نماز کے فضائل

محمد یاسین جہازی، جمعیۃ علماء ہند

Md Yasin Jahazi

مختلف اندازو مثال میں نماز کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں ۔کہیں خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے پر مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے تو کہیں تطہیر نفس اور جنت کا اور کبھی اسے سب سے زیادہ محبوب عمل قراردیا گیا ہے۔ ان تمام احادیث کی علت یہ ہے کہ انسان کو پاکیزہ صفت و فرشتہ صفت بنانے والی چیزیہی نماز ہے ۔ نماز ہی نفس کو پاک اور بارگاہ خداوندی میں نیازمندی کا جذبہ پیدا کرتی ہے ، لہذا جو شخص نماز کو اس کے تمام سنن و فرائض اور آداب و مستحبات کے ساتھ ادا کرتا ہے، تو وہ رحمت الٰہی کے سمندر میں غوطہ زن ہوجاتا ہے ، پس درئے رحمت و مغفرت اس کے تمام گناہوں کو دھو ڈالتا ہے۔ارشاد خداوندی ہے کہ
اِنَّ الحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَیِّئاتِ (الھود، الآیۃ: ۱۱۴)۔

نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔
نماز چھوڑنا کافرانہ عمل ہے
قال رسولُ اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم: بینَ العبدِ و بینَ الکُفْرِ ترکُ الصلاۃِ (سنن ابی دادود، کتاب السنۃ، باب فی رد الارجاء)
نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ بندہ اور کفر کا درمیان (پل) نماز چھوڑنا ہے۔
نماز چھوڑ دینا کافرانہ عمل دو وجہوں سے ہے:
(الف) نماز اسلام کا لازمی شعار اور اس کی گویاشناخت ہے۔ اور جب شناخت ہی باقی نہ رہے تو اسلام کہاں سے باقی رہے گا۔
(ب) اسلام کا مطلب ہے خداوندی احکام کے سامنے سر جھکالینا اور یہ کیفیت نماز میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے، لہذا جو نماز ہی نہ پڑھے، گویا اس کا تعلق اسلام سے برائے نام ہوگا۔
نماز کے اوقات کی مصلحت وحکمت
نماز کے کثیرمنافع ،عظیم مقاصداور اللہ والوں کو اس سے ملنے والی لذتوں کے پیش نظر تقاضا تو یہ تھا کہ زندگی کے سارے اوقات میں نمازلازمی کردی جاتی، لیکن چوں کہ انسانوں کے ساتھ زندگی کی اور بھی ضروریات اور ذمہ داریاں وابستہ ہیں، اس لیے دن رات میں صرف پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ اور ان کے اوقات ایسی حکمت سے مقرر کیے گئے ہیں کہ نماز کے مقاصد اورزندگی کے دیگر فرائض دونوں ایک ساتھ ادا کرنے میں کوئی دقت و پریشانی پیش نہیں آتی۔
اوقات کی تعیین
فرشتے اترنے، اللہ کے سامنے بندوں کے اعمال پیش ہونے، بندوں کی دعائیں قبول ہونے، رحمت الٰہی کے فیضان اور انبیائے کرام علیہم السلام کے نزدیک نزول برکات کے اوقات چار ہیں: اور یہ اوقات شب و روز کے اجتماع اور ان کے آدھے ہونے کے اوقات ہیں، یعنی طلوع آفتاب، غروب آفتاب ، زوال آفتاب اور آدھی رات کے اوقات ۔ چوں کہ آدھی رات میں نماز کا مکلف بناناباعث پریشانی ہے، کیوں کہ یہ آرام کا وقت ہوتا ہے، اس لیے اس وقت کوئی نماز نہیں رکھی گئی۔ بقیہ تینوں اوقات میں بھی ایسی حکمتوں سے نمازیں فرض کی گئی ہیں کہ نماز سے جو مقاصد وابستہ ہیں، وہ بھی پورے ہوتے ہیں اور اور دوسری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خلل بھی نہیں پڑتا۔
اوقات کی تشکیل
تین باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہے :
(الف) دو نمازوں کے درمیان فاصلہ نہ تو بہت زیادہ ہونا چاہیے ،کیوں کہ پھر نماز کی نگہ داشت کا حکم بے معنی ہوجائے گا اور سابقہ نماز سے اللہ تعالیٰ کی جو یاداورجو روحانیت و نورانیت دل میں پیدا ہوئی تھی ، اس کا اثر ختم ہوجائے گا۔ اور بہت کم فاصلہ ہونے کا نقصان یہ ہوگا کہ لوگوں کو کاروبار اور ضروریات حیات کی تکمیل کا موقع نہیں مل پائے گا، اس لیے اوقات کی تشکیل میں معتدبہ وقت پیش نظر رکھا گیا ہے۔ عام طو رپر لوگ ’کم وقت‘ کا اندازہ لمحہ بھر، تھوڑی دیر یا ایک گھنٹہ وغیرہ سے کرتے ہیں اور’ بہت زیادہ وقت‘ کا اندازہ دن بھر، سال بھر وغیرہ سے کرتے ہیں ۔ اور معتد بہ وقت کا اندازہ گھنٹوں سے کرتے ہیں ، لہذا دو نمازوں میں معتد بہ فاصلہ کا وقت چوتھائی دن ہے۔اور چوں کہ رات اور دن کو چوبیس گھنٹوں میں بانٹا گیا ہے، اس لیے اس کی تنصیف بارہ بارہ گھنٹوں کی ہوگی اور بارہ گھنٹوں کی چوتھائی تین گھنٹے ۔ لہذا تین گھنٹے معتد بہ فاصلہ ہوگا۔
(ب) آرام اور کاروبار کے اوقات کو مستثنیٰ رکھنا ضروری ہے ۔ رات کا وقت آرام کا وقت ہے ، اس لیے عشا سے فجر تک کوئی نماز نہیں رکھی گئی ، البتہ استحبابا تہجد کی تاکید کی گئی۔ اور فجر کی نماز کے بعد سے دوپہر تک کا وقت خالی رکھا گیا تاکہ لوگ اس لمبے وقفے میں اپنے کاموں کو نمٹالیں، البتہ استحبابا چاشت کی نماز رکھی گئی ، تاکہ جوبندے نماز کے لذت آشنا ہیں، ان کے لیے یہ طویل وقفہ شاق نہ گذرے۔
(ج) کام دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک :جس کے کرنے لیے تسلسل اورکافی وقت درکار ہوتاہے۔ دوسرے: چھوٹے کام جسے مختصر وقتوں میں کیا جاسکتا ہے۔
لہذا تشکیل اوقات اس طرح کی گئی ہے کہ رات کا وقت آرام کے لیے اور صبح کا وقت کاروبار کے لیے رکھا گیا ۔زوال سے غروب آفتاب تک ایک چوتھائی وقت متعین کیا گیااور اسے دوحصوں میں بانٹا گیا : الف) ابتدا۔ (ب) انتہا۔ ابتدا میں ایک نماز :ظہر فرض کی گئی، تاکہ کاروبار اور دنیاوی مشاغل میں مہنمک ہونے کے باعث یاد الٰہی سے جو ایک گونہ غفلت ہوگئی تھی، اس کی تلافی ہوسکے۔ اور چوں کہ یہ وقفہ طویل ہوتا ہے تو بڑے کام اتنے وقفے میں تسلسل کے ساتھ کیے جاسکتے ہیں۔اور انتہا میں بھی ایک نماز : عصر رکھی گئی۔ اور ان دونوں میں اتنا فاصلہ رکھا گیا کہ چھوٹا کام بآسانی کیا جاسکے۔
اور دوسرا چوتھائی وقت غروب آفتاب سے رات چھاجانے تک رکھا گیا اور اسے بھی دو حصوں میں بانٹ کر اول و آخر میں مغرب و عشا کی نماز رکھی گئی۔ اور ان دونوں کے درمیان اتنا فاصلہ رکھا گیا کہ انسان اپنی چھوٹی ضروریات کو آسانی سے پورا کرسکتا ہے۔آرام کے لمبے وقفے کے اختتام اور کاروبار کے لمبے وقفے کے آغاز پر ۔ جو شب و روز کی تنصیف کا وقت ہے۔ ایک نماز : فجر رکھ دی گئی تاکہ جب سو کر بیدار ہو تو بندہ کا سب سے پہلا کام بارگاہ قدوسیت میں حاضری ہو۔ اس وقت دماغ خالی اور دل دنیاوی مشاغل سے فارغ ہوتا ہے ، ایسے وقت میں اللہ کو یاد کرنے سے دل پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے اور ملکوتی صفات پیدا ہوتی ہیں ، اس لیے اس وقت فجر کی نماز فرض کی گئی ۔
پھر ان میں یہ گنجائش بھی رکھ دی گئی ہے کہ چاہے وقت شروع ہوتے ہی ادا کرلے یا درمیانی وقت میں ادا کرے یا پھر آخری وقت میں ، البتہ تقدم و تاخر میں درج ذیل تین باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
(۱) حق نماز: یعنی اتنی تاخیر سے نماز ادا نہ کی جائے جس سے کہ نماز مکروہ وقت میں داخل ہوجائے جیسا کہ عصر میں ہوتا ہے۔
(۲) حق مصلی: یعنی اتنی پہلے جماعت نہ کی جائے کہ نمازی کو وضو اور سنن وغیرہ کے لیے بھی وقت نہ مل یاسکے اور نہ اتنی تاخیر کی جائے کہ آدمی کے دوسری ضروری کاموں جیسے آرام کا وقت ہوجائے ، جیسے کہ عشا میں ہوتا ہے، کیوں کہ عشا میں مستحب وقت یہ ہے کہ اسے تاخیر سے پڑھی جائے ، لیکن نیند کا وقت ہونے کی وجہ زیادہ تاخیر پریشانی کا باعث ہوتی ہے ، اس لیے عشا اول وقت میں کرنا نمازیوں کا حق ہے۔
(۳) حق وقت :یعنی اتنی تقدیم و تاخیر نہ ہوجس سے کہ وقت یا تو ختم ہوجائے جیسا کہ مغرب میں کم وقت رہتا ہے یا پھر مکروہ اوقات شروع ہوجائیں جیسا کہ عصر میں ہوتا ہے۔
انبیائے سابقین کی نمازوں کے اوقات کا لحاظ
اوقات کی تعیین میں ایک بات یہ بھی پیش نظر رکھی گئی ہے کہ سابقہ انبیائے کرام کی نمازوں کے جو اوقات تھے اور جو جو نمازیں انفرادی طور پر وہ ادا کرتے تھے ،وہ تمام نمازیں اور اوقات ملت مسلمہ کے لیے متعین کیے جائیں ، کیوں کہ بزرگوں کی تقلید کرنا لوگوں کے لیے باعث فخر ہوتا ہے اور نیک لوگوں کا ذکر خیر باقی رکھنے کا ذریعہ بھی۔ چنانچہ اس امت کے لیے تجویز کردہ اوقات نماز گذشتہ پیغمبروں کی نمازوں کے اوقات ہیں ، جیسا کہ امامت جبرئیل کی حدیث میں ہے کہ
ثُمَّ التَفَتَ اِلیَّ جِبریل، فَقَالَ: یا محمد! ھَذا وقْتُ الآنبیاء مِن قبلِکَ والوقتُ فیما بینَ ھذینِ الوقتَینِ (سنن الترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی مواقیت الصلاۃ)۔
انبیائے سابقین کی نمازیں
فجر کی نماز
فجر کی نماز سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نے پڑھی ۔ جب وہ جنت سے دنیا میں بھیجے گئے اور دنیا کی پہلی رات کی تاریکی چھائی ، تو چوں کہ اس سے پہلے کبھی تاریکی سے سابقہ نہیں پڑا تھا ، اس لیے اس سے بہت زیادہ گھبرائے ۔ پھر جب دن کااجالا پھیلنا شروع ہوا تو اللہ جل و علیٰ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے دو رکعت نماز،فجر کے وقت ادا کی ۔ پہلی رکعت : تاریکی سے نجات پانے کے لیے اور دوسری رکعت: دن کی روشنی دوبارہ پانے کے شکریے میں ۔
ظہر کی نماز
حضرت ابراہیم ؑ نے سب سے پہلے زوال کے بعد نماز ظہر ادا کی۔ یہ چار غموں سے نجات پانے کے شکریہ میں تھا۔ پہلی رکعت: لڑکا فوت ہوجانے کے غم سے نجات ملنے کے شکریے میں ۔ دوسری: فدیہ اترنے کے شکریہ کے طور پر۔ تیسری: جب اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کا اظہار کیا کہ
قد صدقتَ الرویا (الصفات، آیت نمبر۱۰۵پارہ ۲۳)
اور چوتھی : اپنے بیٹے کے ذبح کی تکالیف پر صبر کرنے کے شکریے کے لیے۔
عصر کی نماز
یہ حضرت یونس علیہ السلام کی نماز تھی۔ جب انھیں چار تاریکیوں سے نجات ملی ، تو عصر کے وقت ہر ایک تاریکی سے نجات پانے پر ایک ایک رکعت بطور شکر ادا کیا۔ پہلی: لغزش کی تاریکی۔ دوسری: رات کی تاریکی۔ تیسری: پانی کی تاریکی۔ اور چوتھی : مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔
مغرب کی نماز
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا ائے عیسیٰ
أ أنتَ قُلتَ للناسِ أن اتخذونی و أمی اِلٰھیَنِ من دونِ اللہِ (المائدۃ، آلایۃ ۱۱۶)
کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو۔ تو اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تین رکعات نماز پڑھی ؛ پہلی: خود کی الوہیت کی نفی کے لیے۔ دوسری: اپنی ماں سے الوہیت کی نفی کے لیے ۔ اور تیسری: اللہ تعالیٰ کے لیے الوہیت کو ثابت کرنے لیے ۔ اوریہ مغرب کے وقت ہوا تھا۔
عشا کی نماز
عشا کی نماز حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جانب منسوب ہے ۔ جب مدین سے چلتے ہوئے راستہ بھول گئے ، اور اس وقت آپ اپنی بیوی، اپنی اولاد، اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام اور اپنے دشمن فرعون کے غموں میں ڈوبے ہوئے تھے، تو اسی وقت وادی طور کے کنارے آواز آئی کہ
انی انا ربک فاخلع نعلیک انک بالوادی المقدس طوی (طہ ، الایۃ ۱۲)
یہ آواز سننا تھا کہ آپ کے سارے غم غلط ہوگئے اور بطور شکر یہ چار رکعات ادا کیں۔(العنایہ، شرح ھدایہ، کتاب الصلاۃ، باب المواقیت)۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.