مولانا سجاد کی تدریسی خدمات وخصوصیات قسط نمبر 08

مفتی نذر توحید المظاہری
مہتمم وشیخ الحدیث جامعہ رشیدالعلوم،چَترا،جھارکھنڈ
۔
’’پنہسہ‘‘جسے میں،آپ اور یہ دنیا جانتی نہ ہی،یہ کبھی اہلِ علم وقلم کی گفتگو کا محور اورتحریروں کا موضوع بن پاتا، اگر اس چھوٹے سے گم نام؛بلکہ کافی حدتک بے نام گاؤں میں’’محمد سجاد‘‘نامی بچے کی ولادت سے لے کے اس کی طفولیت اور اٹھان تک کی اس کی گلیاں ،محلے ،سڑکیں اور درودیوار گواہ نہ ہوتے۔مولانامحمد سجاد یوں تو عالی ذہن مفکر،دور بیں مدبر،ژرف نگاہ سیاست داں،ذہین ترین قائد،فقیہ النفس عالم اور ملت کے بے لوث وبے غرض خادم کی حیثیت سے معروف ومقبول اور متعارف ہیں؛مگر عطاکرنے والی ذات نے انہیں جہاں ان بیش بہا خوبیوں سے آراستہ کیاتھا،وہیں تدریسی خصوصیات وامتیازات سے بھی خوب نوازا ہے۔آپ کی تفہیم کاانداز،طلبہ کے ساتھ غایت درجہ شفقت اور ہرمقام پر ان کی بہی خواہی کے جذبے نے جہا ں تلامذہ کے دلوں میں ان کی عظمت کے نقوش ثبت کئے، وہیں ان کی مہارت وکمال کا شاہد وگرویدہ بھی بنا دیا۔
ویسے تو مولانا کے تدریسی عمل کا دورانیہ نہ کئی دہائیوں پر محیط رہا، نہ ہی اس مدت کو مسند درس سے انسلاک کا ایک معتد بہ حصہ کہہ کر تعبیر کیا جاسکتاہے؛ مگر یہ حقیقت جتنی ناقابل تردید ہے، اتنی ہی حیران کن بھی کہ اس تھوڑی مدت اور محتصر وقت میں آپ نے طلبہ کے آگے علم وآگہی کے جو بیش قیمت جواہر بکھیرے ہیں، اسے اگرنایاب کہنے کی جرأت نہیں کی جا سکتی توکم ازکم کم یاب کہنے میں بھی کسی باک کے احساس سے دوچار نہیں ہواجاسکتا۔
مولانا کی حیات بابرکات سے واقفیت رکھنے والے اس سے بخوبی واقف ہیں کہ آپ کی ابتدائی تعلیم کے لیے اولاََ مدرسہ اسلامیہ نامی جس درس گاہ کاانتخاب کیاگیا تھا،وہ آپ کے گاؤں ’’پنہسہ‘‘ سے محض چھ میل کے فاصلے پر ’’بہار شریف‘‘ میں واقع تھا، جہاں کے ناظم مولاناحافظ سید وحیدالحق صاحب استھانوی مولانا کے رشتہ دار بھی تھے،(۱)چنانچہ آپ جب حصول تعلیم سے فارغ ہوئے تو جوہر شناس نگاہوں نے آپ کی لیاقتوں کی تابانی کوچونکہ زمانۂ طالب علمی سے ہی دیکھ اور بھانپ رکھاتھا۔سوحکیم وحیدالحق صاحب استھانوی کے بلاوے پر ہی ۱۳۲۰ھ ؁ میں مدرسہ اسلامیہ ،بہارشریف چلے گئے؛یعنی جس مٹی سے آپ نے اٹھان پائی تھی، اب وہیں کی ’’کوزہ گری‘‘کی ذمہ داری آپ کی ذہانت اور حوصلے سے پُر کاندھوں کو سونپ دی گئی تھی،(۲)دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے انداز جداگانہ نے طلبہ کے اندر وہ جادو جگایاکہ مشاہدہ کرنے والی آنکھیں مارے حیرت واستعجاب کے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور طلبہ کاایک جم غفیر مولانا کی مقناطیسی شخصیت کاشہرہ سن کے ان کے حلقۂ تلمذ میں شامل ہونے کو بے تاب ہواٹھا۔یوں صرف تین سال کے وقفۂ تدریس میں آپ نے ایک مثال قائم کردی۔مولانا کی مدرسہ اسلامیہ آمد پر رونماہونے والے انقلاب کو مولانا کے تلمیذ خاص مولانااصغر حسین بہاریؒ (نائب پرنسپل:مدرسہ شمس الہدی،پٹنہ)کی زبانی ملاحظہ کیجیے!لکھتے ہیں کہ:
’’ایک مدت سے مدرسہ قائم تھا؛لیکن شرح وقایہ،جلالین شریف،قطبی میر قطبی وغیرہ سے اوپر پڑھنے والے طلبہ کبھی نہ رہے؛جہاں ملاحسن وغیرہ پڑھنے کی نوبت آئی اور یوپی کی راہ لی؛مگر حضرت ابوالمحاسنؒ کے پر محبت درس نے ایسی سحرکاری کی کہ اب طلبہ مدرسہ میں جمنے لگے،چنانچہ میں بھی میر زاہدرسالہ اور ترمذی شریف تک پہنچ گیا‘‘۔(۳)
مولانانے اپنے تدریسی دورانیے کاایک بڑاحصہ جن ہستیوں کے سایۂ شفقت تلے گزارا،ان میں ایک جلی نام مولانا عبدالکافی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔آپ مولانا مدرسہ سبحانیہ الہ آباد کے قابل ترین اساتذہ میں سے تھے۔علوم عربیہ پر دسترس رکھنے اور اپنے تبحر علمی کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔مولانا سجاد نے شرح جامی کی دقیق بحثوں سے لے کر قطبی تک کے گنجلک مسائل کی تمام کتابیں آپ سے ہی پڑھیں۔بعدازاں آپ مدرسہ سبحانیہ سے ہی فارغ التحصیل ہوئے۔(۴) مولانا نے جب آپ کے سامنے دامن استفادہ دراز کیا تو استاذ کی دور اندیش ذہن کو اس کاادراک ہوگیاکہ اپنے تمام ساتھیوں میں فائق،مطالعے کارسیا،فطانت کا منہ بولتا مجسمہ’’محمد سجاد‘‘بے پناہ خوبیوں کے باعث مستقبل کا معمار ثابت ہوگا۔مولانا عبدالکافی رحمۃ اللہ علیہ پر آپ کی ہنرمند طبیعت پہلے سے آشکارا تھی ۔چنانچہ مولانا عبدالکافی رحمۃ اللہ علیہ نے مولاناسجاد نامی اس ذی استعداد شاگرد کو ۱۳۲۳ھ میں مدرسہ سبحانیہ الہ آبادکے لیے طلب فرمالیااوران کی لیاقت پر اعتماد کرتے ہوئے صدرالمدرسین کی نیابت کا منصب باوقار سپردکردیا،گویا مولانا کی ’’خاک‘‘ ایک بار پھر وہیں جاپہنچی جہاں کا خمیر تھا۔(۵)
مولانا کی درسی کتب وفنون پر گرفت ،ان کی علمی جلالت اور طلبہ کے دلوں میں ا ن کے لیے موجود والہانہ محبت کا اندازہ عرصے تک ان سے اکتساب فیض کرنے والے شاگرد اور بعد کے ایام میں رفیق کار مولانا عبدالحلیم اوگانوی کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ:
’’میں اس زمانے میں کانپور میں پڑھتاتھا،جب یہ معلوم ہواکہ مولاناالہ آباد تشریف لے آئے ہیں تو میں کانپور سے الہ آبادچلاآیااور مولانا کے سلسلۂ تلمذ میں داخل ہوگیااور اپنی بقیہ کتابیں مولاناؒ ہی سے تمام کیں اس لئے آج مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ میں مولاناؒ کاشاگرد ہوں اگرچہ حقیر اور کم ترین ہوں۔یوں تو مولاناؒ جامع العلوم تھے مگر جن علوم میں کافی بلکہ کافی سے زیادہ دست گاہ رکھتے تھے،وہ منطق،فلسفہ،بلاغت اور علم ادب تھا۔کانپور میں کوئی عالم آپ کے پایہ کا نہ تھااور الہ آباد میں بھی بجز مولانا منیرالدین مرحوم الہ آبادی کے کوئی مدرس عالم آپ کا ہمسر نظر نہ آیا۔مولاناؒ کے درس تدریس کا یہ حال تھا کہ بڑی محنت اور کاوش سے پڑھاتے تھے اور کتاب کے مطالب مع مالہ وماعلیہ اس آسانی سے طلبہ کے دماغ میں اتار دیتے تھے کہ دماغ چمک اٹھتاتھا،مولانا کے طرز تدریس کی بڑی شہرت اور دھوم رہی اور بہت سے تشنہ کامان علم اس چشمہ سے سیراب ہوئے اور اپنی پیاس بجھائی‘‘۔(۶)
بات مولانا کے تدریسی امتیازات وخصوصیات سے متعلق ہے توآپ کے بستان علم کے نام ور خوشہ چیں، فقیہانہ بصیرت کے حامل اور دنیائے تالیف وتصنیف کے شہ بے تاج،معتبر عالم دین مولانا عبدالصمد رحمانی(نائب امیر شریعتثانی:’’امارت شرعیہ ‘‘)کے قلم سے حیات پانے والی یادداشتوں کے تفصیلی تذکرے؛بلکہ شہادت سے چیدہ چیدہ عبارات نقل کی جاتی ہیں؛تاکہ اس سے مولانا کی درسی خوبیوں ،اس تعلق سے ان کی اختراعی صلاحیتوں اور افہام وتفہیم کی بے کراں ہنر مندی کی ہلکی سی جھلک سامنے آسکے۔مولانا اس دور کے تعلیمی نظام میں موجود افراط وتفریط کی صورت ذکر کرنے کے بعد مولانا سجاد کے منفرد طریقۂ تدریس کے سلسلے میں رقم طراز ہیں:
’’…حضرت استاذ کاطریقۂ تعلیم اس افراط وتفریط سے الگ بین بین تھا وہ طلبہ کو کتاب سے اخذ مطلب پر زور دیتے تھے اور اس طرح ان کی قوت مطالعہ میں پختگی ہوجاتی تھی اور کتاب سے خاصی مناسبت پیدا ہوجاتی تھی،استاذ مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ پڑھنے والے کے سامنے دو باتیں رہنی ضروری ہیں،ایک تو یہ کہ جس مسئلہ کو تم کتاب میں پڑھ رہے ہو،پہلے اس کو کتاب سے سمجھو کہ صاحب کتاب اس مسئلہ کے متعلق کیا کہہ رہا ہے اور اس سمجھنے میں جو کچھ سمجھو، اس کی عبارت سے سمجھواور کسی خیال کو اپنی طرف سے زبردستی اس میں نہ ٹھونسو،اس کے سمجھ لینے کے بعد دوسری چیز یہ ہے کہ یہ سمجھو کہ اصل مسئلہ کی حقیقت ہے کیا؟اور جب اصل مسئلہ کی حقیقت سمجھ لوتو اس کے بعد یہ بھی دیکھوکہ صاحب کتاب سے اس حقیقت کے سمجھنے میں چوک تو نہیں ہوئی ہے،پس حضرت استاذ پہلے کتاب کی تفہیم فرماتے،پھر نفس مسئلہ کی طرف رہنمائی فرماتے،اس طرح پڑھنے والے میں تحقیق، تلاش، محنت، مطالعہ فکرکاجذبہ پیدا کردیتے تھے اور پڑھنے والے کے دماغ کی تربیت فرماتے تھے۔ حضرت استاذ طلبہ کو نہ تو بے محابا،بگ ٹٹ۔ایسا رواں دواں دیکھنا چاہتے تھے کہ بے خبری میں ہر موڑ اس کے لیے خطرناک خندق بن جائے اور اس کے لیے مغلطہ کاباعث ہو اور نہ وہ طلبہ کے لیے یہ پسند فرماتے تھے کہ صرف کتاب کارٹو ہوکررہ جائے اور دماغ اس جوہر لطیف سے خالی رہے،جو علم کا مقصود ومطلوب ہے‘‘۔(۷)
دوران درس مولانا کی چہرہ شناسی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
’’استاذرحمۃ اللہ علیہ کے طریقۂ تعلیم کی ایک خصوصی خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ اپنے عمیق تعلیمی تجربہ اور تبحر کی بنا پر اول نگاہ میں پڑھنے والے کی صلاحیت،اس کی استعداد،اس کی خامی اور اس کے نقص کو بھانپ لیتے تھے اور سبق کے وقت سب سے پہلے اس کی اس خامی کاازالہ فرمادیتے تھے،جس کا ہونے والے سبق سے تعلق ہوتا تھا؛ تاکہ فہم سبق کی راہ میں دشواری نہ رہے اور اس کے لیے ایسا لطیف پیرایہ اختیارفرماتے تھے کہ دوسرے ہم سبق کو اس کا پتہ بھی نہیں چلتاتھااور اس کے دل کی گرہ کھل جاتی تھی‘‘ ۔(۸)
طلبہ کے ساتھ مولانا کی شفقت،محبت، غم گساری ،ہمدردی واشک شوئی کا حال مولانا منت اللہ رحمانی(امیر شریعت رابع:’’امارت شرعیہ‘‘)کے قلم سے پڑھئے!فرماتے ہیں کہ:
’’مولانا کا سلوک طلبا کے ساتھ اس درجہ بہتر تھاکہ ان دنوں اس کا تصور مشکل ہے،کھانے پینے رہنے سہنے، پہنے،اوڑھنے میں مولانا نے کبھی امتیاز روا نہ رکھا،یہ ناممکن تھا کہ مولانا کھائیں اور طالب علم بھوکا رہ جائے، بیمار طلبہ کے علاج کا نظم خود مولاناکیا کرتے تھے۔حکیم کے یہاں لے جانا، دوالانا،تیمارداری کرنا،ان میں سے زیادہ کام مولاناخود اپنے ہاتھوں سے انجام دیا کرتے تھے،اس کا نتیجہ یہ تھا کہ طلبہ مولاناپراپنی جان قربان کرنے کو تیار رہتے تھے،آج بھی مولانا کے جو شاگرد موجودہیں،وہ اس وقت بھی مولاناکی شفقت اور مہربانیوں کوہمیشہ یاد کرتے ہیں اور انہیں اس کا اعتراف ہے کہ جتنی خدمت مولانانے ہماری کی ہوگی،اتنی خدمت ہم مولاناکی نہیں کر سکے‘‘۔(۹)
قیام الہ آباد کے دوران مولانا کے درس کا شہرہ مدرسہ کی چہار دیواری سے نکل کے زبان زد عام ہوچکاتھا،یہی وجہ ہے کہ ایک شیعہ صاحب بعد نماز عصر پابندی کے ساتھ ریاضی پڑھنے آیاکرتے تھے،وہ چونکہ انگریزی داں تھے؛ اس لیے حاصل شدہ خبروں سے بین الاقوامی حالات مولانا کے گوش گزار کرتے رہتے۔مولانا ہجوم کار اور کثرت اشغال سے نہ کبھی گھبرائے،نہ کبھی ان کے آگے گھٹنے ٹیکناگوارہ کیا؛بلکہ سینہ سپر ہو کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیوانہ وار مقابلہ کیا،مدرسہ کے اوقات میں درس دینے کے علاوہ نماز صبح سے پہلے جہاں دیتے، وہیں نماز سے فراغت کے بعد بھی متصلاََ پڑھایاکرتے۔
الہ آباد کے بعد اپنے ذی فہم استاذ مولانا عبدالکافی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد کی تعمیل میں مولانا۱۳۲۹ھ میں گیا چلے گئے،گیا میں مدرسے کی تاریخ ، نشاۃ ثانیہ اور اس کی کارکردگی کاذکرکرتے ہوئے صوبہ بہار کے مشہورو معروف بزرگ خان بہادر مولاناابونعیم محمد مبارک کریم ؒ (سابق سپریٹنڈینٹ آف اسلامک اسٹڈیزبہار واڑیسہ)کی یادداشتوں پر مشتمل معلومات کو ترتیب دیتے ہوئے زکریافاطمی صاحب(مدیر’الہلال‘)رقم کرتے ہیں کہ:
’’آپ گیا تشریف لائے اور وہاں جاکر آپ نے مدرسہ انوار العلوم کو دوبارہ جاری کیا،جو قاضی فرزند احمد صاحب رئیس گیا کے صاحب زادہ قاضی انوار احمد مرحوم کے نام سے شمس العلماء مولانا عبدالوہاب فاضل بہاری کاقائم کیا ہوا تھا؛مگر شمس العلماء مرحوم کے الگ ہوجانے کے باعث بند ہوگیا تھا۔المختصر جس وقت آپ تشریف لائے،گیامیں کوئی مدرسہ نہیں تھااور ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ کوئی عربی درس گاہ جاری کی جائے،چنانچہ آپ نے مدرسہ انوار العلوم کو جاری فرمایا،اس مدرسہ کا فیض دور دور تک پہنچااور نہ صرف اس صوبہ میں؛بلکہ دوسرے صوبوں کے تشنہ گان علوم بھی اس کے چشمۂ فیضان سے سیراب ہوتے رہے،مدرسہ کے جلسہ کاافتتاح اور سالانہ دستار بندی کے جلسوں میں نامی گرامی علمائے کرام تشریف لایا کرتے تھے،جس سے گیا کی پبلک بھی مستفید ہوا کرتی تھی۔آپ کی سعی بلیغ سے مدرسہ کو نہ صرف معنوی ترقی؛ بلکہ صوری ترقی بھی ہوئی،مدرسہ کی شاندار عمارت تعمیر ہوئی،دارالاقامہ بھی تعمیر ہوگیااور بہتیرے غیر مقامی طلبہ کے نہ صرف قیام؛بلکہ طعام کابندوبست بھی باضابطہ ہو گیا‘‘۔(۱۰)
یہ مدرسہ ابتداءََ ’’ظفر منزل‘‘ کے سامنے والی عمارت میں چلتا رہا،پھر ’’مسماۃ مریم‘‘نے زمین جائداد وغیرہ وقف کیا،اس کے بعد یہ مدرسہ آئندہ کی ترقی کے مراحل اور عروج کے منازل طے کرتا چلاگیا،یہی وہ ادارہ تھا، جہاں سے مولاناکی فکر کا رخ تبدیل ہوااور ذہن نے پلٹاکھایا،پھر دنیانے دیکھا مسند درس پر بیٹھ کر علم وحکمت کے یواقیت ولآلی بکھیرنے کے علاوہ بھی مولی نے مولانانے بے شمار خوبیاں ودیعت فرمائی تھیں۔
خدا رحمت کنَدایں عاشقانِ پاک طینت را
مصادر ومراجع
(۱) ’’حیات سجاد‘‘صفحہ:۹(مرتب:مولاناعبدالصمدرحمانیؒ )
(۲) ’’مولاناسجادنمبر‘‘(ہفت روزہ:نقیب) صفحہ:۱۱
(۳) ’’محاسن سجاد‘‘صفحہ:۱۹(مرتب:مولانا مسعود عالم ندویؒ )
(۴) ’’محاسن سجاد‘‘صفحہ:۳
(۵) ’’مولاناسجادنمبر‘‘(ہفت روزہ:نقیب) صفحہ:۱۲
(۶) ’’محاسن سجاد‘‘صفحہ:۵
(۷) ’’حیات سجاد‘‘صفحہ:۲۹
(۸) ’’حیات سجاد‘‘صفحہ:۳۰
(۹) ’’حیات سجاد‘‘ صفحہ:۱۲
(۱۰) ’’محاسن سجاد‘‘صفحہ:۱۴

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں