میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

Views: 44
Avantgardia

تحریر :مولانا فیاض احمد صدیقی انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :                    _______________
عشق، پیار، محبت اور الفت یہ بہت ہی پاکیزہ الفاظ ہیں کیونکہ اس کی وجہ کر امن و سکون اور چین و قرار انسانوں کے درمیان آتا ہے اس لئے تو جب ایک بندہ اپنے اللہ سے محبت کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس شخص کے لئے محبت کو بیٹھا دیتا ہے اور لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔اسی محبت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے لگ بھگ تمام انبیائے کرام اس دنیا میں تشریف لائے جنہوں نے اللہ کی محبت کے ساتھ ساتھ والدین، بھائی و بہن اور شوہر و بیوی کی محبت کو جنت کی ضمانت قرار دیا  “لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ و الناس اجمعین اور “ای الاعمال افضل قال بر الوالدین ” جیسی بہت ساری دلیلیں ہیں جو اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ جائز محبت انسان کو صلاح و فلاح سے ہمکنار کرتی ہے اور اس کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ناجائز محبت و الفت کو کسی شخص نے اپنانے کی کوشش کی تو رسوائی و بدنامی اور درد و الم کے عمیق گڈھے میں وہ غوطہ زن ہوگئے اور رہتی دنیا تک اسے انسانوں کے لئے عبرت کا سامان بنا دیا گیا. اگر ہندو دھرم کی بات کی جائے تو راون نے سیتا سے ناجائز محبت کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ کر اسے اس زمانہ سے لے کر آج تک لوگ ذلت و رسوائی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔اسی طرح مذہب اسلام کی روشنی میں دیکھا جائے تو قرآن مجید کے حوالے سے اس ناجائز محبت کے خمار کی بنا پر قابل نے اپنے سگے بھائی ہابیل کا قتل کردیا اور وہ دنیا کا پہلا قاتل قرار پایا اس لئے جب تک دنیا رہے گی اور کوئی قتل کا واقعہ پیش آئے گا تو اس کا گناہ قابل کو پہنچے گا ۔زلیخا جنہوں نے یوسف علیہ السلام سے ناجائز محبت کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ کر اس کی محبت کامیاب نہ ہوسکی ۔وقت اپنے رفتار سے گزرتا گیا اور ہر وقت اور ہر زمانہ میں اس دنیا نے اس ناجائز محبت کے دردناک واقعہ کا مشاہدہ کیا یہاں تک کے آخری نبی صلعم کا زمانہ آیا آپ صلعم نے جائز اور ناجائز محبت کو کھول کھول کر لوگوں کو سمجھا دیا ۔جائز محبت پر جنت کی بشارت دی اور ناجائز محبت پر سزا مقرر کر دی گئی اور  جہنم کے آگ میں جلانے تک کی بات کہی گئی آپ صلعم نے یہاں تک فرمایا کہ اگر کوئی عورت کسی کو پسند آجائے تو چاہئے کہ وہ اس کے گھر شادی کا پیغام بھیج دے اور اس سے شادی کرلے گویا کوئی لڑکی کسی کو پسند آنا یہ بری چیز نہیں بلکہ بری چیز تو تب ہے جب پسند آنے کے بعد بھی اسے جائز طریقے سے بیوی نہ بناکر ایک کھلونا تصور کیا جائے کہ جب چاہے کھیلے اور جب چاہے توڑ دے ۔رسول صلعم کی اس بہترین نصیحت اور کوشش کے بعد ناجائز محبت میں بہت زیادہ کمی آگئی پھر “خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم “کے تحت وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ سترہویں صدی عیسوی کا زمانہ آیا اور یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہوا ۔اس چیز نے جہاں ایک طرف دنیا کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا وہی دوسری طرف بے حیائی، عریانی اور فحاشی کا بازار گرم دیا ۔اب کیا تھا پارکوں، ریسٹورنٹوں اور کمپنیوں میں عورت اور مرد کی باہمی شمولیت کو ترقی کا ذریعہ قرار دیا گیا ۔سب سے مقدس جگہ جہاں پر لوگوں کو سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کی جاتی ہے جہاں پر انسان کو صحیح و غلط اور حق و باطل میں تمیز کر نے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے وہاں پر بھی مرد اور عورت ایک ساتھ  بیٹھ کر پڑھنے کے رواج کو عام کیا جانے لگا ۔ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے خو بصورت جملے تراشے گئے چناچہ ان چیزوں نے آگ و پٹرول کا کام کیا اور انسانوں کی عزت و ناموس میں ایسی آگ لگی کہ بجھنے کا نام نہیں لے رہی ۔اس چیز کی وجہ کر بہت سارے لوگوں کی عزت مٹی میں مل گئی بہت سارے لوگ ڈپریشن کے شکار ہوگئے بہت سارے طلبہ نے خود کشی کر لی ۔ بہت سی مسلم خواتین مرتد ہوگئیں ۔            آج اس انقلاب کا اثر پورے شباب پر پہنچ چکا ہے ہر طرف اسی کے اثرات دیکھائی دے رہے ہیں اسکول ہو یا کالج یا پھر یونیورسٹی ہر طرف ہر جگہ لگ بھگ 95 %لڑکے لڑکیوں کو اور لڑکیاں لڑکوں کو امپریس کرنے میں لگے رہتے ہیں جس کی وجہ کر ان کا مستقبل خوفناک اور دردناک ہوجاتا ہے ۔اسی منظر کو دیکھ کر شاعر کو بھی مجبور ہوکر کہنا پڑا.جہاں دیکھو وہاں ہی عشق کے بیمار بیٹھے ہیں.ہزاروں مر چکے لاکھوں تیار بیٹھے ہیں.    اس لئے آج ضروت اس بات کی ہے کہ ہم محبت کی حقیقی مفہوم کو سمجھے اور اسے عام کر  نے کی کوشش کرے اور ناجائز محبت سے بچنے کی پوری کوشش کرے :

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart