چھینکتے وقت چہرے پر ہاتھ رکھنا اور آواز کو پست کرنا چاہئے

مولانا شوکت علی قاسمی بھاگلپوری

]۵۱[ (۵) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَاعَطَسَ غَطّٰی وَجْھَہٗ بِیَدِہٖ اَوْ بِثَوْبِہٖ وَ غَضَّ بِھَاصَوْتَہٗ.
(ترمذی رشیدیہ:۲/۹۹؛رقم:۵۴۷۲،ابوداؤد:۲/۶۸۶؛رقم:۱۲۰۵،مسند احمد:۲/۹۳۴،شعب الایمان:۷/۱۳؛ رقم: ۴۵۳۹،مشکٰوۃ:۶۰۴؛ رقم: ۸۳ ۷۴)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا کی عادت شریفہ یہ تھی کہ: جب آپ کو چھینک آتی تو چہرہئ انور کو اپنے ہاتھوں یا کسی کپڑے سے ڈھانک لیتے اور آواز کو پست کر لیتے تھے۔ (ترمذی،ابوداؤد)
ف:- اسلام دین فطرت ہے،جو ہر موڑ پر تہذیب و سائستگی اور حسن ِاخلاق سکھاتا ہے،شریعت میں جہاں ایک طرف انسان کے ذاتی اور جسمانی حقوق کی رعایت کی گئی ہے،تو وہیں دوسری طرف ہم نشینوں (پاس بیٹھنے والوں)،پڑوسیوں اور اپنوں پرایوں سب کے حقوق کی بھی رعایت کی گئی ہے،حدیث ِمذکور میں اِس کی ایک جھلک دیکھی جا سکتی ہے کہ:معاشرتی و سماجی اصلاحات کے پیشِ نظر ہی نبی اکرم ا نے خود عمل کر کے بڑی سادگی کے ساتھ یہ ادب بتلایا کہ:دیکھو! جب تمہیں چھینک آئے تو چہرے کو ہاتھ یا کپڑے سے ڈھانپ لو،یہ تہذیب و سائستگی کی نشانی بھی ہے،اور آداب شریعت کا تقاضہ بھی،کیونکہ ایک تو چھینک کے ذریعے عام طور پر دماغ کی رطوبت و گندگی (رینٹ یا بلغم وغیرہ) ناک یا منہ کے راستے سے نکل پڑتی ہے،جس سے اپنے کپڑے خراب ہوتے ہیں،اور پاس بیٹھنے والوں کے لئے تکلیف کا سبب بنتی ہے،دوسرے چھینکتے وقت چہرے کی ہیئت بھی بگڑ جاتی ہے،جو پاس والوں کو خراب لگتا ہے،بلکہ بعض نازک مزاجوں کو تو یہ دیکھ کر بڑی تکلیف ہوتی ہے،اِس لئے تعلیم دی گئی کہ:چھینکتے وقت اپنا چہرہ ہاتھ یا کپڑے سے ڈھانپ لو،تاکہ چہرے کی بد ہیئتی دیکھنے والے کی نگاہوں سے پوشیدہ رہے۔اِس میں پاس بیٹھنے والوں کے حقوق کی بھی رعایت ہے کہ:رطوبت اڑنے کی صورت میں اپنے ہاتھ یا کپڑے ہی میں رہ جائے گی،کسی اور کو نہیں پڑے گی،یہی معاملہ پست آواز رکھنے کا بھی ہے کہ:ہلکی آواز سے چھینکنا طبعی سلامتی،شخصی وقار،سلیقہ مندی اور حسن ادب سمجھاجاتا ہے،اور زوردار آواز سے چھینکنے کی صورت میں بسااوقات اپنے اعضاء کے اکھڑکر اپنی جگہ سے کھسکنے،سر میں تکلیف ہونے،سانس کی نالیوں کے بند ہونے اور مجلس والوں کے اکدم سے چونک پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے،جو اُن کے لئے جسمانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے،جبکہ ہلکی آواز سے چھینکنے میں یہ خطرات نہیں رہتے۔
ایک ضروری تنبیہ
چھینکتے وقت چہرہ دائیں بائیں نہ کریں
بہت سے احباب سامنے رکھی ہوئی چیز،اپنے کپڑے یا مجلس والوں کو گندگی سے بچانے کے لئے ہاتھ یا کپڑے سے چہرہ ڈھانپنے کے بجائے چہرے کو دائیں بائیں گھُما دیتے ہیں،ایسا کرناخطرناک ہے،اِس میں ڈر ہے کہ کہیں چہرہ اُدھر ہی مُڑا رہ جائے،سیدھا نہ ہونے پائے،حافظ قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ الاشبیلی المعروف بابن العربی المالکی شارح ترمذی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
”وَفِیْہِ فَاءِدَۃٌ عُظْمٰی وَھِیَ اَنَّہُ اِذَا غَطّٰی وَجْھَہٗ بِیَدِہِ اَوْ ثَوْبِہِ وَ تَلَقّٰی الْعُطَاسَ بِہِ سَلِمَ مِنْ اَنْ یَّرُدَّ وَجْھَہٗ عَلٰی یَمِیْنِہِ اَوْ یَسَارِہِ فَرُبَّمَا بَقِیَ وَجْھُہٗ کَذَلِکَ اَبَدًا،وَلَا یَرْجِعُ اِلٰی مَوْضِعِہِ،وَقَدْ جَرٰی ذٰلِکَ لِبَعْضِھِمْ عَطَسَ فَرَدَّ وَجْھَہٗ یَمِیْناً یَحْتَرِسُ مِنْ جَلِیْسِہِ فَبَقِیَ رَاْئسُہٗ کَذٰلِکَ اَبَداً مُعَوَّجاً“
(عارضۃ الاحوذی:۹/۶۰۲ کذا فی فتح الباری:۰۱/۲۰۶،و تحفۃ الاحوذی:۸/۶۱)
اور اِس میں بڑا فائدہ یہ ہے کہ:جب ہاتھ یا کپڑے سے چہرہ ڈھانپے اور اُس کے اندر چھینک آئے،تو وہ چہرہ دائیں یا بائیں گھمانے سے محفوظ ہو گیا،کیونکہ ایسا کرنے سے بسا اوقات چہرہ اُدھر ہی رہ جاتا ہے،اپنی جگہ بالکل نہیں لوٹتا،چنانچہ(میرے سامنے) ایک شخص کو چھینک آئی؛ اُس نے پاس بیٹھنے والوں کو گندگی سے بچانے کے لئے اپنا چہرہ دائیں طرف کر لیا،تو اُس کا چہرہ اُسی طرف رہ گیا سیدھا ہی نہیں ہوا۔
زور سے چھینکنا شیطان کو پسندہے
]۶۱[ (۶) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَشَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ وَ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُمْ قَالُوْا:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِا: ”اِذَا تَجَشَّأَ اَحَدُکُمْ اَوْعَطَسَ فَلَا یَرْفَعَنَّ بِھِمَا الصَّوْتَ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یُحِبُّ اَنْ یُّرْفَعَ بِھِمَا الصَّوْتُ“۔(شعب الایمان:۷/۲۳؛رقم:۵۵۳۹)
ترجمہ: حضرت عبادہ بن الصامت،حضرت شدَّاد بن اَوْس اور حضرت وَاثِلَہ بن الاشْقَع رضی اللہ عنھم سے روایت ہے کہ:حضور اقدس انے ارشاد فرمایا کہ:جب تم میں سے کسی کو ڈکار یا چھینک آئے تو اپنی آواز کو بلند نہ کرے، کیونکہ اِن دونوں چیزوں میں آواز بلند کرنا شیطان کو پسند ہے۔ (شعب الایمان)
ایک حدیث میں حضرت ابو ہریرہ صسے روایت ہے کہ:حضور اقدس امسجد میں زور دار آواز سے چھینکنے کو نا پسند فرماتے تھے۔ (شعب الایمان:۷/۲۳؛رقم:۶۵۳۹)
اِس روایت کی بنا پر مسجد میں خاص طور پر بلند آواز سے چھینکنے سے بچنے کی ضرورت ہے،اللہ ہم سب کی اِن ناپسندیدہ حرکات سے حفاظت فرمائے۔(آمین)
لگاتار تین سے زائد چھینک پر جواب ضروری نہیں
]۷۱[ (۷) عَنْ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ا قَالَ: شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا فَمَا زَادَ فَاِنْ شِءْتَ فَشَمِّتْہُ وَاِنْ شِءْتَ فَلَا،رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَاحَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْ اَبِیْہُرَیْرَۃَ قَالَ: شَمِّتْ اَخَاکَ ثَلَاثًا فَاِنْ زَادَ فَھُوَ زُکَامٌ رَوَاہ ابودَاؤد قَالَ لَا اَعْلَمُہٗ اِلَّا اَنَّہٗ رَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلَی النَّبِیِّ ا. (ترمذی:۲/۹۹؛رقم:۴۴۷۲،ابوداؤد:۲/۶۸۲؛رقم: ۸۲۰۵،شعب الایمان: ۷/۳۳؛رقم:۸۵۳۹، مشکوٰۃ:۶۰۴؛ رقم:۲۴۷۴)
ترجمہ: حضرت عُبَیْد بن رِفَاعَہ صسے روایت ہے کہ: نبی کریم ا نے اِرشاد فرمایا کہ: چھینکنے والے کو لگاتار تین چھینک تک جواب دو، لیکن اگر کسی کو تین بار سے زائد چھینک آئے تو تمہیں اختیار ہے، چاہے جواب دو یا نہ دو، اور ایک روایت میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ا نے اِرشاد فرمایاکہ: تم اپنے (مسلمان بھائی) کی چھینک کا لگاتار تین بار تک جواب دو، اگر اس سے زائد بار چھینک آئے تو (سمجھو) کہ اُس کو زکام ہوگیا ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی)

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں