چالیس احادیث نبوی




مولانا علی احمد قاسمی
نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ
مَنْ حَفِظَ علیٰ أمَّتِیْ أرْبَعینَ حَدِیْثاً مِنْ أمْرِ دِیْنِنَا، کُتِبَ فیْ زُمْرَۃِ الْعُلَماءِ وَ حُشِرَ فِیْ زُمْرَۃِ الشُّھَدَاءِ وَ کُنْتُ لَہُ یَوْمَ الْقِیامَۃِ شافِعَاً وَ شَھِیْداً، وَ قِیْلَ لَہُ: اُدْخُلْ مِنْ أیِّ أبْوابِ الْجَنَّۃِ شِءْتَ (کتاب الأربعین للنووی)
ترجمہ: میری امت میں جو شخص دین کے کسی معاملہ میں چالیس احادیث یاد کرلے گا تو وہ علماء کے گروہ میں لکھا جائے گا، اور اس کو شہیدوں کی جماعت کے ساتھ جمع کیا جائے گا اور قیامت کے دن میں ا س کی شفاعت کروں گااور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہوجاؤ۔
(۱) مَنْ قَالَ لَا ا8لٰہَ ا8لَّا الْلّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ
جس نے کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ کہا وہ جنت میں ہوگا۔
(۲) ا8نَّمَا الْأعْمَالُ بِالنِّیِّاتِ وَ ا8نَّمَا لِکُلِّ امْرِئ مَّا نَوَیٰ (بخاری)
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہرشخص کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرتا ہے۔
( ۳) بُنِيَ الإسْلامُ عَلیٰ خَمْسٍ: شَھَادَۃِ أن لَّا إلٰہَ إلَّا الْلّٰہُ، وَأنَّ مُحَمَّدَاً رَّسُوْلُ الْلّٰہِ، وَإقَامِ الصَّلاۃِ، وَإیْتَاءِ الزَّکَاۃِ، وَحَجِّ الْبَیْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ (بخاري ومسلم ترمذی)
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نما زقائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
(۴) طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ۔ (ابن ماجہ)
علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مردوعورت) پر فرض ہے۔
(۵) تَعَلَّمُو الْعِلْمَ وَ عَلِّمُوْہُ النِّاسَ (بیہقی)
علم سیکھو اور لوگوں کو سیکھاؤ۔
(۶) خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ۔ (بخاری)
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔
(۷) زَیِّنُوْ الْقُرْآنَ بِأصْوَاتِکُمْ (نسائی)
قرآن کریم کو اپنی اچھی آواز سے پڑھو۔
(۸) مَنْ سَلَکَ طَرِیْقاً یَلْتَمِسُ فِیہِ عِلْماً سَھَّلَ الْلّٰہُ لَہُ طَرِیقاً ا8لیٰ الْجَنَّۃِ۔ (مسلم)
جو شخص علم طلب کرنے کے لیے راستہ چلے تو اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردے گا۔
(۹) مَنْ خَرَجَ فِی طِلَبِ الْعِلْمِ فَھُوَ فیْ سِبِیلِ الْلّٰہِ حَتّیٰ یَرْجِعَ (ترمذی)
جو علم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلے وہ اللہ کی راہ (جہاد) میں ہے جب تک واپس نہ آجائے۔
(۱۰) مَنْ یُّرِدِ الْلّٰہُ بِہِ خَیْراً یُفَقِّہُ فِی الدِّینِ وَ ا8نَّما أنا قاسِمٌ وَالْلّٰہُ یُعْطِیْ۔ (بخاری و مسلم و مسند احمد)
جس آدمی کے ساتھ اللہ بھلائی چاہتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں اور بس میں تو علم تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ دیتے ہیں۔
(۱۱) مُعَلِّمُ الْخَیْرِ یَسْتَغْفِرُ لَہُ کُلُّ شَئٍ (ترمذی)
معلم خیر کے لیے تمام چیزیں دعائے مغفرت کرتی ہیں۔
(۱۲) أفْضَلُ الصَّدَقَۃِ أنْ یَّتَعَلَّمَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ عِلْماً ثُمَّ یُعَلِّمُہُ أخاہُ الْمُسْلِمَ (ابن ماجہ)
افضل صدقہ یہ ہے کہ مسلمان آدمی خود علم حاصل کرے پھر اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔
(۱۳) الطُّھُوْرُ شَطْرُالْا8یْمانِ۔ (مسلم)
پاک رہنا آدھا ایمان ہے۔
(۱۴) تَنَظَّفُوْا فَا8نَّ الْا8سْلَامَ نَظِفٌ۔ (ابن حبان)
صاف ستھرا رہا کیوں کہ اسلام صاف ستھرا مذہب ہے۔
(۱۵) بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَ لَوْ آیَۃً (بخاری)
میری طرف سے پہنچادو اگرچہ ایک ہی بات ہو۔
(۱۶) الْوَضُوءُ مِفْتاحُ الصَّلوٰۃِ (دیلمی)
وضو نماز کی کنجی ہے۔
(۱۷) الصَّلٰوۃُ عِمادُ الدِّیْنِ (موطا)
نماز دین کا ستون ہے۔
(۱۸) مِفْتاحُ الْجَنَّۃِ الصَّلٰوۃُ۔ (مسند احمد)
جنت کی کنجی نماز ہے۔
(۱۹) ا8نَّ أحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتابُ الْلّٰہِ وَ أحْسَنَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ ﷺ ( رواہ البخاری)
یقیناًبہترین کلام کتاب الٰہی ہے اور بہترین طریقہ محمد ﷺ ہے۔
(۲۰) تَرَکْتُ فِیْکُم أمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْ مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِما کِتابُ اللّٰہِ وَ سُنَّۃُ رَسُوْلِہِ (رواہ مالک)
میں نے تمھارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک ان دونوں کو پکڑے رہوگے گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت، یعنی طریقہ۔
(۲۱) فَضْلُ کَلامِ الْلّٰہِ عَلیٰ ساءِرِ الکَلَامِ کَفَضْلِ الْلّٰہِ عَلیٰ خَلْقِہِ (ترمذی)
کلام الٰہی کی فضیلت تمام کلاموں پر اللہ کی فضیلت کی طرح ہے مخلوق پر۔
(۲۲) کَتَبَ رَسُوْلُ الْلّٰہِ ﷺ أنْ لَا یَمُسَّ القُرْآنَ ا8لَّا طَاھِرٌ۔ (رواہ مالک والدارمی)
حضرت رسول اللہ ﷺ نے لکھا کہ قرآن کو پاک باوضو کے علاوہ کوئی نہ چھوئے۔
(۲۳) ا8نَّ أفْضَلَکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ (بخاری)
یقیناًتم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اس کی تعلیم دے۔
(۲۴) ا8قْرَؤ الْقُرْآنَ فَا8نَّہُ یَأتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَفِیْعاً لِأصْحابِہِ (مسلم)
قرآن پڑھو وہ اپنے پڑھنے والوں کے لیے قیادت کے دن سفارش کرے گا۔
(۲۵) تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَۃً مِّنَ الْلَّیْلِ خَیرٌمِّنْ اِحْیَاءِھا۔ (دارمی)
رات میں کچھ وقت علم پڑھنا پڑھانا پوری رات نفل عبات سے بہتر ہے۔
(۲۶) لَأنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَاباً مِّنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِہِ أوْ لَمْ یُعْمَلْ خَیْرٌ مِنْ أنْ تُصَلِّیَ ألْفَ رَکْعَۃٍ۔ (ابن ماجہ)
تو صبح کے وقت نکل کر علم کا ایک باب سیکھ لے اس پر عمل ہو یا نہ ہوتیرے لیے ایک ہزار رکعات نفل نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
(۲۷) مَنْ قَرَأ الْقُرْآنَ وَ عَمِلَ بِمَا فِیْہِ ألْبِسَ وَالِدَاہُ تَاجاً یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ ضَوْءُہُ أحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ (ابن ماجہ)
جس نے قرآن پڑھا اور اس کے مطابق عمل کیاتو اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے اچھی ہوگی۔
(۲۸) مَنْ قَرَأ الْقُرْآنَ وَ حَفِظَہُ أدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ وَ شَفَّعَہُ فِیْ عَشَرَۃِ مِّنْ أھَلِ بَیْتِہِ کُلُّھُمْ قَدْ اسْتِوْجَبَ النَّارَ۔ (ابن ماجہ)
جس نے قرآن پڑھا اور اس کو حفظ کیا تو اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور اس کے خاندان میں سے دس ایسے شخصوں کے بارے میں اس کی سفارش و قبول کرے گا ، جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔
(۲۹) مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِغَیْرِ الْلّٰہِ أوْ أرَادَ بِہِ غَیرُ الْلّٰہِ فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہُ مِنَ النّارِ (ترمذی)
اللہ کی مرضی حاصل کرنے کے علاوہ کسی دوسری غرض سے جو شخص علم حاصل کرے تو اس کو اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔
(۳۰) ا8نَّ الْمَلَاءِکَۃَ لَتَضَعُ أجَنِحَتَھَا رِضیً لِطالِبِ الْعِلْمِ (ترمذی)
یقیناًفرشتے طالب علم کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں۔
(۳۱) مَنْ تَعَلَّمَ عِلْماً مِمَّا یَبْتَغِیْ بِہِ وَجْہَ الْلّٰہِ لَا یَتَعَلَّمَہُ ا8لَّا یُصِیْبُ بِہِ عَرَضاً مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یِجِدْ عَرَفَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ یَعْنِیْ رِیْحَھَا۔ (ابو داود، ابن ماجہ، احمد)
جس شخص نے وہ علم سیکھا جس سے خدا کی خوشنودی طلب کی جاتی ہے لیکن اس غرض سے سیکھا کہ وہ اس سے دنیا کی متاع حاصل کرے تو قیامت کے دن اس کو جنت کی خوشبو میسر نہ ہوگی۔
(۳۲) اُغْدُ عالِماً أوْ مُتَعَلِّماً أوْ مُسْتَمِعاً أوْ مُحِبّاً وَ لَا تَکُنِ الْخَامِسۃَ فَتُھْلِکَ وَالْخامِسَۃُ أنْ تَبْغُضَ الْعِلْمَ وَ أھْلَہُ (طبرانی)
عالم بنو یا طالب علم بنو یا سننے والا بنو یا محبت رکھنے والا بنو، پانچواں نہ بنو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے پانچواں علم سے نفرت رکھنے والا اور علما سے بغض رکھنے والا ہے۔
(۳۳) مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کانَ کَفَّارَۃً لِما مَضیٰ (ترمذی)
جس نے علم طلب کیا تو وہ اس کو پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔
(۳۴) تَعَوَّذُوا بِالْلّٰہِ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ۔ (ابن ماجہ)
اس علم سے اللہ کی پناہ مانگو جو نفع نہ دے۔
(۳۵) الْعُلَماءُ وَرَثَۃُ الْأنْبِیَاءِ (ابوداود)
علما انبیا کے وارث ہیں۔
(۳۶) الدَّالُّ عَلٰی الْخَیْرِ کَفاعِلِہِ (ترمذی)
بھلائی کے کام کی دعوت دینے والا (ثواب میں) بھلائی کرنے والے کے برابر ہے۔
(۳۷) کُلُّکُمْ راعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْءُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ (بخاری)
تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور تم سبھی سے اپنے ماتحت کے بارے میں سوال ہوگا۔
(۳۸) لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یُؤَقِّرِالْکَبِیْرَ وَ یَرْحَمِ الصَّغِیْرَ وَ یَأمُرُ بِالْمَعْروْفِ وَ یَنْھَ عَنِ الْمُنْکَرِ (ترمذی بحوالہ الترغیب و الترھیب)
جو شخص بڑوں کی عزت نہ کرے اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے نہ روکے وہ ہمارے طریقہ پر نہیں ہے یعنی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
(۳۹) الْعِلْمُ فِی الصَّغِیرِ کَالنَّقْشِ فی الْحَجَرِ (کشف الخلفاء، ج؍۲، ص؍۸۵)
بچپن میں علم حاصل کرنا پتھر کے نقش کی طرح پائیدار ہوتا ہے۔
(۴۰) الْخَیْرُ مَعَ أکَابِرِکُمْ (الترغیب والترھیب، ج؍۸، ص؍ ۱۸)
بھلائی بڑوں کے ساتھ ہے۔
اکابر وہ ہیں جو دین میں بڑے ہیں ان میں اولا تو صحابہ کرام ہیں اور پھر وہ سب لوگ ہیں جو دینی اعمال و عقائد میں کامل ہیں۔ حضرت علامہ منذری نے ترغیب و ترھیب میں ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ
الْبِرِکَۃُ مَعَ أکابِرِکُمْ (ص؍ ۱۱۳)
یعنی خیرو برکت اکابر کے نقش قدم پر چلنے میں ہے اس لیے اکابر کے ارشاد ات کے مطابق لڑکیوں کو گھر ہی پر رکھ کر تعلیم دینا چاہیے اسی میں خیرو عافیت ہے ورنہ خطرہ سے خالی نہیں ۔




Facebook Comments

POST A COMMENT.