نمازکی حکمت و مصلحت

محمد یاسین جہازی، جمعیۃ علماء ہند

نمازکے لفظی معنی دعا کے ہیں۔ چوں کہ نماز تسلسل کے ساتھ دعا والا عمل ہے ، اس لیے اس کا نام صلاۃ یعنی نماز رکھا گیا۔نماز تمام عبادتوں میں سب سے افضل اور عظیم الشان عمل ہے ، اس لیے شریعت نے اس کی فضیلت، اس کے اوقات و شروط اور ارکان و آداب کو تفصیل سے بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔نماز سابقہ ملتوں میں بھی ایک مسلمہ عبادت تھی۔ اس لیے ان کے فضائل و مسائل میں ان باتوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے جو لوگوں میں یاتو متفق علیہ تھیں یا ان پر جمہور متفق تھے اور جو تحریفات میں اس میں شامل کردی گئی تھیں ، ان کا مکمل تصفیہ کردیا گیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ 
خالفوا الیھودَ ، فانھم لایصلون فی نعالھم، ولاخفافھم۔ (سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ،باب الصلاۃ فی النعل)
یہودیوں کی مخالفت کرو، کیوں کہ وہ لوگ اپنے جوتوں اور خفین میں نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ مسلمانوں کی نماز دیگر ملتوں کی عبادت سے ممتاز ہوجائے۔
سات سال میں نماز کا حکم اور دس سال میں سختی کرنے کی وجہ
عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال: قال رسولُ اللہ ﷺ : مُروا اولادَکم بالصلاۃِ و ھم ابناءُ سبعِ سنینَ ۔ واضرِبوھم علیھا وھم ابناءُ عشرِِ ۔ و فرِّقوا بینھم فی المضاجعِ ( سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ)۔
اپنی سات سالہ اولاد کو نماز کا حکم دو۔ اور دس سالہ اولاد کو نماز چھوڑنے پر پٹائی کرو۔ اور ان کے سونے کی جگہ کو الگ کرو۔
انسان تین چیزوں: ادراک، احساس اور ارادہ کا مجموعہ ہے ۔ ان میں اصلی جوہر ادراک یعنی عقل ہے ، کیوں کہ احساس اور ارادہ تو جانوروں کو بھی ہے ۔ ادراک و شعورکی ابتداعام طور پر سات سال کی عمر میں ہوجاتی ہے۔ دس سال پہنچتے پہنچتے اس کی تکمیل ہوتی ہے اور بلوغیت تک پختگی کی شروعات ہوتی ہے۔ المختصر بچہ تین مرحلوں سے گذر کر کامل مرد بنتا ہے: ابتدائی مرحلہ سات سال سے شروع ہوتا ہے اور آخری مرحلہ بلوغیت یعنی پندرہ سال کی عمر ہے اور درمیانی مرحلہ دس سال ہیں۔
نماز اسلام کا سب سے اہم اور لازمی شعار ہے، جو کسی بھی حال میں معاف نہیں ہے ، اس لیے شعور سنبھالتے ہی اس کا حکم دیا گیااور آخری مرحلے میں جب کہ وہ کامل مرد بن گیا ہے تو اس کو مکلف بنادیا گیا اور درمیانی مرحلہ چوں کہ دونوں مرحلوں کی خصوصیات پر مشتمل ہے ، اس لیے فرض کا حکم نہ دینا ابتدائی مرحلہ کا اثر ہے اور چھوڑنے پر پٹائی کرناآخری مرحلہ کی خصوصیت ہے ۔
خواب گاہ جدا کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جب جوانی کی شروعات ہوتی ہے اور جنسی خواہشات کی ہیجانی پیداہونے لگتی ہے، اس لیے معاملہ بگڑنے سے پہلے ہی اس کی روک تھام ضروری ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.