کشمیر تاریخ کے آئینہ میں

Views: 37
Avantgardia

فیضان مصطفی (وائس چانسلر نیشنل لاء یونیورسٹی حیدرآباد)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
15 اگست 1947ء: Indian Independence Act 1947 نے برٹش انڈیا کو ہندوستان اور پاکستان میں منقسم کیا۔ ریاستی حکمرانوں کو تین شرطیں دی گئیں کہ وہ چاہے تو آزاد رہے یا ہندوستان میں شریک ہوجائیں یاپاکستان میں شریک ہوجائیں۔ جموں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے آزاد رہنے کو منظور کیا۔
مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتداء میں جموں و کشمیر کو آزاد رکھنا طے کیا، لیکن بعد ازاں انہوں نے ہندوستان سے شمولیت اختیار کرلی۔
26/اکتوبر 1947ء: مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کی شمولیت کی دستاویز پر دستخط کی اور یہ فیصلہ انہیں مجبوراً اس لئے لینا پڑا کہ اس وقت قبائلیوں کی مداخلت شمال مشرقی صوبوں سے پاکستان کی حمایت کی وجہ سے ہونے لگی تھی۔ اس لئے مہاراجہ نے ہندوستان سے ملٹری مدد طلب کی جو شمولیت کی شرط پر انہیں دی گئی۔
26جنوری 1950: ہندوستان کا دستور عمل میں آیا۔ جس میں آرٹیکل 1 اور 370 کا جموں کشمیر پر نفاذ ہوا۔ جس میں بعض حد تک استثنات بھی ہیں جس میں ترمیم کے ذریعہ صدارتی حکمنامے جاری ہوئے۔ لیکن یہ سب ریاستی حکومت کی منظوری اور جموں کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کی مرضی سے تھی۔
9/اگست 1953ء: شیخ عبداللہ کو 1953ء میں گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد صدارتی حکمنامہ کا اجراء ہوا۔ شیخ عبداللہ جموں کشمیر کے پرائم منسٹر کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کی حکومت برخواست کی گئی۔ گرفتاری کا حکمنامہ پرائم منسٹر جواہر لال نہرو نے دیا اور اس الزام کے تحت کے انہیں کیبنٹ میں اعتماد حاصل نہیں ہے۔ انہیں 11 سال تک کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں کانگریس نے ان سے مفاہمت کی۔
14 مئی 1954ء: صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آرٹیکل 35(A) کی دستور میں شمولیت جس کے تحت اس بات کا تحفظ و ضمانت دی گئی کہ ریاستی اسمبلی کو ہی وہاں کے مستقل شہریوں کے بارے میں تعین کرسکے۔ کیونکہ یہ حکمنامہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں تھا۔ اس لئے جموں کشمیر کے پرائم منسٹر کو جموں کشمیر کا چیف منسٹر کہا جانے لگا۔
24 فروری 1975: اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ کا معاہدہ جس کے ذریعہ ریاست جموں کشمیر جو یونین آف انڈیا کا ایک جز رہے گی اور اس کے تعلقات مرکز سے جاری رہیں گے۔ جو آرٹیکل 370 کے تحت دستور ہند کے مطابق ہوں گے۔
23 مارچ 1987: یہ سال یہاں کے انتخابات کے لئے اور ریاست کے لئے ایک موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کی وجہ سے ملٹری کو بلایا گیا اور 1984ء میں سی ایم کو علیحدہ کیا گیا اور ان کی جگہ پر ان کے بہنوئی جو کانگریس کی مدد سے تھے۔ بعد ازاں فاروق عبداللہ کو 1987ء کے انتخابات میں کانگریس کی مدد سے ہی چیف منسٹر بنایا گیا۔
1989ء: یہ مداخلت کاروں کے آغاز کا سال ہے۔ جس کے بارے میں وکٹوریا شیفولڈ مورخ اپنی کتاب Kashmir Inconfilict میں لکھتا ہے کہ اکثر و بیشتر اسٹرائیک ہوتے ہیں۔ تشدد پسند گروپ اُبھر آئے ہیں۔ جس کے بعد مفتی محمد سعید مرکزی وزیر داخلہ بنائے جاتے ہیں۔ جہاں ان کی بیٹی روبیعہ کا اغواء ہوجاتا ہے۔
جنوری 1990ء: نیودہلی حکومت سابق گورنر کو دوبارہ مقرر کرتی ہے۔ جہاں لوگوں کے گھروں پر چھاپے ڈالے جاتے ہیں۔ مجموعہ پر سری نگر میں گاواکدل برج اور سی آر پی کے ٹروپ نہتے احتجاجیوں پر گولی باری کرتے ہیں۔ جس میں سو سے زائد لوگ مرجاتے ہیں۔ جس کے بارے میں شیفولڈ لکھتا ہے کہ ریاست گورنر کی حکمرانی میں آگئی۔
1990ء میں جموں و کشمیر پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ کہا گیا کہ 1989 ء سے دہشت گردوں نے 209 کشمیری پنڈت اور 1990ء میں 109 کو ختم کیا۔ یہ وہ سال تھا جب کشمیری پنڈت کا وہاں سے انخلاء ہوا۔ شوفلڈ کی کتاب کے مطابق جو ہندو وادی کو چھوڑ کر نکلے اُن کا انخلاء مارچ سے ہوا ور وہ 1.4 لاکھ تھے۔
1999ء میں کرگل جنگ جو مئی سے جولائی تک تھی جہاں پاکستانی ٹروپ اور دہشت گردوں نے لائن آف کنٹرول کو پار کیا۔ اس طرح یہ 47، 65 اور 1971ء کی جنگیں دونوں ممالک کے درمیان میں ہوئیں۔ جس میں سے صرف 1971ء کی جنگ کشمیر پر نہ تھی۔
اپریل 2003ء: پرائم منسٹر اٹل بہاری واجپائی نے لوک سبھا کی مشہور اسپیچ انہوں نے جموں و کشمیرکے دورہ کے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ بندوق مسائل کا حل نہیں ہوسکتی۔ بھائی چارگی سے ہی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم اس جانب انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کی بناء بڑھیں تو یہ معاملہ سلجھ سکتا ہے۔
2004ء سے 2014تک: منموہن سنگھ حکومت میں جموں کشمیر کے لوگوں کی ذہن سازی کے لئے گفتگو و مکالمہ کے لئے بھیجتے رہے جن میں دلیپ پیڈگاؤنکر، ایم ایم انصاری،رادھاکمار وغیرہ تھے۔ جنہوں نے پرائم منسٹر پاکستان پرویز مشرف سے نیویارک میں 2006ء میں بات چیت کی۔ تاکہ وہاں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو۔ اور اس طرح 2008ء میں امرناتھ بورڈ بھی بنا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart