آزادی ہند اورتقسیم ہند کے موقع پر اوراس کے بعد مسلمانوں پر جو قیامت گذری،اس سے اہل نظر بخوبی واقف ہیں،ان خونچکاں حالات میں علماء کی یہی جماعت تھی جو ایک طرف مسلمانوں کو قتل وغارت گری کے عذاب سے بچانے میں جان کی بازی لگارہی تھی، حکام وقت اورسرکاری قوتوں سے انصاف اورقانون کی پاسداری کا مطالبہ کررہی تھی اورمسلمانوں کو ہمت وحوصلہ، بے خوفی،دلجمعی اورصبر واستقلال کی نصیحت کررہی تھی،فسادات کے مارے ہوئے کے لیے راحت رسانی اورلٹے پٹے ہوئے کے لیے سامان زندگی کی فراہمی کررہی تھی۔ہمارے بزرگ علماء کا یہ اخلاص تھا کہ جمعیۃعلماء نے مسلمانوں کی رہنمائی اوردست گیری کو کبھی فراموش نہیں کیا،آج بھی وہ دکھے دلوں کی صدا ہے اوردکھیاروں کے درد وغم کا مداوا کررہی ہے،آزاد ملک میں قید وبند کی ناحق اذیت سہنے والے نوجوانوں کی قانونی جنگ لڑنے میں اس کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،مولانا محمد سجاد پوری عمر اسی راستہ پر رہے،وفات ۰۴۹۱ء؁ سے پہلے جمعیۃ علماء بہار کے ناظم عمومی بنائے گئے۔
مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے صرف مسلمانوں کی اجتماعیت ووحدت کو کافی نہیں سمجھا؛بلکہ ان کے خانگی وسماجی مسائل کے حل کے لیے اورشریعت اسلامی کے عملی نفاذ کے لیے ہندوستان میں امارت شرعیہ کے قیام کا منصوبہ پیش کیا،تاکہ ملت اسلامیہ اپنے خدارسیدہ اورشریعت کے محافظ علماء کرام کی نگرانی میں اپنے معاملات طے کرے اوراپنے مسائل خود حل کرے،چنانچہ دہلی کے ۰۲۹۱ء؁ کے اجلاس میں مولانا سجاد نے امارت شرعیہ فی الہند کے قیام کی تجویزپوری بصیرت اوروضاحت کے ساتھ رکھی،اس تجویز کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مولانا عبدالصمد رحمانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
دراصل صحیح معنوں میں یہی پہلا اجتماع تھا جو تمام اسلامیان ہند کا نمائندہ اجتماع تھا اورآئینی حیثیت سے یہ پہلا اجتماع تھاکہ آئینی طریقہ پر پورے اسلامی ہند کے لیے امیر شریعت یا امیر الہند کا مسئلہ طے کیا گیا،چنانچہ اس اجلاس کے موقع پر حضرت مولانا ابوالمحاسن محمدسجاد نے مسئلہئ امارت فی الہند کو ارباب حل وعقد کے سامنے رکھا“۔(۶)

مولانا محمد سجاد نے صرف تجویز ہی نہیں رکھی،بلکہ اس سلسلہ میں پورے ملک کے مسلمانوں میں بیداری پیدا کی۔ علماء،مشائخ،اصحاب فکر ونظر سے ملاقاتیں کیں اورامام المسلمین کے انتخاب کی ضرورت کو محسوس کرایا،علماء کے دستخط سے ایک فتویٰ بھی شائع کرایا،جس میں مسلمانوں کی شرعی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اورباہمی معاملات کے حل کے لیے امام المسلمین کی ضرورت پر زور دیاگیا،مولانا سجاد نے اس سلسلہ میں مولانا ابوالکلام آزاد سے بھی ملاقات کی،مولانا آزادؒ نے ان کے خیال،تجویز،دلیل اورمصالح کو سن کر ان کی تائید اورتوثیق کی اورامارت شرعیہ کے قیام سے اتفاق کیا۔(۷)
مولانا سجاد نے یہ محسوس کیا کہ پورے ملک میں امارت شرعیہ کا قیام فی الحال دشوار ہے تو انہوں نے ماڈل کے طور پر پہلے بہار میں اس کے قیام کو یقینی بنانے کی جدوجہد کی اوربالآخر وہ اپنی مبارک کوشش میں کامیاب ہوگئے، ۳/مئی ۱۲۹۱ء؁ کو انجمن علماء بہار کے اجلاس میں مولانا نے اپنے اس منصوبہ کا اظہار کیا اورسارے علماء سے تجویز منظور کرائی،جس کا خلاصہ یہ تھا:
”صوبہ بہار واڑیسہ کے محکمہ شرعیہ کے لیے ایک عالم مقتدر شخص امیر منتخب کیا جائے،جس کے ہاتھ میں تمام محاکم شرعیہ کی باگ ہو اوراس کا ہر حکم مطابق شریعت ہر مسلمان کے لیے واجب العمل ہو،نیز تمام علماء ومشائخ اس کے ہاتھ پر حفاظت اسلام کے لیے بیعت کریں،جو سمع وطاعت کی بیعت ہوگی اورجو بیعت طریقت سے ایک الگ اورضروری اہم چیز ہے“۔(۸)
چنانچہ مولانا سجاد کی اس جدوجہد اورعلماء کی تجویز ۶۲/جون ۱۲۹۱ء؁ کو بارآور ہوئی،جب پتھر کی مسجد پٹنہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کی صدارت میں امیر شریعت کے انتخاب کا اجلاس منعقد ہوا اورپورے صوبہ کے پانچ سو علماء اورمشائخ جمع ہوئے،اس اجلاس نے متفقہ طور پر مولانا شاہ بدرالدین پھلواروی کو امیر شریعت اورخودمولانا سجاد کو نائب امیر شریعت کے طورپر متخب کیا۔(۹)
یہ اس امارت شرعیہ کی اساسی مجلس تھی،جس نے بہار واڑیسہ میں نہ صرف مسلمانوں کے خاندانی اورسماجی تنازعات کے شرعی حل کے لیے ایک پُروقار،دستوری راستہ نکالا،بلکہ مسلمانوں کی سیاسی بیداری اوردینی رہنمائی میں بھی تاریخی اورروشن خدمات انجام دیں،اس نے مسلمانوں میں اعتبار اورافتخار کا وہ مقام حاصل کیا کہ اس کی مثال ہم سایہ ممالک میں مشکل سے مل سکتی ہے،اس اجلاس کے صدرمجلس استقبالیہ مولاناسیدشاہ حبیب الحق سجادہ نشیں خانقاہ عمادیہ منگل تالاب نے اپنے خطبہ ئ استقبالیہ میں فرمایا:
”یہ سب سے پہلے اسی صوبہ کے علماء چوں کہ غفلت سے بیدار ہوئے اورجمعیۃ علماء کی بنیاد ڈالی،سوئے ہوئے شیرازہ کا استحکام شروع کیا،ہماری اصلاح کی طرف مخاطب ہوئے، موجودہ حالات پر غور وفکر کی تدبیریں نکالیں، اس طرح اب امیر شریعت کے لیے بھی سب سے پہلے یہی صوبہ سب سے آگے بڑھا،خدا اسے کامیاب کرے“۔(۰۱)
تاریخ میں ان درویش علما کا یہ کارنامہ محفوظ رہے گا کہ جب مسلم بادشاہوں نے ہندوستان میں اپنی حکومت کو اپنی نااہلی سے گنوادیا تو علماء کی اس مخلص جماعت نے اسلامی ورثہ کو بچالیا اوراسلام اورمسلمانوں کی آبرو بچانے کا فریضہ انجام دیا،بقول علامہ اقبالؒ:
ان کے ارادے قلیل ان کے مقاصد جلیل
ازم ہو یا بزم پاک دل و پا کباز
مولانا ابوالمحاسن محمدسجاد کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی،بیماری وآزادی سے بے نیاز اورخانگی ذمہ داریوں سے وقت بچاکر ملک وملت اوردین وشریعت کے لیے سرگرم سفر رہتے تھے،انہوں نے خلافت تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اورعالم اسلام کی وحدت اورامت مسلمہ کی آفاقیت کو زمینی سطح پر محسوس کرانے میں اپنا کردار ادا کیا،انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی بھی بنائی،غرضیکہ ہر وہ کام کیا،جس سے مسلمانوں کی عزت میں اضافہ ہو،ان کے مسائل حل ہوں اوران کا وزن محسوس کیا جاسکے۔
مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ دینی،تنظیمی اورشرعی سرگرمیوں کے علاوہ مسلمانوں کی سماجی اوررفاہی کاموں میں بھی اسی اخلاص اورجانفشانی سے حصہ لیتے تھے،فسادات کی آگ ہو،یا زلزلہ کا جھٹکا،سیلاب کی تباہ کاری ہو،یاآسمانی آفتوں کا حملہ،ان تمام مصائب میں وہ مسلمانوں کے ساتھ کھڑے رہتے اورہر طرح سے ان کی راحت رسانی کی جتن کرتے تھے،وہ مال وزر کی چاہت،عہدہ واقتدار کی ہوس اورنام ونمود اورشہرت سے دوررہ کر اللہ کے بندوں کی خدمت کے لیے تیار رہتے تھے۔علامہ سید سلیمان ندوی ؒنے ان کے بارے میں بجا طور پر لکھا ہے:
”مسلمانوں کی سلامتی اورتنظیم کی ایک دھن تھی کہ ان کو دن رات چکر میں رکھتی تھی،کہیں قربانی کا جھگڑا ہو، مسلمانوں پر مقدمہ ہو،کہیں سیلاب آئے،کہیں آگ لگے،کہیں ہندومسلم کا تنازعہ ہو،ہر جگہ خود پہونچ جاتے تھے، معاملہ کا پتہ لگاتے تھے،مسلمانوں کی مدد کرتے تھے،ان کے لیے چندہ کرتے تھے،جہاں سے ہوسکتا ہے،وہ ان کو لاکر دیتے تھے اورخود خالی ہاتھ رہتے تھے“۔(۱۱)
ان کی وفات حسرت آیات پر مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے لکھا تھاکہ بہار کی تنہا دولٹ گئی،(یالیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی وجعلنی من المکرمین)کی آیت شاید ان کے لیے بھی نازل ہوئی تھی۔(۲۱)
اسلام کے اس عظیم فرزند،مسلمانوں کے اس عظیم رہنما اورعلماء کے اس بے لوث نمائندہ کے لیے ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں:
پھونک کر اپنے آشیانہ کو
بخش دی روشنی زمانہ کو
مصادر ومراجع
(۱) یاد رفتگان از سید سلیمان ندوی،ص:۰۴۲،مکتبہ الشرق کراچی۵۵۹۱ء
(۲) یاد رفتگان،ص:۰۴۲
(۳) مولانا عبدالصمد رحمانی،حیات سجاد،ص:۱۵۔۲۵،مقالہ مولانا مناظر احسن گیلانی،امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ،۰۶۳۱ھ
(۴) مولانا عبدالصمد رحمانی،تاریخ امارت،ص۳۴،پٹنہ ۷۶۳۱؁ھ
(۵) مولانا انیس الرحمن قاسمی،حیات سجاد،ص:۹،پٹنہ ۸۹۹۱ء
(۶) تاریخ امارت،ص:۹۴
(۷) پروفیسر محسن عثمانی،مشاہیر علوم اسلامیہ اورمفکرین ومصلحین،ص:۴۷۲،نئی دہلی ۷۱۰۲؁ء
(۸) تاریخ امارت،ص:۴۵
(۹) حسن حیات،سوانح قاضی سید احمد حسین،ص:۵۳۱،مرتب شاہ محمد عثمانی،نئی دہلی۱۹۹۱؁ء
(۰۱) حسن حیات،سوانح قاضی سید احمد حسین،ص:۵۳۱، مرتب شاہ محمد عثمان،نئی دہلی۱۹۹۱ء
(۱۱) یادرفتگان،ص:۵۴
(۲۱) مکاتیب گیلانی،ص:۵۸۲،مرتب مولانا منت اللہ رحمانی خانقاہ رحمانی مونگیر،۲۷۹۱ء

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں