نیوز لینڈ میں مسجد میں حملہ: دھشت گردی کی بدترین مثال: محمد عفان منصور پوری

آج جمعہ کی نماز کے وقت نیوزی لینڈ کے شھر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں سفید فام ، مسلح انسان نما درندے نے جس وحشانیت و بربریت اور دھشت گردی کا مظاھرہ کرتے ھوئے تقریبا پچاس نہتے نمازیوں کا خون بہایا ھے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ھے ۔
باری تعالی شھداء کو جنت کے اعلی مقامات عطاء فرمائے اور ان کے اھل خانہ ومتعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
مسلمان اور دھشت گردی کو لازم و ملزوم جاننے والی عالمی میڈیا آنکھ کھو لکر دیکھے کہ بے گناھوں کے خون سے مسجد کو رنگین کرنے والا کون ھے ؟ مسلمان ھے یا کوئی اور ؟اگر یہی حرکت کسی مسلمان نے کی ھوتی تو وھی میڈیا جس کو آج سانپ سونگھا ھوا ھے مسلمانوں کو دھشت گرد کہتے کہتے آسمان سر پر اٹھائے ھوتی ۔
ہمیں معلوم ھے کہ اسلام دشمن یہودی نواز دنیا اس کو ایک حادثاتی واقعہ قرار دیتے ھوئے حملہ آور کے دماغی اعتبار سے معذور ھونے کا عذر لنگ پیش کرے گی اور مجرم و سفاک قاتل کی دھشت گردی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے گی لیکن دنیا کے انصاف پسند طبقے کو اس بربرتا پر خاموش نہ بیٹھنا چاھئے اور متحد ھوکر نیوزی لینڈ حکومت سے مطالبہ کرنا چاھئے کہ وہ ظالم دھشت گردوں کو گرفتار کرکے جلد از جلد عبرتناک سزا دے اور اپنے ملک کے مسلم باشندوں کے جان ومال کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کرے۔
اس موقعہ پر دنیا کے مسلم ممالک کو بھی نیوزی لینڈ حکومت پر دباؤ بناکر دھشت گردوں کے خلاف مؤثر اور ٹھوس اقدامات پر آمادہ کرنا چاھئے ، اگر بر وقت حکومت کی طرف سے کارروائی نہ کی گئی تو سارے عالم کے امن کو خطرہ لاحق ھو سکتا ھے ۔
جامع مسجد امروھہ
۱۵ مارچ ۲۰۱۹

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں